حضیر احمد خان ؒ

حضیر احمد خان ؒ
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
———————————–
امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ ویشالی کی کمیٹی کے رکن ،جماعت اسلامی اور اوقاف کمیٹی ضلیع ویشالی کے سابق ذمہ دار، جمعیت شباب اسلام بہار کے سابق رکن اور اس کے سہ ماہی ترجمان طلوع فکر کی مجلس مشاورت کے سابق رکن اور مختلف ملی وسماجی کاموں میں مضبوط حصہ داری نبھانے والے جناب حضیر احمد خان بن شفیع عام خان (م۳۱؍ دسمبر ۱۹۹۵) بن محمد حسن خان بن مولوی منعم خان آبائی وطن اسعد پور مجھولی ، حال مقیم باغ ملی حاجی پور نزد قدیم جامع مسجد کا ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۳ء مطابق ۸؍ رمضان ۱۴۴۳ھ جمعہ کی نماز کے لیے وضوء کرتے ہوئے دن کے کوئی ۱۲؍ بجے انتقال ہو گیا، جنازہ کی نماز یکم اپریل کو بعد نماز ظہر اردو مڈل اسکول باغ ملی میں ادا کی گئی، نماز کی امامت مدرسہ محمدیہ مروت پو، مہنار ضلع ویشالی کے مہتمم مولانا سیف الاسلام نے کی اور مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، حاجی پور اور اس کے نواح کے مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور انہیںآخری سفر پر روانہ کرنے کے لیے قبرستان تک گیے، اس کے آگے کوئی جا بھی تو نہیں سکتا۔ پس ماندگان میں اہلیہ، عصمت خانم ، پانچ لڑکے ، فیصل شفیع خان ، فہد خان ، اسد خان، انس خان اور اویس خان اور تین لڑکیوں بشریٰ خانم، لبنیٰ خانم اور شاہدہ خانم کو چھوڑا۔
حضیر احمد خان مرحوم کی ولادت ۱۸؍ اپریل ۱۹۶۰ء کو مروت پور مہنار ضلع ویشالی نانی ہال میں ہوئی، ان کی والدہ کا نام ثریا خانم اور نانا کا نام عبد السلام خان تھا، ان کے والد حاجی شفیع عالم خان کا آبائی وطن اسعد پور مجھولی تھا، لیکن وہ بسلسلۂ کاروبا ر زیادہ تر کلکتہ ہی میں رہتے تھے، اس لیے حضیر احمد خان کا بچپن اپنی نانی ہال مروت پور میں ہی نانا کے گھر گذرا، ابتدائی تعلیم وتربیت بھی وہیں ہوئی، 1976میں ہائی اسکول پاس کرنے کے بعد وہ والدکے پاس کلکتہ چلے گئے اور چمڑے کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے 1982تک انہوں نے کاروبار میں اپنے کو مشغول رکھا ، لیکن طبیعت ان کی اس کام میں نہیں لگی، اس لیے وہ دہلی منتقل ہو گیے، وہاں انہوں نے کچھ تجارت شروع کی، لیکن دو سال کی جد وجہد کے بعد ان کو احساس ہوا کہ میں اس تجارت میں کامیاب نہیں ہو سکوں گا، چنانچہ انہوں نے پھر سے کلکتہ کا رخ کیا اور والد کے ساتھ چمڑے کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے، والد کی جمی جمائی تجارت تھی ، اس لیے یہاں جمنے میں ان کو دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا، اسی درمیان ان کی شادی مروت پور مہنار رضوان خان صاحب کی دختر نیک اختر عصمت خانم سے ہو گئی اور وہ ڈاکٹر ممتاز احمد خان کے برادر نسبتی (بہنوئی) بن گیے۔ 1984سے انہوں نے حاجی پور کو اپنا مستقر بنا لیا اور کنگ شو ہاؤس کے نام سے سنیما روڈ حاجی پور میں ایک دوکان شروع کی جو بہت چلا نہیں کرتی تھی، بہت غور وفکر کے بعد انہوں نے اسی جگہ پر الکٹرونک سامانوں کی بکری کا کام شروع کیا، مزاج مذہبی تھا، ڈی جے اور گانے بجانے کی سی ڈی اور ویڈیو سے ان کو وحشت ہوا کرتی تھی، اس لیے انہوں نے دوکان اپنے لڑکا کے حوالہ کر دیا، اور ملی کاموں میں اپنا وقت دینے لگے، وہ ویشالی ضلع جماعت اسلامی کے 2004سے تاحال ذمہ دار رہے ، اوقاف کمیٹی کے بھی وہ 2017سے 2023تک صدر رہے، جہاں رہے اپنی شناخت کی حفاظت کی، چہرے پر گھنی داڑھی تھی، آخر عمر میں سرخ خضاب لگایا کرتے تھے۔
مہمان نوازی ان کی بہت مشہور تھی، جب بھی ان کے گھر گیا، بغیر کھانا کھلائے آنے نہیں دیا، ان کا دل احوال زمانہ پر کڑھتا تھا، وہ کبھی قیادت کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے ، کہتے کہ ہم کچھ نہیں کر پا رہے ہیں اور ظاہر ہے ان کے بس کا کچھ تھا بھی نہیں ۔
ان کے گھر کے قریب ہی مسجد تھی، با جماعت نمازوں کا اہتمام کرتے، جو شریعت پر عامل تھے، دوسروں سے بھی یہی چاہتے تھے، بھائیوں کے درمیان گھریلو تنازعہ کی وجہ سے پریشان رہتے تھے، لیکن بات ہمیشہ عدل وانصاف کی ہی کیا کرتے تھے، نزاعات کے باوجود انہوں نے برادر انہ تعلق کو نبھادیا، بچے سب الحمد للہ کامیاب ہیں، بر سر روزگار ہیں، ایک لڑکا بیرون ملک کا م سے لگا ہو اہے، ضرورت کی ساری چیزیں اللہ نے مہیا کر رکھی ہیں،۔
حضیر احمد خان صاحب سے میرے تعلقات قدیم تھے، وہ ڈاکٹر ممتاز احمد خان صاحب حاجی پور کے برادر نسبتی تھے، اس حیثیت سے ا ن کے یہاں میر آنا جانا ہوا کرتا تھا، علماء کے قدر داں تھے، معہد العلوم الاسلامیہ چک چمیلی سرائے ویشالی کے ناظم قاری بدر عالم مرحوم سے ان کا یارانہ تھا، وہ ان کی ہر خوشی وغمی میں برابر کے شریک رہا کرتے تھے، قاری صاحب بیمار ہوجاتے تو اپنے گھر رکھ کر ان کا علاج کرواتے اور تیمار داری کا پورا حق ادا کرتے، وہ قاری صاحب کے گھر ان کے جنازہ اور ایک بار ان کی بچی کی شادی میں بھی پرسا نیپال گیے تھے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔
اللہ رب العزت مغفرت فرمائے اور ان کی خدمات کو قبول کرکے جنت الفردوس میں جگہ دے ۔ آمین یا رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *