مرکز تو بہانا ہے اسلام اصل نشانہ ہے

*مرکز تو بہانہ ہے اسلام اصل نشانہ ہے*

 

از قلم:ذبیح اللہ انورضمیری

متعلم:جامعہ ملک خالد،ابہا،سعودی عرب

 

ان دنوں پوری دنیاکرونا جیسی مہلک بیماری سے لڑرہی ہےجب کہ ہندوستانی حکومت اور میڈیا ایسے نازک حالات میں بھی اپنی مسلم دشمنی سے باز نہیں آرہی ہے ۔اسلام اور مسلمانوں کوبدنام کرنے کی ایک نئی سازش رچ رہی ہے، موجودہ حکومت اور دلال میڈیا کرونا وائرس جیسے موذی و مہلک مرض کو ایک خاص مذہبی رنگ دینے کے لیئے کمر کس چکی ہے ۔اس وبائی مرض کو ایک نیا نام ‘کرونا جہاد”کے ذریعہ تبلیغی مرکز نظام الدین پر بے جا اور واہیات قسم کے عجیب و غریب سوالات کر کے اصل معاملات سے لوگوں کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ زبردستی طاقت کے زور پر اس وبائی مرض کے پھیلاؤ میں تبلیغی جماعت کے لوگوں کو گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہے جوکہ حد درجہ گرا ہوااور گھٹیا امر ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مرکز نظام الدین نےاس مہلک وبا سے لڑنے اور لاک ڈاؤن کے ایام میں کسی بھی سرکاری فرامین کی خلاف ورزی نہیں کری ہے اور اپنے فریضہ کو بخوبی انجام دیا ہے.

 

چلیں اب ہم کچھ اہم نکات کے ذریع بھارتی میڈیا کے دوہرے معیار اورمسلمانوں کے تئیں غیرجانبدارنہ رویہ پر نظر ڈالیں جس سے یہ واضح ہو جائے گا میڈیا اور حکومت مسلمانوں سے کس درجہ نفرت کرتی ہے۔کیونکہ تمام اینکرز ایک ہی راگ الاپ پر رہا ہے کہ مرکز کو 13سے 15مارچ تک کیوں کھلا رکھا گیا؟ جب کہ حکومت نے دہلی کے اندر کسی بھی طرح کے اجتماع کی امتناعی آرڈر جاری کر چکی تھی۔

 

١. وزارت صحت نے 13 مارچ کو اعلان کیا کہ کرونا از نوٹ ہیلتھ کیئر (Corona is not health care) ، میڈیا خاموش رہی

۲. 16 مارچ سے پہلے اسکول اور دوسرے پروگرام ہوتے رہے. میڈیا والے چپ رہے

٣. 18 مارچ کو تیروپتی مندر میں تین ہزار لوگوں کی بھیڑ جمع ہوئی تھی۔ لیکن میڈیا اس پر بھی خاموش رہی.

٤.14 مارچ کو دارالحکومت دہلی میں *گئو متر*(गऐ मुत्र ) *پارٹی* ہوئی،

اس پر بھی اینکروں کے منہ پہ تالا لگا ہوا تھا.

٥ .22 مارچ کو جنتاکرفیو کے بعد لوگ باہر آکر تالی اور تھالی بجانے لگے، ناچنے اور گانے لگے، اور ایک اچھی خاصی بھیڑ جمع ہوکر سوشل ڈسٹینسنگ کا جنازہ نکال رہی تھی ؟

٦ .25 مارچ مکمل لاک ڈاؤن کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بھیڑ اکٹھا کر کے پروگرام کیا ،اس پر کوئی سوال نہیں

۷ .16 مارچ تک سدھی ونایک مندربند نہیں تھا

اجین کا مہاکالیشور مندر بھی بند نہیں تھا. اس پر بھی میڈیا والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگا

17مارچ تک سریڈیہ کے سائیں بابا کامندربند نہیں تھا، اس پر بھی میڈیا والوں کے پاؤں میں جنبش نہیں ہوئی

22 مارچ تک کاشی کا وشوناتھ مندر بند نہیں تھا اور 23 مارچ تک پارلیمنٹ بھی چلتی رہی اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت ایوان میں ایسے ایسے لیڈران بھی موجود تھے جو کنیکا کپور سے مل چکے تھے اور کنیکا کپور کے ساتھ پارٹی میں شریک بھی ہو چکے تھے جو کہ کرونا پازیٹو پائی گئی تھی۔

 

۸ .23 مارچ کو مدِھیہ پردیش میں وزارت اعلی کا حلف لیا گیا، اور سیکڑوں لوگ اس میں شریک ہوئے جبکہ میڈیا بھی وہاں موجود تھی

اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ نظام الدین انتظامیہ نے کوئی غلطی کی یا نہیں؟

تو دلائل اور شواہد کی روشنی میں صحیح اور درست بات یہ ہے کہ مرکز نظام الدین اولیاء نہیں بلکہ سرکار اور اس کی پوری انتظامیہ اس لاپرواہی کی ذمہ دار ہے.

ایک اور بات یہ کہ 16 مارچ کو دلی سرکار نے اعلان کیا کہ دلی کے اندر کسی بھی جگہ پر پچاس سے زائد لوگ اکھٹا نہیں ہوسکتے. یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرکز کا پروگرام 13 سے 15 تک پہلے ہی سے طے تھا، 16 کے بعد دلی سرکار کے حکم پر عمل کرتے ہوئے مرکز کا پروگرام بند کر دیا گیا لیکن 13 سے 15 تک چلنے والے پروگرام میں جو لوگ پہلے ہی سے آ ۓہوۓ تھے اس معاملے میں مرکز نظام الدین کی انتظامیہ کیا کرتی ؟ پھر بھی سارے دروازے بند ہو جانے کے باوجود مرکز کے انتظامیہ نے بڑی تیزی کے ساتھ لوگوں کو اپنےگھرجانے کے ہدایت بھی دی ، اس کے بعد بھی جب وزیراعظم نے 22مارچ کو جنتاکرفیو کا اعلان کیا تو مرکز والوں نے اس حکم کو بھی من و عن مان لیا ۔پھراس کے بعد اچانک 24 تاریخ کو وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کر دیا کہ آج رات بارہ بجے سے 21 دنوں کے لیے پورےدیش میں لاک ڈاؤن رہے گا حکومت نے ان لوگوں کے لئے جو دوسری جگہوں پر پھنسے ہوئے تھے کوئی advance notification بھی جاری نہیں کیا، پھر بھی حالات کی نزاکت کے پیش نظر مرکز کے انتظامیہ بڑی تیزی کے ساتھ مرکزخالی کرتے رہے ،

25 مارچ کو فورا انتظامیہ نے ایس ایچ او ، اےسی پی ،ایس ڈی ایم ، اور ڈی ایم کو کئی خطوط لکھے کہ *”ہمارے مرکز میں کم و بیش 1500 لوگ پھنسے ہوئے ہیں جو نہیں جاسکے ہیں حالانکہ ہمارے پروگرام میں تقریبا دس ہزار لوگ شریک ہوئے تھے آپ گاڑی پاس دے دیں تاکہ بچے ہوۓلوگوں کوہم گھر بھیج دیں*” لیکن انتظامیہ نےاس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی.

اہم بات یہ کہ مرکز میں پھنسے ہوۓ لوگوں کا نہ نکلنا وزیراعظم کی بات ہی کی تعمیل تھی وزیراعظم نے چوبیس مارچ کو کہا *جو جہاں ہیں وہیں رہیں* اور اسی بات کو وزیراعلی دہلی نے 28 مارچ کو دہرایا ۔ انتظامیہ سے مرکز کی بات چل رہی تھی کہ انتظامیہ نے کہا کہ پہلے جو لوگ نزلہ کے شکار ہیں وہ چیک اپ کروا لیں ۔عین اسی درمیان دلال میڈیا کو بھنک لگ گئی کہ مرکز میں ایک ہزار یا دو ہزار کے قریب لوگ پھنسے ہوئے ہیں ،ان پھنسے ہوۓ مجبورلوگوں کے بارے میں میڈیا نےیہ بتانا شروع کیا کہ *”نظام الدین میں لوگ چھپے ہوۓہیں*” اور وہ تمام کے تمام دلال میڈیا نےاپنی ساری توجہ اسی جانب مرکوز کر لیا، اور کرونا جیسی عالمی وبا کو تبلیغی جماعت سےبلکہ مسلمان اور اسلام سے جوڑ کر پیش کرنا شروع کر دیا.

مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جمہوریت کے اس چوتھے ستون نے اپنے فریضے کو چھوڑ دیا، کرونا کے بہانے اسلام پر اور مسلمانوں کو پھر سے نشانہ بنانا شروع کر دیا اور اپنے سنگھی ذہنیت کا برملا اظھار کرنا شروع کردیا۔یہ تمام اینکرز بدتمیز ، بدتہذیب ہیں ، دیش کو برباد کرنے والے ہیں ، دراصل یہ لوگ کورونا وائرس سے بھی مہلک وائرس ہیں،ملک کے دشمن ہیں ، نفرت کے سوداگر ہیں ، یہ دیش کو بانٹنے والے ہیں، انسانیت اور ہندوستانی قوم کے دشمن ہیں کیونکہ اس وقت ان کی ذمہ داری تھی کہ سرکار کی کمیوں کی نشاندہی کرتے. دلی میں لاکھوں مزدور جو پریشان ہیں ان کی پریشانی سرکار کیسے دور کرے اس پر بات کرتے ، جو لوگ کرونا کے مریض ہیں ، ان کا علاج کیسے ہو اس پر بات ہونی چاہیے تھی ،کانپور میں کرونا ہسپتال کے سامنے ایک کرونا مریض پانی پانی چلاتا رہا پرکسی ڈاکٹر نے اس کے ساتھ بروقت صحیح رویہ اختیار نہیں کیا لیکن حقیقی بات یہ ہے کہ چوتھا کھمبا پورے طور پر بیمار ہے،

وزیر اعلی دہلی نےبغیر سوچے سمجھے بڑی تیزی کے ساتھ مرکز پر کاروائی کا حکم دےدیا۔

 

مسلمانو!اور سچے ہندوستانیو !

اگر ہم ان شریف لوگوں کے لئے نہیں کھڑے ہوئے تو اگلا نمبر ہمارا ہی آنے والا ہے، آپ سوچیں مرکز کے انتظامیہ نے پورے طور پر حکومت کی ہدایات کو مانا ہے اس کے باوجود خود حضرت مولانا سعد صاحب صاحب حفظہ اللہ پر اور ان کے ساتھ ساتھ پانچ یاچھ اور لوگوں پر ایف آئی آر درج کیا گیا ہے.

آج مولانا سعد صاحب حفظہ اللہ پر ایف آئی آر درج کیا گیا

کل مولانا ارشد مدنی حفظہ اللہ پر

پرسوں مولانا محمود مدنی حفظہ اللہ پر

پھر مولانا توفیق رضا صاحب حفظہ اللہ پر

اس کے بعد مولانا اصغرعلی مدنی سلفی حفظہ اللہ پر مقدمات درج کرنے کے امکانات ہیں

ایسے شریف لوگوں پر اگر دہلی پولیس اور حکومت ایسا برتاؤ کرے گی ، تو آپ ذرا سوچیں کہ آگے آنے والے دن ہمارے لئے کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *