بجھتے چولہے کو نہ بجھنے دیں

بجھتے چولہے کو نہ بجھنے دیں

 

ابو عفراء سراجی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن کے سبب کئی ہنستے مسکراتے گھرانے فقر وفاقہ کی زد میں بری طرح پھنس چکے ہیں، بہت سے گھروں میں چولہا بجھنے کی نوبت آن پڑی ہے، ان کے پاس خوردونوش کے سامان نہیں ہیں کہ اپنی اور اپنے کنبے کی بھوک مٹاسکے، یا بھوک سے نڈھال سسکتے بلکتے بچوں کو دلاسہ دے سکے- ایک ایسی روح فرسا خبر نظر سے گذری جسے پڑھ کر آنکھیں نم ہوگئیں جب بھوک سے تڑپتے اپنے نونہال کو ایک والد نے اپنے گھر میں کھانے پینے کی اشیاء  نہ ہونے کی وجہ سے کھانسی کی دوا پلا کر سلایا-اس مہاماری کے دورانیہ میں ایسے اور بھی دل خراش اور کربناک واقعات ہیں جو غریبوں، محتاجوں اور ناداروں کی بے بسی اور لاچاری بیان کررہے ہیں- کچھ گھرانے تو ایسے ہیں جو شریفانہ زندگی گزار رہے تھے، خوشی خوشی اپنے اور اپنے کنبہ کی کماحقہ ذمہ داری ادا کررہے تھے، لیکن ان پر کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نے ناگہانی آفت بن کر اس قدر قہر بپا کیا کہ ان کے کھانے کے لالے پڑگیے-ایسے ہی افراد کسی سے تعاون مانگنے یا ہاتھ پھیلانے میں  جھجھک اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں، اس طرح کے لوگ احتیاطی تدبیر کے طور پر جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے مفلسی اور محتاجی کے چیپٹ میں آگیے ہیں- اور روزانہ کام کرنے والے تو ایسے مجبور ہوگیے ہیں کہ گویا ان کی زندگی تھم سی گئی ہے،اور سمندر کی منجدھار بری طرح پھنس گیے ہیں- ایسے میں ہر صاحب ثروت اور مال داروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جن گھروں میں چولہے بجھنے کی نوبت آگئی ہے، انہیں بجھنے نہ دیں- غریبوں، قلاشوں اور ضرورت مندوں کے دکھ درد، بھوک مری، افلاس اور بے روزگاری میں ان کا سہارا بنیں، ان کی راحت رسانی اور سہولیات فراہم کرنے کی ہرممکنہ کوششیں کریں- بے تحاشہ اور بے جا مال خرچ کرنے سے خوشی نہیں ملتی، لیکن ضرورت مندوں پر خرچ کرنے سے قلبی سکون اور روحانی مسرت ملتی ہے-جیسے مرجھائے پھولوں کی سینچائی اور آب پاشی کرنے سے ان میں پھر سے جان پیدا ہوجاتی ہے، اسی طرح صدقات وخيرات کرنے سے مردہ دل زندہ ہوجاتا ہے- گویا انفاق وصدقات خوشی کا سرچشمہ ہے-

مال دولت خرچ کرنےسے اس میں  کمی واقع نہیں ہوتی، بلکہ اس پر اللہ بہتر بدلہ دیتا ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:”وما أنفقتم من شيء فهو يخلفه وهو خير الرازقين”. (سورہ سبا:39)

ترجمہ:”تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کروگے اللہ اس کا( پورا پورا) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے” –

‘إخلاف’ کے معنی ہیں: عوض اور بدلہ دینا- یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے-(تفسير احسن البیان)

حدیث قدسی میں آتا ہے- اللہ تعالیٰ فرماتاہے:” أنفق أنفق عليك”.(صحيح البخاری، ح:4684) یعنی:” تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا” – دو فرشتے ہرروز اعلان کرتے ہیں، ایک کہتا ہے:”اللهم أعط ممسكا تلفا”.یعنی: “اے اللہ! خرچ نہ کرنے والے کے مال کو ضائع کردے”- دوسرا کہتا ہے:”اللهم أعط منفقا خلفا” یعنی:” اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما” -(صحیح البخاری، ح:1442)

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”اتقوا النار ولوبشق تمرة”.(صحيح البخاري، ح:3595) ” کھجور کا ایک ہی ٹکرا کیوں نہ ہو اسے خرچ کرکے جہنم کی آگ سے بچو” –

مذکورہ بالا تمام حدیثیں حاجت مندوں اور حالات کے مارے ہوئے ضرورت مندوں پر خرچ کرنے اور ان کی آسانی کی خاطر امداد فراہم کرنے پر ابھار رہی ہیں- لہذا بے بضاعتی اور کسمپرسی کے عالم میں سسکیاں لے رہے ناداروں اور مارے شرم کے ہاتھ نہ پھیلانے والے خداروں کے لیے حسب مقدور سہولیات اور راحت رسانی کا سامان مہیا کریں، تاکہ ان کی زندگی کی بھی پہیا چل سکے-

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *