مسلمانوں کا اپنا نیوز چینل

*مسلمانوں کا اپنا نیوز چینل*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از قلم : محبوب عالم عبدالسلام

 

موجودہ دور میں میڈیا کی طاقت کسی سے مخفی نہیں، میڈیا کی طاقت سے ہر کوئی واقف ہے، پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا ۔ دنیا آج اس کی اسیر بن چکی ہے، میڈیا چاہے تو ذرے کو آفتاب بنا دے اور آفتاب کو ذرہ، سیاہ کو سفید کہہ دے یا سفید کو سیاہ، رائی کو پہاڑ ثابت کردے یا پہاڑ کو رائی بنا کر پیش کر دے، غرض واقعات کی غیر جانب دارانہ رپورٹنگ کرنے یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں میڈیا کا اہم کردار ہوتا ہے، ہر سمت اسی کی حکمرانی ہے۔

ہمارے ملک ہندوستان میں جب سے ظالم و جابر حکمرانوں نے عنانِ حکومت سنبھالی ہے، میڈیا کو اپنے بے رحم آہنی پنجے میں جکڑ لیا ہے۔ اُن کی منشا اور چاہت کے مطابق ہی خبروں کی تشہیر ہوتی ہے، غیر جانبدارانہ اور تعصب سے پاک رپورٹنگ اب تقریباً ناپید ہوچکی ہے۔ بیش تر ٹی وی اینکرز بے دام غلاموں کی طرح اُن حکمرانوں کی ہم نوائی کر رہے ہیں، بالخصوص اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے میں ٹی وی چینلوں کے اینکرز بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، اور یہ اُن کی عادت بن چکی ہے۔ مسلمانوں کی معمولی غلطی کو اُچھالنے یا کسی ایک مسلم فرد یا چند افراد کے جرم کی وجہ سے پوری مسلم برادری کو ٹارگیٹ کرنا اِن بکے ہوئے اینکروں کا خوراک بن چکا ہے۔

ابھی حالیہ دنوں تبلیغی مرکز دہلی کے واقعے کو جس طرح سے میڈیا نے اچھالا ہے وہ قابل افسوس اور انسانیت کے نام پر بدنما داغ ہے۔ دن رات تبلیغی مرکز کا رٹ لگا کر غیر مسلم برادرانِ وطن کے ذہنوں میں مسلمانوں کے تئیں نفرت کی جو بیج بوئی جارہی ہے، وہ آنے والے دنوں کے لیے خطرناک بن سکتا ہے، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خطرناک بن چکا ہے اور خطرات کے بادل ابھی سے منڈلانے لگے ہیں۔ حالاں کہ تبلیغی مرکز کے علاوہ بھی کئی جگہ لاک ڈاؤن کو توڑا گیا، مگر اس کا کوئی ذکر تک نہیں، بلا سوچے سمجھے بغیر کسی منصوبہ بندی کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا اس پر بھی کوئی سوال نہیں اُٹھاتا اور حکومت کی ناکامیوں پر بھی کہیں سے آواز نہیں اُٹھائی جا رہی ہے، بس چند گنے چنے لوگ ہیں جو لوگوں کو صحیح صورتِ حال سے آگاہ کر رہے ہیں، مگر اُن کی مانتا کون ہے؟

غرض میڈیا اہل کاروں کے اس دوغلے رویے سے مسلمان سراسیمہ ہیں۔ دانش وران اور تجزیہ نگار افراد شکوہ کناں ہیں کہ اگر آج مسلمانوں کا کوئی نیوز ٹی وی چینل ہوتا تو اور بھی مضبوطی کے ساتھ صحیح رپورٹنگ کے ذریعے حقیقت لوگوں کے سامنے آشکارا کی جاتی، بعض قلم کار حضرات کا مشورہ یہ بھی ہے کہ اب بلا کسی تاخیر کے اجتماعی طور پر ایک نیوز چینل قائم کیا جائے اور اس کے ذریعے حق کی آواز بلند کی جائے، یقیناً یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور بلا تاخیر اس پر عمل بھی ہونا چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کا نیوز چینل کا قیام عمل میں آ بھی جائے تو پھر کس مسلک کے لوگ اس کی نمائندگی کریں گے؟ اس لیے کہ مسلمان مسلکی خرخشے سے تو نکلنے والے نہیں۔ ابھی چند دنوں پہلے کوئی مفتی زرتاب رضا ہاشمی ہیں، اُنھوں نے تبلیغی جماعت کے خلاف اول فول باتیں بکیں اور یہ کہا کہ اِن تبلیغیوں کا اسلام سے کوئی تعلق اور ناطہ نہیں ہے، یہ وہابی نظریات کے لوگ ہیں، جن کا تعلق دہشت گرد تنظیموں سے ہے، نام نہاد سجادہ نشین صاحب نے تبلیغی جماعت کو برا بھلا تو کہا ہی ساتھ ہی وہابیوں کو بھی دہشت گردی سے منسوب کر دیا۔

اس طرح کے بے ضمیر لوگ چند ٹکوں کے لیے اپنا ایمان، دھرم، ضمیر سب بیچ دینے والے لوگ اگر رہیں گے تو پھر آپسی اتحاد کیسے قائم ہوسکتی ہے؟ ہماری طاقت اور اجتماعیت کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟ ایسے لوگوں کا سماجی بائیکاٹ ہونا چاہیے یہ مسلم سماج کے لیے ناسور ہیں، اور ہم مسلمانوں کے لیے بھی اب ضروری ہوگیا ہے کہ اپنے اندر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ پیدا کریں، نظریاتی اور فروعی اختلاف ہوتے ہوئے بھی آپسی بھائی چارے کا ثبوت دیں تبھی ہم موجودہ ہندوستان میں اپنے وجود کو سلامت رکھ سکتے ہیں، اگر ہم آپس میں ہی بٹے رہے اور ایک دوسرے کو کافر اور دہشت گرد بناتے رہے، ضمیر فروشوں کی پشت پناہی کرتے رہے، ان کی حقیقت جاننے میں ناکام رہے اور حقیقت جاننے کے بعد بھی عملی طور پر اُن پر سخت ردعمل کا اظہار نہیں کیا تو یاد رکھیں! دشمن پوری طرح گھات میں ہیں، اُن کے ارادے بڑے خطر ناک ہیں، وہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے پوری طرح کوشاں ہیں اور مسلمانوں کو دویم درجے کا شہری بنا کر اپنے سو سالہ پرانے نظریے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔

اگر ہندوستانی لیول پر مسلمانوں کا کوئی نیوز ٹی وی چینل بن بھی جائے تب بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا اس لیے کہ مسلمان مسلک کے پرچار سے تو باز آنے سے رہے، بلکہ آپسی اختلافی مسائل میں ہی پھنس جائیں گے اور ایک دوسرے کو کافر قرار دینے میں اپنی ساری انرجی صرف کر دیں گے، خبروں کی تشہیر تو بعد کی بات ہے۔ ہمارا ایک مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیت علمائے ہند ہی دیکھ لیجیے اُن میں کتنا اتحاد ہے؟ اور اُن دونوں کی کیا وقعت و حیثیت ہے؟ ہاں اگر وجود میں آنے والے ممکنہ چینل کو ملکی و بین الاقوامی خبروں کی نشر و اشاعت اور ملکی و بین الاقوامی سیاست اور دیگر ضروری معلومات کی ترسیل تک ہی موقوف رکھا جائے تو ممکن ہے وہ چینل فروغ پائے اور اس سے مسلمانوں کو خاطر خواہ فائدہ پہنچے ورنہ اگر کوئی اسلامی پروگرام پیش کیا جائے گا، تو لازمی طور پر شیعہ، سنی اور دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث وغیرہ کی آپسی اختلافی باتیں پیش کی جائیں گی اور دوسرے فریق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے گی۔ دریں صورت کسی ایسے چینل کا فروغ پانا اور اس کے ذریعے کوئی خوش آئند تبدیلی کا آنا بے سود اور محض خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔

 

***

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *