داڑھی سے وابستہ مَباحث اور مفروضہ اسلامی لباس کی حقیقت

# داڑھی سے وابستہ مَباحث اور مفروضہ اسلامی لباس کی حقیقت #

عبدالرحمٰن
𝘼𝙗𝙙𝙪𝙡 𝙍𝙖𝙝𝙢𝙖𝙣
(سابق چیف مینیجر، الہ آباد بینک)
[Ex-Chief Manager, Allahabad Bank]
دہلی- این سی آر
Delhi-NCR
Email
rahman20645@gmail.com

اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور مسلمانوں کے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ، داڑھی
(Beard)
رکھتے تھے۔ ساتھ ہی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمٰعین کے مبارک چہرے بھی داڑھی کی رونق سے معمور تھے۔ اسی طرح، موجودہ دور کے مسلمان، خاص طور پر اپنے ایامِ جوانی کو خیر باد کہہ چکے معمر اور بزرگ افراد بڑی تعداد میں داڑھی رکھتے ہیں؛ اور داڑھی رکھنے والے بیشتر افراد یہ حُسن ظَن بھی رکھتے ہیں کہ داڑھی رکھنا ان کے مذہب کا ضروری حصہ ہے۔ مسلمانوں میں کئی لوگ داڑھی رکھنے کو ‘فرض’ قرار دیتے ہیں، تو زیادہ تر اشخاص ‘سنت’ سمجھ کر داڑھی رکھتے ہیں۔ بلا شبہ، فرض اور سنت دونوں ہی دین کی اصطلاحات ہیں۔ لیکن اس کے برعکس، کئی محقق علما
(Research Scholars)
کا اس امر میں اختلاف ہے۔ وہ داڑھی کے معاملے کو دین کا موضوع نہیں، بلکہ تہذیب و ثقافت
(Comunity Culture)
اور انسانی تمدن
(Civilization)
سے منسوب کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے موجودہ فہم کے مطابق، داڑھی رکھنے کو دین کا حکم تصور کرنے کی صورت میں، یہ تجسس پیدا ہونا بھی ایک فطری نوعیت کی بات ہوگی کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منصبِ رسالت سنبھالنے کے بعد ہی داڑھی رکھنا شروع کیا تھا یا آپ پیغمبری ملنے سے پہلے بھی داڑھی رکھتے تھے؟

دین کے مشمولات
(contents)
کا
تحقیقی اور تنقیحی مطالعہ کرنے والے علما کرام کے توسط سے اس حقیقت کا ادراک مشکل نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی اور رسول کی حیثیت میں مبعوث ہونے سے پہلے بھی داڑھی رکھتے تھے۔ دراصل، یہی وہ مقام ہے جہاں سنجیدہ غور و فکر کے ذریعے مسلمانوں میں داڑھی کے تعلق سے پھیلی ہوئی متعدد غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے اور معاشرے کے اندر صحیح فہم کا ابلاغ بھی۔ زیر نظر مضمون میں مختلف جہات النظر اور دینی و دنیاوی حقائق کے باریک بینی مطالعہ کی روشنی میں مذکورہ معاملے کو ایک قابل استفادہ حیثیت کے مقام تک لانے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ ‘دین’ اور ‘غیر دین’ کا فرق واضح ہو جائے، اور مذہب
(Religion)
و ثقافت
(Culture)
میں امتیاز کرنا بھی لوگوں کے لیے آسان ہو جائے۔ اپنے ملک، شہر، قصبے، قبیلے اور خاندان سے وابستہ صالح تہذیبی روایات اور شرک و گمراہی سے پاک رسم و رواج کو اپنانے میں مذہب کو کوئی تامل نہیں ہے۔ البتہ، ان معاشرتی امور میں کسی پر بھی دین کی مُہر ثبت کرنا، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس طرح کے افعال کو دین کی اصطلاح میں ‘بدعت’ کہا جاتا ہے۔

انسان محبت کے جذبات اور احساسات رکھنے والی، خدا کی ایک شاہکار مخلوق ہے۔ اپنے اسی جذبے سے مغلوب ہوکر، لوگ ہمیشہ سے اپنی بزرگ شخصیات، والدین، عزیز و اقارب اور قائدین و اکابرین، یہاں تک کہ مختلف شعبہ جات اور فلمی دنیا
(Bollywood)
کی معروف شخصیات کے تئیں محسوس ہونے والی اپنی دلکشی، دلچسپی اور محبت کو ظاہر کرنے کی غرض سے، مختلف صورتوں میں ان کی شباہت اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے رہے ہیں۔ جدید دور کی اصطلاح
(Modern Terminology)
میں اس طرح کے جاں نثار افراد کو ‘فین’
(Fan)
کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ غالباً، سبھی ملک و ملت میں کوئی نہ کوئی شخصیت ایسی منفرد ضرور ہوتی ہے کہ لوگوں کا جم غفیر اس پر جاں نثار کرتا ہے۔ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو (1889-1964) نہایت ہی ہر دل عزیز قائدین میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ راقم الحروف کے بچپن، یعنی سنہ 1960عیسوی کے اوائل میں لوگ ‘نہرو جیکٹ’
(Nehru Jacket)
کے دیوانے ہوا کرتے تھے۔ نہرو جیکٹ کی پسندیدگی اکیسویں صدی کی دو دہائیاں گزر جانے کے بعد، آج بھی قائم ہے۔ اتنا ہی نہیں، جب میں خود اس بات کا مطلب نہیں سمجھتا تھا، میں نے بغیر پڑھے لکھے لوگوں کو بھی ‘جوار کٹ’ لفظ بولتے ہوئے سنا ہے۔ پھر اس تناظر میں، تاریخ کی بڑی بڑی شخصیات کا بھی خاتم الانبیاء اور خاتم المرسلین، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس اور ذات والا صفات سے کیا کوئی مقابلہ قرین قیاس ہے؟

یقیناً، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور عقیدت میں کسی بھی مسلمان کا داڑھی رکھنا ایک مبارک اور قابل ستائش فعل ہوگا۔ اسی طرح آپ کے اُسوہ حَسنہ کو عملی طور پر اپنی زندگی میں داخل کرنا بھی باعث صد افتخار ہوگا۔ لیکن، شانہ بہ شانہ یہ حقیقت بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ داڑھی رکھنے کو دین کا کوئی حکم تصور کرنا درست نہیں۔ اسی طرح، معاشرے میں اسلامی لباس کے نام سے معروف مختلف قسم کے ملبوسات کو بھی دین سے منسلک کرنا درست نہیں۔ واضح رہے کہ دین تو صرف وہی چیزیں ہوسکتی ہیں جنہیں اللہ اور رسول کے ذریعے باقاعدہ دین کے مشمولات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہو۔

داڑھی صرف اس لیے دین کا حکم نہیں ہوسکتی کہ رسول اللہ(ﷺ) خود داڑھی رکھتے تھے۔ استدلال کی اس نوعیت کے پیش نظر، تہمد (لنگی) باندھنا اور اونٹ، گھوڑے اور گدھے پر سواری کرنا بھی مسلمانوں پر لازم ہونا چاہیے تھا، جب کہ عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ دین صرف وہی چیز ہوسکتی ہے، جس کے لیے کوئی دینی حکم صادر کیا گیا ہو۔ بے شک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اپنی امت کے لیے اُسوہ حَسنہ ہے، یعنی خدا پرستانہ زندگی جینے کا بہترین نمونہ(تذکیرالقرآن: سورۃ الاحزاب-33 :21)، مگر دین صرف انہیں افعال کو سمجھا جائے گا جنہیں آپ نے دین کی حیثیت سے جاری کیا ہے۔ اس لیے، اس موضوع کو سنجیدگی اور گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ داڑھی کی حیثیت اور مفروضہ اسلامی لباس کی حقیقت کے ضمن میں کی جارہی گفتگو کو سیر حاصل بنانے کے لیے، ذیلی سطور میں الگ الگ زاویہ نظر سے، مفصل اظہار خیال کیا گیا ہے۔

تقریباً دو صدی قبل، جب سے مسلمان قومی زوال
(Degeneration)
کا شکار ہوئے ہیں، ایسے بے شمار عوامل کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جو کسی تحقیق و تصدیق کے بغیر معاشرتی رسم و رواج کے طور پر جائز و ناجائز کی پہچان کے ساتھ مسلم معاشرے میں داخل ہو گئے ہیں، اور رفتہ رفتہ انہیں تقدس کا مقام بھی حاصل ہوگیا ہے۔ دراصل، تقدیس
(Sanctity)
جب کسی چیز سے وابستہ ہوجاتی ہے تب اس پر نظر ثانی تو دور، اس کے متعلق بات کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے، کیوں کہ مسلکی اور گروہی عصبیت
(Prejudice)
, یعنی اپنوں کی بے جا حمایت اور دوسروں سے نفرت و تعصب وغیرہ کی بلند دیواریں اس کے چاروں طرف کھڑی ہو جاتی ہیں۔ موجودہ دور میں، داڑھی کا مسئلہ بھی اسی نوعیت کے مسائل میں سر فہرست ہے۔ مسلم معاشرے میں، خصوصاً دینی مدارس سے وابستہ اشخاص کے درمیان، داڑھی کے علاوہ ایک مخصوص وضع قطع اور کچھ خصوصی ملبوسات کی حیثیت کو بھی دین اسلام کی تعلیمات سے ماخوذ اور خدا و رسول(ﷺ) سے منظور شدہ تصور کرلیا گیا ہے۔ کرتہ پاجامہ، بڑی ٹوپی یا پگڑی، صدری، شیروانی اور کندھوں پر بڑا رومال جیسی پوشاک نے معاشرے میں ‘اسلامی لباس’ کی حیثیت میں شہرت حاصل کرلی ہے۔ قوم کا ذہن تقلیدی ہونے کی وجہ سے، کم و بیش سبھی مسلمانوں نے اس صورت حال کو دل و جان سے تسلیم بھی کر لیا ہے۔

لیکن، معاشرے کے موجودہ دینی پس منظر میں، مسلمان بڑی تعداد میں، مدارس کے طلبہ و اساتذہ کی وضع قطع پر راضی بہ رضا رہنے کے باوجود، خود بڑی حد تک ایک غیر مطمئن زندگی بسر کر رہے ہیں؛ اس پریشان کُن احساسِ کمتری کے ساتھ کہ وہ داڑھی نہ رکھ کر اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں۔
ان کا یہ احساسِ گناہ سچائی کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ حقیقت کے اس پہلو کا ادراک حاصل کرنے اور تذبذب کی کیفیت سے قوم کو باہر نکالنے کے لیے، سنجیدہ علمی و فکری جدوجہد ہم سب کا ہدف ہونا چاہیے۔ ‘مُباح’ چیزوں کو دینی حیثیت میں پیش کرنا درست نہیں۔ اُن افعال کو مباح کا درجہ حاصل ہوتا ہے جنہیں دینی ہدایات میں نہ تو ‘نہ کرنے’ کا حکم دیا جاتا ہے، اور نہ ہی ‘کرنے’ کا۔ دین کی نظر میں، داڑھی بھی اسی نوعیت کی ایک چیز ہے، البتہ داڑھی موچھیں رکھنے کی صورت میں ان کے رکھ رکھائو سے وابستہ تذکیہ اور تقوے کو ملحوظ رکھنا ضرور دین کا حکم بن جاتا ہے۔

داڑھی والے مسلمانوں کو ہمارا معاشرہ “باشرع” جیسے تکریمی نام سے پکارتا ہے۔ اس طرح کی عزت و تکریم میں بظاہر کوئی حرج بھی نہیں، مگر یہ طریقہ اُس وقت مذموم صورت اختیار کرلیتا ہے جب لوگ، خصوصاً بڑی داڑھی والے افراد چھوٹی داڑھی رکھنے والے یا بالکل نہ رکھنے والے اشخاص کو فاسِق و فاجر سمجھتے ہوئے انہیں حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں، اور اپنے اس قبیح غیر اخلاقی فعل پر شرمندہ ہونے کے بجائے مطمئن نظر آتے ہیں گویا انہوں نے کسی طرح کے گناہ کا ارتکاب کیا ہی نہیں۔ یہ نظارہ خود اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ مذکورہ افراد کی داڑھی دین کے کسی حکم کے طور پر نہیں، بلکہ اظہار برتری کے تصور سے رکھی گئی ہے۔

حقیقتاً، یہی وہ سنگین صورت حال ہے جو مسلمانوں سے اپنے محاسبے
(Introspection)
کا تقاضا کرتی ہے۔ کوئی چیز صرف اس لیے درست نہیں ہوسکتی کہ وہ عرصہ دراز سے معاشرے میں شائع و ذائع ہے۔ کسی بھی معاشرتی روایت کے صالح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقائق اور استدلال کی کسوٹی پر بھی کھری ثابت ہو۔ بھاری بھرکم داڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں رکھنے کا دعویٰ کرنے والے افراد کے لیے مزید شدت کے ساتھ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ‘رحمت اللعالمین’ (ﷺ) کے کردار اور ان کی اخلاقیات کا ادراک حاصل کریں، اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش بھی۔ بہ صورت دیگر، صرف داڑھی رکھنا کوئی مبارک فعل نہیں، کیوں کہ جہاں تک صرف داڑھی رکھنے کا سوال ہے، تو ابو جہل اور ابو لہب بھی داڑھی رکھتے تھے۔

کئی مرتبہ، معاشرے میں بہت سارے داڑھی، خاص طور پر بڑی اور بھاری داڑھی رکھنے والے افراد کی عصبیت گستاخی کے اس درجہ تک پہنچ گئی محسوس ہوتی ہے جہاں صرف شر ہی پھل پھول سکتا ہے، خیر نہیں۔ مدارس میں جَنم لینے والے حلیے (وضع قطع) نے غیر پڑھے لکھے داڑھی والے مسلمانوں پر انتہائی منفی اثر ڈالا ہے۔ وہ اس مخصوص حلیے سے اس قدر متاثر ہیں کہ وہ بڑے سے بڑے علم والے شخص
(Learned Person)
کی بات کو بھی غور سے نہیں سنتے، اگر وہ داڑھی والا نہیں ہے۔ داڑھی گویا علم و آگہی کا نعم البدل ہوکر رہ گئی ہے۔ عام مسلمانوں کی نظر میں عالم تو کوئی داڑھی والا ہی ہوسکتا ہے۔

مساجد میں عام طور پر فجر اور مغرب کی نماز کے بعد ‘فضائل’ کی حکایات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، جب کہ یہ طریقہ سنجیدہ غور و فکر اور لوگوں کے ذہنی ارتقا
(Intellectual Development)
کے لیے مفید نہیں۔
میں نے ایک دن اپنی مسجد میں لوگوں کو فضائل کی کتاب پڑھنے کے بجائے دین کی بنیادی کتاب، قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کا مشورہ دیا، تاکہ مسلمانوں کو صحیح معنی میں خدا کے تخلیقی منصوبے
(The Creation Plan of God)
کی صحیح نوعیت کا ادراک حاصل ہو، اور دینی احکامات میں پوشیدہ حکمت سے واقفیت بھی۔ تمام لوگ میرے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ کسی مفتی یا بڑے عالم کے بغیر قرآن پاک کا ترجمہ کرنا گمراہ کر دیتا ہے۔ یہ بات کہ مارکیٹ میں دستیاب مطبوعہ قرآنی تراجم و تفاسیر باقاعدہ علما کرام کے ہی لکھے ہوئے ہیں، کسی کی سمجھ میں نہیں آئی۔

لوگوں کی اس تعصباتی ذہنیت سے پیدا شدہ صورت حال کا فائدہ اٹھا کر، ظاہری حلیے سے مولوی نظر آنے والے بہت سے جھوٹے اور مکار، شاطر اور چالاک افراد نے ‘عوام’ درجے کے عام مسلمانوں کا پڑے پیمانے پر استحصال
(Exploitation)
کیا ہے اور آج بھی شہر و قصبات کے پسماندہ اور غریب علاقوں میں کھلے عام کرتے ہوئے نظر آسکتے ہیں۔ عوام کے توسط سے، اس طرح کے لوگوں نے عزت و احترام حاصل کرنے کے معاملے میں، اعلا تعلیم یافتہ اشخاص کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

علاوہ ازیں، اپنے وطن عزیز کی مساجد میں ضرورت کے پیش نظر وقتی طور پر بھی، کسی بغیر داڑھی والے، مگر تعلیم یافتہ شخص کو امام کی حیثیت میں قبول کرنا اس قدر معیوب سمجھا جاتا ہے، گویا سارا دین داڑھی میں ہی موجود ہے۔ یقیناً، یہ خود ساختہ طور طریقے اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں ہیں، البتہ یہ صرف مسلمانوں میں دین کے نام پر پھیلی ہوئی جہالت کی نمائندگی ہے۔ یہاں ایک تجربہ بیان کرنا بھی موزوں رہے گا۔

کچھ عرصہ قبل، مجھے دو مہینے کے لیے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ٹھہرنے کا موقع ملا۔ ہندوستانی ماحول کے برعکس، وہاں مسجد کے تقرر شدہ امام کی جماعت ختم ہو جانے کے بعد بھی لوگوں کا جماعت سے نماز پڑھنا جاری رہتا ہے۔ مسجد میں دو افراد کے جمع ہوتے ہی جماعت کا انعقاد کرلیا جاتا ہے۔ الحمدللہ، داڑھی نہ ہونے کے باوجود، خود مجھے کئی مرتبہ نماز پڑھانے کا موقع ملا ہے۔ اللہ کے فضل سے، وہاں کے لوگ داڑھی کے معاملے میں تعصبات سے پاک نظر آتے ہیں۔ اس معاملے میں، ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اپنی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ دراصل، نماز باجماعت نماز قائم کرنے کا ایک اجتماعی بندوبست ہے۔ جہاں تک نماز کا تعلق ہے، امام اور مقتدی دونوں ہی اپنی اپنی نماز ادا کرتے ہیں، جس کے لیے وہ خود ہی انفرادی طور پر اللہ رب العزت کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔

نصف صدی قبل، میرے لڑکپن کے زمانے کے مسلمانوں نے یہ سکون بخش نظارہ دیکھا ہے کہ داڑھی والے مسلمان، مسلمانوں کے ہی نہیں غیر مسلموں کے درمیان بھی نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ اس عزت و احترام کے پس منظر میں اس حقیقت کو یقینی سمجھا جاتا تھا کہ داڑھی والا مسلمان سچا اور دیانت دار ہوتا ہے، گویا ان دنوں داڑھی متقی ہونے کی بھی علامت تھی۔ کیا آج بھی وہ صورت حال موجود ہے؟ آج ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وقت کے ساتھ ساتھ، سب کچھ الٹ پلٹ گیا ہے۔ انسانی اخلاقیات میں بڑے پیمانے پر بگاڑ آنے کی وجہ سے، معاشرے میں اب عام طور پر داڑھی رکھنے والے افراد کو بھی اُسی منفی نظر سے دیکھا اور سمجھا جاتا ہے، جس نظر سے صاحبِ داڑھی اشخاص خود بغیر داڑھی والے افراد کو دیکھتے اور سمجھتے رہے ہیں۔ اس صورت حال نے داڑھی والے اور بغیر داڑھی والے، بڑی داڑھی والے اور چھوٹی داڑھی والے لوگوں کے درمیان سے ہر طرح کی مفروضہ برتری کا امتیاز ختم کردیا ہے۔

مفروضہ ‘باشرع’ لوگوں کے اندر بڑھتی اخلاقی گراوٹ نے صورت حال کو بڑی حد تک تشویش ناک بنادیا ہے۔ ان لوگوں کا اترانا اور بغیر داڑھی والے افراد کے سامنے اپنی فرضی بڑائی میں مبتلا ہونا صرف گستاخی کا ہی فعل نہیں، بلکہ یہ مذکورہ شخص کو سرکشی کے مقام تک بھی پہنچا سکتا ہے۔ جہاں تک سرکشی کی بات ہے، وہ گویا اپنے خالق و مالک کے سامنے اکڑ جانے کی جسارت ہے، جو کسی شک و شبہ سے بالاتر، خود اپنے ہاتھوں اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ و برباد کرلینے کے مترادف ہے۔

یہ تو ہوسکتا ہے کہ کسی کو اپنا کوئی صالح عمل محبوب ہو اور وہ از راہ محبت دوسرے افراد کو بھی اس پر عمل کرنے کی رغبت دلانے لگے۔ یقیناً، صالح نیت اور خیر خواہی کے جذبے سے کئے گئے نصیحت و رہ نمائی کے سارے کام قابل ستائش ہوتے ہیں۔ لیکن ان سارے معاملات میں گمراہ ہونے کا اندیشہ بھی ہر وقت بنا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خوف اور رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت کا پاس ہی اس اندیشے کو زائل کرسکتا ہے۔ اپنے کسی اچھے عمل کی توفیق حاصل ہونے کے لیے، خدا کا شکر بجا لانے کے بجائے، بڑائی کی نفسیات میں مبتلا ہوجانا گویا خود کو ‘استکبار’
(Arrogance)
کے حوالے کر دینا ہے، جہاں تباہی کے سوا اور کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔

مسلم معاشرے میں پھیلی ہوئی ‘تکبر’ کی برائی کے خیال سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے _
بے شک جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا، ان کے ليے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں نہ گھس جائے۔ اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں (تذکیرالقران: سورۃ الاعراف-7: 40)۔

معاشرے میں، وہ چیزیں ہمیشہ انتشار
(Disturbance)
کا باعث ہوتی ہیں جو اپنی نوعیت میں تو مذہبی نہیں ہوتیں، مگر اکثر اوقات مذہب کے لباس میں ہی پیش کی جاتی ہیں۔ ماضی کے روایتی اور تقلیدی دور میں، اس طرح کے معمولات سے کوئی خاص مسئلہ پیدا نہیں ہوتا تھا، مگر اکیسویں صدی عیسوی کے موجودہ دور میں صورت حال یکسر بدل گئی ہے۔ آج کا زمانہ سائنسی استدلال
(Scientific Reasoning)
کا زمانہ ہے، جہاں چیزوں کو باریک بینی اور خورد بینی
(Microscopic View)
کے زاویہ سے سمجھا جاتا ہے۔

آج کے جدید دور
(Modern Age)
میں خود علم کو بھی ‘علم’
(Knowledge)
کا درجہ حاصل کرنے کے لیے تنقید
(Critical Review)
و تحقیق
(Research)
اور تنقیح
(Investigation/Audit)
کے بے رحمانہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہمیں جدید انسان
(Modern Man)
کے سامنے، مذہب کو بھی اسی اسلوب
(Style)
میں پیش کرنا ہوگا، فتوے کی زبان اب کارگر نہیں ہوگی۔ خود مسلم نوجوانوں کو ارتداد
(Apostasy)
کی کیفیت میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم مذہبی حقائق کو ‘دو اور دو چار’ کی طرح واضح کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کریں اور مسلکی اور گروہی تعصبات اور مصلحتوں کو درمیان میں حائل نہ ہونے دیں۔ ساتھ ہی،
اسلام کے اندر کسی طرح سے بھی جو ‘غیر اسلام’ داخل ہو گیا ہے، اس سے دین کو پاک کرنے کے لیے دل و جان سے سنجیدہ کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، عمومی طور پر عورتوں کے چہرے داڑھی سے مستثنیٰ رکھے گئے ہیں، جب کہ مردوں کے چہرے پر عام طور پر داڑھی نمودار ہوتی ہے۔ لفظ ‘عمومی یا عام طور پر’ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں استثنیات
(Exceptions)
بھی پائی جاتی ہیں۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرد حضرات جن کے چہروں پر داڑھی اگتی ہے، ہمیشہ سے کسی نہ کسی شکل میں داڑھی موچھ رکھتے آئے ہیں۔ بات کے یہاں تک پہنچنے اور سمجھنے میں، کبھی کسی کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی، بلکہ مہذب اسلوب
(Civilised Mould)
میں داڑھی
(Beard)
اور موچھوں
(Moustaches)
کا چہرے پر موجود ہونا مردوں کی شخصیت میں مزید جاذبیت اور خوب صورتی پیدا کر دیتا ہے۔

لیکن، موجودہ زوال یافتہ دور میں، مسلمانوں نے داڑھی کو مذہب سے وابستہ کر کے، غیر ضروری مسائل کا پِٹارا کھول دیا ہے، اور خود کو متعدد معاشرتی مشکلات سے دوچار کر لیا ہے۔ چند سال قبل ایک داڑھی والے مسلم تھانیدار کو نوکری کے ضوابط کی روشنی میں داڑھی کٹوائے کا مسئلہ درپیش ہوا۔ وہ مذہب کا نام لے کر داڑھی نہ کٹوانے پر اڑ
(adamant)
گئے۔ میڈیا میں داڑھی کے موضوع پر بحث و مباحثے شروع ہو گئے۔ انہیں مباحث کے دوران انہوں نے ایک دن کوئی اعلان کیے بغیر خاموشی سے اپنی داڑھی کٹوالی۔ اس طرح کی شرمندگی سے بچا جا سکتا تھا، اگر مسلم معاشرے پر یہ واضح ہوتا کہ داڑھی رکھنا دین کا حکم ہی نہیں ہے۔

جہاں ایک طرف، دینی مدارس سے وابستہ لوگ ناگزیریت
(Compulsion)
کے طور پر داڑھی رکھتے ہیں، وہیں تمام دوسرے شعبہ جات اور اداروں سے منسلک افراد عام طور پر، اس طرح کی بندشوں سے خود کو آزاد محسوس کرتے ہیں، حالاں کہ موجودہ انسانی معاشرے میں، ایک طویل عرصے سے ایک نیا رجحان بھی رونما ہوا ہے۔ آج فیشن کے طور پر اور مذہب و ملت کے امتیاز کے بغیر، معمر افراد ہی نہیں، بیشتر نوجوانوں نے بھی موجودہ رجحانات کی تقلید میں، اپنی اپنی پسند کے مطابق موچھوں کے ساتھ ساتھ داڑھی رکھنا بھی شروع کردیا ہے؛ گویا وہ پرانا زمانہ، جب عمومی طور پر سبھی مرد داڑھی موچھ رکھتے تھے، واپس آرہا ہے۔

اتنا ہی نہیں، جدید تہذیب و طرز فکر کے پس منظر میں، آج مردوں کے لیے سر کے بالوں کے ساتھ ساتھ، داڑھی موچھوں کو نئے نئے زاویہ سے سجانے سنوارنے کے ہنر دریافت ہوگئے ہیں۔ کل تک جہاں بیوٹی پارلر
(Beauty Parlour)
صرف عورتوں کے لیے ہی مخصوص ہوا کرتے تھے، آج مارکیٹ کلچر
(Consumerism)
نے اسی طرح کی مختلف سہولیات بڑے پیمانے پر مردوں کے لیے بھی فراہم کردی ہیں۔ اس طرح، لوگ اپنی آزادی اور پسندیدگی کے مطابق اپنی داڑھیوں کو ہلکا بھاری اور موچھوں کو پتلا موٹا کرواتے رہتے ہیں، اور معاشرے میں مختلف قسم کے نظاروں کی دید کا ماحول بنا رہتا ہے۔

ہماری فکر کا دائرہ کار مسلم معاشرے کے مشاہدات تک محدود ہونے کی وجہ سے، مسلمانوں کے درمیان داڑھی موچھوں سے متعلق موجودہ ٹرینڈ (رجحان) کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ قارئین بھی اپنے اپنے مشاہدات سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ بظاہر دینی معاملات سے وابستہ بہت سے افراد جو کل تک بڑی یا بھاری داڑھی رکھتے تھے، آج اس کو ٹِرِم (کتروانا/ترشوانا) کرواتے ہوئے بھی نظر آسکتے ہیں۔ یہ صورت حال ضرور اس طرف اشارہ کرتی ہوئی محسوس ہوگی، گویا مذکورہ قسم کے افراد بھی داڑھی رکھنے کو دین کا ایک حکم سمجھنے کے معاملے میں پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ مسلمانوں میں جہاں عملی طور پر داڑھی نہ رکھنے والے یا بہت ہلکی داڑھی رکھنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے، وہیں ایسے حضرات کی مثالیں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کی داڑھی کا دائرہ کچھ زیادہ ہی بڑا ہوتا ہے۔ داڑھی کے علاوہ، بڑی بڑی اور موٹی موٹی موچھیں رکھنے والے مسلمان بھی نظر آجائیں گے۔

داڑھی کے مباحث کو آگے بڑھاتے ہوئے، یہاں بظاہر دین دار لوگوں کی عملی زندگی کے تضادات کو واضح کرنے والا ایک دلچسپ قصہ پیش کردینا مناسب رہے گا۔ یہ قصہ شاعر مشرق، علامہ سر محمد اقبال کی زندگی سے مبینہ طور پر منسوب سمجھا جاتا ہے۔ مذکورہ قصے کا مفہوم کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مولوی صاحب اپنے والد صاحب کی وفات کے بعد وراثت میں اپنی بہن کو حصہ دینا نہیں چاہتے تھے اور اس کو سمجھانے اور مطمئن کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ کچھ چیزیں شریعت نہیں، معاشرتی رواج کے مطابق کی جاتی ہیں؛ اور رواج یہ ہے کہ بیٹیوں کو باپ کی وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ مولوی صاحب کی بہن نے شریعت کے مطابق حصہ دیے جانے پر اصرار کرتے ہوئے ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ کردیا۔ اپنے وکیل کی کمزور کارکردگی کے پیش نظر، جو پہلے ہی ان سے بڑی رقم پیشگی لے چکا تھا، جب انہیں محسوس ہوا کہ مقدمہ کا فیصلہ ان کے حق میں یقینی نہیں ہے، تب انہوں نے رہ نمائی کی غرض سے، مشہور و معروف وکیل اور ماہر قانون(Bar- at- Law) علامہ اقبال سے مشاورت کا ارادہ کیا۔

ملاقات کے دوران مولوی صاحب نے ڈاکٹر اقبال کی شاعری کی بہت زیادہ تعریف کی۔ مدح سرائی میں کچھ یوں گویا ہوئے کہ علامہ کی شاعری گویا قرآن مجید کی تفسیر ہے۔ مطابقت پیدا کرنے کے لیے، علامہ کے اشعار اور متعدد قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیتے رہے۔ لیکن شاید، خود روایتی داڑھی والے مولوی ہونے کی وجہ سے، علامہ کے داڑھی سے محروم چہرے کو ہضم نہیں کر پارہے تھے۔ اس لیے، لمبی گفتگو کے بعد انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کر ہی دیا کہ اگر علامہ اپنے ظاہر کو بھی شریعت کے مطابق بنا لیں، تو بلا شبہ، ان کا شمار اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں ہوسکتا ہے۔ ان کا اشارہ علامہ کے داڑھی نہ رکھنے کی طرف تھا۔

دریں اثنا، جب علامہ نے ان کی تشریف آوری کا مقصد دریافت کیا، تب انہوں نے اپنی جائداد، بہن اور مقدمے کا پورا قصہ بیان کردیا، اور پھر ان سے اپنے وکیل کے لیے کچھ مفید قانونی مشورے لےکر رخصت ہوئے۔ بعد ازاں، مقدمے کی تاریخوں کی مناسبت سے ان کے آنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ ہر مرتبہ مولوی صاحب ڈاکٹر صاحب سے اظہارِ دردمندی کرتے کہ اگر وہ بھی ‘باشرع’ ہو جائیں تو کیا بات ہو۔ ظاہری وضع قطع کے متعلق جب مولوی صاحب کی تبلیغ میں سختی پیدا ہونے لگی، تب علامہ نے انہیں ایک مقررہ دن آنے کی دعوت دی اور وعدہ کیا کہ وہ اس درمیان غور و خوض کرتے ہوئے اپنی اصطلاح کی بابت کوئی فیصلہ کریں گے۔ جب مولوی صاحب تشریف لے آئے تو سر محمد اقبال نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر یوں فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم سبھی لوگ شریعت پر عمل کرنے کے معاملے میں کہیں نہ کہیں کوتاہی کرتے رہتے ہیں، اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج ہم دونوں لوگ شریعت کے مطابق اپنی اپنی اصلاح کا عہد کرتے ہیں _ میں شریعت کے مطابق اپنی وضع قطع درست کرتا ہوں، اور آپ اپنی بہن کو وراثت میں شریعت کے مطابق حصہ عنایت کرتے ہیں۔ توقع کے مطابق، شاید مولوی صاحب کی سر محمد اقبال سے یہ آخری ملاقات تھی۔

موجودہ مسلم معاشرے میں پھیلی ہوئی قبیح اخلاقی برائیوں کے پس منظر میں یہ سوال بھی ضرور پیدا ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں داڑھی رکھنے کا دعویٰ کرنے والے بیشتر افراد کو یہ کیوں ضروری محسوس نہیں ہوتا ہے کہ وہ اپنے محبوب ترین آقا و مولیٰ کے کردار اور ان کے اخلاقی اوصاف کی نقل کرنے میں بھی پیش پیش ہوں، جن کے توسط سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق الامین اور رحمت اللعالمین جیسے عظیم اور منفرد القاب سے پہچانا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، موجودہ دور کی غیر دینی تحقیقات میں بھی آپ (ﷺ) کو انسانی تاریخ کی نمبر ایک شخصیت تسلیم کیا گیا ہے۔ مفصل معلومات کے لیے مائکل ایچ ہارٹ
(Michael H.Hart)
کی معروف کتاب ‘دی ہنڈریڈ’
(The 100)
کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

یوں تو کسی فرد کی بڑی اور بھاری داڑھی کسی دوسرے شخص کے لیے کبھی کوئی مسئلہ نہ تھی، مگر نائن الیون (9/11) کے بعد صورت حال بہت زیادہ سنگین ہوگئی تھی، جس کا اثر کسی نہ کسی صورت میں آج بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ نائن الیون، یعنی 11 ستمبر 2001 عیسوی کے دن امریکہ کے نیویارک شہر میں واقع ‘ورلڈ ٹریڈ سینٹر’ کے نام سے معروف بلند عمارت کو ایک دہشتگرد حملے میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد مسلمانوں، خاص طور پر بڑی اور بھاری داڑھی والے افراد کو امریکہ میں خصوصی طور پر اور باقی دنیا میں عمومی طور پر مشکوک نظروں سے دیکھا جانے لگا تھا۔ یہ نامبارک صورت حال ایک طویل عرصے تک جاری رہی۔

اسی پس منظر کا ایک سبق آموز واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ ایک بڑے شہر کی الہ آباد بینک برانچ میں ایک مسلمان افسر پوسٹ تھے۔ ماشاء اللہ، حضرت قد و قامت میں لحیم شحیم ہونے کے ساتھ ساتھ، ہمیشہ ایک بڑی ٹوپی اور شیروانی میں ملبوس رہا کرتے تھے۔ اسی کے ساتھ، ان کے ڈیل ڈول کی مناسبت سے ان کی داڑھی بھی بہت وسیع اور بھاری بھرکم تھی۔ کُل ملا کر وہ ظاہری طور پر، ایک بہت ہی رعب دار شخصیت کے مالک تھے۔ اُنہیں دنوں، میں بھی الہ آباد بینک کے زونل آفس میں پوسٹ تھا۔ ہمارے زونل ہیڈ ایک نان مسلم تھے۔ ایک دن جب وہ مذکورہ برانچ کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، مجھ سے رازداری کے لہجہ میں اپنا درد بیان کرنے لگے کہ برانچ کے فلاں افسر کے حلیے سے انہیں خوف محسوس ہوتا ہے۔ میرے باس
(Boss)
کی یہ کیفیت، نائن الیون سے وابستہ قصے کہانیوں کے حوالے سے پیدا ہوئی تھی۔ میں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے، کئی مسلمان بڑی داڑھی رکھنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

میری مخلصانہ باتوں سے میرے باس تو مطمئن ہوگئے، مگر مسلمانوں کے سامنے یہ سوال ابھی بھی باقی ہے کہ کئی لوگوں کو اتنی بڑی اور بھاری بھرکم داڑھی رکھنا کیوں ضروری محسوس ہوتا ہے، جب کہ خود ان کا ‘مدعو’ بھی ان سے خوف محسوس کرنے لگے۔ اس حقیقی واقعہ میں مسلمانوں کی یاد دہانی کے لیے ایک بہت بڑا سبق پوشیدہ ہے۔ یہ صورت حال، مسلمانوں کے دعوت الی اللہ کے ‘کار نبوت’ سے دور ہوتے چلے جانے، اور ان کے اندر “میری مرضی” والی نفسانیت کے پیدا ہونے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی ہے۔ ایک مسلمان صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کے زاویہ سے اپنی زندگی بسر نہیں کرسکتا۔ ‘داعی’ ہونے کے سبب مسلمانوں کو اپنے ‘مدعو’ کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے اس کا حقیقی خیر خواہ بھی ہونا ہوگا۔

یہ بات انسان ہونے کے عین مطابق ہے کہ وہ کسی معاملے کو سمجھنے میں غلطی کر جائے، مگر یہ بات شرفِ انسانیت کے عین مطابق نہیں کہ غلطی کی نشاندہی کردیے جانے کے باوجود وہ اپنے فہم میں ہوئی غلطی پر نظر ثانی کے لیے بھی تیار نہ ہو۔ اسی قسم کا کچھ معاملہ داڑھی موچھوں کے تعلق سے بھی ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلمانوں کو متکبرانہ اور اوباشوں والی شکل و صورت سے اجتناب کرنے کے لیے کی گئی تاکید کو بعد کے مسلمانوں نے داڑھی رکھنے کے پیغمبرانہ حکم پر محمول کرلیا۔ فہم کی اس غلطی کی وجہ سے یہ کوئی سنگین معاملہ نہ تھا، مگر اس معاملے نے اس وقت سنگین صورت اختیار کرلی جب مسلکی اور گروہی عصبیت کا شکار لوگوں نے بعد میں منظر عام پر آنے والی برعکس تحقیقات کے متعلق گفت وشنید کے سارے دروازے بند کردیے۔ سوال یہ ہے کہ جو غلطی ہمارے بزرگوں پر واضح نہ ہو سکی، مگر بعد کے نوجوانوں پر واضح ہوگئی، تو کیا اس غلطی کو درست نہیں کیا جائے گا؟

جدید دور کے محقق عالم دین، استاذ جاوید احمد غامدی صاحب نے جب اپنی تحقیقی انکشافات کے ذریعے مسلمانوں کے فہم میں ہوئی غلطی کا ادراک حاصل کرلیا اور پھر معاشرے میں شائع و ذائع اس غلط فہمی کو درست کرنے کی کوشش کی، اور ابھی بھی کررہے ہیں؛ تب الٹے انہیں کو ‘گمراہ’ جیسے الفاظ سے منسلک کردیا گیا ہے۔ اسلام کو مسالک اور فرقوں میں بانٹ دینے کی شاید یہی سب سے بڑی برائی ہے کہ سارے فرقے اور مسلکی گرو عوام کے درمیان اپنی خود ساختہ ‘عزت نفس’ کو قائم رکھنے کے لیے، بعد میں دریافت ہوئی غلطیوں کا نہ اعتراف کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی اصلاح، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو سمجھنے میں قیامت تک نئے نئے انکشافات ہوتے رہیں گے، کیوں کی یہ بات عبث نہیں کہی گئی ہے کہ ‘قرآن مجید کے عجائبات کبھی ختم نہ ہوں گے’۔

صالح نیت، پاکیزہ اور مہذب اسلوب میں داڑھی رکھنا معیوب فعل نہیں، مگر اس فعل کو دین کا حکم بتا کر کرنا یقیناً گستاخی کا ارتکاب ہے۔ یہی معاملہ ان سارے ملبوسات کا بھی ہے جنہیں معاشرے میں ‘اسلامی لباس’ کے طور پر مشہور کردیا گیا ہے۔ مہذب لباس کے ساتھ بدن کی پاکی بلا شبہ، اسلامی شریعت کا حکم ہے، مگر کسی بھی خاص قسم کی پوشاک کو یہ حیثیت حاصل نہیں۔

یہاں تک یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ داڑھی اور لباس کے متعلق جو ہدایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوئی ہیں ان کا ہدف مسلمانوں کی وضع قطع کو غیر متکبرانہ، مہذب و پاکیزہ اور باوقار رکھنے سے متعلق ہے۔ مسلمانوں کے علم و عمل کو ہمیشہ پاکیزگی (تذکیہ) اور تقوے سے ہمکنار رہنا اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہے۔ دین کی دعوت کے ساتھ ساتھ، لوگوں کے ظاہر و باطن کا تذکیہ(پاکیزہ بنانا) بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ مشن کا حصہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے _
وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول انھیں میں سے اُٹھایا، وہ ان کو اس کی آیتیں پڑھ کرسناتا ہے۔ اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور وہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے (تذکیرالقرآن: سورۃ الجمعہ-62: 2)

انسانی فطرت میں یکسانیت ہونے کے باوجود انسانی جسم کو اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ وہ کرہ ارض پر بسائے گئے لوگوں کے انفرادی مزاج، آب و ہوا اور جغرافیائی حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں مذکور سارے عوامل مختلف انسانوں کے سر کے بال، داڑھی موچھیں، قد و قامت، رہن سہن اور زیب تن کئے جانے والے مختلف قسم کے ملبوسات پر مختلف صورتوں میں، مگر یقینی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اتنے وسیع پیمانے پر موجود تفاوت
(Distinction)
کے پس منظر میں، دین کا کوئی یکساں حکم جاری کر دینا، گویا دین کو وقتی اور علاقائی حیثیت تک محدود کردینے کے مترادف ہوگا۔ اسلام کے نقشے میں وہی چیزیں شامل کی جاسکتی ہیں جو ہمیشہ اور ہر جگہ قابل عمل ہوں۔

اسلام، یعنی وہ آفاقی مذہب جو قیامت تک آنے والے تمام ادوار
(Ages)
، یہاں تک کہ ہر دور میں وقوع پذیر ہونے والی ہر صورت حال
(Every Situation)
میں قابل عمل بنے رہنے کے لیے وضع کیے جانے کے ساتھ ساتھ، محفوظ بھی کر دیا گیا ہے، کس طرح صرف وقتی اور علاقائی اعتبار سے نافذالعمل احکامات صادر کرنے کا تحمل کرسکتا ہے؟
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسانوں کو اپنی پوشاک اور اپنے ظاہری حلیے کو اپنی تہذیب و ثقافت (کلچر)، حالات اور ضرورت کے مطابق بنانے سنوارنے کے لیے مکمل آزادی مرحمت فرمادی ہے، البتہ ایمان والوں کے لیے، اپنے باطن کے ساتھ ساتھ، جسم اور لباس کو بھی پاکیزہ رکھنے کے لیے ‘تقویٰ اور تذکیہ’ کے احکامات جاری کردیے ہیں، جن کی پاسداری مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔

زمانے کے ساتھ ساتھ، انسانی معاشروں میں بے شمار قسم کے تعصبات اور انہیں کے مطابق رسم و رواج پیدا ہوتے رہتے ہیں، جو ان کی تہذیب و ثقافت کو تشکیل دیتے ہیں۔ لوگ اپنے مزاج، خواہش اور سہولت کے حساب سے شریعت کو بھی اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مسالک کی بڑھتی تعداد، فرقہ بندی اور گروہی عصبیت نے ایک محفوظ مذہب
(Preserved Religion)
کو بھی کسی قدر مشکوک بنا کر انسانیت عامہ کی رہ نمائی اور دعوت کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کردی ہیں۔ یقیناً، یہ گمراہ کن برائی اس وقت تک دور نہیں ہوگی جب تک دین اسلام کے اندر مختلف فرقوں اور مسلکوں کے وضع کردہ مذاہب سے استفادے کے بجائے، سیدھے قرآن مجید کے محفوظ متن
(Arabic Text)
سے رہ نمائی اخذ کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔

اسلام کو مختلف فرقوں اور مسلکوں کی صورت میں پیش کرنے والے مسلمانوں پر یہ حقیقت واضح ہونا نہایت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس دین کا نام اسلام رکھا ہے جس کی صداقت پر مسلمان ایمان رکھتے ہیں، اور اسلام کو ماننے والے افراد کا نام مسلم( یا مسلمان). بیان کی گئی اس حقیقت کو مندرجہ ذیل قرآنی آیات کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے _

اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ(دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے) – سورہ آل عمران(3)، آیت نمبر 19۔
“ابراہیم نہ یہودی تھا اور نہ نصرانی۔ بلکہ وہ حنیف مسلم تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا” (تذکیرالقرآن: سورہ آل عمران-3: 67)-
اس لیے، مسلمانوں کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنی پہچان سنی، شیعہ؛ دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث جیسی مختلف اصطلاحات میں ظاہر کریں، بلکہ اس کے برعکس، صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی پہچان صرف ‘مسلم’ یا مسلمان کے طور پر نمایاں کریں، اور اپنے دین کو صرف ‘اسلام’ کے طور پر۔

مذہبی فرقوں اور مسالک کی جگہ، مسلم معاشرے کے اندر متعدد مکاتب فکر
(Schools of Thought)
کے وجود پذیر ہونے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ دراصل، برائی ہے کسی ‘فکر و نظر’ کو فرقے یا مسلک میں مبدل کر لینے میں۔ اسطرح، علمی ارتقا
(Evolution of Knowledge)
رک جاتا ہے، کیوں کہ پہلے سے موجود نظریات پر نظرثانی کو پسند نہیں کیا جاتا اور نئی تحقیقات کے لیے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ اور پھر اس طرح، ایک ہی دین
(Religion)
کئی مذاہب
(religions)
کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

اس لیے، درست لائحہ عمل کے طور پر، سبھی مسلمان کسی گروہی عصبیت کا شکار ہوئے بغیر، غلط فہمیوں کا ازالہ اور اپنی اصلاح کی غرض سے کسی بھی مکتبِ فکر سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ تمام مکاتبِ فکر کو صرف دینی علوم کی شرح و وضاحت اور تحقیق و تنقیح کے مراکز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس طرح کے علمی اور عملی بندوبست کے بعد مسلم قوم صحیح معنی میں “امت واحدہ” کہلانے کی حقدار ہو سکتی ہے __

عبدالرحمٰن (سابق چیف مینیجر، الہ آباد بینک)
[19.12.2023 AD=05.06.1445 AH]

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *