بھارت میں بے روزگاری کے چند اسباب و وجوہات

بھارت میں بے روزگاری کے چند اسباب و وجوہات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عصر حاضر میں بھارت کے اندر بے روزگاری ایک نہایت ہی اہم اور پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس کی وجہ کر بہت سے لوگ موت کو گلے لگا چکے ہیں تو کچھ لوگ بھوک کی وجہ کر مجبور ہوکر اپنی عزت نفس کو کچل کر ہاتھوں میں کشکول لئے لوگوں کے سامنے دست دراز ہورہے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کون سے ایسے اسباب و عوامل ہیں جس نے بھارتی معیشت کی اینٹ سے اینٹ بجادی؟ کیوں لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں؟ کیوں اڑیسہ کے اندر چار، پانچ ہزار کی خاطر ماں اپنی شفقت و رحمت کو پیروں تلے روند کر اپنے نور نظر کو بیچ رہی ہیں ؟کیوں اس کی خاطر لوگ جھوٹ ،فریب ،مکاری ،عیاری اور فریبکاری کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں؟ ۔ان تمام سوالات کا جواب بے روزگاری ہے جس کے اسباب کو جاننا اور اس کے خاتمے کے لئے فورا اقدام کرنا ہر اس بھارتی کی ذمہ داری ہے جو ایک حساس ذہن و دماغ اور دل کے مالک ہیں ۔ورنہ وہ دن دور نہیں جب اس کا دردناک انجام ہمارے ملک، قوم اور سماج کو بھگتنا پڑے گا ،ہماری زندگی سے چین و سکون اور امن و امان کا خاتمہ ہو جائے گا ذیل میں بے روزگاری کے چند اسباب و وجوہات تحریر کئے جارہے ہیں

(1)ناقص تعلیمی نظام

بھارت میں بے روزگاری کے بہت سارے اسباب میں سے ایک نہایت ہی اہم سبب یہاں کی ناقص تعلیمی نظام ہے کیونکہ بھارت کی سرزمیں پر لاکھوں کی تعداد میں پی ایچ ڈی، پی جی اور گولڈ میڈلسٹ کے اعجاز سے متصف لوگ بھی ہاتھوں میں ڈگریاں لئے در در کی ٹھوکرے کھا رہے ہیں انہیں کوئی نوکری دینے والا نہیں جو یہاں کی ناقص تعلیمی نظام کی پول کھول رہی ہے حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایک تعلیم یافتہ شخص کو اس طرح سے در در کی ٹھوکرے نہیں کھانے پڑتے اور وہ بلا دقت و پریشانی سے نوکری حاصل کر لیتے ہیں

(2)ناقص معاشی نظام

بھارت میں بے روزگاری کے اسباب میں سے ایک سبب یہاں کی ناقص معاشی نظام بھی ہے کیونکہ ایک طرف حکومت کا دھیرے دھیرے سرکاری چیزوں کو پرائیوٹ ہاتھ میں دینا اور جی ایس ٹی جیسے قوانین سے چھوٹی صنعت کا جنازہ نکل جانا یہاں کی ناقص معاشی نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔

(3) قدرتی آفات

بھارت میں بے روزگاری کی ایک وجہ قدرتی آفات بھی ہیں کیونکہ سیلاب، آندھی اور زلزلہ کی وجہ کر بھی بہت سے کل کارخانے، کھیتیاں اور فصلوں کو نقصان ہوتا ہے جس کی وجہ کر اس سے جڑے ہوئے لوگ کثیر تعداد میں بے روزگار ہوجاتے ہیں اس لئے ہماری سرکار کو چاہئے کہ وہ کوئی ایسا قانون لائے جس میں اس طرح کے حادثات کے شکار افراد کی مدد اور تعاون کی جاسکے ۔

(4)نئی مشینوں کی ایجاد

نئی مشینوں کی ایجاد کی وجہ کر ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے جس کام کو سو آدمی مل کر کرتے تھے آج اسی کام کو ایک مشین چند منٹوں میں کر لے رہی ہے جس کی وجہ کر بے روزگاری عام ہو رہی ہے اور ہر کل کار خانے والے کم وقت میں زیادہ کمانے اور چیزوں کو زیادہ سے زیادہ مارکیٹ میں لانے کے لئے مشینوں کا استعمال کررہے ہیں جس کا اثر بے روزگاری کی صورت میں غریبوں پر پڑ رہا ہے ۔

(5)غربت

بے روزگاری کے اسباب میں سے ایک سبب غربت بھی ہے کیونکہ بہت سے غریب و لاچار بچے ذہن و دماغ اور عقل و شعور رکھنے کے باوجود بھی اس مقام پر نہیں پہنچ پاتے جس کے وہ حقدار ہیں نتیجتا وہ بے روزگاری کی ذلت سر پر لیئے بھٹکتے رہتے ہیں اور در در کی ٹھوکرے کھانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

(6)کرپشن

بھارت میں کرپشن اور رشوت عام ہے ہر سرکاری دفتر ،بلاک ،اسکول، کالج، ہاسپیٹل اور ڈاک خانہ میں کرپشن کی آگ لگی ہوئی ہے بغیر پیسہ دیئے کوئی کام کرا لینا ہمالیہ پہاڑ کو سر پر اٹھا لینے کے مترادف ہے جس کی وجہ کر بہت سے لوگ جو حقیقی حقدار ہوتے ہیں اس کی جگہ پر پیسہ لے کر کسی دوسرے کو بیٹھا دیا جاتا ہے مثلا تعلیم کے میدان میں معلم جیسے حساس اور اہم ذمہ داری کو پیسہ کے اوپر دیا جاتا ہے تو جس کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہوتی ہے وہ لوگ پیسہ پھینک کر معلم بن جاتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو کمرہ جماعت میں بگاڑنے اور ان کا مستقبل برباد کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں اس لئے ہماری حکومت، ہمارے رہبر اور ہمارے لیڈران کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ جو حقیقی حقدار ہے ان کو اس میدان میں بہتر کارنامہ انجام دینے کا موقع ملے

(7)امراء و سلاطین کے بچوں کی سستی و عیاشی۔

بے روزگاری کے اسباب میں سے ایک نہایت ہی اہم سبب یہ بھی ہے کہ امراء و سلاطین کے بچے کام سے جی چراتے ہیں وہ سوچتے ہیں کی باپ دادا کی جائیداد اور مال و دولت ان کے لئے کافی ہے اس لئے کسی کے سامنے وہ یہ کہنے میں ذرہ برابر بھی شرم نہیں کرتے کہ ان کے پاس بہت سارا دھن ہے اس لئے وہ بے روزگار بھٹک رہے ہیں اور موج و مستی کررہے ہیں اسی نہج پر ان کی زندگی جاری و ساری رہتی ہے حتی کہ جب ان کا پدرم سلطان بود کا نشہ ٹوٹتا ہے تب ان کی دنیا اندھیری ہوچکی ہوتی ہے ان کی پیشانی پر بے روزگاری کی مار صاف دیکھ رہی ہوتی ہے اور ان کی آنکھیں کسی نوکری کی تلاش کررہی ہوتی ہیں لیکن گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں کی زد میں وہ پستے چلے جاتے ہیں آخر میں گزارا کرنے کے لئے دست دراز ہونے تک کی نوبت آجاتی ہے ۔

 

(8)خواتین کو ریجرویشن دینا ۔

عصر حاضر میں بھارت مغرب کی تقلید میں بہت آگے بڑھ رہا ہے ہر میدان میں مغرب کی نقالی کرنا اپنی ترقی کا زینہ اور مال و دولت کا سفینہ تصور کررہا ہے جس کی وجہ کر ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں ایک طرف خواتین مرد کے شانہ بشانہ چلنے لگیں تو وہی دوسری طرف حکومت نے خواتین کو نوکری میں 50 فیصد ریجرویشن دے کر بے روزگاری کو بڑھاوا دیا کیونکہ آزادی سے قبل عام طور پرخواتین گھر کا کام کیا کرتی تھیں اور مردوں کی ذمہ داری نوکری کرنی ہوتی تھی مطلب صاف ہے کہ ہر طرف اور ہر میدان میں مرد ہی مرد ہوا کرتے تھے اس لئے عام طور پر مرد بے روزگار نہیں ہوا کرتے ہیں لیکن آزادی کے بعد خواتین کو گھر سے نکال کر فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے کی اجازت دی جانے لگیں اور دھیرے دھیرے ہر میدان میں خواتین کے لئے مخصوص سیٹیں ریجرب کر دی گئیں جس کی وجہ کر ایسا ہوا کہ ایک ہی گھر سے شوہر، بیوی، ساس اور بہو کو نوکری مل گئی تو دوسری طرف کسی کے حصے میں ایک بھی نوکری نہ آئی مجبورا بے روزگاری کی زندگی گزارہے ہیں

(9)لوگ کا محنت سے جی چرانا اور نوکری ڈھونڈنا

بے روزگاری کے اسباب میں سے ایک سبب لوگوں کا محنت سے جی چرانا اور نوکری ڈھونڈنا بھی ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کے نوجوان پڑھ لکھ کر اس انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ اسے کوئی ایک اچھی سی نوکری مل جائے ۔انہیں محنت و مزدوری کرنے میں شرم آتی ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ لوگ طعنے دیں گے کہ اتنا پڑھ لکھ کر وہی کام کررہے ہو جو ایک جاہل کرتا ہے حالانہ محنت کرکے کمانے اور کھانے میں کسی طرح کی شرم نہیں آنی چاہئے کیونکہ انبیاء کرام بھی محنت و مزدوری کرکے اپنی زندگی گزارتے تھے ۔

(10)سرکار کی عدم توجہی ۔

آج بھارت میں بے روزگاری کی وجہ سرکار کی عدم توجہی بھی ہے کیونکہ اگر ہماری حکومت چاہتی تو بہت آسانی سے بڑے پیمانے پر بھارت کے کونے کونے میں کارخانے اور فیکٹریاں ڈالی جا سکتی ہیں جس کی وجہ کر لاکھوں کو نوکری کرنے کا موقع بہت آسانی سے مل جائے گا مثال کے طور پر بچوں کے کھیلنے کا ساز و سامان چین اور جاپان سے منگوایا جاتا ہے اگر حکومت چاہتی تو کچھ ایسی فیکٹریاں بھارت میں کھولی جاتی جو بچوں کا کھلونا تیار کرتی اور ان فیکٹریوں میں کام کرنے کے لئے بھارت کے لوگوں کو تربیت دی جاتی اور انہیں ان فیکٹریوں میں کام کرنے کے مواقع دیئے جاتے تو اس سے حکومت اور عوام دونوں کا بہت زیادہ فائدہ ہوتا

(11)بچوں کا موبائل میں مست رہنا

آج کا زمانہ سائنس و ٹکنالوجی کا زمانہ ہے سائنس نے جہاں ایک طرف بہت ساری ایجادات دنیا کے سامنے پیش کی وہی دوسری طرف موبائل فون کی ایجاد بھی سائنس کی ایک حیرت انگیز ایجاد ہے۔موبائل فون کے جہاں ایک طرف ڈھیر سارے فوائد ہیں وہی دوسری طرف بہت سے نوجوان اس میں اس طرح مست ہوئے کہ انہیں اتنا بھی شعور نہیں آیا کہ انہیں اچھی تعلیم اور بہتر مستقبل بنانا ہے ۔اس لئے ایسے نوجوان موبائل کے نشہ میں جھوم رہے ہیں لڑکیوں سے گھنٹوں بات کرنا، فیس بک چلانا، ٹیک ٹاک بنانا، واٹس ایپ پر گروپ گروپ کھیلنا اور یوٹیوب سے فلمیں اور گانے سننا ان کی زندگی کا سب سے بڑا محبوب مشغلہ بن چکا ہے جس کی وجہ کر انہیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ بے روزگار ہیں اور اپنے والدین کی تمنائیں اور اپنی خوبصورت مستقبل کے قاتل ہیں

(12)جہالت

بے روزگاری کے اسباب میں سے ایک سبب جہالت بھی ہے کیونکہ بلا تعلیم کے کہیں کوئی کام ملنا بہت مشکل کام ہے آج کوئی بھی شخص کہیں بھی نوکری کرنے کے لئے جائے تو سب سے پہلے اس کی تعلیمی لیاقت و قابلیت کے متعلق سوال کیا جاتا ہے اور جب یہ معلوم پڑتا ہے کہ وہ جاہل ہے تو پھر انہیں یہ کہہ کر وہاں سے بھگا دیا جاتا ہے کہ یہاں جاہلوں کے لئے کوئی کام نہیں

(13)بڑھتی آبادی ۔

آج بھارت کے اندر بڑھتی آبادی ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے

جس کی وجہ کر بھی بھارت میں بے روزگاری عام ہورہی ہے کیونکہ آبادی بڑھنے کی وجہ کر یہاں کے جو وسائل ہیں اس میں بہت سارے لوگ باہم مشترک ہو رہے ہیں تو جو وسائل پہلے لاکھوں کے لئے ہوا کرتے تھے اب اس میں کروڑوں سے بھی زائد لوگ شامل ہیں اسی طرح کہیں پر دس لوگوں کے کام کرنے کی جگہ ہے وہاں پر دس ہزاد آدمی پہنچ رہے ہیں تو دس آدمی کو تو کام مل جاتا ہے لیکن 990 لوگ بے روزگار ہی رہ جاتے ہیں ۔

 

(14)مہارت کی کمی

آج بھارت کے اندر بے روزگاری کا ایک سبب مہارت کی کمی بھی ہے کیونکہ کسی بھی کام میں مہارت سے پر افراد کو بہت جلد کام مل جاتا ہے جب کہ بغیر مہارت کے کام ملنا بہت مشکل ہے مثال کے طور پر کمپیوٹر کو ہی لے کہ آج اگر آپ اس میں ماہر ہے تو بلا کسی پریشانی کے آپ کو آسانی کے ساتھ کام مل جائے گا

(15)غیر مستقل مزاجی۔

عصر حاضر میں بے روزگاری کے اسباب میں سے ایک سبب غیر مستقبل مزاجی بھی ہے کیونکہ بہت سے نوجوانوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ دو مہینہ کوئی کام کرتا ہے تو دوسرے مہینہ کے بعد کوئی اور کام ڈھونڈنے لگتے ہیں مطلب یہ کہ وہ بہت جلد ترقی کے منازل طے کرنا چاہتے ہیں اور کوئی آسان راستہ کی تلاش کی وجہ کر وہ غیر مستقل مزاجی کے مالک بن بیٹھتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے آسان راستہ نہیں مل پاتا اور بے روزگار ہوکر گھر پر بیٹھ جاتے ہیں

(16)ملکوں کے باہمی جنگیں

آج بھارت ملکوں کے باہمی جنگوں سے گھڑا ہوا ہے کبھی پاکستان تو کبھی چین سے جنگ اور سرحدی حدود پر تقرار کی وجہ کر بھارت اپنی ڈی جی پی کا بہت بڑا حصہ بم و بارود خریدنے اور اسلحہ و بندوق کو جمع کرنے کے لئے صرف کررہا ہے جس کی وجہ کر بم و بارود اور اسلحہ و بندوق بیچنے والے ممالک تو مالدار ہو رہے ہیں لیکن خریدنے والے ممالک جس میں بھارت بھی ہے کی حالت بد سے بدتر ہورہی ہے اور اس کا اثر دائرکٹ لوگوں کے روزگار پر پڑ رہا ہے ۔

(17)خالق و رازق کی نافرمانیاں

اگر اسلامی اعتبار سے سے دیکھے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی نافرمانی کی وجہ کر بھی معیشت ہلاک و برباد ہوتی ہے تو بھارت بھی اس کی زد میں ہے کیونکہ بھارت میں لاتعداد دیوی اور دیوتاؤں کو پوجا جاتا ہے غیر اللہ سے مدد و نصرت کی درخواست کی جاتی ہے انہیں سے ہر پریشانی کا حل کرنے کے لئے گوہار لگائی جاتی ہے تو اس کی وجہ کر اس کا اثر بھارت کے روزگار پر بھی پڑ رہا ہے

(18)صرف بڑے فائدے کو ترجیح دینا۔

بھارت میں بے روزگاری کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہاں کے لوگ صرف بڑے فائدے کو ترجیح دیتے ہیں گھنٹوں میں لاکھوں کمانے کی فکر دامن گیر ہوتی ہے اس لئے چھوٹے فائدے کو لوگ ترجیح نہیں دیتے اور یہ بھول جاتے ہیں کہ بوند بوند کر کے ہی تالاب بھرتا ہے جس کا نتجہ یہ نکلتا ہے کہ بےروزگاری ان کے دروازے پر دستک دینے لگتی ہے ۔

(19)مایوسی ۔

انسان کو کبھی بھی مایوسی جیسی صفت کو اپنی زندگی سے نہیں جوڑنی چاہئے کیونکہ اس کی وجہ کر ایک شخص کا تابناک مستقبل تاریک ہوجاتا ہے مثال کے طور پر ایک لڑکا بہت جہد و کوشش کے بعد کسی کام میں فیل ہوجاتا ہے تو وہ مایوس ہوجاتا ہے کہ وہ کام ہم سے نہیں ہوپائے گا اس لئے اس کام کو وہ چھوڑ کر بے روزگار بن کر گھر پر بیٹھ جاتا ہے یہ بیماری بھارت کے نوجوانوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے

 

(20)انتہاء پسندی اور عدم تحفظ ۔

بھارت میں بے روزگاری کے بہت سارے اسباب میں سے ایک سبب انتہاء پسندی اور عدم تحفظ بھی ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کے متعلق سنا جاتا ہے کہ ان کے ماتحت لوگ پر ظلم کیا جاتا ہے، کچھ لوگ کی انتہاء پسندی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے مذہب کے لوگ کو نہ تو ملازمت میں شریک ہونے دیتےہیں اور نہ ہی ان سے کسی سامان کو خریدتے ہیں ۔کچھ لوگ مذہب کے نشے میں چور ہوکر کسی مخصوص دین و دھرم کے ماننے والے لوگوں کی دوکان کو نذر آتش کردیتے ہیں جس کی وجہ کر دوکاندار بے روزگار ہوکر گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔

مذکورہ بالا تمام افکار و نظریات، دلائل و بیانات اور نکات و مشاھدات کو مد نظر رکھنے کے بعد یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اگر ہماری حکومت ،ہمارے ملک کے افراد اور اعلی ذہن و دماغ کے مالک اشخاص نے ان وجوہات کے خاتمے کے لئے بیدار نہیں ہوئے تو وہ دن دور نہیں جب بھارت کی سرزمیں پر بھوک سے مرنے والوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا ۔بہت سے لوگ دانے دانے کو محتاج ہو جائیں گے ،لوٹ و گھسوٹ لوگوں کے رگ رگ میں بس جائے گا، سماج و معاشرہ میں بدامنی اور بے چینی عام ہوجائے گی، خود غرضی اور رشوت کی بنا پر لوگوں کا جینا محال ہونے لگے گا اس لئے ہر شخص مکمل ایماندری سے ان اسباب و وجوہات کو ختم کرنے کے لئے کوشش کرے ۔تب جاکر بھارت پھر سے سونے کی چڑیاں بن جائے گا ۔

 

ذیشان الہی منیر تیمی

مانو کالج، اورنگ آباد، مہاراشٹرا

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *