ٹھنڈی کے موسم میں دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا حکم ۔

ٹھنڈی کے موسم میں دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا حکم ۔

محمد فہیم الدین ۔
رابطہ نمبر – 9661667330

اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ایک پسندیدہ اور قابل قبول دین ہے ۔ کیونکہ اس میں آفاقیت و ہمہ گیریت ہے ۔ یہ قیامت تک باقی رہنے والا دین ہے ۔ خالق کائنات نے اس دین کو پوری انسانیت کے لیے پسند فرما کر اس کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ کیونکہ یہ بنی نوع انسان کی دنیوی و اُخروی کامیابی کا واحد ذریعہ ہے ۔دین اسلام کی تعلیمات دیگر ادیان و مذاہب کی طرح کسی زمان یا کسی مکان کے ساتھ محدود نہیں ہے کہ اس کی فلاں تعلیم گزشتہ کل کے لیے تھی اور آج وہ فرسودہ ہو گئی یا اس کا فلاں دستور آج کے لیے ہے اور آئندہ کل وہ بیکار ہو جائے گا ۔ بلکہ اسلام ایک فطری دین ہے ۔ یہ طبیعت و فطرت کے عین مطابق ہے ۔ اسلام ہر دور اور ہر موقع پر زندگی کے تمام مسائل و مشکلات کا حل پیش کرتا ہے ۔ اس کے تمام اصول و دستور ابدی و آفاقی ہیں ۔ اس دین کا امتیاز یہ ہیکہ یہ تمام حالات و ظروف میں کامل و صادق ہے ۔ یہی وجہ ہے اسلام پوری دنیا کے لیے رحمت و برکت ہے ۔ اس میں حالات زندگی کی رعایت کرتے ہوئے بندوں کو پوری سہولت و راحت دی گئی ہے ۔ دین اسلام میں کہیں بھی اور کسی بھی طور پر کوئی حرج اور مشقت میں نہیں ڈالا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسلام کی خوبی کو یوں بیان کرتا ہے :”وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ” ۔ ترجمہ : اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی(سورۃ الحج : 78) رسول رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا (اور اس کی سختی نہ چل سکے گی)(صحیح بخاری:39) ۔
اسلام کی رحمت اور بندوں کے ساتھ سہولت ایک بڑا مظہر نماز میں جمع بین الصلاتین بھی ہے ۔ اس سلسلے میں حدیث نبوی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا، ابن عباس سے پوچھا گیا: اس سے آپ کا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی امت کو کسی زحمت میں نہ ڈالیں(صحیح مسلم-705)

اسلام دین رحمت ہے ۔ وہ اپنے ماننے والوں کو مشقت و پریشانی میں دیکھنا نہیں چاہتا ۔ یہی وجہ ہیکہ اسلام نے زندگی کے تمام امور و معاملات میں ہمارے ساتھ سہولت و آسانی کا معاملہ کیا ہے ۔ ٹھنڈ کا موسم آتے ہی لوگوں کو کئی پریشانیوں کا سامنے کرنا پڑتا ہے ۔ ایک مسلمان کو دیگر کاروبار حیات کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اپنے دینی فرائض کو بھی ادا کرنا ہوتا ہے ۔ ان فرائض میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے جسے ایک بندہ دن اور رات میں کل پانچ اوقات میں ادا کرتا ہے ۔ نماز کی ادائیگی کے لیے طہارت وضو اور بعض حالات میں غسل ضروری ہوتے ہیں ۔ اسی طرح سے نماز کی ادائیگی مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے ۔ اس کے لیے پانچ وقتوں میں ایک شخص کو اپنے گھر سے نکل کر مسجد جانا ہوتا ہے ۔ جب سخت ٹھنڈی اور سردی ہو تو ہر نماز کے لیے گھر سے باہر نکل کر مسجد جانا بڑا دشوار اور پرخطر ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اسلام نے اپنے پیروکاروں کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ کچھ سہولتیں عطا کی ہیں ۔ جیسے نماز کو گھر میں ادا کر لینا یا نہیں تو مسجد میں دو نماز کو ایک ہی ساتھ پڑھ لینا،اس کو جمع بین الصلاتین کہا جاتا ہے ۔ احادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر سخت سرد ہوا چل رہی ہو تو ایسی صورت میں دو نمازوں کو ایک ساتھ ادا کی جاسکتی ہے تاکہ عام لوگ مشقت و پریشانی سے بچ سکیں ۔ اس مسئلہ میں فقہی مذاہب کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے لیکن قوی اور صحیح دلائل سے یہ ثابت ہے کہ سخت سرد ہوا چلنے کے وقت جمع بین الصلاتین یعنی دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنا جائز ہے ۔ شیخ مامون رشید سلفی حفظہ اللہ نے اپنی ایک تحریر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس موضوع پر روشنی ڈالی ہے :
“اگر جاڑے کی شدت کی وجہ سے بار بار مسجد میں جمع ہونا لوگوں کے لیے مشقت پریشانی اور حرج کا باعث ہو تو ایسی صورت میں ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کی نمازوں کو ایک ساتھ جمع کر کے ایک ہی وقت میں پڑھ لینا جائز ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے،انہوں نے کہا:’’رسول اللہﷺنے ظہر،عصر اور مغرب،عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا۔وکیع کی روایت میں ہے(سعید نے)کہا:میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا:آپ ﷺنے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا:تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا گیا:آپ ﷺنے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟انہوں نے کہا:آپ نے چاہا کہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں‘‘[صحیح مسلم: ۱۶۳۲]
اس حدیث میں مذکور ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے بغیر کسی عذر کے ایسا کیا تھا اس وجہ سے بعض علماء بلا کسی معقول عذر کے بھی محض انسانی حاجات کی وجہ سے جمع بین الصلاتین جائز سمجھتے ہیں ۔جیسے ابن عباس ،ابن سیرین، اشہب، قفال، شاشی، ابو اسحاق مروزی اور امام ابن المنذر وغیرہم ۔لیکن راجح قول کے مطابق اگر کسی قسم کی پریشانی یا حرج میں واقع ہونے کا خدشہ ہو- جیسا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آپ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں- تبھی جمع بین الصلاتین جائز بلکہ سنت و مستحب ہے۔
چونکہ سخت ٹھنڈی جس سے انسان کو ضرر لاحق ہونے کا خطرہ ہو عذر ہے لہٰذا اس کی وجہ سے بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے ۔چنانچہ اس کا جواز حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے ثابت ہے ۔اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ ،شیخ ابن عثیمین، شیخ عبید الجابری ،شیخ سلیمان الماجد اور شیخ ولید بن راشد السعیدان نے بھی جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: [مجموع الفتاویٰ :۲۴؍۲۹موقع الشیخ ابن عثیمین ، موقع میراث الانبیاء …]
(اہل السنہ ڈاٹ نیٹ -دسمبر 2020, مامون رشید ہارون رشید سلفی)

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *