وقت کی اہمیت و عظمت پر ایک نظر

وقت کی اہمیت و عظمت پر ایک نظر !!
خامہ فرسا:نثار احمد قاسمی نیپالی
‘وقت’ ہر انسان کے لیےایک گراں قدر سرمایہ ہے،جس کے مقابلے سونے کی اہمیت بھی ماند پڑجا تی ہے؛کیوں کہ سونے کا نعم البدل تو موجود ہے؛مگر وقت کا نہیں۔
وقت دیگر خارجی اشیاء کے مقابلے کئی ایک لحاظ سے بالکل ممتاز دکھتاہے مثلاً آپ اسے نہ ہی مس کر سکتے ہیں اور نہ ہی ذخیرہ اندوزی آپ کے بس میں ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ اگر آپ نے اسے عمل میں نہیں لایا،تو پھر یہ آپ کو دھکا دیتے ہوئے آگے نکل جائے گا۔
نہ ہی آپ ‘وقت’ کے پیشگی استعمال پر قادر ہیں اور نہ ہی پیشگی ضائع کر نے پر؛ کیوں کہ بالفرض اگر آپ نے وقت کے ورود سے قبل ہی ضائع کردیا ،تو پھر اس صورت میں آپ تسلسل وقت کے باعث اگلے لمحات بھی ضائع کر سکتے ہیں،اور یہ ناممکن و محال ہے۔
الغرض گزرے ہوئے لمحات کے اعادہ اور گرفت پر آپ قادر نہیں ہیں اور نہ ہی آپ کو دو اوقات کے درمیان رکاوٹ پر کسی طرح کی کوئی استطاعت ہے کہ آپ رکاوٹ کے ذریعے کوئی فاصلہ پیدا کردیں؛کیوں کہ’وقت’کی ایک بڑی خاصیت یہ ہے کہ ایک تسلسل کے ساتھ آتااورجاتاہے ۔جس طرح سے “سورج ،چاند اور زمین” کو اپنی ایک خاص گردش سے نہیں روکا جا سکتا،اسی طرح’ وقت’ کو بھی اپنے تسلسل سے نہیں روکا جا سکتاہے۔
اور جو ‘وقت’اب تک آیاہی نہیں ہے، اس کے بارے میں کچھ سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے اور نہ ہی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔
قابلِ استعمال وقت وہ ہے،جس وقت میں ابھی آپ ہیں اور وقت کی اہمیت خاطر میں لانے کے لیے آپ گھڑی کی جانب دیکھیں!!کہ کس قدر تیزی کے ساتھ لمحے گزر رہے ہیں اور ہماری مقررہ زندگی کم ہو رہی ہے ۔
‘وقت ‘ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اسے نہ ہی خریدا جا سکتا ہے،نہ ہی فروخت کیا جا سکتا ہے،نہ ہی اسے کرایہ پر لیاجاسکتاہے،نہ ہی کرائے پر دیا جاسکتاہے اور نہ ہی وقت مقررہ سے زیادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
وقت ہر انسان کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے،جو صبح اٹھنے والا ہر انسان کے سپرد کیاجاتا ہے،چاہے انسان امیر غریب،بڑا اور چھوٹا ہو،وقت کے سلسلے میں کسی کو کوئی فوقیت نہیں دی گئی ہے،بل کہ ہر شخص ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔
ہر کام اور ہر سرگرمی کے لیے’ وقت ‘کی ضرورت ہوتی ہے ، انسان کے پاس وقت کو بہتر استعمال کرنے کے وسائل بھی کم ہیں ، اسے ہمیشہ قلت وقت کی شکایت رہتی ہے ۔ وہ بہت سارے کام فرصت کے اوقات میں کرنا چاہتا ہے ، مگر یہ زندگی ہے کہ اس میں اسے فرصت کا کوئی لمحہ میسر نہیں آتا ۔
اس نے دنیا میں اپنے آپ کو اس قدر الجھالیا ہے کہ اب اسے فرصت تو صرف قبر ہی میں ملے گی؛ لیکن وہ قبر کے معاملات پرذرا بھی غور نہیں کرتا ۔ اگر انسان اپنی زندگی کے ہر دن کو آخری دن سمجھے اور ہر لمحہ جواب دہی کے احساس کے ساتھ گزارے، تو بہت سارے کام اس احساس کے باعث قوت عمل پیدا ہونے کی وجہ سے پورے ہو جائیں گے ۔ وقت کو دولت اور سونا کہنا بھی وقت کی نا قدری ہے ۔ دولت اور وقت دونوں انسان کے لیے نعمتیں ہیں ۔ دولت ظاہری چیز ہے ۔ یہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ملتی ہے لیکن زندگی میں چوبیس گھنٹے ہر انسان کو مساوی ملتے ہیں ۔ ہر انسان کے پاس جو زندگی ہے ، وہ آج کی زندگی ہے ۔
آج کل ہم نے دفتر اور کاروبار کے اوقات کو ہی اصل زندگی سمجھ رکھا ہے ۔ زندگی اسے کافی زیادہ ہے جو دفتر سے باہر گزرتی ہے ۔ ہم میز ، کرسیوں ، فائلوں ، نوٹس ، رپورٹوں ، نفع ، سیٹھ، افسر اور صاحب کے غلام ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ہماری مصروفیات محض انھیں خوش رکھنے کی حد تک رہ گئی ہیں ۔ ہم ان کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کرنے کا راستہ اپنایا ہوا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنے اندر وقت کی اہمیت و عظمت کرکے اسے پھونک پھونک کر صرف رضائے الٰہی کے کاموں میں صرف کریں۔ اللہ ہمیں وقت کی قدر دانی نصیب فرمائے آمین ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *