حفاظت دین کی تدبیریں

حفاظت دین کی تدبیریں
د. منظورأحمد محمد عالم
دین ہر انسان کے لئے نہایت ضروری ہے. دین کے بغیر انسانوں کی زندگی حیوانیت وبہیمیت کی طرح ہے‘ جہاں أکل وشرب ہے ‘ متعہ ہے‘ ظلم وزیادتی ہے. دین کے بغیر انسانوں کی زندگی تاریک وسیاہ راتوں کی طرح ہے‘ جہاں سناٹا ہے‘ خوف ودہشت ہے‘ جہاں ہر فرد کو اپنی مصلحت عزیز ہے‘ صبح نو کے انتظار میں آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں. دین دار طبقہ حقیقی معنوں میں زندہ ہیں جبکہ غیر دیندار لوگ مردہ کے حکم میں ہیں .
دنیا میں ادیان بے شمار ہیں لیکن دین إسلام کو ان تمام ادیان پر فوقیت وبرتری حاصل ہے کیونکہ وہ اللہ تعالى کا آخری وپسندیدہ دین ہے‘ اللہ نے اسے اپنے بندوں کے لئے منتخب فرمایا ہے‘ اسی میں ان کی دنیوی أخروی کامیابی کی ضمانت دے رکھی ہے. اللہ تعالى فرماتا ہے “ومن یبتغ غیر الإسلام دینا فلن یقبل منھ وهو فی الآخرۃ من الخاسرین” .
آج کے پرفتن دور میں اپنے دین کی حفاظت کرنا بہت بڑا چیلینج ہے ‘ کیونکہ ہر طرف کفر والحاد کا غلبہ ہے‘ شبھات کی بھرمار ہے‘ شہوات وخواہش پرستی کی یلغار ہے‘ اور اس کے وسائل وذرائع تقریبا ہر شخص کے دسترس میں ہیں‘ دینی ماحول ہے نہ دینی مزاج‘ اور نہ ہی حالات سازگار ہیں‘ لہذا دین کی حفاظت دین پسند طبقہ کے لئے کٹھن مسئلہ بنتا جارہا ہے.
لیکن إسلام ایک کامل ومکمل دین ہے‘ جو قیامت تک باقی رہے گا ‘ وہ اپنے ماننے والوں کو دین کی حفاظت کی تدبیریں بتاتا ہے‘ تاکہ مسلمان انہیں جان کر اور ان پر عمل کرکے اپنے دین کی حفاظت کر سکیں.
آئیے ذیل میں حفاظت دین کی اہم تدبیروں سے واقف ہوتے ہیں .
دین کا علم:
حفاظت دین کی پہلی تدبیر یہ ہے کہ اس کی حقانیت ‘ فوقیت‘ عظمت ومنزلت اور دنیاوی واخروی ثمرات و برکات کا پختہ علم ویقین ہو‘ اس سے جہالت وغفلت کے سبب مسلمان کا دین کمزور پڑجاتا ہے اور وہ ذلیل ورسوا ہونے لگتا ہے‘ لہذا دین إسلام کا علم دین کی حفاظت کا پہلا اور مؤثر ذریعہ ہے. اللہ تعالی کا ارشاد ہے: “فاعلم أنھ لا إلھ إلا اللھ ” ‘ “یرفع اللہ الذین آمنوا منکم والذین أوتوا العلم درجات”.
دین پر عمل:
حفاظت دین کی دوسری تدبیر دین پر عمل ہے ‘ تمام مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ دین پر عمل کرے‘ دین آیا ہی اسی لئے ہے کہ اس پر عمل کیا جائے‘ طہارت ‘ نماز ‘ روزہ ‘ حج وعمرہ ‘ خرید وفروخت ‘ نکاح وطلاق ‘ میراث ‘ اور دیگر تمام احکام شریعت پر عمل ہی اقامت وحفاظت دین ہے . “وما خلقت الجن والإنس إلا لیعبدون “.
خیال رہے کہ دین پر عمل مشروع طریقے سے ہو‘ دین کا جو حکم فرض و واجب ہے ‘ اسے فرض سمجھتے ہوئےعمل کیا جائے ‘ اور مسنون ومستحب کو سنت و استحباب کا درجہ دیا جائے ‘ اور حرام ومکروہ کو حرام ومکروہ سمجھتے ہوئے ترک کیا جائے‘ اور مباح کو مباح سمجھا جائے ‘ اور جو عقیدہ واعتقاد سے متعلق ہے اسے عقیدہ کے درجے میں رکھا جائے .
بدعت کو دین سمجھنا اور اس پر عمل کرنا دین کو کمزور اور کھوکھلا کرنا شمار ہوگا نہ کہ اسے دین کی حفاظت کا نام دیا جائے گا‘ دین پر عمل حفاظت دین واقامت دین کا مؤثر وفعال ذریعہ ہے ‘ لہذا تمام مسلمانوں پر صحیح دین پر عمل کرنا واجب ہے تاکہ نئی نسل کے لئے بھی دیکھا دیکھی دین پر عمل کرنا اور اس کی حفاظت کرنا آسان ہو اور دین کا غلبہ ودبدبہ بھی قائم ودائم ہے.
دین کو فیصل ماننا:
حفاظت دین کی تیسیری تدبیر‘ دین کو فیصل ماننا اور اسی کو تمام معاملات میں حکم بنانا ہے‘ ہر مسلمان اپنے اوپر‘ اپنے بچوں اور گھر والوں پر دین کو حاکم بنائے‘ مسلم معاشرہ دین کو اپنے اوپر قاضی وفیصل بنائے ‘ تمام مسلمانوں پر ضروری ہے کہ اپنے اختلافی معاملات میں فیصلہ کے لئے دین کی طرف رجوع کرے‘ شرعی کورٹ کا رخ کرے. نیز مفتی وعالم وقاضی پر واجب ہے کہ فتوى وفیصلہ دیتے وقت صحیح دین کے مطابق فتوى وفیصلے دے.
یقینا ایسا کرنے والے مسلمانوں کا دین محفوظ رہے گا اور امن وامان قائم رہے گا. ارشاد باری ہے ” فلا وربک لا یؤمنون حتى یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی أنفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما”.
دین کی دعوت:
حفاظت دین کی چوتھی تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کو دین کی دعوت دی جائے ‘ دین کی حفاظت ونشرواشاعت کی خاطر اللہ نے امت کو دین کی دعوت دینے کا حکم دیا ہے. “ولتکن منکم امۃ یدعون إلى الخیر ویأمرون بالمعروف وینہون عن المنکر”.
دعوت دین حکمت وبصیرت کے ساتھ ہو ‘ منہج سلف کی پیروی کرتے ہوئے توحید کی دعوت کو دین کے دیگر امور پر مقدم کیا جائے ‘ پھر دین اسلام کے دیگر فرائض و ارکان اور محاسن کو بیان کیا جائے‘ دعوت دین حفاظت دین کے لئے نہایت اہم وسیلہ ہے ‘ لہذا اس میں تمام مسلمانوں کو اپنی حیثیت کے مطابق شریک ہونا چاہئے .
کفر وشرک وبدعت ومعیت پر رد: شرک وکفر‘ بدعت وخرافات‘ معصیت وضلالت اور اس کے اسباب ووسائل پر نکیر وتردید حفاظت دین کا بہترین ذریعہ ہے ‘ اگر ان امور پر نکیر نہیں کی گئی تو عوام دھوکے میں مبتلا ہو سکتی ہے ‘ لہذا طلبہ وعلماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں موجود قدیم وجدید شرک وبدعت ومعیت کے تمام مظاہر پر کھل کر بولے ‘ اس کی خطرناکی کو عوام کے سامنے لائے ‘ اہل شرک وبدعت سے انہیں مناسب اسلوب وبیان میں ڈرائے کہ یہ لوگ دین وایمان کے لٹیرے ہیں ‘ ان سے اپنی سب سے قیمتی وعزیز شیئ دین وایمان کا تحفظ کریں ‘ ورنہ آپ لٹ جائیں گے اور اپنا خسارہ کرلیں گے.
جس قوم اور جس شہر وملک میں دعوت دین اور امر بالمعروف والنہی عن المنکر کا فریضہ اخلاص‘ محنت ومحبت‘ تسلسل وتکرار کے ساتھ ادا کیا جائے گاں وہاں حالات ضرور بدلیں گے ‘ خیر عام ہوگا ‘ مفاسد کی شرح ضرور گھٹے گی.
سطور بالا میں تحفظ دین کے اہم اور عام تدبیروں کی نشاندہی کی گئ ‘ انہیں ہر جگہ اور ہر ملک میں اپنایا جاسکتا ہے ‘ لہذا تمام مسلمانوں کو اسلام کی سر بلندی اوراپنی دنیوی واخروی سعادت وکامیابی کے لئے ان تدبیروں کو اپناتے ہوئے عملی اقدامات کرنا چائے . اللہ تعالى ہم سب کو اپنی توفیق سے نوازے . آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *