بل گیٹیس اور دوسرے لوگ مالی مدد کر رہے ہیں اور ہندوستانی ارب پتی بالکونی سے تالی بجائیں گے

دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بل گیٹس نے’ بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن’ کے ذریعے کورونا وائرس کی عالمی تحقیق اور علاج میں مدد کے لئے 100 ملین عطیہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ علی بابا کے بانی اور چین کے دوسرے امیر ترین شخص جیک ما نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے میں مدد کے لئے اپنی فاؤنڈیشن سے 14 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ 500،000 ٹیسٹنگ کٹس اور 10 لاکھ فیس ماسک کے علاوہ جو اس نے امریکہ بھیج دیا ہے۔ پوپ اسٹار ریحانہ نے ایک ایسے وقت میں وینٹیلیٹروں کی خریداری کے لئے 1.4 ملین کا عطیہ کیا ہے جب کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں ہسپتال کے آئی سی یو مریضوں کے ساتھ بھری ہوئی ہے۔

دنیا بھر کے امیر کچھ امیر ترین افراد کرونا جیسے عالمی دہشت سے نپٹنے میں مدد کر رہے ہیں لیکن ہندوستان کے بڑے کاروباریوں،دولت مندوں اور تاجروں کی خاموشی ایسے میں پوری دینا کو کھٹک رہی ہے۔ ہندوستان کے امیر ترین گھرانوں نے وزیر اعظم مودی کے ” جنتا کرفیو” کی حمایت کا وعدہ تو ضرور کیا ہے لیکن اب تک عالمی سطح پر تو کیا ملکی سطح پر بھی کسی امیر شخص نے مالی اعانت کی بات نہیں کہی ہے۔

متعدد ٹویٹر صارفین نے ہندوستان کے دولت مند برادری کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں۔

یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ 63 ہندوستانی ارب پتیوں کی مشترکہ دولت مالی سال 2018-19 کے ہندوستان کے کل یونین بجٹ سے زیادہ ہے جو 24،42،200 کروڑ روپے تھی۔

رائٹ گروپ آکسفیم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ، ہندوستان کے سب سے زیادہ امیر ترین ایک فیصد نے 953 ملین افراد کے پاس دولت سے چار گنا زیادہ دولت حاصل کی ہے جو ملک کی 70 فیصد آبادی کا حصہ بناتے ہیں۔ یعنی ملک کے ایک فیصد دولت مندوں کے پاس ستر فیصد ہندوستانیوں سے زیادہ دولت ہے۔ بتا دیں کہ اس وقت ہندوستان میں کورونا وائرس مثبت کیسوں کی مجموعی تعداد 287 ہے ، جبکہ 40 سے زائد مریضوں کی تصدیق ہفتہ کو ہوئی ہے۔

چونکہ ہر گزرتے دن کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ، طبی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ہندوستان پہلے ہی کمیونٹی ٹرانسمیشن کے تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں ماہرین معاشیات اور طبی پیشہ ور افراد نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کے لیے ہندوستانی حالات سازگار ہیں۔

فی الحال ہندوستان آج تک اس بیماری کے تیزی سے پھیلاؤ کی جانچ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم اگر وبائی بیماری قابو سے باہر ہو گئی تو ملک کے صحت کے نگہداشت کے نظام میں مناسب انفراسٹرکچر کی کمی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسے میں ہندوستان کے دولت مندوں اور بڑی کمپنیوں کے مالکان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس وبائی مرض سے نپٹنے میں سرکار کا ساتھ دیں اور عوام کی خدمت کے لیے آگے آئیں لیکن انہوں نے تو بس تالی اور تھالی بجانے کی ٹھانی ہے۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *