عصر حاضر میں حجیت حدیث پر بعض اعتراضات اور ان کا رد

عصر حاضر میں حجیت حدیث پر بعض اعتراضات اور ان کا رد

____حصہ خامس ____

تحریر :عبد المالک محی الدین رحمانی

متعلم جامعہ اسلامیہ مدینہ نبویہ

________________________

قارئین کرام!

حدیث کی تعریف اور اس کے بعض اقسام مختلف اعتبارات جیسے حدیث قدسی، مرفوع، موقوف اور مقطوع، یا صحت و ضعف کے اعتبار سے صحیح، حسن اور ضعیف وغیرہ تقسیمات کے تحت آپ نے حجیت حدیث کے موضوع پر پڑھا ہوگا یہاں ہم ایک اور تقسیم تعدد طرق کے اعتبار سے( یعنی باعتبار وصوله إلينا ) مزید کچھ جاننے کی کوشش کریں گے تاکہ آئندہ اعتراض اور جواب کو سمجھنے میں یہ ہمارے لیے معاون ثابت ہو ، اس لیے اس اعتبار سے حدیث کی دو قسمیں بنتی ہیں :

1- متواتر :وہ روایت جسے ایک بہت بڑی تعداد روایت کرے جن کا جھوٹ پر متفق و متحد ہونا ناممکن ہو ، یہ تعداد اپنے ہی جیسی تمام صفات کی حامل ایک بڑی جماعت سے روایت کرے، اور انہوں نے یہ خبر بذریعہ حس حاصل کی ہو۔

متواتر حدیث کے شرائط :

علمائے کرام نے متواتر حدیث کیلئے 4 شرائط ذکر کی ہیں:

1- اسے بہت بڑی تعداد بیان کرے۔

2- راویوں کی تعداد اتنی ہو کہ عام طور پر اس قدر عدد کا کسی جھوٹی خبر کے بارے میں متفق ہونا محال ہو۔

3- مذکورہ راویوں کی تعداد سند کے ہر طبقے میں ہو، چنانچہ ایک بہت بڑی جماعت اپنے ہی جیسی ایک بڑی جماعت سے روایت کرے، یہاں تک کہ سند نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جائے۔

4- ان راویوں کی بیان کردہ خبر کا استنادی ذریعہ حس ہو، یعنی: وہ یہ کہیں کہ : ہم نے سنا، یا ہم نے دیکھا، کیونکہ جو بات سنی نہ گئی ہو، اور نہ دیکھی گئی ہو، تو اس میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے، اس لیے وہ روایت متواتر نہیں رہے گی۔

متواتر حدیث کے اقسام:

1- متواتر لفظی: ایسی روایت جس کے الفاظ اور معنی دونوں تواتر کیساتھ ثابت ہوں

اس کی مثال: حدیث: (‏مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ‏ ‏فَلْيَتَبَوَّأْ ‏ ‏مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ)

ترجمہ: جو مجھ [محمد صلی اللہ علیہ وسلم] پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔(صحیح بخاری:107 ، صحیح مسلم :3)

اس روایت کو نقل کرنے والے صحابہ کرام کی تعداد72 سے بھی زیادہ ہے، اور صحابہ کرام سے یہ روایت بیان کرنے والوں کی تعداد نا قابل شمار ہے۔

2- متواتر معنوی: ایسی روایت جس کا مفہوم تواتر کیساتھ ثابت ہو، الفاظ میں کچھ کمی بیشی ہو۔

اس کی مثال: دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کی احادیث ہیں، چنانچہ دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے سے متعلق ایک سو کے قریب روایات ملتی ہیں، ان تمام احادیث میں یہ بات مشترک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے وقت ہاتھ اٹھائے، ان تمام روایات کو سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے ایک رسالے میں جمع کیا ہے، جس کا نام ہے: ” فض الوعاء في أحاديث رفع اليدين في الدعاء “(معجم مصطلحات الحديثة للدكتور ضياء الرحمن اعظمي :348،349)

2-خبر واحد :اس کی دوسری قسم خبر واحد یا اخبار آحاد ہے اور خبر واحد جو متواتر کے شرائط پر پورا نہ اترے اسے خبر واحد کہتے ہیں. گویا جس روایت میں اوپر متواتر حدیث کے جو شرائط ذکر کیے گئے وہ نہ پائے جاتے ہوں اسے خبر واحد کہتے ہیں. اس کی بھی دو قسم ہے

1- مقبول

2- مردود.

چونکہ اس کے بعد خبر واحد یا اخبار آحاد پر بات ہوگی اور اس کی حجیت پر بعض اعتراضات اور ان کا رد ہوگا اس لیے اس کی تفصیل ضروری تھی.

ان شاء اللہ آئندہ قسط میں ہم جانیں گے کہ اس متواتر و آحاد کی تقسیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پھر اس کے بعد اخبار آحاد پر اعتراضات کا جائزہ لیں گے.

جاری………

فی امان اللہ ____

⛧ مراجع و مصادر ⛧

1- معجم مصطلحات الحديثة للدكتور ضياء الرحمن اعظمي :448،449.

2- نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر للحافظ ابن حجر

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *