مال و دولت اور اخوت اسلامی

مال و دولت اور اخوت اسلامی                             ارمان تيمی

 

مال و دولت اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ اس کی اہمیت کسی ایسے تنگدست سے پوچھئے جسے دو وقت کی روٹی نصیب نہیں جو گلی،کوچے اور بیابانوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے اس کی اہمیت کسی ایسے بدحال سے پوچھئے جسے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے در در بھٹکنا پڑتا ہے خواہشات کا گلہ گھونٹنا پڑتا ہے ، اپنے بچوں کا ناز نہیں اٹھا پاتے، ان کی صحیح تعلیم کا بندو بست نہیں کر پاتے ، ان کے لئے اچھا کپڑا نہیں خرید سکتے، غرض کہ گھر کا پورا نظام درہم برہم ہوکر رہ جاتا ہے ۔                     

شریعت مطہرہ ہمیں حلال رزق کمانے سے نہیں روکتی جس کی سیکڑوں مثالیں کتاب و سنت میں موجود ہیں۔ فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ (سورہ جمعہ آیت نمبر۱۰ ) اتنی بہترین اسلامی تعلیمات کے باوجود بھی ہم اپنی کوتاہیوں سے باز نہیں آ رہے ہیں غیر قوم غریب ونادار لوگوں کے تعاون میں پیش پیش رہ رہے ہیں۔ان تمام نااہلی کی ایک بڑی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے ہمارا عمل قال اللّٰہ اور قال الرسول پر نہیں رہا اب (إنما المؤمنون إخوة) الحجرات : 10 اور (إن هذه أمتكم أمة واحدة) الأنبياء :92

کا پاٹھ یاد نہیں رہا ۔

(المسلم أخو المسلم) صحیح بخاری : 2442 ، صحیح مسلم : 2564

اور (المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضا) صحیح بخاری : 2446 ، صحیح مسلم : 2585

کا درس بھول گئے۔

مذکورہ بالا آیات کریمہ اور احادیث شریفہ سے بھائی چارہ (اور اتحادامت ) کا پتہ چلتا ہے ان دلائل کو سامنے رکھ کر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں اور نتیجہ اخذ کریں کہ ہمارے اندر کتنی گراوٹ آچکی ہے جب کوئی شخص ترقی کرتا ہے اور اس سے کسی کی مدد طلب کی جاتی ہے تو ہزار بہانے کرنے لگتا ہے ۔ جیسے کوئی اس کی جان مانگ لی ہو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صحابہ کرام اپنے درمیان موجود غریب لوگوں کی مدد کے لیئے کس حد تک چلے جاتے تھے اس کی ایک مثال پیش کرنا چاہتا ہوں ایک صحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللّٰہ عنہ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے اس وقت رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن ربیع رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ ان کا بھائی چارہ کرایا۔ سعد بن ربیع رضی اللّٰہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا میں انصاریوں میں سب سے مالدار شخص ہوں آپ میرے مال کا آدھا حصہ تقسیم کرلیں اور میری دو بیویاں ہیں پس آپ دیکھ لیں ان دونوں میں جو آپ کو زیادہ پسند ہیں ان کا نام مجھے بتا دیں میں ان کو طلاق دے دوں گا اور جب وہ عدت پوری کرلیں گی پھر آپ ان سے شادی کر لیں گے عبد الرحمن بن عوف رضی اللّٰہ عنہ نے کہا اللّٰہ تعالیٰ آپ کے اہل خانہ اور مال و دولت میں برکت دے اور کہا آپ لوگوں کا بازار کہاں ہے؟ چنانچہ لوگوں نے بنو قینقاع کا بازار بتایا (جہاں اپنی تجارت کی وجہ سے کچھ ہی عرصے میں دولت مند ہو گئے) صحیح بخاری: 3604

یہ حدیث بھائی چارہ کی مثال بیان کرتی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہمیشہ اپنی محنت کو ترجیح دینا چاہیے، کبھی بھی اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے چہ جائیکہ جگہ نئی ہی کیوں نہ ہو اور لا علمی کی صورت میں پوچھنے سے نہیں گھبرانا چاہیے

آج بہی خواہ لوگوں کی قلت ہے، بھائی چارے کی کمی ہے ایسے میں اگر ہم صحیح وسیلہ اختیار نہیں کریں گے، اپنے آپ کو نہیں سمجھیں گے، صحیح اور غلط کے مابین فرق نہیں کریں گے، سچ اور جھوٹ کے درمیان کا فرق نہیں جانیں گے ، محنت و مشقت سے جی چرائیں گے تب تک کامیابی کا سہرا نہیں باندھ سکتے امام محمد بن ادریس شافعی کا یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں

بقدرِ الكدِّ تكتسبُ المعالي

من طلب العلا سهر الليالي

ومن رام العلا من غير كد

أضاع العمر في طلب المحال

تروم العز ثم تنام ليلاً

يغوص البحر من طلب اللآلي

آئیے ہم سب مل کر اسلامی بھائی چارے کو مضبوط کرنے کا عہد کریں اور فقر و فاقہ سے بچنے کے لیے اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اے اللّٰہ ہم تمام لوگوں کو حلال طریقے سے رزق کمانے کی توفیق دے آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *