مطالعہ کا بےجا شوق

مطالعہ کا بےجا شوق

 

ذبیح اللہ نور تیمی،بھوارہ مدہوبنی

 

 

علم و فن میں کمال اور خوبی وجمال میں کوئی اوج ثریا تک پہونچ جاتا ہے تو اس کے گفتار و کردار اور بول چال میں بھی بڑی تبدیلی آجاتی ہے۔ایک صاحب علم و فن کی ایک خوبصورت داستان صفحہ قرطاس میں اس طرح مرقوم ہے کہ وہ کتاب کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتا تھا اور ہر لمحہ لعل و گوہر حاصل کرنے میں ہی صرف کرتابلکہ کتاب ہی اس کی زندگی اور اوراق پلٹنا اس کا مشغلہ بن گیا تھا لائبریری میں جانا اور کتاب کا بوجھ اپنے ناتواں کندھے پر اٹھانا باعث صد افتخار اور لائق ستائش عمل گردانتا تھااور جس کے اثر سے بڑھاپے میں بھی کتابوں سے ہی ان کی بڑی محبت تھی لیکن ساتھ ہی ایک بری عادت بھی تھی کہ وہ ہر سوال کا تشفی بخش جواب دینے کے لے تفصیلات کی وادیوں میں ہر سائل کو سیر کراتے ۔لائبریری میں بیٹھے ایک دن وہ محو مطالعہ اور ذوق کتاب میں غرق تھا اس کے پاس بیٹھے ایک شخص نے سوال کیا کہ بلبل مذکر ہے یا مونث تب وہ صاحب علم و فن ذی مرتبت شخص نے غالب کے اشعار کے حوالے سے مذکر ہونے کی بات کہ دی اور وہ سائل اس کی دلائل سے راضی ہوئے بلکہ خوشی کا بھی اظہار کیا لیکن تفصیلات کی وادیوں کو سیر کرنے والے اپنے جواب سے کیسے مطمئن ہوتا پھر کیا تھا؟ اقبال کی ساری کتابیں پڑھ ڈالیں لگاتار تین دن صحیح جواب کی تلاش میں کھپا دیے پھر حوالے میں اقبال کے اشعار لیکر بہ رکاب اس کی منزل تک چل دیے اور بلبل کے مونث ہونے میں تصدیق کی مہر لگا دی اس شخص نے کہا بڑی زحمت کی آپ نے ۔۔ایک ہفتے کے بعد سائل کے دروازہ پہ پھرکوئی دستک دیتا ہے ۔آرام و سکون کی نیند سو رہے شخص کے لے یہ آواز ناگوار سی گزرتی ہے نہ چاہتے ہوئے بھی دروازہ کھولتا ہے تو اس کی نگاہ دروازہ کے دونوں طرف قطار میں لگے گدھے کا لامتناہی سلسلہ کی طرف جاتی ہے اور درمیان میں پسینہ سے شرابور علم و فن کا بے تاج بادشاہ کھڑا ہوتاہےتب حیرت و استعجاب میں وہ شخص پوچھتا ہے کہ ماجرہ کیا ہے ؟ علم و فن کا ماہر ادب و احترام میں ڈوب کر گویا ہوتا ہے دروازہ کے دائیں طرف گدھے کی پیٹھ پر لدی کتابیں بلبل کے مونث ہونے کی بھرپور تائید کرتی ہیں جب کہ بائیں طرف گدھے کی پیٹھ لدی کتابیں مذکر ہونے کی تصدیق کرتیں ہیں ۔ ہر چیز اپنے دائرے میں گھومتی ہے اور دائرہ میں ہی اچھی لگتی ہے ۔گویا دائرہ سے باہر اچھی چیز بے کار ہوجاتی ہے ۔اس حقیقت کو سمجھنا ہر ایک کے لیے ضروری ہے تب ہی کوئی سامع و قاری ہماری بات کو سمجھنے کے لے بے تاب ہوں گے۔۔۔۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *