# غنچہ و گل: رہ نمائی سے درخشاں چند علمی اور فکری مضامین #

# غنچہ و گل: رہ نمائی سے درخشاں چند علمی اور فکری مضامین #

عبدالرحمٰن
𝘼𝙗𝙙𝙪𝙡 𝙍𝙖𝙝𝙢𝙖𝙣
(سابق چیف مینیجر، الہ آباد بینک)
[Ex-Chief Manager, Allahabad Bank]
دہلی- این سی آر
Delhi – NCR
Email
rahman20645@gmail.com

حقیقتاً، مضمون نگاری کا صحیح ہدف یہ ہوتا ہے کہ تصنیف چاہیے مختصر ہو یا مفصل، اس سے ہمیشہ علمی اور فکری رہ نمائی کی روشنی کا ظہور ہونا چاہیے جو انسان کے ذہنی ارتقا
(Intellectual Development)
میں اس کی معاون ثابت ہو۔

زیر نظر تحریر میں مختصر اور مختلف نوعیت کے پانچ علمی، فکری اور اصلاحی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ ان مضامین میں اختصار کے باوجود سوچنے کے ان پہلوؤں کو عیاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو قاری کی فکری صلاحیتوں کو بیدار کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دراصل، صحیح زاویے پر انسانی شخصیت کی نشونما اور اس کی وسعت کا انحصار فکری عمل کی صحت اور نوعیت پر ہوتا ہے۔ یہاں پیش کی گئیں تصنیفات کے عناوین حسب ذیل ہیں

۔ محمد الرسول اللہ ﷺ: صرف مسلمانوں کے ہیرو یا رحمت اللعالمین؟
۔ بچوں کی تربیت
۔ بابری مسجد کا سانحہ
۔ منافقانہ روش: مسلمانوں کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ
۔ دولھا میاں کے گلے میں نوٹوں کے ہار۔

محمد الرسول اللہ ﷺ: صرف مسلمانوں کے ہیرو ہا رحمت اللعالمین؟

“اپنی ناموس کے لیے نرم ہونا
اخلاق کہلاتا ہے,
اور ناموس رسالت کے لیے
سخت ہونا اعلیٰ اخلاق
کہلاتا ہے”.

دو فقروں پر مشتمل مندرجہ بالا تحریر نظر نواز ہوئی، اور اِس پیغام کے الفاظ پر غور کرتے ہوئے راقم الحروف کا فکری عمل بھی متحرک ہو گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس پیغام کا دوسرا حصہ
“اور ناموس رسالت کے لیے سخت ہونا اعلیٰ اخلاق کہلاتا ہے” – نظر ثانی کا متقاضی ہے۔ اس سلسلے میں مزید بات کرنے سے قبل، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے:

“رَبِّ اشۡرَحۡ لِیۡ صَدۡرِیۡ۔ وَ یَسِّرۡ لِیۡۤ اَمۡرِیۡ۔ وَ احۡلُلۡ عُقۡدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ۔ یَفۡقَہُوۡا قَوۡلِیۡ”.
یعنی، اے میرے رب، میرے سینہ کو میرے لیے کھول دے۔ اور میرے کام کو میرے ليے آسان کردے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ تاکہ لوگ میری بات سمجھیں(تذکیر القرآن: سورہ طحہ-20: 25-28).

بلا شبہ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رحمت اللعالمین ہیں(سورۃ الانبیاء-21: 107)، یعنی تمام جہانوں کے لیے رحمت۔ اس حقیقت کا مطلب اس طرح سمجھنا چاہیے کہ آپ ﷺ پر ایمان رکھنے والے افراد، یعنی مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ بھی یہی اُسوہ حسنہ (بہترین نمونہ) اختیار کریں؛ بالفاظ دیگر، رحمت اللعالمین(ﷺ) کے سچے وارث، یعنی دنیا میں خود بھی رحمت والے انسان بن کر دکھائیں۔ واضح رہے کہ ‘رحمت’ کا یہ معاملہ ان لوگوں تک بھی پہنچتا ہے جنہیں منافرت اور دشمنی کی نفسیات
(Psychology of Hatred and Enmity)
کا شکار موجودہ دور کے مسلمان اپنا دوست تصور کرنے میں بھی ہچکچاتے ہیں۔

دراصل، مسلمانوں کے کردار میں ضعف اور اخلاقیات میں سختی پیدا ہونے سے ہی ناموس رسالت جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
کیا کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اور تاریخ عالم کی نمبر ایک شخصیت، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں جب کوئی ناشائستہ اور غیر مہذب زبان کھولتا ہے، تب اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تاریخ کی نمبر ایک اور موثر ترین شخصیت ہونے کا ادراک حاصل کرنے کے لیے، مائیکل ایچ ہارٹ (پیدائش 1932ء) کی معروف کتاب – ‘دی ہنڈریڈ’ کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔

عام طور پر تقریباً، ہر انسان اتنا باشعور ہوتا ہے کہ بات کرتے وقت وہ بڑے چھوٹے کی تمیز کرسکے۔ پھر بھی، اگر کوئی شخص ادب ملحوظ نہیں رکھ پا رہا ہے تو یقیناً وہ کسی تعصب، کم علمی، غلط فہمی یا کسی گروہی عصبیت کا شکار ہو سکتا ہے۔ سدباب کے لیے، سب سے پہلے پیدا شدہ صورت حال کے اس پہلو پر غور کیا جانا نہایت ضروری ہے۔ مزید غور کیا جائے تو بیشتر معاملات میں معلوم ہوگا کہ ایسے شخص میں مذکورہ برائی خود مسلمانوں کی کسی تحریر یا تقریر کو درست طریقہ سے پیش نہ کیے جانے یا خود مخاطب کے ادراک
(Comprehension)
میں کمزوری کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لیے، مسلمانوں کو اس نہج پر مزید سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے اور اپنے دعوتی نظام کو درست کرنے کے لیے، اس پر نظر ثانی کی بھی۔ ‘داعی’ کے منصب پر فائز ہونے کے سبب، یہ مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے دینی مشمولات
(Contents of the Religion)
کو واضح، آسان اور قابل استفادہ بنائے رکھنے کے لیے ہمہ وقت سرگرم رہیں، اور سماج کے اندر ‘مدعو’ کو لاحق معمولی نوعیت کی غلط فہمیوں کے سدباب کے لیے بھی ہمیشہ مستعد۔

دنیا کے مختلف افراد یا اقوام کے اندر رائج اپنے اپنے رسم و رواج اور تعصباتی طور طریقوں کی طرز پر مسلمان خود بھی خاتم الانبیاءﷺ، یعنی قیامت تک آنے والے تمام ادوار
(Ages)
کے انسانوں کے لیے مشعل ہدایت کو صرف مسلمانوں کا رہ نما
(Guide)
اور ہیرو
(Hero)
تسلیم کرتے ہوئے، اور اسی حیثیت سے دوسرے لوگوں کے درمیان متعارف کرواتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ‘سب و شتم’ کے جملہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

صرف اپنا ہیرو یا رہ نما دکھانے کے بجائے، اگر مسلمان جملہ انسانوں پر اپنی اخلاقیات اور تحریر و تقریر کے توسط سے یہ واضح کرسکیں کہ انسانی خیر خواہی اور دعوت الی اللہ کا مذہب ہونے کی وجہ سے، اسلام نفرت اور دشمنی جیسے منفی عوامل کا تحمل نہیں کر سکتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی ہر ہر عورت اور ہر ہر مرد کے لیے رحمت ہیں، تو یقیناً، ہر شخص کسی تفریق کے بغیر، ان سے اپنا رشتہ محسوس کرنے لگے گا، اور فطری طور پر محبت بھی۔

نتیجتاً، انسانیت عامہ کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی نہیں، دنیا میں مسلمانوں کو بھی وہ احترام حاصل ہونے لگے گا جو خلوص نیت اور دل کی آمادگی سے کیا جاتا ہے•

بچوں کی تربیت

چھوٹے بچوں کی اچھی پرورش اور صالح تربیت کے متعلق بہت سارے مضامین اکثر وبیشتر شائع ہوتے رہتے ہیں، اور اسی پیرایے میں تشکیل دیے گئے بہت سارے پروگرام نشر بھی۔ موضوع کی مناسبت سے، یہاں ذیلی سطور میں راقم الحروف کا مختصر طور پر اظہار خیال بھی مناسب رہے گا۔

ماہرین نفسیات کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ بچے نصیحت اور تلقین سے نہیں سیکھتے، جو ہم لوگ اکثر ان کے ساتھ کرتے رہتے ہیں، یعنی “یہ کرو، یہ نہ کرو” وغیرہ۔

بچوں کے اندر اچھی عادات اور صالح اور پاکیزہ اخلاقیات کو فروغ دینے کے لیے نصیحت کا طریقہ اپنانے کے بجائے، والدین کو ان کے سامنے ہر اس قدر کا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا جو وہ اپنے بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، اور مستقبل میں اس طرح کی کوفت سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بگڑ گیا، ہماری کوئی بات نہیں سنتا وغیرہ۔

آپ اگر مثال کے طور پر، بچوں کو نمازی بنانا چاہتے ہیں تو ان کی موجودگی میں خود نماز کا باقاعدہ اہتمام کریں۔ بچے کو سچا بنانا ہے تو غلطی سے بھی جھوٹ بولنے کی غلطی نہ کریں، بالفرض اگر آپ جھوٹ بولنے یا دوسری غیر صالح عادات کا شکار ہیں تو جلدی سے پیشتر انہیں درست کریں۔ اور اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ کا بچہ رشتوں کی قدردانی کرے، تو یقیناً، آپ ہی کو اپنے ماں باپ، بہن بھائی، عزیز و اقارب اور دوسرے لوگوں کے ساتھ اسی قسم کا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا، یعنی “بچے کی اچھی پرورش خود والدین کی صالح تربیت” کا ہی دوسرا نام ہے۔
دراصل، بچوں کی بامقصد پرورش کی خاطر والدین کا خود اپنی اصلاح کے لیے تیار ہو جانا، گویا بچوں کی بامعنی تربیت کی قیمت ہے۔ جو ماں باپ اس قیمت کو خوشی خوشی ادا کرتے ہیں، وہ صرف اپنے خاندان کے مستقبل کو ہی روشن نہیں کرتے، معاشرے میں بھی اچھی نظیر قائم کرتے ہیں۔

ماشاء اللہ، چھوٹے بچے ہر زاویے سے قدرت کا شاہکار ہوتے ہیں، شاید ہی کوئی صاحبِ عقل و شعور انسان ہوگا جو انہیں دیکھ کر گرویدہ نہ ہو جائے۔ پھر، بچے کے ماں باپ کا تو کہنا ہی کیا۔ بچے کی ولادت کے ساتھ جب ایک عورت ماں بنتی ہے اور ایک مرد باپ، تب اللہ تعالیٰ کی با حکمت پلاننگ کے تحت دونوں افراد خود بہ خود نومولود کے لیے، اپنے اندر بے پناہ محبت کی عجیب و غریب اور ناقابل بیان کیفیت کے احساس سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ والدین کے دل کی گہرائیوں میں، والہانہ محبت اور جاں نثاری کی مسلسل اٹھنے والی موجیں دراصل، اللہ رب العالمین کا انسانی نسل کی نشونما کے لیے بنائی گئی نرسری
(Nursery)
کو متحرک رکھنے کا ربانی بندوبست ہے۔ اسی فطری خود کار نظام کے تحت ماں ہی نہیں، باپ کو بھی بچے کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانیاں کبھی پریشانیوں کی طرح محسوس نہیں ہوتیں، گویا بچے کی ولادت سے حاصل ہونے والی بے مثال خوشی جملہ مشکلات پر حاوی ہوجاتی ہے۔

گود میں ننھے فرشتے کی سحر انگیز آمد سے حاصل شدہ نشاط کے زیر اثر، بیشتر لوگ چھوٹے بچوں کو پالتے نہیں، بلکہ ان کے ساتھ کھلونوں کی طرح کھیلنے لگتے ہیں اور صرف اپنے والدین ہونے کی پر لطف ساعتوں سے محظوظ ہوتے رہتے ہیں، اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا بچہ ان کی ساری حرکات و سکنات کو آواز کیے بغیر، ریکارڈ کررہا ہے، گویا والدین کی شخصیت بچے کے اندر ضم ہورہی ہے۔ اس ریکارڈنگ کی نوعیت آڈیو بھی ہوتی ہے اور ویڈیو بھی۔ بچوں کی نشونما کا مطالعہ کرنے والے ماہرین سے اخذ معلومات کے مطابق، بچے کا اپنے اردگرد کے ماحول کی خاموش ریکارڈنگ کا سلسلہ سات سال کی عمر تک لامتناہی طور پر جاری رہتا ہے؛ اور پھر اسی کی بنیاد پر اس کی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ اس طرح بچہ بڑا ہوکر جو بھی شخصیت حاصل کر لیتا ہے، اس میں ترمیم ناممکنات کی حد تک دشوار ہو جاتی ہے۔ اس لیے، ماں اور باپ دونوں کے لیے مذکورہ فطری حقائق کا ادراک نہایت ضروری ہے، خاص طور پر لاڑ پیار کے زمانے میں اس بات کو یاد رکھنا کہ چھوٹا بچہ صرف آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہی نہیں، وہ پروردگار کی ان کے سپرد کی گئی بہترین انسان بنانے کی ایک بھاری ذمے داری بھی ہے۔

جو والدین اپنے بچوں میں ہمہ جہتی صالح شخصیت دیکھنے کے زاویے سے کی جانے والی ان کی پرورش کے دوران خود اپنی اصلاح کو بھی یقینی بنانے کےلیے سنجیدہ جدوجہد کرتے رہتے ہیں، اللہ کی رحمت سے انہیں ضرور پُرامید رہنا چاہیے کہ ان کے بچوں کا نہ صرف مستقبل تابناک ہوگا، بلکہ وہ بڑے ہوکر ان کے لیے بھی صدقہ جاریہ کی وجہ بنیں گے•

بابری مسجد کا سانحہ

مسلمانوں کو اب 6 دسمبر کا نوحہ پڑھنا بند کر دینا چاہیے۔ دراصل، یہ تاریخ ظالمانہ طور پر بابری مسجد کو منہدم کردیے جانے کی تاریخ ہے (6 دسمبر 1992ء)۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے کسی غم کا طویل عرصے تک سوگ منانا درست نہیں۔ علاوہ ازیں، بابری مسجد کے غم میں مزید مبتلا رہنے سے مسلمانوں کو اب اس لیے بھی رک جانا چاہیے کہ ان کے سامنے بچوں کی اعلا تعلیم و تربیت کے ضمن میں قومی تعمیر و ترقی کے بیشتر کام ابھی باقی ہیں، جن پر سنجیدہ توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

‘چھ دسمبر’ کو یاد رکھنے کا کام تاریخ کے حوالے کر دینا چاہیے اور ان لوگوں کے بھی جنہوں نے بابری مسجد کو نہ صرف مسمار کیا، بلکہ وہاں مندر بھی بنا رہے ہیں۔ مذکورہ مندر سے وابستہ افراد اور ان کی نسلوں پر وقت یہ واضح کرے گا کہ وہ مندر میں پوجا کی گھنٹی نہیں، انتہائی ظلم کا گھنٹہ بجا رہے ہیں، جب کہ ظلم کی حقیقت یہ ہے کہ وہ جب اپنی ‘انتہا’
(Extremity)
کو پہنچتا ہے تو ‘ندامت’
(Repentance)
میں بدل جاتا ہے، اور ندامت کا احساس ہوتے ہی کسی بھی شخص کے لیے خوش و خرم اور ہشاش بشاش رہنا تو دور، جینا بھی محال ہوجاتا ہے۔ وہ مچھلی بے آب کی طرح مجسم عبرت بن جاتا ہے۔

ندامت کی کیفیت میں گرفتار ہونا، گویا خود کو ‘دوزخ’ کے حوالے کردینا ہے، جب کہ دوزخ سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
قرآن مجید نے دوزخ یا جہنم کو ‘النار الکُبریٰ'(بڑی آگ) بتاتے ہوئے، وہاں کی زندگی کا جو نقشہ پیش کیا ہے وہ بہت ہی ڈراونا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
ثُمَّ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَ لَا یَحۡیٰی، یعنی پھر نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا(سورۃ الاعلیٰ-87: 13)۔

‘بابری مسجد – رام جَنم بھومی’ تنازع کے پیش نظر، محترم سپریم کورٹ کے فیصلے(9 نومبر 2019ء) نے ندامت کی تخم ریزی کا کام کر دیا ہے، فصل پکنے میں بے شک، ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ کورٹ کے فیصلے نے لکھ کر یہ واضح کردیا ہے کہ مندر بنانے والوں کے بابری مسجد سے متعلق سارے منفی دعوے جھوٹ پر مبنی تھے۔ تاریخ کے ‘تاتاریوں’ کی طرح مندر سے وابستہ افراد کے اندر سے بھی جب کوئی باشعور شخص اٹھے گا اور اسے اِس حقیقت کا ادراک ہوگا کہ مندر کی تعمیر ‘دھرم’ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ‘ادھرم’ کی بنیاد پر رکھی گئی ہے، تب تاریخ دوبارہ یہ منظر دیکھے گی کہ “پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے”.

یہ واقعہ اُتنی جلدی رونما ہوسکتا ہے جتنے زیادہ صبر کا مظاہرہ مسلمان کریں گے۔ اس لیے، مسلمانوں کو بھی ‘سچے دعوتی صبر’ کے ساتھ صرف انتظار کرنا چاہیے۔ مذکورہ ظلم کے واقع کو ‘دعوت الی اللہ’ کا واقعہ بنا دینا ہی مسلمانوں کی بہترین حکمت عملی
(Strategy)
ثابت ہوگی۔

دراصل، مدعو کے ظلم و ستم پر صبر کا مظاہرہ کرنا دعوت کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ اس لیے، مذکورہ معاملے میں مسلمانوں کی برعکس طور پر معمولی اچھل کود بھی ‘تاریخ کے واقعہ بننے’ کے عمل کو مزید موخر کرتی رہے گی•

منافقانہ روش: مسلمانوں کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ

“ہماری مسجدوں میں اگلی صفوں میں بزرگ یورپ کی تباہی کی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں، جبکہ پچھلی صفوں میں نوجوان یورپ کے ویزے کی دعا مانگتے ہیں”. سوشل میڈیا کے توسط سے اس مختصر پیغام کو پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس عبارت کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا، جیسے یہاں چند الفاظ میں بڑی خوب صورتی کے ساتھ، موجودہ مسلم معاشرے کی عکاسی کردی گئی ہے۔

پتا نہیں کیوں بیشتر مسلمانوں کو یہ کبھی محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی ‘منافقانہ’ روش ہی ان کے تمام مسائل اور مشکلات کا سبب ہے۔ مسلم نوجوانوں کا یورپ کی جانب دیکھنا عبث نہیں ہے، وہاں ‘انسان نوازی’ کے بے شمار عوامل اور مواقع جو موجود ہیں۔ یہ تو ان کے باپ دادوں کی گستاخی، بلکہ سرکشی ہے کہ وہ اپنی دیرینہ نفرت کی وجہ سے اپنے دنیوی منعم کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اس کی تباہی کے خواہاں بنے رہتے ہیں، جب کہ مغربی طاقتوں
(Western Powers)
کے خلاف بلا وجہ منافرت اور دشمنی کے جذبات میں مبتلا رہنا صرف مسلمانوں کی حماقت اور کم عقلی کا ثبوت ہے، اور پھر انہیں فرضی دشمنوں سے فیض حاصل کرنے کی کوشش کرنا مزید ان کی منافقت کا۔

وقت کے ساتھ ساتھ، اب تو سمجھ آجانا چاہیے کہ مسلمانوں کی مفروضہ دشمنوں کے تئیں بد دعائوں کے ساتھ ادا کی جانے والی نمازیں قبولیت کے بجائے، کہیں خود ان کے مونھ پر تو نہیں ماری جارہی ہیں۔ بد دعائیں کرنا مسلمانوں کا شِعار نہیں۔ کسی کے لیے بد دعائیں کرنا اللہ رب العالمین کی ناراضگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ مسلمان تو مجسم خیر خواہی اور شکر گزاری کی تصویر ہوتے ہیں۔ شکر گزار بندوں کےلیے ہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں مزید عطا کرتا ہے (سورہ ابراہیم-14: 7).
قرآن پاک کی اسی آیت میں ناشکری کرنے والے افراد کو اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب سے آگاہ بھی کیا گیا ہے۔

اسلام دعوت الی اللہ اور انسانی خیر خواہی کا مذہب ہے۔ اس لیے، مذہب و ملت کے امتیاز کے بغیر، تمام انسانوں کے درمیان خدمت خلق کی سرگرمیاں اور خیر خواہی کے چشمے جاری کرنا مسلمانوں پر لازم ہے۔ اسی طرح، دوسرے لوگوں سے ملنے والی مراعات اور تعاون کے لیے بھی مسلمانوں کو ہمیشہ شکر گزار رہنا چاہیے۔ دراصل، دنیا میں شکر خداوندی بندوں کا شکریہ ادا کرنے کی شکل میں ہی ممکن ہے۔

سنن ابو دائود، حدیث نمبر 4811 کا مفہوم ہے کہ جو شخص انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا، وہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ اس حقیقت پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مفروضہ دشمنوں کے لیے لعنت و ملامت اور بد دعائوں کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا، گویا اپنے پروردگار کی نہیں، بلکہ اپنی انانیت
(Arrogance)
کی عبادت کرنا ہے۔

انانیت کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے افراد کےلیے سخت وعیدات تو ہیں، خوش خبری کوئی نہیں۔ اس لیے، مسلمانوں کو سنجیدگی سے اپنے غیر صالح طور طریقوں کے لیے، اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی اپنی اصلاح کی بھی•

دولھا میاں کے گلے میں نوٹوں کے ہار

شادی کے موقع پر دولھا میاں کے گلے میں نوٹوں کے ہار
(garlands)
کی نمائش کرنے والی تصاویر اکثر اِدھر اُدھر دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ بے شک، ہندوستان بھر میں تو نہیں، مگر ملک کے بڑے علاقے میں دولھا میاں کی زیب و زینت بڑھانے والی چیزوں میں ٹوپی، عمامہ اور شیروانی کے علاوہ گلے میں نوٹوں کے ہار بھی اہم کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ معاشرے میں کچھ بے معنی رسم و رواج جب پروان چڑھ جاتے ہیں تو پھر وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔ شادی کے موقع پر دولھا میاں کے گلے کو کرنسی نوٹوں سے تیار کیے گئے ہاروں سے بھر دینا عام مسلمانوں کے گھروں میں بڑے پیمانے پر رائج ہوگیا ہے۔ البتہ، اس کی خوبیوں اور خامیوں پر غور و فکر سے کسی کو کوئی سروکار نظر نہیں آتا۔

نصف صدی قبل ہونے والے مشاہدات کی بات کی جائے تو ان دنوں نوٹوں سے تیار شدہ ہار چلن میں نہیں تھے۔ چند پھولوں کو، خاص طور پر گلاب کے پھول دھاگے میں پرو کر ہار تیار کیے جاتے تھے، جنہیں دولھا میاں اور متعلقہ باراتیوں کے گلے میں ڈال دیا جاتا تھا، جو شادی کی خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ، دوسرے لوگوں کے مقابلے باراتیوں کی انفرادیت کو ملحوظ رکھنے کا کام بھی انجام دیتے تھے۔ رفتہ رفتہ جب معاشرے میں انسانی اقدار کی جگہ روپے پیسے کا دبدبہ بڑھنے لگا، تب نوٹوں کے ہار نے پھولوں کے ہار پر سبقت حاصل کرلی؛ جب کہ آج یہ عالم ہے کہ دولھا میاں کے دوست اور عزیر و اقربا شادی کے تحائف کو بھی نوٹوں کے ہار میں مبدل کرکے پیش کرنے لگے ہیں۔ کئی لوگوں کے گلے میں تو اتنے زیادہ ہار ہوجاتے ہیں کہ دولھا میاں کی چمک دمک اور دلفریبی بڑی حد تک زائل ہوکر رہ جاتی ہے، اور پیدا شدہ صورت حال معیوب نظر آنے لگتی ہے۔ یہ سماں کسی بھی صاحبِ ذوق شخص کو کس طرح خوش گوار محسوس ہوسکتا ہے؟

نوٹوں کے ہاروں کے توسط سے وقتی طور پر خوشحال نظر آنے کا یہ مصنوعی نظارہ، تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے پسماندہ مسلمانوں کو کچھ زیادہ ہی پرکشش نظر آنے لگا ہے۔ انہیں یہ ادراک حاصل نہیں ہوپاتا ہے کہ نوٹ بٹوے
(Purse)
میں رکھنے کی چیز ہیں، گلے میں لٹکانے کی نہیں۔ غور سے دیکھا جائے تو یہ ‘گارلینڈ کلچر’ (گلے میں ہار کا رواج) شادی کی مناسبت سے وقوع پذیر ہونے والی خوشیوں کو مزید بڑھانے کے بجائے کم کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ نتیجے کے اعتبار سے دیکھنا ہی، چیزوں کی افادیت کو سمجھنے کا صحیح طریقہ ہوتا ہے۔
ایک ہار میں کتنی رقم کے نوٹ تھے اور کُل کتنے ہار دولھا میاں کے گلے میں ڈالے گئے، لوگوں کی گفتگو کا موضوع بن جاتا ہے، جب کہ دولھا – دلھن اور ان کی ازدواجی زندگی کو ہی فوکس
(Focus)
میں رہنا چاہیے تھا۔

خود دولھا میاں بھی حساب لگانے لگتے ہیں کہ ان کی شادی میں کس دوست نے کتنے پیسے خرچ کیے ہیں، اور پھر انہیں بھی اس کے گھر اس سے زیادہ رقم خرچ کرنے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ اس طرح، غیر معیاری اور غیر ضروری رسموں کا اپنی نوعیت میں کمزور ہونا ایک ہی دن میں واضح ہونے لگتا ہے، اور کمزور طبقے کے مسلمانوں کی خستہ حالی بدستور بنی رہتی ہے۔ مسلمانوں کا اپنے ان بے معنی رسم و رواج سے چمٹے رہنا اور کسی طرح کی نظر ثانی کےلیے بھی تیار نہ ہونا، گویا اپنے اس خاموش عہد کا اعلان کرنا ہے کہ وہ اپنی زبوں حالی
(Distressed Condition)
کو درست کرنے کے معاملے میں ابھی سنجیدہ نہیں ہیں۔

یقیناً، اس طرح کی شادیوں میں نام نہاد اعلا تعلیم یافتہ لوگ بھی شرکت کرتے ہیں، مگر پتا لگا کر دیکھا جاسکتا ہے کہ کیا اُن میں سے کسی نے واقعی اس غیر شائستہ طرز عمل پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے یا پھر لوگوں کو اس ضمن میں کوئی صالح مشورہ عنایت کیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ لوگوں کی اکثریت کے لیے صحیح اور غلط میں فرق کرنا بھی دشوار ہوتا ہے۔ لیکن، افسوس کا مقام یہ ہے کہ جو لوگ یہ اہلیت رکھتے ہیں، وہ بھی اکثر خاموش ہی رہتے ہیں۔ معاشرے کی صحت کے لیے یہ اچھی چیز نہیں۔ فی الحال، نوٹوں کے ہار ہی نہیں، شادی سے متعلق تمام غیر مہذب، غیر ضروری اور مہنگے رسم و رواج سے مسلم معاشرہ بے حال ہے، جس کی وجہ سے مسلمان عمومی طور پر آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کِھسک رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پیدا شدہ صورت حال پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے والوں میں تقریباً سبھی امیر غریب، پڑھے لکھے اور ان پڑھ ایک ہی صف میں نظر آئیں گے۔ ایسی صورت میں، اچھے نتائج کی امید کسی طرح کی جاسکتی ہے؟

معاشرتی مشاہدات سے واضح ہوتا ہے کہ تنقید کرنا تو دور کی بات، بہت سارے لوگ اپنے گھر میں ہونے والی شادیوں میں کسی مثبت ترمیم کے بغیر وہی کچھ کرنے کی رغبت حاصل کرتے رہتے ہیں، جس سے وہ ابھی ابھی محظوظ ہوئے ہیں۔ اور اس طرح، صحیح غلط کی تمیز کے بغیر وہی رائج دستور مسلسل چلتا رہتا ہے۔ بہت سارے لوگ مکروہ رسوم سے ہونے والی پریشانیوں کے متعلق شکایت کرتے ہوئے تو نظر آجائیں گے، مگر اس غائبانہ خوف کے دباؤ میں کہ ‘لوگ کیا کہیں گے’ خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اور برابر اسی کام کو کرتے رہیں گے جسے وہ خود بھی ناپسند کرتے ہیں۔ ایسی منافقانہ روش اور اتنی کمزور خود اعتمادی
(Self Confidenc)
کے حامل مسلمانوں پر مشتمل معاشرے کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی ذی شعور انسان بہ خوبی اندازہ لگا سکتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ چھوٹی بڑی کسی طرح کی کمینٹ کر کے کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کا برا بننا نہیں چاہتا۔ مگر اس کے برعکس، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی سے کسی کو کوئی تذبذب یا گھبراہٹ بھی نہیں ہوتی ہے۔ مسلم معاشرے کی پستی کا عالم تو دیکھیے، لوگ اپنے پروردگار سے ڈرنے کے بجائے، اپنے جیسے لوگوں سے ہی ڈرنے لگے ہیں۔ مسلمانوں پر یہ واضح ہونا چاہیے کہ معاشرے کو صالح اقدار سے درخشاں رکھنے کے لیے فرشتے نہیں بھیجے جاتے، انسانوں کو ہی ایک دوسرے کو تلقین و نصیحت اور رہ نمائی کے ذریعے معاشرتی کمزوریوں کو درست کرنے کی سعی کرنی پڑتی ہے؛ جب کہ بیشتر مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کے بنیادی حکم کو نہ صرف عام لوگوں نے، بلکہ علم سے مشرف سمجھے جانے والے افراد نے بھی طاق پر رکھ دیا ہے۔

معاشرے میں بہت سی برائیوں کے وجود اور ان کے مسلسل ابلاغ کی بڑی اور بنیادی ذمے داری سب سے پہلے ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہیں عوام پڑھا لکھا اور صاحبِ عقل و فہم سمجھتے ہیں۔ دنیا میں ہی نہیں، آخرت میں بھی علم و آگہی سے مزین تعلیم یافتہ افراد سے ضرور پوچھا جائے گا کہ ان کے سامنے ہو رہیں برائیوں کو روکنے کے لیے انہوں نے کیا کیا۔ جو لوگ استعداد کے باوجود معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے سدباب کے لیے سنجیدگی سے غور و فکر اور ضروری عملی اقدام کے بجائے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں، وہ معاشرے کا ہی نہیں، اپنا بھی بڑا نقصان کررہے ہیں۔ آخرت میں ہونے والی پوچھ گچھ میں وہ اپنی دفاع میں کوئی واضح عذر بھی پیش نہ کرسکیں گے•
عبدالرحمٰن (سابق چیف مینیجر، الہ آباد بینک)
[29.12.2023 AD=15.06.1445 AH]

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *