قنوت نازله كے احکام ومسائل

قنوت نازله كے احکام ومسائل

جمع وترتیب: امان اللہ ذوالفقار احمد نوری
(خادم: الاحسان اسلامک دعوہ سینٹر، گوونڈی، ممبئی)

اللہ تبارک و تعالیٰ کی بار گاہ میں خشوع وخضوع کو’’قنوت‘‘ کہتے ہیں اور ”نازله“ کا معنی مصیبت میں گرفتار ہونا ہے.
لہٰذا زمانے کے حواد ثات میں گرفتاری کے وقت نماز میں عجز و انکساری کے ساتھ مصائب سے نجات پانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنا ’’قنوت نازلہ‘‘ کہلاتا ہے-
دنیا میں مصائب وآلام کئی طرح کے ہوتے ہیں،
مثلاً دنیا کے کسی خطہ میں مسلمانوں پر کفار ومشرکین یا یہود و نصاریٰ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہوں، دن و رات ان کو پریشانیوں میں مبتلا کئے ہوئے ہوں، ان کو قید وبند کی صعوبتوں میں مبتلا کئے ہوئے ہوں اور کمزور ولاغر مسلمان ان کے ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہوں، یا کسی علاقے میں قحط سالی اور بد حالی ہو، یا وباؤں ، زلزلوں اور طوفانوں کی زد میں کوئی علاقہ آ چکا ہو، تو ان تمام حالات میں قنوت نازلہ کا اہتمام کرنا چاہئے- اور یہ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام رضی اللّہ عنہم تبع و تابعین، فقہاء و محدثین اور سلف و صالحین رحمہم اللّٰہ اجمعین کا طریقہ رہا ہے۔
صبح کی نماز میں قنوت نازلہ کا اہتمام
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَأُقَرِّبَنَّ صَلاَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ، وَصَلاَةِ العِشَاءِ، وَصَلاَةِ الصُّبْحِ، بَعْدَ مَا يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الكُفَّارَ.” (صحیح بخاري: 797)
ترجمہ: لو میں تمہیں نبی کریم ﷺ کی نماز کے قریب قریب کر دوں گا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ظہر، عشاء اور صبح کی آخری رکعات میں قنوت پڑھا کرتے تھے ۔ سمع الله لمن حمده کے بعد ۔ یعنی مومنین کے حق میں دعا کرتے اور کفار پر لعنت بھیجتے۔
تشریح : کچھ غداروں نے چند مسلمانوں کو دھوکا سے بئر معونہ پر شہید کر دیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حادثہ سے سخت صدمہ ہوا اور آپ نے ایک ماہ تک ان پر بددعا کی اور ان پر مسلمان کی رہائی کے لیے بھی دعا فرمائی جو کفار کے ہاں مقید تھے۔ یہاں اسی قنوت کا ذکر ہے۔ جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تو ہر نماز میں آخر رکعت میں رکوع کے بعد قنوت پڑھنا مستحب ہے۔
دوسری حدیث: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: وَاللهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ «يَقْنُتُ فِي الظُّهْرِ، وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ، وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ» (صحیح مسلم: 1445)
ترجمہ: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم! ضرور میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم لوگوں کے بہت قریب کروں گا، اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر، عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت کرتے اور مسلمانوں کے حق میں دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے۔
فجر اور مغرب کی نماز میں قنوت نازلہ کا اہتمام
“عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ الْقُنُوتُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْفَجْرِ.”(صحیح بخاری: 798)
ترجمہ: آپ نے فرمایا کہ دعاء قنوت فجر اور مغرب کی نمازوں میں پڑھی جاتی ہے۔
دوسری حدیث: عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ، وَالْمَغْرِبِ» (صحيح مسلم: 1555)
ترجمہ: شعبہ نے عمرو بن مرہ سے روایت کی، کہا: میں نے ابن ابی لیلی سے سنا، کہا: ہمیں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ فجر اور مغرب (کی نمازوں) میں قنوت کیا کرتے تھے۔
تیسری حدیث: “عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.”( سنن نسائی: 1077 حدیث صحیح ہے)
ترجمہ : حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور مغرب کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔
تشریح : صحیح بات یہ ہے کہ یہ قنوت نازلہ تھی جو آپ نے مختلف نمازوں میں ضرورت کے وقت کی ہے مگر بعض حضرات نے اسے قنوت نازلہ کی بجائے صبح اور مغرب کی قنوت لازمہ قرار دیا ہے، یعنی ان دو نمازوں میں آپ ہمیشہ قنوت فرماتے تھے۔ مگر مغرب کی قنوت کے ترک پر تو اتفاق و اجماع امت ہے۔ کوئی محدث یا فقیہ بھی قنوت نازلہ کے علاوہ مغرب کی قنوت کا قائل نہیں، البتہ امام شافعی اور بعض محدثین (ہمیشہ) فجر کی قنوت کے قائل ہیں۔ اس روایت کو دیکھیں تو دونوں نمازیں برابر ہیں۔ اگر مغرب میں منسوخ ہے تو فجر میں کیوں منسوخ نہیں؟ اور یہی صحی بات ہے کہ قنوت نازلہ تو باقی ہے مگر قتنوت فرض (فجر اور مغرب کی قنوت) باقی نہیں ہے۔ جس روایت سے صبح کی نماز میں قنوت ثابت ہوتی ہے، اسے قنوت نازلہ پر محمول کیا جائے گا، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخر زندگی تک صبح کی نماز میں بوقت ضرورت قنوت نازلہ کرتے تھے۔ اس طرح سب احادیث میں تطبیق ہو جائے گی۔(شرح سنن نسائی)
رکوع کے بعد قنوت نازلہ کا اہتمام
عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا.”(صحیح مسلم: 1546)
ترجمہ: محمد (بن سیرین) سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے (کبھی) صبح کی نماز میں قنوت کی تھی؟ کہا: ہاں، رکوع سے تھوڑی دیر بعد۔
دوسری حدیث: “عَنْ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ سُئِلَ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ بَعْدَ الرُّكُوعِ.”(سنن نسائی: 1072 حدیث صحیح ہے)
ترجمہ: حضرت ابن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ پوچھا گیا: رکوع سے پہلے یا بعد؟ آپ نے فرمایا: رکوع کے بعد۔
تشریح : یہی وہ قنوت ہے جسے امام شافعی رحمہ اللہ نے صبح کی قنوت سمجھا ہے جب کہ جمہور اہل علم اسے عارضی قنوت نازلہ سمجھتے ہیں۔ (شرح سنن نسائی)
کافروں کے لئے فجر کی نماز میں بدعا
“عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: «اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ، اللهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ، وَرِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ»، ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ.”(صحیح مسلم: 1540)
ترجمہ: ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، کہا: مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز فجر کی قراءت سے فارغ ہوتے اور (رکوع میں جانے کے لیے) تکبیر کہتے تو سر اٹھانے کے بعد سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد (اللہ نے سن لیا جس نے اس کی حمد کی، اے ہمارے رب! اور حمد تیرے ہی لیے ہے) کہتے، پھر حالت قیام ہی میں آپ فرماتے: ’’اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مومنوں میں سے ان لوگوں کو جنھیں (کافروں نے) کمزور پایا، نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنے روندنے کو سخت کر، ان پر اپنے اس مؤاخذے کو یوسف علیہ السلام کے زمانے کے قحط کی طرح کر دے اے اللہ! لحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، لعنت نازل کر۔‘‘ پھر ہم تک یہ بات پہنچی کہ اس کے بعد جب آپ پر یہ آیت اتری: ’’ آپ کا اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں، (اللہ تعالیٰ) چاہے ان کو توبہ کا موقع عطا کرے، چاہے ان کو عذاب دے کہ وہ یقیناً ظلم کرنے والے ہیں‘‘ تو آپ نے یہ دعا چھوڑ دی۔
دوسری حدیث: “عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فِي صَلَاةٍ شَهْرًا، إِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ: «اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدَ، اللهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ، فَقُلْتُ: أُرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ، قَالَ: فَقِيلَ: وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا.”(صحیح مسلم: 1542)
ترجمہ: انھوں نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوت (عاجزی سے دعا) کی، جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہہ لیتے (تو) اپنی قنوت میں یہ (الفاظ) کہتے: ’’اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ سلمہ بن ہشام کو نجات دے اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ کمزور سمجھے جانے والے (دوسرے) مومنوں کو نجات عطا کر، اے اللہ! ان پر اپنے روندنے کو سخت تر کر اور اسے ان پر، یوسف علیہ السلام کے (زمانے کے) قحط کے مانند کر دے۔‘‘
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے یہ دعا چھوڑ دی، میں نے (ساتھیوں سے) کہا: میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا چھوڑ دی ہے۔ کہا: (جواب میں) مجھ سے کہا گیا، تم انھیں دیکھتے نہیں، (جن کے لیے دعا ہوئی تھی) وہ سب آ چکے ہیں۔
قبیلہ کفار کے لئے بدعا
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَلِحْيَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهِ وَرَسُولَهُ» قَالَ أَنَسٌ: أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ قَتَلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ: أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ. “(صحیح مسلم: 1545)
ترجمہ: اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے خلاف جنھوں نے بئر معونہ والوں کو قتل کیا تھا، تیس (دن تک) صبح (کی نمازوں) میں بدعا کی۔ آپ نے رعل، ذکوان،لحیان اور عصیہ کے خلاف، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، بد دعا کی۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے ان لوگوں کے متعلق جو بئر معونہ پر قتل ہوئے،قرآن (کا کچھ حصہ) نازل فرمایا جو بعد میں منسوخ ہو نے تک ہم پڑھتے رہے(اس میں شہداء کا پیغام تھا) کہ ہماری قوم کو بتا دیں کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں، وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم اس سے راضی ہیں۔
“دوسری حدیث: “عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَيَقُولُ: عُصَيَّةُ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَه.”(صحیح مسلم: 1547)
ترجمہ: ابو مجلز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کو کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت کی،آپ رعل اور ذکوان کے خلاف بددعا فرماتے تھے اور کہتے تھے: ‘‘عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
تیسری حدیث: “عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَدْعُو عَلَى بَنِي عُصَيَّةُ.”(صحیح مسلم: 1548)
ترجمہ: انس بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک نماز فجر میں رکوع کے بعد قنوت کی، آپ بنو عصیہ کے خلاف بددعا کرتے رہے۔
چوتھی حدیث: “عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ: «اللهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ، وَرِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللهَ وَرَسُولَهُ، غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ» (صحیح مسلم: 1557)
ترجمہ: عمران بن ابی انس نے حنظلہ بن علی سے اور انھوں نے خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے نماز میں (دعا کرتے ہوئے) کہا: ’’اے اللہ! بنو لحیان: رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیج جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔ غفار کی اللہ مغفرت کرے اور اسلم کو اللہ سلامتی عطا فرمائے۔‘‘
پانچویں حدیث: “عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ.” (سنن نسائی: 1080)
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت فرمائی۔ آپ عرب کے قبیلہ میں سے ایک قبلے کے خلاف بددعا کرتے تھے۔ پھر آپ نے قنوت چھوڑ دی۔
ستر قراء کی شھادت پر قنوت نازلہ کا اہتمام
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ، كَانُوا يُدْعَوْنَ الْقُرَّاءَ، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى قَتَلَتِهِمْ» (صحیح مسلم: 1550)
ترجمہ: سفیان نے عاصم سے روایت کی، کہا: میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ کو کسی اور جنگ پر اتنا غم محسوس ہوا ہو جتنا ان ستر (ساتھیوں) پر ہوا جو بئر معونہ کے واقعے کے روز شہید کیے گئے، انھیں قراء کہا جاتا تھا، آپ ایک مہینے تک ان کے قاتلوں کے خلاف بددعا کرتے رہے۔
منافقین کے لئے بددعا
عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ مِنْ الْمُنَافِقِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ(آل عمران:128) (سنن نسائی: 1079 حدیث صحیح ہے)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے جب صبح کی نماز میں آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: [اللھم! العن فلانا و فلانا] ’’اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔‘‘ آپ منافقین میں سے کچھ لوگوں کا نام لے لے کر بددعا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: (لیس لک من الامرشیء اویتوب علیھم اویعذبھم فانھم ظلمون) ’’آپ کے لیے اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ (یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ) وہ انھیں توبہ کی توفیق دے یا انھیں عذاب دے۔ بلاشبہ وہ ظالم ہیں۔‘‘
تشریح : حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صراحت کی ہے کہ فأنزل اللہ راوی کا ادراج ہے، اس لیے اس آیت کو قنوت نازلہ سے رکنے کا سبب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دیکھیے: (شرح سنن نسائی)
قنوت نازلہ کا طریقہ
طریقہ اِس کا یہ ہے کہ فرض نما زکی آخری رکعت میں رکوع کے بعد اِمام «سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد … الخ» پڑھنے کے بعدبلند آواز سے دعاے قنوت پڑھے۔ اس کے ہر جملہ پرسکوت کرے اور مقتدی پیچھے پیچھے بآوازِ بلند آمین کہتے رہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے یہی طریقہ ثابت ہے۔
قنوت نازلہ کے بعض مسائل
* قنوت نازلہ فرض نماز کی آخری رکعت میں پڑھنا چاہئے۔
* قنوت نازلہ فجر میں اور تمام فرض نمازوں میں پڑھ سکتے ہیں لیکن نماز جمعہ یا سنن و نوافل میں نہیں ۔
٭اصل یہ ہے کہ قنوت نازلہ حاکم کے امر سے ادا کی جائے گی ۔
* امام قنوت نازلہ پڑھے گا اور مقتدی آمین کہیں گے۔
* قنوت نازلہ رکوع کے بعد کرنا چاہئے۔
* قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھانا چاہئے۔
* قنوت نازلہ کے باب میں وارد دعاؤں کے علاوہ مزید دوسری دعائیں بھی پڑھ سکتے ہیں اس میں وسعت ہے۔
* حالات درست ہونے پر موقوف کردیا جائے۔
چند دعائیں
1)«اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُوْمِنِيْنَ وَالْمُوْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَاَلِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ وَانْصُرْهُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّهِمْ ، اللّٰهُمَّ الْعَنِ الْکَفَرَةََ الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ َعَنْ سَبِيْلَکَ وَيُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَيُقَاتِلُوْنَ اَوْلِيَاءَ کَ، اللّٰهُمَّ خَالِفْ بَيْنَ کَلِمَتِهِمْ وَزَلْزِلْ أقْدَامَهُمْ وَأنْزِلْ بِهِمْ بَأسَکَ الَّذِیْ لَاتَرُدُّہُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ»
2)«اللّٰهُمَّ اهْدِنَا فِيْمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنَا فِيْمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنَا فِيْمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِکْ لَنَا فِيْمَا اَعْطَيْتَ وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ يُقْضٰی عَلَيْکَ إنَّه لاَ يَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ وَلاَ يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ.»
3)«اللّٰهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِکَ مَا تَحُوْلُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيْکَ وَمِنْ طَاعَتِکَ مَا تُبَلِّغُنَا بِه جَنَّتَکَ وَمِنَ الْيَقِيْنِ مَا تَهُوْنُ بِه عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنْيَا وَمَتِّعْنَا بَاَسْمَاعِنَا وَاَبْصَارِنَا وَقُوَّاتِنَا مَا اَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَأرَنَا عَلٰی مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلٰی مَنْ عَادَانَا وَلاَ تَجْعَلْ مُصِيْبَتَنَا فِیْ دِيْنِنَا وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا اَکْبَرَ هَمِّنَا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا»
4)«اللّٰهُمَّ مُنِزِلَ الْکِتَابِ سَرِيْعَ الْحِسَابِ اللّٰهُمَّ اهْزِمِ الاَحْزَابَ اللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ اللّٰهُمَّ إنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ»
5) «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤمِنِيْنَ وَالْمُؤمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَألِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَأصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ وَانْصُرْهُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّهِمْ»
6) «اللّٰهُمَّ أنْتَ تَحْکُمُ بَينَ عِبَادِکَ فِيْمَا کَانُوْا فِيْهِ يخْتَلِفُوْنَ، إهْدِنَا لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِإذْنِکَ ، إنَّکَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآء ُإلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ»
7)«اللّٰهُمَّ انْصُرِ الإ سْلَامَ وَالْمُسْلِمِيْنَ»
8) «اللّٰهُمَّ أعِزَّ الإسْلَامَ وَالْمُسْلِمِيْنَ، وَأذِلَّ الشِّرْکَ وَالْمُشْرِکِيْنَ، وَدَمِّرْ أعْدَآءَ الدِّيْنِ وَانْصُرْ عِبَادَکَ الْمُوَحِّدِيْنَ وَاحْمِ حَوْضَةَ الإسْلَامِ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ،»
«اللّٰهُمَّ احْفَظْ عَلَيْنَا دِيْنَنَا وَاحْفَظْ عَلَيْنَا أمْنَنَا وَاحْفَظْ عَلَيْنَا اِسْتَقْرَارَنَا وَانْصُرْ إخْوَانَنَا الْمُجَاهِدِيْنَ فِیْ سَبِيْلِکَ فِیْ کُلِّ مَکَانٍ يَا ذَاالْجَلَالِ وَالإکْرَامِ!»
9) «اللّٰهُمَّ إنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ جَهْدِ الْبَلاءِ وَدَرْکِ الشَّقَآءِ وَسُوْءِ الْقَضَآءِ وَ شَمَاتَةِ الاَعْدَآءِ»
10) «اللّٰهُمَّ إنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ، اللّٰهُمَّ لَا تُهْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَلاَ تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَعاَفِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ»
11) «اللّٰهُمَّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ أمِنًا مُّطْمَئِنًا وَّسَائِرَ بَلادِ الْمُسْلِمِيْنَ، اللّٰهُمَّ آمِنَّا فِیْ أوْطَانِنَا وَأصْلِحْ اَئِمَّتِنَا وَوُلَاةِ أمُوْرِنَا وَاجْعَلِ اللّٰهُمَّ قَادَةَ الْمُسْلِمِيْنَ فِيْمَنْ خَافَکَ وَاتَّقَاکَ يَارَبَّ الْعَالَمِيْنَ، اللّٰهُمَّ وَفِّقْ جَمِيْعَ وُلَاةِ الْمُسْلِمِيْنَ لِتَحْکِيْمِ شَرْعِکَ وَاتِّبَاعِ سُنَّةِ نَبِيَّکَ مُحَمَّدٍ ﷺ»
12) «اللّٰهُمَّ الْعَنِ الْفَسَقَةَ الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِکَ وَيُقَاتِلُوْنَ اَوْلِيَآءَ ک،َ اللّٰهُمَّ خَالِفْ بَيْنَ کَلِمَتِهِمْ وَزَلْزِلْ أقْدَامَهُمْ وَأنْزِلْ بِهِمْ بَأسَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّہُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ، اللّٰهُمَّ إنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ»
13) «اللّٰهُمَّ اسْتُرْعَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَّوْعَاتِنَا»
14) «اللّٰهُمَّ إنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّه عَاجِلِه وَآجِلِه، مَا عَلِمْنَا مِنْهُ وَمَا لَمْ نَعْلَمْ، اللّٰهُمَّ مَآ أنْزَلْتَ مِنْ بَلاَءٍ وَفِتْنَةٍ فَاصْرِفْهُ عَنَّا وَعَنْ جَمِيْعِ الْمُسْلِمِيْنَ بِرَحْمَتِکَ يَاأرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ»

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *