حب الوطنی کی کہانی دلائل کی زبانی

حب الوطنی کی کہانی دلائل کی زبانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

قرآن و سنت کے براہین، اقوال امت کے فرامین اور کتب و سیرت کے مشاہدین نے امت مسلمہ کو حب الوطنی کا درس دیا اور اس کی محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے ۔حب الوطنی کا مطلب ہوتا ہے وطن سے محبت کرنا جب کہ اصطلاح میں جغرافیائی حدوں میں گھرے ہوئے کسی مخصوص علاقے سے اپنی دلی وابستگی، وفاداری اور خلوص کا اظہار کرنا حب الوطنی کہلاتا ہے ۔

عصر حاضر میں بھارت کے اندر محب وطن کون ہے؟ کون ملک کا وفادار ہے؟ کون ملک کے لئے کام کرتا ہے؟ کون ملک پر جاں نثار کرتا ہے؟ یہ اور اس طرح کے دیگر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور مسلمانوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھ رہے ہیں حالانکہ مسلمانوں کے دلوں کے اندر وطن سے محبت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کیونکہ ان کا اسلام وطن سے محبت کا درس دیتا ہے ان کے ایمان کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ وہ وطن سے محبت کرے ذیل میں چند دلائل کتاب و سنت سے درج کئے جارہے ہیں ۔

قرآن مجید کا سورۃ نساء آیت نمبر 66 کے مطابق گھر، علاقہ اور ملک کی محبت انسانوں کے یہاں اپنی ذات سے محبت کی طرح قرار دینا ۔سورۃ مائدۃ آیت نمبر 21 کے مطابق موسی علیہ السلام کا بنی اسرائیل کو اپنی مقبوضہ سرزمین میں داخل ہونے اور ظالموں سے اپنا وطن آزاد کرانے کا حکم دینا ۔سورۃ ابراہیم آیت نمبر 35 کے مطابق حضرت ابراہیم کا شہر مکہ کو امن کا گہوارہ بنانے کی دعا کرنا ۔سورۃ حج آیت نمبر 40 کے مطابق وطن سے ناحق نکالے جانے والوں کو دفاعی جنگ لڑنے کی اجازت دینا ۔سورۃ انفال آیت نمبر 26 میں اللہ کا مسلمانوں کو آزاد وطن ملنے پر شکر بجا لانے کی ترغیب دینا ۔اور اسی طرح کی دلیل سورۃ حشر آیت نمبر 8 سورۃ مائدۃ آیت نمبر 2 سورۃ حجرات آیت نمبر 10اور سورۃ بقرۃ آیت نمبر 246 میں ملنے کے ساتھ ساتھ حدیث کے اندر نبی صلعم کا مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت یہ کہنا اے مکہ تو کتنا پیارا شہر ہے تو مجھے کس قدر محبوب ہے اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا دوسرے مقام پر سکونت اختیار نہ کرتا ۔اسی طرح آپ صلعم کا سفر سے واپسی پر اپنے وطن میں داخل ہونے کے لئے اونٹ کو تیز کر دینا اور فتح الباری کے مصنف کا یہ تشریح کرنا “فی الحدیث دلالۃ علی مشروعیۃ حب الوطن و الحنین الیھا “اور آپ صلعم کا احد پہاڑ کو دیکھ کر “ھذا جبل یحبنا و نحبہ “کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ کتاب و سنت میں حب الوطنی کے دلائل بھرے پڑے ہیں ۔

یہی وہ دلائل اور مذہب اسلام کی ہدایتیں ہیں کہ مسلمانوں نے جس خطے کو اپنا وطن بنایا اسے اپنے دل وجان سے چاہا اور اپنے خون جگر سینچا یہی وجہ ہے کہ 1757 کی جنگ پلاسی کی وار ،1799 میں ٹیپو سلطان کی للکار ،1804 میں فتوی دار الحرب کی پکار ،1857میں جنگ آزادی کا پرچار ، تحریک ریشمی رومال کا بہترین کردار، اے پی جےعبد الکلام کا ملک کے لئے پرمانو بم بنانے پر اصرار اور ویر عبد الحمید کا ملک پر ہونا جاں نثار دراصل یہ اور اس طرح کی تمام مثالیں حب الوطنی کے بہترین مثال ہیں۔

حب الوطنی صرف دعوی سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کی جاتی ہے اور جس شخص کا عمل ملک، ملک کے اثاثہ اور ملک میں موجود تمام افراد سے بہتر ہوگا وہ سچا محب وطن ہوگا ذیل میں چند نکات تحریر کئے جارہے ہیں جن کا تقاضہ ہمارا وطن ہم سے کرتا ہے

(1)ہم اچھا شہری بنے

(2)ہم ذاتی مفادات سے اٹھ کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دے

(3)ہم کرپشن اور بدعنوانی سے بچے

(4)ہم ہر وقت سرحدی دفاع کے لئے تیار رہے

(5)کسی بھی ایسی منصوبہ کے خلاف ڈٹ جائے جو امن و استحکام کو چیلنج کرے

(6)ہم ملکی خزانے، دولت، معدنیات اور دیگر املاک کی حفاظت کرے ۔

(7)ہم وطن کے اثاثہ، تہذیب و تمدن اور اس میں موجود افراد سے محبت کرے

(8)ہم عدل و انصاف، انسانیت کا ساتھ دے اور مکار و عیار کو منہ توڑ جواب دیں

مذکورہ بالا ان تمام افکار ونظریات، دلائل و بیانات کے مد نظر اگر ہم کام کریں گے تو ہم وطن سے محبت کے ساتھ ساتھ اس کے تقاضے کو بھی پورا کرسکیں گے اسی میں ہماری اور وطن کی بھلائی اور ترقی کا راز مضمر ہے ۔

 

ذیشان الہی منیر تیمی چمپارنی

مانو کالج، اورنگ آباد، مہاراشٹرا

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *