خوشبو کے سوداگر

خوشبو کے سوداگر

فضیلة الشیخ استاد محترم مولانا فیض الحسن اعظمی عمری مدنی حفظہ اللہ سے  ایک ملاقات

سابق ناظم مدرسہ حمایت الاسلام عربک کالج ہاسپیٹ کرناٹک

مرتب؛۔عبدالرحمن حمایتی جامعی بلاری
امام و خطیب مرکزی مسجد عباد الرحمن اہل حدیث راجم پیٹ آندھرا پردیش

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو بے مقصد نہیں بنایا اور نہ ہی انسان کی تخلیق عبث و بے کار ہے، اس دنیائے رنگ و بو کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے مسخر کردیا ہے اور انسان کو اپنی عبادت و بندگی کے لیے وجود بخشا ہے اور عبادت کی دعوت دینے اس کے طور طریقے بتانے کے لیے آسمانی کتابیں نازل کیں ، وقفہ  وقفہ سے انبیاء کرام کی جماعت کو مبعوث کیا اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس سلسلہء نبوت کو ختم کر دیا، اب کوئی نبی یا رسول آنے والا نہیں.
البتہ دعوت توحید اور طریقہء عبادت کی رہنمائی کی ذمہ داری علمائے امت کے کندھوں پر ڈال دی گئی، انہیں ورثة  الأنبياء کے مبارک لقب سے ملقب کیا گیا، اور ان علمائے کرام نے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اس کا حق ادا کیا اور کر رہے ہیں.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سے اب تک لاکھوں علماء آئے اور اپنی حیات مستعار گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے ، لیکن انہوں نے اپنے پیچھے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے جو قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گے ان شاءاللہ.
اور آج بہت سے ایسے علمائے کرام موجود ہیں جنہوں نے نبوت کے مشن کو سنبھالا ہوا ہے، دل و جان سے اسلام کی خدمت کر رہے ہیں، اپنی پوری زندگی علم و اہل علم کی خدمت میں صرف کر رہے ہیں ، یقیناً ایسے علماء سے متعارف ہونا اور ان کے علمی شہ پاروں سے مستفید ہونا ہر علم کے متلاشی کے لیے از حد ضروری ہے، بنابریں ہم اس مضمون میں ایک مایہ ناز شخصیت کا انٹرویو شائع کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی تعلیم وتعلّم ، درس و تدریس میں لگادی، علم و ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، ہزاروں علم و ادب  کے پیاسوں کو اپنے علم کے چشمہء صافی سے سیراب کیا، گم گشتہ راہ کو راہِ حق  دکھائی . ان سے میری مراد استاد محترم  فضیلة الشیخ فیض الحسن اعظمی عمری مدنی حفظہ اللہ ہیں۔

سوال: شیخ آپ کا نام ونسب کیا ہے؟
جواب : فیض الحسن عمری مدنی بن ڈاکٹر محمد الیاس

سوال : آپ کی تاریخ پیدائش وجاۓ پیدائش کیا ہے؟
جواب : میرا مقام پیدائش ڈومن پورہ مئوناتھ بھنجن اعظم گڑھ یوپی ہے اور تاریخ پیدائش 1958\05\01  ہے .

سوال .  آپ اپنے خاندانی حالات پر مختصر روشنی ڈالیں .
جواب : میرا خاندان اپنی علمی و فکری،  تألیفی و تدریسی،  صحافتی اور سماجی خدمات کا ایک طویل ریکارڈ رکھتاہے اگر یہ کہا جائے کہ بر صغیر میں کسی دوسرے علمی خانوادہ کی اس قدر وسیع و عریض خدمات نہیں ہیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔ہمارے خانوادہ کے مرحوم علماء کی تعداد (50) ہے موجودہ علمائے کرام کی تعداد(76) ہے حفاظ کرام کی تعداد (40) عالمات کی تعداد (62) شعراء کرام کی تعداد(19)ہے ﴿ماخوذ از سوانح حیات مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی رحمہ اللہ﴾

سوال. آپ نے تعلیمی سفر کہاں سے شروع کیا؟ اور تعلیمی مراحل کیا کیا رہے ؟
جواب : ابتداء سے منشی تک کی تعلیم جامعہ مفتاح العلوم کٹرہ مئو میں ہوئی۔ عربی کی پہلی جماعت 1971ء میں جامعہ عالیہ مئو میں ہوئی دوسری جماعت سے فضیلت کی تعلیم جامعہ دار السلام عمر آباد میں ہوئی 1978ء میں سند فضیلت حاصل کیا۔1979ء میں مدراس یونیورسٹی سے أفضل العلماء پاس کیا اور 1983ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے لیسانس ( BA )کی سند حاصل کیا۔

سوال. آپ کو کتنی زبانوں میں دسترس حاصل ہے؟
جواب :الحمد للہ مجھے عربی، اردو ، ہندی،  فارسی،انگریزی زبانوں پر مہارت حاصل ہے۔

سوال. آپ کی تدریسی خدمات کیا ہیں ؟
جواب : میری تدریسی خدمات یہ ہیں کہ :
جامعہ دار السلام عمر آباد سے فراغت کے بعد مجھے مدرسہ حمایت الاسلام ہاسپیٹ ضلع بلاری کرناٹک ، جو صباحی و مسائی مکتب کی شکل میں  تھا ، اس میں درس نظامی جاری کرنےاور دار الاقامہ قائم کرنے کے لئے بلایا گیا۔ الحمدللہ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ تقریبا دو سال تدریسی خدمت انجام دیا۔اس کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے  سعودیہ چلاگیا۔ 1983ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد 1984ء میں دوبارہ مدرسہ حمایت الاسلام ہاسپیٹ کرناٹکا میں درس و تدریس اور دعوتی و تبلیغی کام کے لیے مبعوث بن کر آیا۔

سوال . آپ مدرسہ حمایت الاسلام ہاسپیٹ میں کتنے سال تک نظامت پر فائز رہے؟
جواب : 1983ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد 1984ء میں دوبارہ مدرسہ حمایت الاسلام ہاسپیٹ میں درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ کے کام کے لیے آیا تو اسی وقت تدریس کے ساتھ ساتھ نظامت کی ذمہ داری بھی دی گئی جو تقریبا 38 سال جاری رہی، اس دوران میں نے  مدرسہ کو کلّیہ( کالج ) کے مرحلے تک پہونچایا جہاں طلباء فارغ ہو کر مختلف مقامات پر تدریسی ، دعوتی اور دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

سوال . مدرسہ حمایت الاسلام میں آپ کے زیر تدریس کون سی کتابیں رہیں؟
جواب : مدرسہ حمایت الاسلام میں میرے زیر تدریس کتابوں کی فہرست یہ ہے :
مشکوۃ المصابح
شرح ابن عقیل
البلاغۃ الواضحة
المیراث
قدوری
کتاب التوحید
اصول الحدیث
اصول الفقہ
بدایة المجتھد وغیرہ

سوال. آپ نے صحیحین کن سے پڑھی؟
جواب؛۔ میں نے صحیحین  حافظ عبدالواجد رحمانی پیارم پیٹي اور مولانا عبدالسبحان اعظمی عمری(یہ میرے تایا ہیں) رحمھما اللہ سے پڑھی ہے ۔

سوال. تعلیمی سفر میں آپ کے مشہور ساتھی کون تھے؟  کیا ان میں سے کوئی باحیات ہیں ؟
جواب :حافظ خلیل الرحمن عمری مدنی ، محمد طاہر اعظمی عمری مدنی ،خطیب سعدی عمری مدنی ، عبدالجلیل عمری مدنی رحمہ اللہ (یہ جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدگ کے سابق استاذ ہیں) تھے .

سوال11۔ زمانہ طالب علمی میں اپ کا پسندیدہ موضوع کیاتھا ؟
جواب : زمانہ طالب علمی میں میرے پسندیدہ موضوعات یہ ہیں اخلاقیات ، سیرۃ النبیﷺ  سیرۃ الصحابة،  سیرة الصحابیات عظمت قرآن ، التمسك بالکتاب والسنۃ،  اسلام کا پیغام غیر مسلموں کے نام ، دعوت دین ، حالات حاضرہ اور موجودہ مسلمان وغیرہ ۔

سوال: آپ کے معروف اساتذہ کون ہیں؟
جواب؛۔ میرے معروف و مشفق استاتذہ مندرجہ ذیل ہیں۔ جامعہ دار السلام عمر آباد کے اساتذہ میں:
مولانا حافظ عبدالواجد رحمانی پیارم پیٹی رحمہ اللہ
مولانا عبدالسبحان اعظمی عمری رحمہ
مولانا سید امین عمری رحمہ اللہ
مولانا سید عبدالکبیر عمری صاحب
مولانا ظہیرالدین اثری رحمانی مباركپوری
مولانا امین احمد صاحب
مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی
مولانا خلیل الرحمان اعظمی عمری رحمہم اللہ
مولانا ابوالبیان حماد عمری
مولانا اطہر حسین مدنی
حافظ قاری عبیداللہ حفظہم اللہ ہیں .

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے کچھ اساتذہ یہ ہیں :
1۔ امام الحرم النبوی الشیخ علی الحذیفی حفظہ اللہ
2۔ الشیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ
3۔ دکتور احمد بن عطیہ الغامدی حفظہ اللہ
4۔ دکتور صالح بن عبداللہ العبود حفظہ اللہ
5۔ دکتور احمد بن عبداللہ  مصری حفظہ اللہ ہیں ۔

سوال: وہ کون سے اساتذہ ہیں جن سے آپ بے حد متاثر ہوئے؟
جواب : میں سارے ہی اساتذہ سے متاثر تھا لیکن خصوصی طور پر مولانا حافظ سید عبدالکبیر عمری، مولانا ابو البیان حماد عمری ، مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی،  مولانا خلیل الرحمان اعظمی عمری، مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی رحمہم اللہ سے ایک خاص لگاؤ تھا .

سوال : اساتذہ کے علاوہ کوئی ایسی شخصیت جس نے اپ کو متاثر کیا ہو؟
جواب :میں اساتذہ کے علاوہ ان اشخاص سے متاثر ہوا : مولانا عبدالوہاب صاحب خلجی رحمہ اللہ سابق ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث ھند، مولانا سید اسماعیل صاحب بانی جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدگ،  مولانا عبدالمتین صاحب جونا گڈھی سابق امیر جمعیت اہل حدیث کرناٹکا۔

سوال: اپ کے مشہور تلامذہ کون ہیں؟
جواب؛۔ میرے بہت سے تلامذہ کافی مشہور اور دینی و دعوتی اور رفاہی کاموں میں مصروف ہیں کسی ایک کا نام لکھنا مناسب نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے دوسرے تلامذہ کو تکلیف ہوگی ۔

سوال: مضمون نگاری کا شوق اپ کے دل میں کب سے پیدا ہوا ؟
جواب : مضمون نگاری کا شوق تو بہت پہلے سے تھا لیکن اس کی ابتداء 1995ء سے کیا۔

سوال : آپ کے مضامین و مقالات کن کن جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں؟
جواب: میرے مضامین و مقالات مختلف ماہناموں، مجلات و رسائل اور اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں مثلا : جریدہ ترجمان دہلی ، نواۓ اسلام دہلی، الاسلام دہلی، راہ اعتدال عمرآباد ، آثار جدید مئو،  الفرقان حیدرآباد، سالار بنگلور وغیرہ ۔

سوال : آپ مضمون لکھتے وقت کن کن باتوں کا خیال رکھتے ہیں؟
جواب : مضمون لکھتے وقت میں مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھتا ہوں : بہترین موضوع کا انتخاب، اس کی عبارتیں سلیس ہو تاکہ پڑھنے والوں کو بآسانی سمجھ میں آسکے اور مضمون کا تسلسل ایسا ہو کہ پڑھنے والے کی پیاس اس وقت تک نہ بجھے جب تک کہ وہ مضمون مکمل نہ پڑھ لے ۔

سوال: ایک خوبصورت مضمون نگار کی کیا خوبی ہونی چاہیے؟
جواب : کسی بھی مضمون کو لکھنے سے پہلے کثرت سے مطالعہ کریں تاکہ جو باتیں تحریر کی گئی ہیں نصوص سے واضح ہوجائے ، مضمون لکھتے وقت یکسوئی ہونی چاہئے ۔

سوال: آپ کی تالیفات کا ذکرکریں-
جواب میری تالیفات یہ ہیں : رمضان المبارک کے فضائل و مسائل . فضیلت ماہ محرم و حقیقت کربلا
مہینوں کی فضیلت اور بدعات
لقب اہل حدیث مخلتف ادوار میں۔

سوال: آپ کے نزدیک سب سے پسندیدہ مضامین کون سے ہے؟
جواب؛۔ میرے پسندیدہ مضامین  یہ ہیں : تفسیر ، حدیث ،فقہ،  نحو،  بلاغت، میراث ۔

سوال: کوئی ایسی کتاب بتائیں جو طلبہ کے لئے بیحد مفید ہو؟
جواب؛۔ سیرت پر اور دعوت و تبلیغ پر الرحیق المختوم کا مطالعہ طلبہ کے لے بہت ضروری ہے۔

سوال : پیشہء تدریس کی بابت آپ کی کیارائے ہے؟
جواب : پیشہ تدریس کے بابت میری رائے یہ ہے کہ یہ پیشہ دنیا کا سب سے اچھا پیشہ ہے کیوں کہ آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم بناکر مبعوث کیا گیا تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے بعثت کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا إنَّما بُعثتُ مُعلمًا . اسی وجہ سے علماء کو انبیاء کرام کا وارث کہا گیا یے۔

سوال : ایک کامیاب مدرس بننے کے لئے کیا کیا چیزیں ضروری ہیں؟
جواب : کامیاب مدرس بننے کے لئے درجہ ذیل باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے :
کہ تدریس کی ذمہ داری کو اپنے لئے فرض سمجھیں اس میں کوتاہی نہ کریں، جن کتابوں کو پڑھانا ہے ہر دن ان دروس کا مطالعہ کریں، جن طلبہ کو پڑھارہے ہیں اُن کے ساتھ  نرمی سے پیش آئیں . خاص طور پر کمزور طلباء کو برے القاب سے نہیں پکارنا چاہیے بلکہ ان کی ہمت افزائی کرنی چاہیے اور کہنا چاہیے آج محنت کروگے تو کل کامیاب ہوجاؤ گے۔ ہر کوئی بچہ ماں کے پیٹ سے پڑھ  لکھ کر پیدا نہیں ہوتا . اسی طرح استاد اپنی عزت وقار باقی رکھے ورنہ اسکی عزت نہیں ہوگی.
مدرس کی ہیئت ، ظاہری شکل وصورت بھی اچھی ہونی چاہئے اور خلوص کے ساتھ اس فریضہ کو انجام دینا چاہیے.

سوال: ایک خطیب کو کن کن باتوں كا خیال رکھنا چاہئے؟
جواب :خطبہ کا موضوع سلگتا ہوا ہو ، حالات حاضرہ پر کڑی نظر ہو ، خطبہ میں عقیدہ کی طرف خصوصی توجہ دلانی جائے جو اسلام کی اصل ہے . منبر پراختلافی اور فروعی مسائل سے اجتناب کیا جائے، خطبہ زیادہ طویل نہ ہو ، خطیب پوری تیاری کے ساتھ خطبہ دے ، خطبہ کا دارومدار اور انحصار کتاب و سنت اور نصوص پر ہو ، من گھڑت روایات اور قصہ گوئی سے اجتناب کیا جائے ، خطبات کی ترتیب میں تربیتبی پہلو کو ملحوظ رکھا جائے تاکہ خطباء حضرات کسی ایک متعین موضوع پر ہی ہمیشہ گفتگو نہ کریں۔

سوال : اب تک آپ کس کس عہدے ومنصب پر فائزرہے؟
جواب: دعوتی و جماعتی سرگرمیوں کے پیش نظر، ذمہ داران جماعت و جمیعت نے مجھے مختلف عہدوں سے نوازا۔
صدر جمیعت شبان اہلحدیث کرناٹکا
نائب ناظم جمیعت اہلحدیث کرناٹکا و گوا
نائب امیر صوبائی جمیعت اہلحدیث کرناٹکا و گوا
پھر مرکزی جمعیت اہل حدیث ھند کا مجلس شوری کا رکن رہا، اور مدرسہ حمایت الاسلام ہاسپیٹ کا ناظم بھی رہا ہو اور ابھی بھی جماعتی خدمات جاری و ساری پ کا کیا خیال ہے؟
س: دینی اعتبار سے ہاسپیٹ کے بارے میں آپ کا خیال ہے
جواب : الحمدللہ ہاسپیٹ دینی اعتبار سے بہت سدھر گیا ہے ورنہ یہ شرک و بدعت کا مشہور اڈہ تھا اور اللہ تعالی سے یہی دعا ہے کہ پورا ہاسپیٹ کتاب و سنت کا شیدائی بن جائے۔

سوال: کیا آپ کو شعروشاعری سے شغف ہے ؟
جواب :جی  مجھے ابتداء میں شعر و شاعری سے شعف تھا، طالب علمی کے دور میں مدراس سے “مسلمان” نام کا ایک اخبار نکلتا تھا اس میں میری کئی نظمیں شائع ہوئیں۔ بعد میں میں نے اس کو ترک کردیا۔

سوال : ازدواجی زندگی سے آپ کب منسلک ہوۓ اور آپ کے اولاد واحفاد کتنے ہیں؟
جواب : ازدواجی زندگی سے 1980ء میں منسلک ہوا،  سات اولاد ہیں دو لڑکے پانچ لڑکیاں سب تعلیم یافتہ ہیں اور نواسے اور نواسیوں کی تعداد تین ہیں جو زیر تعلیم ہیں ۔

سوال: آپ کی دینی، ملّی جماعتی اور رفاہی خدمات کیا ہیں؟
جواب : جامعات سے فراغت کے فورا بعد ہی دعوتی و جماعتی سرگرمیوں میں مصروف ہو گیا مسلسل خطبہ کا اہتمام ، صباحی و مسائی دروس،  تربیتی و تذکیری پروگرام کے تحت عوام سے خطاب ، اجتماعات اور کانفرنسوں میں شرکت اور ان میں خطابات کا سلسلہ جاری رہا۔

سوال : آپ نے کن کن ملکوں کا سفر کیا؟
جواب :  میں نے سعودیہ عربیہ کا سفر کیا ، کیوں کہ اعلی تعلیم کے لئے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ مل گیا تھا ۔

سوال : بانئ مدرسہ حمایت الاسلام سے آپ کے تعلقات کیسے تھے؟
جواب؛۔بانی مدرسہ حمایت الاسلام ہاسپیٹ کا نام الحاج ایچ کے عبدالقادر صاحب ہے اور بانی مدرسہ حمایت الاسلام ہاسپیٹ سے میرے تعلقات باپ بیٹے کے جیسے تھے کیونکہ ان کے اخلاق ہمارے لئے نمونہ تھے اسی طرح ان کے فرزند مولانا ثناءاللہ صاحب عمری ہاسپیٹی اس وقت مدرسہ کے مہتمم تھے ان کے ساتھ میرا تعلق بڑے بھائی کے جیسا تھا۔

سوال : آپ کی نظر میں جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدگ و مدرسہ حمایت الاسلام ہاسپیٹ وجامعہ دارالسلام عمرآباد کی خدمات کیا ہیں؟
جواب : جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ ، اور مدرسہ حمایت الاسلام ہاسپیٹ ، جامعہ دار السلام عمر آباد، یہ ایسے ادارے ہیں جو عرب و عجم میں معروف ہیں ان کی خدمات کا ذکر کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مانند ہے  . بہر حال ہر ایک ادارہ کا ایک مقصد ہوتا ہے اور ذمہ داران ادارہ اسی مقصد کو حاصل کرنے لے لئے بھر پور کدوکاوش کے ساتھ اس مقصد میں کامیابی کی کوشش کرتے ہیں اور کتاب و سنت کی ترویج کرتے ہیں اور تعلیم کو آگے بڑھاتے ہوئے طلباء کے مستقبل کو سنوارتے ہیں اور ساتھ ہی ثقافتی و صحافتی کاز کو آگے بڑھاتے ہیں اور انسانوں کو انسانیت کا درس دیتے ہیں اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

سوال: سرزمین بلھاری میں کتنی مرتبہ تشریف لائے اور کب؟
جواب: بے شمار مرتبہ بلھاری آیا ہوں، خطبات جمعہ کے لئے، دینی و اصلاحی اجتماعات میں خطاب کے لئے ، اور ضلعی جمعیت اہل حدیث کی میٹنگ کے لئے بحیثیت نائب ناظم شریک ہوا ہوں .

سوال : آپ نےجامعة الحسنات اور جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدگ کے جلسہ کی کتنے مرتبہ صدرات فرمائی؟
جواب : جامعہ الحسنات کے اجلاس کی دو یا دو سے زائد مرتبہ صدارت کیا ہو اور مجلہ ندائے حسنات کے لئے تاثرات لکھا ہوں۔ جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدگ کے اجلاس میں شرکت بھی گیا ہوں اور عوام سے خطاب بھی کیا ہوں لیکن اس ادارے کے اجلاس کی کھبی صدارت نہیں کی ہے . کیونکہ یہ پرانا ادارہ ہے اور بڑے بڑے علماء کرام کی موجودگی میں اس حقیر کی کیا حیثیت۔ ہاں بانی جامعہ مولانا سید اسماعیل صاحب نے ایک مرتبہ جلسے کی صدارت کی پیش کش کی تھی لیکن میں نے انکار کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا ۔

سوال: آب تک آپ نے کتنے علماء کی سوانح حیات لکھی ہے اور وہ کون ہیں ؟
جواب : اب تک میں نے ایک سوانح حیات لکھی تھی اور وہ تھے مدرسہ حمایت الاسلام ہاسپیٹ کے مہتمم مولانا ثناءاللہ صاحب عمری ہاسپیٹی رحمہ اللہ ۔

سوال : کیا آپ کی شخصیت پر اب تک کسی نے کچھ لکھا ہے؟
جواب : میری شخصیت پر اب تک کسی نے کچھ نہیں لکھا ہے ، بعض لوگوں نے میرے بارے میں کچھ لکھنا چاہا مگر میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے انہیں  مواد فراہم نہیں کرسکا۔

سوال: آپ کے روزانہ کے معمولات کیا ہیں؟
جواب؛۔ دینی فرائض کے انجام کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات سے آئے ہوئے شرعی سوالوں کے جواب دینا، کثرت مطالعہ ، مضامین کی تیاری، اور دعوتی سرگرمیاں جاری رکھنا اور تالیفی کام میں مصروف رہنا۔

سوال : زندگی کے کچھ ذاتی تجربات ہو تو بتائیں؟
جواب : ذاتی تجربہ بحیثیت عالم و مدرس اور داعی ، اللہ تعالی نے ہمیں علم سے نوازا ہے یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اس علم کا مقصد یہ ہے کہ اپنے علم کے ذریعہ ایسے علماء کو تیار کرنا ہے جو کہ مخلص داعی ہوں اور کتاب و سنت پر عمل کرتے ہوئے دعوت دین کو عام کریں،  کیوں کہ دین اسلام تمام انسانوں کے لئے ہے.
داعی الی اللہ اپنی زندگی میں کبھی بھی اپنے آپ کو کمتر نہ سمجھے ، سوائے اللہ کے کسی سے خوف نہ کھائے، ہمیشہ حق گو بنے ، لوگوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئے اور عفو و در گزر سے کام لے . آج علماء تو بہت ہیں لیکن وہ عزت و مقام ابھی تک حاصل نہیں کر سکے جو ان کے شایان شان ہو . محنت اور عمل کے میدان میں اگر اسلاف کے طرز کو اپنائیں تو ان کو بھی وہی عزت و مقام حاصل ہو سکتا ہے جو ایک عالم کے شایان شان ہے . ایک عالم ایک مدرس اور ایک داعی کی کامیابی کا راز اخلاص و للہیت پر مبنی ہوتا ہے یہی میرا ذاتی تجربہ ہے۔

سوال: آپ کی کوئی دلی تمنا ہو تو بتائیں؟
جواب :  میری دلی تمنا یہ ہے کہ ہاسپیٹ جس طریقہ سے شرک کا اڈہ تھا اسی طرح  یہ توحید کا مرکز بن جائے ۔

سوال: اپنے تلامذہ کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہئے؟
جواب؛۔ طلباء کے ساتھ پدرانہ تعلق ہونا چاہئے اور انہیں ایسے الفاظ سے مخاطب نہیں کرنا چاہئے جو انکی عزت نفس کے خلاف ہوں جیسے گدھا ،الّو بیوقوف وغیرہ ، جس سے طالب علم متنفر  ہوجائے اور وہ استاد سےانتقام لینے کےلئے مختلف ہتھکنڈے اپنائے . طلباء کی غلطیوں کو نظرانداز کرنا چاہئے اور لائق معافی غلطیوں کو معاف کردینا چاہیے اور اس کے علم کو ضائع کرنے سے بچانا چاہئے۔

سوال: علماء کرام کے نام کوئی پیغام؟
جواب؛۔ علماء کرام کے  نام میرا پیغام یہ ہے کہ علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیا ہے اسی نقش قدم پر انہیں بھی چلنا چاہئے ، عالم خود کو اپنے علمی ماحول میں ڈھال لے اور اپنی شکل و صورت اور وضع قطع سے عوام الناس کو متاثر کرے . پہلے خود عمل کرے ، اس کے بعد دوسروں کو نیکی پر عمل کرنے کی نصیحت کرے اور ہمیشہ حق گو ہو اور اپنے دینی تدریسی فرائض کےاجر کو اللہ سے طلب کرے ۔

سوال: فارغین طلبہ مدرسہ حمایت الاسلام کو آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
جواب؛۔ فارغین طلبہ حمایت الاسلام کو میرا پیغام یہ ہے کہ یہ جو دین کا علم حاصل کئے ہیں اس سے دعوتی و تدریسی کام کریں ، ہمیشہ اساتذہ سے مشورہ کرتے رہیں تاکہ مدرسہ کی ترقی کی راہ ہموار ہوتی رہے .

سوال: طالب علم کی صفات کیا ہونی چاہیں؟
جواب : طلباء کو اپنے وضع قطع کا خیال رکھنا چاہئے اور علم حاصل کرنے میں جی چرانے سے پرہیز کرنا چاہئے ، اساتذہ کے مقام کو سمجھنے اور ان کے ساتھ گفتگو میں ادب کا لحاظ رکھنا چاہئے.  یہی ایک طالب علم کی ترقی کا راز ہے

سوال:علماء کی سوانحی عمری محفوظ کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
جواب : علماء کرام کی سوانح عمری محفوظ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہر عالم کی کچھ نہ کچھ خصوصیات ہوتی ہیں،جن سے دل میں ان کی قدر و منزلت بڑھ جاتی ہے ۔

سوال: ایک معلم کی شخصیت اپنے شاگردوں کے لئے کیسی ہونی چاہیے؟
جواب:۔ایک معلم کی شخصیت اپنے شاگردوں کے لئے نمونہ ہونی چاہئے تاکہ طالب علم متاثر ہوکر اپنے اندر وہی صفت پیدا کرے .استاذ اور شاگردوں میں ہمیشہ ربط ہونا چاہئے۔

سوال : شیخ حفیظ الرحمن مدنی رحمہ اللہ کے تعلق سے کچھ تاثرات بیان کریں؟
جواب :مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی ، رشتے میں ہمارے چچا تھے مشہور و معروف عالم دین جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے اولین فاضل ، جامعہ دار السلام عمر آباد کے ناظم اعلی ، مرکزی جمعیت اہل حدیث ھند کے سابق رکن مجلس عاملہ اور طلباء کے سب سے چہیتے استاذ تھے اس لئے کہ ایک استاذ کے اندر جو صلاحیتیں اور قابلیتیں ہونی چاہئے وہ ساری ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں .
ایک چراغ تھا نہ رہا
آپ کے مضامین قابل مطالعہ ہیں اسی طرح آپ کی تصنیفات و تالیفات بھی لائق مطالعہ ہیں ۔

سوال: آپ نے اپنی زندگی میں کتنے عمرے اور حج کئے ہیں؟
جواب ؛۔جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سعودی عرب کے تعلیمی دور میں کم از کم آٹھ عمرے اور چار حج کیا ہوں۔

سوال:سلسلہءآباء و اجداد میں معروف شخصیات کے نام بتائیں؟
جواب : مولانا محمد نعمان اعظمی،  مولانا ابوالقاسم ، مولانا عبدالسبحان اعظمی ، مولانا فضل الرحمن اعظمی،  مولانا مفتی عبدالعزیز عمری،  مولانا حبیب الرحمن اعظمی عمری ، مولانا حفیظ ا لرحمن اعظمی عمری مدنی ، مولانا خلیل الرحمان اعظمی ، شیخ انیس الرحمن اعظمی عمری مدنی ، ڈاکٹر عبدالعلی ازھری ، مقتدی احسن ازھری،  مظہر احسن ازھری،  مولانا عزیز الحق عمری.

یہ تھے استاذ محترم مولانا فیض الحسن اعظمی عمری مدنی حفظہ اللہ  کے حالات زندگی جن کو میں نے صفحہ قرطاس پر نقل کر نے کی کوشش کی ہے اللہ تعالی شیخ محترم کی جملہ خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے اور زادِ آخرت بنائے۔ آمین
میں آخر میں عزیزم شیخ جاوید احمد حمایتی حفظہ اللہ شیخ یونس حمایتی حفظہ اللہ کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے معلومات کو جمع کرنے میں میری مدد فرمائی اللہ رب العزت   تمام کی جملہ خدمات کو قبول فرمائے اور ذخیرہ آخرت بنائے آمین یا رب العالمین ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *