پیشے ور مقررین کی شاطرانہ چال

پیشے ور مقررین کی شاطرانہ چال!!
تحریر: جاوید اختر بھارتی
javedbharti508@gmail.com
ہر میدان میں ہوا کے رخ پر چلنا ضروری نہیں ہے بلکہ کچھ ایسے میدان اور ایسے شعبے ہیں جہاں ہواؤں اور طوفانوں کا رخ موڑنا ضروری ہے ،، اگر ہر میدان میں ہوا کے رخ پر چلنا ضروری ہوتا تو امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ بادشاہ کی بات مان لئے ہوتے ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بھی بادشاہ کی بات مان لئے ہوتے پھر ان دونوں اماموں کو سزا بھی نہیں ملی ہوتی اور بادشاہ کے ظلم سے بھی بچ جاتے مگر نتیجہ یہ ہوتا کہ دین کی شبیہ بگڑ جاتی ،، اس لئے بادشاہ کہتا رہا کہ قرآن اللہ کی مخلوق ہے اور امام احمد بن حنبل کہتے رہے کہ قرآن اللہ کی مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور یاد رہے کہ مخلوق کو فنا ہونا ہے اور اللہ کا کلام فنا نہیں ہوگا بادشاہ نے امام احمد بن حنبل کے جسم پر 80 کوڑا مارا اور ہر کوڑے امام احمد بن حنبل پر کہتے رہے کہ قرآن اللہ کی مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے یہ ان کی مستقل مزاجی اور ثابت قدمی تھی یہ ان کی غیرت تھی اور جوش ایمانی تھا-
آج کچھ مقررین کا جو حال ہے وہ قابل افسوس بھی ہے ، باعثِ تشویش بھی ہے ، قابل گرفت بھی ہے اور باعث شرم بھی ہے جبکہ پہلے ہی برصغیر کے مسلمانوں کے سروں پر اختلافات کی چادر اوڑھا دی گئی ہے اور یہ امت روایات میں کھوگئی ، اختلافات کا شکار ہو گئی اور اب حال یہ ہے کہ کرامت کے نام پر ایسے ایسے قصے کہانیاں بڑے بڑے بزرگان دین کے نام سے منسوب کرکے سنائے جاتے ہیں کہ حقیقت میں وہ مقررین لعنت اللہ عل الکاذبین کے مرتکب ہیں ،، کوئی بزرگ قبر میں نکیرین کی آمد پر انہیں تھپڑ ماردیتا ہے ، فرشتے کا ہاتھ پکڑ کر بولتا ہے کہ تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کسی کے وہاں جاؤ تو پہلے سلام کرو ،، وہ فرشتہ واپس جاتا ہے پھر آتا ہے تو سلام عرض کرتا ہے پھر وہ تینوں سوال کرنے کی کوشش کرتاہے کہ بزرگ پھر ہاتھ پکڑ کر فرشتے سے ہی پوچھتا ہے کہ جب ہمارے باپ آدم علیہ السلام کی تخلیق کے لئے اللہ نے تم سے مشورہ طلب کیا تھا تم نے اعترض کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ زمین پر فساد برپا کریں گے قتل و غارتگری کریں گے جب تم پہلے ہی ہم پر الزام عائد کرچکے ہو تو تمہیں کیا حق ہے ہم سے سوال کرنے کا،، وہ فرشتہ واپس بارگاہ رب ذوالجلال میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ اے اللہ تیرے ایک بندے نے تو آج میرا گریبان پکڑلیا اور سوال پر سوال کررہا ہے بتا میں کیا کروں ،، معاذاللہ ،، اور کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہ واقعہ حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا بتایا جارہا ہے ،، اب سینے پر ہاتھ رکھ کر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں کہ تقریروں میں ایسی بات بیان کرنے والا غوث پاک کے فضائل و مناقب بیان کررہا ہے یا ان کی شان میں گستاخی کررہا ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں اولیاء کرام کی محبت کا چراغ روشن کررہا ہے یا مسلمانوں کو گمراہ کررہا ہے؟ ایسا شخص بھلے ہی جبہ پہنے ، سر پر عمامہ باندھے وہ کذاب ہے ،، وہ غوث پاک کا مقام و مرتبہ نہیں بیان کررہا ہے بلکہ وہ خطابت کو ایک فن سمجھتا ہے اور بزرگان دین کو آلہ کار بناکر اپنا پیٹ بھررہا ہے اسلام کی تعلیمات و تبلیغ سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے –
«دوسرا واقعہ» غوثِ اعظم کی عمر چار سال کی ہوئی اچانک ایک دن بول پڑے اے والدہ محترمہ میری غلطی کو معاف کردیجئے اتنا سننا تھا کہ والدہ ماجدہ چونک جاتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ اے میرے بیٹے ابھی تو تمہاری عمر چار سال ہوئی ہے آخر کون سی غلطی کی بات کررہے ہو کیا غلطی ہوئی ہے کہ تم مجھ سے معافی مانگ رہے ہو ،، غوث اعظم کہتے ہیں کہ اے والدہ محترمہ میں تمہارے شکم میں تھا ایک دن سائل نے دروازے پر دستک دی اور دروازے کی کنڈی کھولنے کے لئے آپ آگے بڑھیں آپ کی نظروں نے نہیں دیکھا کنڈی کے اوپر ایک بچھو بیٹھا ہوا تھا اگر آپ کنڈی کو ہاتھ لگاتیں تو وہ ڈنک ماردیتا میں آپ کے شکم میں تھا لیکن میری نگاہوں نے دیکھ لیا اسی بچھو سے بچانے کے لئے میں آپ کے شکم میں رہتے ہوئے آپ کو پاؤں سے ٹھوکر ماری تو اے میری ماں میرے ٹھوکر مارنے سے جو آپ کو تکلیف ہوئی اسی کی معافی مانگ رہا ہوں اے میری ماں مجھے معاف کردو،، قارئین کرام دل پر ہاتھ رکھ کر ایک بار پھر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور بتائیں کہ کیا یہ واقعہ جھوٹا نہیں لگتا ہے؟
« تیسرا واقعہ» راجدھانی ایکسپریس کی رفتار کے مانند ایک مقرر بیان کرتا ہے کہ دنیا کے سارے درختوں کے پتوں کو کاغذ بنادیا جائے ، شاخوں کو قلم بنادیا جائے ، سارے سمندر کو روشنائی بنادیا جائے اور پوری دنیا کے مسلمان مل کر غوث پاک کی تعریف و شان لکھنا چاہیں تو نہیں لکھ سکتے اور بیان کرنا چاہیں تو نہیں بیان کرسکتے یہ شان ہے غوث پاک کی ،، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ صفات کس کی ہے ہم نے تو یہ صفات اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہی جانا ہے اور بیشک یہ صفات اللہ رب العالمین کی ہی ہے اب اس کی صفات میں کسی اور کو شامل کرنا شرک نہیں تو اور کیا ہے ؟ اپنی دوسری تقریر میں کہتا ہے کہ غوث پاک نے فرمایاکہ اللہ نے مجھ سے ستر مرتبہ وعدہ کیا ہے کہ اے عبد القادر میں نے تیرے سارے مریدوں کو بخش دیا ان کی مغفرت کردی،، اپنی ایک اور تقریر میں بیان کیا ہے کہ حالت ناپاکی اور بے وضو کوئی شخص غوث پاک کا نام لیتا تھا تو وہ مرجاتا تھا وہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غوث پاک سے کہا کہ اے عبد القادر میری امت پر رحم کر تب یہ سلسلہ بند ہوا مگر آج بھی کوئی شخص حالت ناپاکی یا بے وضو غوث کا نام لیتا ہے تو اس کا ایک بال تو گرہی جاتاہے آگے کہتا ہے کہ ہوسکتا ہے آپ لوگ اس بات کو مانیں یا نہ مانیں-
« چوتھا واقعہ» ایک عورت آتی ہے غوث پاک کی بارگاہ میں عرض کرتی ہے کہ مجھے بیٹا چاہئے غوث پاک نے فرمایاکہ تیری قسمت میں نہیں ہے وہ عورت کہتی ہے کہ اگر قسمت ہوتا تو آپ کی خدمت میں کیوں آتی اتنا سننا تھا کہ غوث پاک نے نظریں آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا کہ اے اللہ اس عورت کو بیٹا دے غیب سے آواز آئی کہ اس کی قسمت میں نہیں ہے غوث پاک نے کہا کہ دو دے پھر آواز آئی قسمت میں نہیں ہے غوث پاک نے کہا کہ چار دے پھر آواز آئی قسمت میں نہیں غوث پاک نے کہا کہ آٹھ دے اس طرح غوث پاک مانگتے رہے اور غیب سے آواز آتی رہی کہ قسمت میں نہیں ادھر مانگ میں اضافہ ہوتا رہا بالآخر غوث پاک کو جلال آگیا اور اللہ سے عرض کیا کہ جب میرے مانگنے پر نہیں دینا ہے تو مجھے غوث کیوں بنایا اپنا محبوب کیوں بنایا ( استغفراللہ) یہ حال ہے نام نہاد خطباء و پیشے ور مقررین کا اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے-
اولیاء کرام سے عقیدت و محبت بالکل ہونی چاہئے مگر غلو کے ساتھ نہیں ، ان کے فضائل و مناقب کو بیان کیا جانا چاہئے مگر غلو کے ساتھ نہیں ، فرضی اور من گھڑت کہانی بناکر نہیں ،، اب کوئی بیان کرتا ہے کہ فلاں بزرگ نے اپنے جنازے کی نماز خود پڑھائی ، فلاں بزرگ کی شادی ہوئی پہلی رات میں انہوں نے مصلیٰ بچھا دیا نوافل پڑھنے میں مصروف ہوگئے دلہن نے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا تو وہ بزرگ جلال میں آگئے دلہن کی طرف دیکھا تو وہ جل کر راکھ ہوگئی ،، فلاں بزرگ ہر رات ایک ہزار رکعت نفل نماز پڑھا کرتے تھے ، فلاں بزرگ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی ابھی ایک مولانا کے بیٹے کا انتقال ہوگیا اب مولانا کے موبائل پر دوسرے مولانا میسیج کررہےہیں کہ ہم نے خواب میں آپ کے بیٹے کو جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے دیکھا اب اسٹیج سے میسیج کرنے والے مولانا کے بارے میں کہا گیا کہ وہ بڑے بزرگ ہیں روزانہ ایک لاکھ مرتبہ درود شریف پڑھتے ہیں ،، کیا یہ جھوٹ نہیں ہے اور تعریف کے نام پر غلو نہیں ہے ؟ بالکل سراسر جھوٹ ہے کیونکہ چوبیس گھنٹے میں چھیاسی ہزار چار سو سکنڈ ہوتے ہیں اب کوئی کھانا پینا چھوڑے اور چوبیس گھنٹے مسلسل ایک سکنڈ میں ایک بار درودشریف پڑھے پھر بھی چھیاسی ہزار چار سو مرتبہ درود پڑھا جاسکتا ہے یعنی پھر بھی ایک لاکھ مرتبہ نہیں پڑھا جاسکتا اور اسی طرح بارہ گھنٹے میں سات سو بیس منٹ ہوتے ہیں تو ایک منٹ میں ایک رکعت کے اعتبار سے بھی ایک ہزار رکعت نماز نہیں پڑھی جاسکتی،، بغیر قیام، بغیر رکوع و سجود، بغیر قعدہ و جلسہ کے پڑھی جائے تو خود فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ نماز ہے یا اور کوئی چیز ہے لیکن آگے یہ کہہ کر خاموش کرادیا جاتا ہے کہ جہاں تمہاری عقل اور تمہارا شعور ختم ہوتا ہے وہاں سے ولیوں اور بزرگوں کی کرامت کا سلسلہ شروع ہوتاہے- جذباتی انداز میں لوگوں کو اتنا” مذہبی بنادو کہ
*تحقیق کرنے کو ایمان کے منافی سمجھیں ، سوال کرنے کو گستاخی سمجھیں ،
تنقید کو گناہ سمجھیں ،ہر غلط بات اور حرکت کو خندا پیشانی سے قبول کر لینے کو بزرگوں کا ادب و احترام سمجھیں، ان کے پیر دبانے کو خدمت ، ان کی اندھی عقیدت کو ایمان کا تقاضہ سمجھیں، ذہنی غلامی کو دین کا جز سمجھیں ، ان سے اختلاف کو گمراہی سمجھیں ، ان کے دیدار کو سعادت سمجھیں اور مصافحہ و ہاتھ چومنے کو مغفرت کا ذریعہ سمجھیں.

آج یہی حال کچھ نام نہاد خطباء و مقررین نے قوم وملت کابنا رکھا ہے اور دن پر دن ان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے

ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ سب سے زیادہ من گھڑت روایات اور کرامت کے نام پر جھوٹی کہانیاں آخر غوث اعظم کی ہی کیوں بیان کی جاتی ہیں ،، جب واہ واہی لوٹنا مقصد ہے تو وہ مقررین اپنی خاندان ، رشتہ داری میں سے کسی کے نام منسوب کرکے کیوں نہیں بیان کرتے اور افسوس تو ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو لوگ ان مقررین کے اسٹیج پر موجود رہتے ہیں ان لوگوں پر بھی شخصیت پرستی اس قدر غالب رہتی ہے کہ جہاں معاذاللہ ، نعوذباللہ ، استغفراللہ کہنا چاہئے وہاں پر بھی وہ ماشاء اللہ سبحان اللہ کہتے ہیں ان کے سامنے اصلی میں ڈالڈا ملایا جاتا ہے اور وہ داد و تحسین سے نواز تے رہتے ہیں یاتو ان نام نہاد خطباء و مقررین کے دلوں میں غوث اعظم سے بعض ہے اس بات کا کہ وہ ہمارے مسلک کے ماننے والے نہیں تھے اور اپنے بغض پر پردہ ڈالنے کے لئے جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں کیونکہ عام طور پر مسلمانوں کا یہ مزاج ہے کہ مولانا ہیں تو جھوٹ نہیں بولیں گے ،، یاکہ پھر عالمی سطح پر کوئی لابی ایسی ہے جو ان مقررین کو دولت و مال و زر دیتی ہے، ان کا خرچ اٹھاتی ہے اور یہ لوگ بزرگانِ دین کے نام پر غلو بازی کرتےہیں اور کرامت کے نام پر جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں –
یقیناً اولیاء کرام قابل عقیدت و احترام و محبت ہیں اور غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے اللہ ان پر کروڑوں رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے انہوں نے دین کی تبلیغ کی ہے وہ حنبلی مسلک کے ماننے والے تھے ان کی کتاب غنیۃ الطالبین بہت مشہور ہے انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ میں بغداد میں تقریر کرتا ہوں تو میری آواز کو لوگ مصر میں بیٹھ کر سنتے ہیں ، انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ مدد کے لئے مجھے پکارا کرو لیکن پیشے ور مقررین ان کے نام پر غلو کرکے جھوٹ بول بول کرکے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں اور ڈھٹائی دیکھئے کہ سوشل میڈیا پر وائرل بھی کرتے ہیں اب تو غیر مسلم بھی مذاق اڑانے لگے ہیں-
اے مسلمانوں ضرورت اس بات کی ہے کہ جلسوں کے تقدس کو بچاؤ منبر رسول سے قصے کہانیاں سنانے والوں کا بایئکاٹ کرو آج بھی ایسے علمائے اسلام موجود ہیں جو منبر رسول سے دینی جلسوں کے اسٹیج سے قرآن وحدیث سناتے ہیں اللہ و رسول اور صحابہ کرام کا ذکر کرتے ہیں اور انہیں علماء کرام کو انبیاء علیہم السلام کا وارث کہا گیا ہے،، منبر رسول سے فرضی واقعات اور من گھڑت روایات بیان کرنے والے انبیاء علیہم السلام کے وارث نہیں ہوستے ہاں جہنم کے ایندھن ضرور ہو سکتے ہیں
javedbharti508@gmail.com
+++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *