انسانی زندگی میں صحبت کا اثر

انسانی زندگی میں صحبت کا اثر

أشرف شاكر ریاضی

صحبت صالح ترا صالح کند، صحبت طالع ترا طالع کند۔

انسان اپنی زندگی میں مختلف ادوار سے گزرتا ہے اور اس دوران اُس کا واسطہ دوسرے انسانوں سے رہتا ہے۔ پچپن سے لے کر جوانی تک اور جوانی سے لے کر بڑھاپے اور اس کے بعد موت تک انسان کی تعلیمی ‘کاروباری اور سماجی ضروریات کے حوالے سے مختلف لوگوں سے پالا پڑتا رہتا ہے۔ زندگی کے اس سارے سفر کے دوران انسان بہت سے لوگوں کو اپنا دوست بناتا ہے۔ بعض لوگ اچھی فطرت اور طبیعت کے ہوتے ہیں؛ چنانچہ وہ اچھے دوستوں کا انتخاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے بالمقابل بعض لوگ دین اور اخلاق سے بہت دور ہوتے ہیں اور وہ اپنے ہی مزاج کے مطابق دوستوں کا انتخاب کرتے ہیں‘ تاہم زندگی میں اس کے برعکس معاملات بھی دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ بسا اوقات اچھی صحبت میں بیٹھنے والا انسان بھی بری دوستی کو اختیار کر لیتا ہے اور یہ دوستی اس کے اخلاق اور کردار کے بگاڑ کا باعث بن کر اس کی تباہی پر منتج ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بہت سے بری صحبت میں بیٹھنے والے لوگ کسی اچھی سیرت اور کردار والے دوست کی صحبت کو اختیار کرکے برے اخلاق اور بدکرداری کے راستے سے دور ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اس دوستی کے سبب سیدھے راستے پر گامزن ہو کر دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو جمع کر لیتے ہیں-
لہذا فرمان نبوی ہے :

إِنِّما مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ ، وجَلِيسِ السُّوءِ ، كَحامِلِ المِسْكِ ، ونافِخِ الكِيرِ ، فَحامِلُ المِسْكِ ، إِمَّا أنْ يَحْذِيَكَ ، وإِمَّا أنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ ، وإِمَّا أنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً ، ونافِخُ الكِيرِ ، إِمَّا أنْ يَحْرِقَ ثَيابَكَ ، وإِمَّا أنْ تَجِدَ رِيحًا خَبيثَةً(متفق علیہ )

نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے جس کے پاس مشک ہے اور تم اس کی ساتھ ہو وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا پھر کم از کم تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے بھٹی کی آگ سے جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک ناگوار بدبودار دھواں پہنچے گا۔

قارئین کرام!
یہ حدیث مبارکہ دوستی کی حقیقت کو نہایت احسن انداز میں واضح کر رہی ہے کہ اچھی صحبت کے انسان کی سیرت وکردار پر لازماً اچھے اثرات اور بری صحبت کے انسان کی سیرت وکردار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں.
قارئین کرام!
نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے ان کے ساتھ بیٹھنے اور ان سے محبت کرنے کی فضیلت میں کتاب وسنت میں بہت ساری نصوص وارد ہیں۔جیسا کہ حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
((لاتصاحب الا مؤمناولا یأکل طعامک الا تقی)) [أخرجه ابوداؤد،ترمذی وحسنه الألباني رحمه الله ]
’’صرف مومن شخص کی صحبت اختیار کر،اور تیرا کھانا صرف متقی شخص کھائے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((الرجل علی دین خلیلہ فلینظر أحدکم من یخالل))[أخرجه أبو ابوداود وحسنه الألباني رحمه الله ]
’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے،پس چاہئیے کہ تم میں سے ہر شخص اپنے دوست کو دیکھے۔‘‘
حضرت ابوموسی أشعری روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
((المرء مع من أحب))
(متفق عليه )
’’آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہے۔‘‘

قارئین کرام!

اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺکو نیک اور اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے اور ان کی صحبت پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ ان کو دھتکارنے سے منع کیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
((وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ)) [الکھف:۲۸]
’’اور اپنے آپ کو انہی کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اللہ کی رضامندی چاہتے،

قارئین کرام!

نیکو کاروں کی صحبت اختیار کرنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ان کے پاس بیٹھنے سے علمی اور اخلاقی فوائد ملتے ہیں۔اور یہ نیک لوگوں کی دوستی کل قیامت کو بھی قائم رہے گی جبکہ باقی سب دوستیاں ختم ہوجائیں گی۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
((اَلْأَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلاَّ الْمُتَّقِیْنَ))[الزخرف:۶۷]
’’اس دن گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیز گاروں کے۔‘‘
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
((وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً٭یٰوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ أَتَّخِذْ فُلَاناً خَلِیْلاً٭لَقَدْ أَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذْ جَآئَ نِیْ وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلاً))[الفرقان:۲۷-۲۹]
’’اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی راہ اختیار کی ہوتی۔ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے۔

قارئین کرام!

حاصل کلام یہ ہے کہ زندگی میں اچھے دوست کا انتخاب بہت ضرروری ہے کیوں کہ اس کے بہت سے فائدہ ہیں کامیابی کی منزل تک رسائی حاصل کرنے میں ایک دوست کا بہت بڑا رول رہتا ہے
اس کے بر عکس بروں کی صحبت میں رہنے والوں کا خاصا نقصان ہوتا ہے انسانی سیرت کی پاکزگی اخلاقی بلندی اور کردار کی پختگی کا واحد مؤثر ذریعہ اچھی صحبت ہی ہے
اس لئے ضروری ہیکہ اچھی صحبت کا انتخاب کیا جائے اور برے صحبت سے گریز کیا جائے اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق دے… آمین…..

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *