دوسری عظیم الشان رسول رحمت کانفرنس اختتام پذیر

دوسری عظیم الشان رسول رحمت کانفرنس اختتام پذیر
( پریس ریلیز) سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر دور اور ہر زمانے میں مسلم رہی ہے، لیکن موجودہ ملکی و عالمی تناظر میں اس کی معنویت دو چند ہوگئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ یکدم پاکیزہ، صاف اور ستھری ہے،یہ مسلم، غیر مسلم، عام اور خاص ہر آدمی کے لیے یکساں مفید اور سب کی ضرورت ہے، اسی کی روشنی میں اخلاق و کردار، امور و معاملات، دینی ، ملی، سماجی، معاشی اور سیاسی حالات کو سنوارا جاسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کی معنویت و ضرورت کے پیش نظر ’’کولکاتاالہدی ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی ‘‘ کے زیراہتمام باشتراک ’’صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی بنگال ‘‘،بتاریخ ۱۷؍دسمبر ۲۰۲۳ء، بروزاتوار، بعد نماز مغرب مہاجتی سدن کولکاتا میں دوسری عظیم الشان رسول رحمت کانفرنس زیر صدارت امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند دہلی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مدنی بڑی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوئی جس میں ملک کے مشاہیر علمائے کرام، دانشوران عظام اور ملی تنظیموں کے نمایندگان نے شرکت کی اور اپنی بیش بہا اور قیمتی باتوں سے نوازا۔
پروگرام کاآغاز جامعہ الہدی الاسلامیہ کولکاتا کے طالب علم محمد فہد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، طالب نعمت اللہ نے نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیے، سوسائٹی کے سکریٹی اور صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی بنگال کے ناظم اعلی مولانا ذکی احمد مدنی حفظہ اللہ نے افتتاحی کلمات پیش کیا جس میں انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کا سب سے عظیم مقصد بتاتے ہوئے کہا کہ امت کے ہر فرد کو سیرت رسول پڑھنے، جاننے اور دنیائے انسانیت تک سیرت کو خوشنما پہلؤوں کو پہنچانے کی ضرورت ہے، تاکہ سب لوگ سیرت رسول سے جڑیں نیز انھوں نے تمام مقررین، علمائے کرام، ملی تنظیموں کے نمایندگان ، جمعیت اہل حدیث مغربی بنگال کے اراکین اور دیگر سامعین و سامعات کا پرتپاک استقبال کیا اور ان کی خدمت میں کلمات تشکر پیش کیا۔ سوسائٹی کے نائب صدر جناب انتخاب حنیف صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، مولانا خورشید عالم مدنی حفظہ اللہ نے ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری انسانیت کے لیے رہبر و رحمت‘‘ کے موضوع پر مفصل بیان کیا جس میں انھوں نے ہر میدان میں آپ کی رہبری و رہنمائی کو بیان کرنے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کےجو مظاہر انسانوں ، حیوانوں، غلاموں، عورتوں کے ساتھ رونما ہوئے ان کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ رکھا، مولانا بدیع الزماں مدنی حفظہ اللہ حیدرباد نے عورتوں کے اوپر ہورہے ظلم وستم کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ آپ ﷺ نے عورتوں کے ساتھ نہ یہ کہ بہترین سلوک کا حکم دیا بلکہ خود بہترین شوہر بن کر دیکھا، ان کی ضرورتوں کاخیال کیا، گھر کے کاموں میں تعاون کیا، آپ کی سیرت سب کے لیے مشعل راہ ہے، کابینی وزیرمولانا صدیق اللہ چودھری نے مسکینوں اور یتیموں کے ساتھ آپ ﷺ کے سلوک کو بیان کیا، ڈاکٹر صباح اسماعیل صاحب نے رسول رحمت کی سیرت کو قرآن کی روشنی میں بیان کیا، مولانا شاداب معصوم صاحب نے رسول اللہ ﷺ کے حلم و بردباری کے اہم نمونے پیش کیے، مولانا ذکی حمد مدنی صاحب نے محبت رسول اور اس کے تقاضے کو اچھوتے انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ سے محبت ایمان اور عین محبت الہی ہے، لیکن صرف محبت کافی نہیں بلکہ اس کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی ضروری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ و نمونہ بنانا، آپ کی اتباع واقتدا کرنا، آپ پر درود بھیجنا اور آپ کی شان میں غلونہ کرنا محبت رسول کے اہم تقاضے ہیں جن کا پاس ولحاظ رکھنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے، مولانا عبد الحسیب مدنی بنگلور نے تکثیری سماج میں سیرت کی رہنمائیوں کو واضح کیا، اور بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف تہذیب و کلچر کے لوگوں کے ساتھ بود و باش اختیار کیا، ان کے ساتھ حسن تعامل و برتاؤ کا بہترین نمونہ پیش کیا، میثاق مدینہ جو ۵۲ بنود پر مشتمل ہے اس میں پچیس بنود مسلموں کے متعلق اور ستائس بنود غیر مسلموں سے متعلق ہے ، وہ ہمارے لیے بہترین مشعل راہ ہے ۔ امام عیدین قاری فضل الرحمن صاحب نے خادموں اور مسکینوں کے ساتھ آپ ص کے سلوک کو واضح کیا، اس کے بعد انجینئر اسماعیل خرم صاحب ، مولانا شمیم اختر ندوی صاحب ، ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود صاحب نے سیرت رسول کے مختلف گوشوں کو اجا گر کیا۔
کانفرنس کے صدر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مدنی نے پر مغز صدارتی خطاب سے نوازا.
واضح رہے کہ اس کانفرنس میں سیرت رسول کے مختلف گوشوں کے متعلق جامع اور وقیع مقالات کا مجموعہ مجلہ الہادی کا خصوصی شمارہ سیرت رسول نمبر کا اجرا علمائے کرام اور اسٹیج پر جلوہ افروز افراد کے ہاتھوں ہوا اور اس کی فری تقسیم بھی عمل میں آئی.
اخیر میں کانفرنس میں مختلف قراردادیں پاس کی گئیں جن میں سے چند یہ ہیں:
1. سیرت نبوی ایک جامع عنوان ہے جس پرہر خطے میں ہر موسم میں خطابات و دروس ہونے چاہئیں،سیرت رسول کانفرنس کا یہ اجلاس ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے علمائے کرام، ملی تنظیموں کے نمایندگان اور ضلعی و صوبائی جمعیت اہل حدیث کے اراکین سےگزارش کرتا ہے کہ وہ اپنے جلسوں، اجتماعات، خطبات جمعہ اور حلقہائے دروس کےذریعہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمہ گیر شخصیت کو ایک دوسرے سے متعارف کرائیں۔اور سیرت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے رہیں.
2. آج نو جوانان قوم وملت غیر اسلامی تہذیب وکلچر سے متاثر ہوکر نہ یہ کہ دین بیزاری کے شکار ہو رہے ہیں بلکہ دین سے دوری، علما بیزاری، منشیات خوری اور مخرب اخلاق وعادات میں ملوث ہورہے ہیں ، کانفرنس کو احساس ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بہترین تہذیب اور اچھے اخلاق و عادات سے نوازا ہے، اس لیےہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کونمونہ اور ماڈل مانتے ہوئے آپ کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔
3۔ یہ کانفرنس نئی نسلوں میں بڑھتی ہوئی بے دینی ، جہالت، شراب نوشی، جوا و سٹہ بازی، بھانگ و افیم خوری پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے اور عوام و خواص سے اس کی روک تھام کے لیے بہترین تعلیم و تربیت کے لیے عمدہ اقدامات کرنے کی اپیل کرتی ہے۔

4۔ اس کانفرنس کا یہ احساس ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم و تربیت کی بہت کمی ہے، ہر محلہ،ہر گاؤں اور ہر مسجد میں مکاتیب قائم کیے جائیں، جہاں عصری اسکولوں میں پڑھنے والےمسلمان بچوں کواسلام کی بنیادی تعلیم دی جائے۔ نیزمسلم بچے اور بچیوں کی اعلی تعلیم میں واقع رکاوٹوں، بندشوں اور ضرورتوں کے پیش نظر یہ کانفرنس ہر جگہ اعلی و معیاری تعلیمی اداروں کے قیام پر زور دیتی ہے.
5۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو عزت بخشی، انھیں بلند مقام و مرتبہ عطا کیا، ان کی عزت و ناموس کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کی اور انھیں پردے کے اہتمام کی تعلیم دی، اس کانفرنس کو یہ احساس ہے کہ مسلم عورتوں میں بے پردگی عام ہورہی ہے، مسلم بچیاں غیر اسلامی تہذیب کو اختیار ہی نہیں کر رہیں بلکہ ارتداد کا شکار ہو رہی ہیں ، انھیں صحیح اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔ یہ اجلاس بنات حوا کے ارتداد کی لہروں کی گرفت میں تیزی سےآنے پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔
6. حب الوطنی، قومی یکجہتی، باہمی تعاون، غیر مسلموں کے ساتھ رواداری، حسن معاملات، اور عہد وپیمان کی حفاظت سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا روشن باب ہے، یہ اجلاس ملک ہندستان میں آپسی بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کے قیام کی ضرورت پر زور دیتا ہے،اور میڈیا سے بھڑکاؤ بیانات اور فرقہ وارانہ فسادات کو جنم دینے والے سنسنی خیز واقعات کو کوریج نہ دینے کی اپیل کرتا ہے ۔
7.امن و امان، سکون و شانتی اور رحمت و رافت سیرت رسول کے عظیم مظاہر ہیں، ظلم وجبر، دہشت گردی اور فساد فی الارض اسلام میں بڑے گھناؤنے اور شنیع عمل ہیں، یہ کانفرنس اس بات پر افسوس کرتی ہے کہ فلسطین میں اسرائیل کی طرف سے لگاتار جارحانہ کارروائی کی جارہی ہے، مسلمانوں پرظلم و تشدد کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں، عورتوں اور بچوں کو مشق ستم بنایا جا رہاہے،لیکن عالمی طاقتیں اس جارحانہ کارروائی کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں جو کہ انسانی معاشرہ میں کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے، انسانی جانوں کا احترام سب سے مقدم ہونا چاہیے۔ یہ کانفرنس عالمی برادری سے اس طرح کے ظالمانہ کارروائیوں پر کلی طور پربندش لگانے اور فلسطین میں امن بحال کرنے کی پرزور اپیل کرتی ہے۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *