اسلام میں غیر مسلموں کے ساتھ مذہبی رواداری

اسلام میں غیر مسلموں کے ساتھ مذہبی رواداری

 

اسدالرحمن تیمی

 

 

عصرحاضر میں مسلم اقلیتوں کے خلاف ظلم وستم ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ دنیا کے بیشتر خطے میں یہ اقلیتیں نت نئے مسائل سے دوچار ہے۔ ان کے خلاف سازشوں ، تعصب، مظالم، نسل کشی کے واقعات سے گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے لے کر اب تک کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسان ہی نہیں ہیں، لہٰذا کسی بھی قسم کے انسانی حقوق کے مستحق بھی نہیں، یہ لوگ قابل نفریں اور ارض خدا سے ختم کردیئے جانے کے لائق ہیں۔ آئے دن دنیا کے الگ الگ گوشے سے مسلمانوں کی نسلی تطہیر کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ حقوق انسانی ، پُرامن بقاءباہمی، تکثیری سماج وبشری اقدار وغیرہ تعبیرات محض تحریر وتقریر تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں، مسلم اقلیتوں سے ان کا کوئی رشتہ نہیں ہیں حالانکہ اس قسم کی دل خراش خبروں کے ساتھ ساتھ ایسی خوش خبریاں بھی آتی رہتی ہیں کہ غیرمسلم افراد اور جماعتوں نے مسلمانوں کے ساتھ انسانی اخلاق واقدار کے اعلیٰ نمونے بھی پیش کئے۔

اس مضمون مین اسلامی تاریخ کے حوالے سے ایسے واقعات پر روشنی ڈالیں گے جن سے یہ معلوم پڑتا ہے کہ کس طرح مسلمان اور غیرمسلم نےخوشی اور غم کے حالات میں باہم متحد وسیرشکر ہوکر زندگی گزارا، میدان علم سے لے کر حکومت کے دربار تک مذہبی رواداری پیش کی، شادی کی تقریب ہو یا نماز جنازہ یا صلح اور جنگ کی کیفیت، مقامی ظلم کا دفاع ہو یا کسی غیر ملکی کے حملے سے بچاﺅ، ان سارے مواقع پر مسلم وغیرمسلم دونوں قومیں نے اپنے اپنے دین پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بھی یکجہتی واتحاد کی راہ پر گامزن رہیں۔

نبیﷺ کی دعوت عالم گیر تھی، تیرہ سال کی مختصر سی مدت میں رسول اللہﷺ کی دعوت وتبلیغ کا مرکز ودارالسلطنت مدینہ منورہ بن گیا، آپﷺ کے زمانے میں مدینہ منورہ میں مختلف ادیان ومذاہب کے ماننے والے موجود تھے: مسلمان، یہود، مشرکین اور منافقین. آپﷺ نے مدینہ کے دینی ودنیوی حکومت کے اکیلے سربراہ کی حیثیت یہ اعلان کردیا کہ مدینہ کے سارے لوگ ایک قوم (امت) ہیں باہری لوگ کے بالمقابل،اس نظریہ قومیت کی بنیاد باہمی رہائش پر رکھی نہ کہ دین اور نسل پر۔

رسول اللہﷺ نے پُرامن بقائے باہمی کی بنیاد جن چیزوں سے رکھی ان میں قرآن کا یہ سماجی اور دینی پیغام بھی ہےکہ: “دین کے معاملے میں کوئی زور وزبردستی نہیں”۔ “جن لوگوں نے دین کی وجہ سے تم سے جنگ نہیں کی، تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، اللہ تمہیں ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا، بے شک اللہ انصاف پسند وں کے پسند کرتا ہے“۔

قرآن کی اس ہدایت کی وجہ سے آپﷺ یہودیوں کی عیادت کرتے (صحیح بخاری) ان کے جنازے کے احترام میں کھڑے ہوجاتے (صحیح بخاری) ان کے ساتھ مالی معاملات کرتے، آپ نے ایک یہودی تاجر سے قرض بھی لیاتھا (صحیح بخاری) بلکہ آپﷺ نے اپنے عیسائی مہمانوں کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ مسجد نبوی کے اندر اپنی عبادت کر سکتے ہیں۔ ابن قیم(۱۵۷ھ) نے بیان کیا ہے کہ صحیح روایت سے ثابت ہپے کہ آپﷺ نے سن ۹ ہجری یں ۴۱ افراد پر مشتمل نجران کے عیسائیوں کے ایک وفد کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا، اور جب ان کی عبادت کا وقت آیا تو اسی مسجد میں انہوں نے اپنی عبادت کی۔ آپﷺ نے صحابہ کرام کو یہاں تک حکم دیا تھا کہ وہ یہود و نصاری کو یہ دعائیں دیں کہ: ”اللہ تمہاری مال واولاد میں برکت دے“۔ (امام ذہبی عن ابن عمر)

غیرمسلموں کے ساتھ اسی نبوی نقش قدم پر صحابہ ،تابعین اور ان کے بعد کے مسلمان گامزن رہے۔ چنانچہ اسلام کے دور عروج میں مسلم فاتحین جب کسی ملک کو فتح کرتے تو یہ بھی اعلان کرتے کہ” یہاں کے لوگوں کی جان ومال، دین ومذہب، عبادت گاہ، دینی علامات کی پوری حفاظت ہوگی اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی جائے گی”۔ اسلامی ممالک میں قاضی النصاری، قاضی قضاة الیہود بھی مقر کئے جاتے تھے۔

امام ابن کثیر اپنی تاریخ ”البدایہ والنہایہ“ میں بیان کرتے ہیں کہ : ستر سال تک مسلمان اور یہود دمشق کی ایک ہی عبادت گاہ میں اپنی اپنی اپنی عبادتیں کرتے رہے۔ اس عبادت گاہ کانصف کلیسا تھا اور نصف حصہ مسجد ، سن ٨٠ ہجری میں دونوں فریقوں کے اتفاق کے بعد اسے صرف مسجد بنادیاگیا۔ جسے آج کل جامع اموی کے نام سے لوگ جانتے ہیں ۔

لیکن دوسری صدی اواخر میں مسلمانوں میں اخلاقی زوال آیا، عدل وانصاف کا ترازو بگڑ گیا، سیاسی فتنوں ،سماجی بحران اور داخلی انتشار کی وجہ سے سماج کے اندر باہمی ظلم وستم عام ہوگیا۔ اور چوتھی صدی ہجری کے آتے آتے اس کے ساتھ نئے اسباب بھی جڑ گئے ۔ بازنطینی رومی، فرنگی صلیبیوں اور اندلس میں عیسائیوں کی جنگوں کی وجہ سے سماجی اور وطنی اخلاق واقدار کے تانے بانے کمزور پڑتے چلے گئے۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *