محبت ایک تعارف

محبت ایک تعارف

 

از۔محمد افضل محی الدین

 

 

محبت ایک عجیب چیز ہے محبت میں جب جدائی ہوتی ہے وسیع الظرف اسے جذب کر لیتا ہے کمینہ ہوتا ہے اچھالتا پھرتا ہے اور بدنام کرتا ہے اور کم ظرف انسان تماشہ بنا دیتا ہے فریاد شیریں لیلا مجنو ہیر رانجھا کی محبتیں کچھ ایسی ہی تھیں محبت میں بھی کرتا ہوں بلکہ ہر شخص کرتا ہے مگر محبت بھلائی یا دفنائی نہیں جاتی محبت کو کچلا یا روندا نہیں جاتا محبت دلوں کو مرجھانے نہیں دیتی اور پیشانی پر شکم پڑنے نہیں دیتی محبت سدا بہار لفظ ہے محبت بہترین لطافت کا نام ہے محبت میں شرمساری نہیں ہوتی محبت دو دلوں کا کھیل نہیں ہوتا اور نہ ہی محبت عشق کا نام ہے محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے جو اپنے آب شیریں سے دو چاہنے والوں کو سیراب کرتا ہے محبت وہ سایہ شجر ہے جس کی گھنیری چھاوں میں اہل محبت آرام کرتے ہیں محبت وہ پیرہن ہے جو اہل محبت کو ایک پیرائے میں ڈھال دیتا ہے محبت ایک روح ہے جو دلوں کے چٹیل میدان پر شبنم افشانی کرتی ہے محبت ایک خمار ہے جس میں عزت و تکریم وفاشعاری سرشاری فدائیت کا دریا بہتا ہے محبت کوئی روگ نہیں بلکہ ٹوٹے دلوں کا علاج ہے محبت زخم نہیں بلکہ مرہم ہے محبت اہل محبت کی علامت ہے پہچان ہے محبت دل کے دریا کی روانی ہے محبت بصیرت کا پتا دیتی ہے اندھوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں محبت درد دینے کے بجائے ہمدرد پیدا کرتی ہے محبت پاکیزہ جذبہ ہے اسے گنہ گار نہیں کرنا چاہئے محبت عطیہ الہی ہے جو حدود الہی کے اندر رچتی بستی اور بھلے لگتی ہے حدود سے تجاوز اہل محبت کا شعار نہیں بلکہ یہ اہل جنوں کا کام ہے دراصل محبت ایک قلبی ربط کا نام ہے جو فاصلوں کو سمیٹتا ہے دوریوں کو کم کرتا ہے محبت ایسی چیز ہے جو دور سے ہی جھلکتی ہے مگر اہل دانش ہی اس سے شرف نیاز حاصل کر سکتے ہیں اہل جفا کیا جانیں محبت کیا ہوتی ہے پھر محبت میں غلو پسند حضرات کی بھی کوئی جگہ نہیں جہاں اہل جفا کا محبت سے کوئی لینا دینا نہیں وہیں غلو پسند طبقہ نے بھی اسے بہت بدنام کیا ہے میں پھر کہتا ہوں محبت پاکیزہ جذبہ ہے اور پاکیزہ جذبوں کی ترجمانی ہے محبت کا تعلق خیر سے ہے جہاں خیر نہیں وہاں محبت نہیں محبت نصح کا پتا دیتی ہے محبت تنگ نظری دلی بیماری خود پرستی مصلحت کوشی سے کوسوں دور رہتی ہے کینہ حسد جلن کا جہاں باس ہوتا ہے محبت ایسے دلوں سے اور ایسے لوگوں کے بیچ سے کوچ کر جاتی ہے محبت دل میں اٹھی ٹیس نہیں بلکہ انشراح صدر کا نام ہے محبت خوشیوں کی برکھا لائے نہ لائے مگر دل کو سکون بہن پہنچاتی ہے محبت مصیبت کی دبیز تاریک میں بھی اپنوں کو نہیں چھوڑتی محبت جانبداری نہیں بلکہ ہمہ گیری پر بیلیوکرتی ہے محبت انسان کو بے دن نہیں کرتی بلکہ اسے مضبوطی و توانائی فراہم کرتی ہے محبت اگر اصولی ہوتو سب سے زیادہ ثمرآور ہوتی ہے محبت سرد مہری کا شکار نہیں ہوتی کہ فراوانی کے دور میں خوب آؤ بھگت ہوتی رہی تنگی کا زمانہ آتے پہلو تہی فرمانے لگیں یا بیچ چوراہے پر کھڑا کردیا تاکہ سیلف ریسپیکٹ کے گوشت پوشت کو ہر راہ چلتا چیل کے مانند اسے نو چتا جائے محبت کسی کو ذلیل نہیں کرتی اگر انسان کو حقیقی محبت ہو جائے توشکوک شبہات کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی ہے محبت مؤثرات اور ترجیحات سے گھری ہوتی ہے توتوانا ہوتی ہے مگر خطرات کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں ہم صدیوں سے یہ سنتے آئے ہیں کہ فلاں اور فلاں رابطہ اتنے سالوں تک تھا مگر کبھی بھی کسی کی طرف سے کوئی ترشی پیدا نہیں وجہ یہی ہے کہ محبت میں اعتراف ہوتا ہے تعنت تو اسے توڑ دیتی ہے محبت میں تواضع ہوتا ہے تکبر تو اسے ہیچ کر دیتا ہے ٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠ج

محبت کا تعلق خیر سے ہے اگر انسان کسی دوسرے سے محبت کرتا ہے تو اس کا کوئی بھی عمل خیر سے خالی نہیں ہوتا میں نے محبت میں بھی لہجہ کی کڑواہٹ محسوس کی ہے تلخی ایام کو دیکھاہے دوریاں محبتوں کو کم نہیں کرتیں تلخی ایام جذبات کو سرد پڑنے نہیں دیتے بے رخی محبت میں جلتی آگ میں گھی کا کام کرتی ہے تڑپاتی ہے اضطراب میں ڈال دیتی ہے اور اسی سے محبت میں انفعال پیدا ہوتا ہے محبت میں وسعت ہوتی ہے ہر ایک کی شخصی پسند ناپسند ترشی کا سبب نہیں بنتی ہر ایک کا اپنا طرز حیات ہوتا ہے مزاج ہوتا ہے اگر بےوجہ اس کو محبت سے نتھی کرکے طرز حیات اور مزاج کو تبدیل کرنے کی ڈیمانڈ کی جائے اور اسے ناراضگی کی وجہ گردانی جائے یہ قطعامناسب نہیں اوراگر شرعا وخلقا کوئی قباحت نہیں تو اسے خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہئے اس کی رعایت کرنی چاہئے محبت کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس اسکی شناخت چھین لی جائے یا اس پر اپنی پسند یا ترجیحات کو تھوپا جائے محبت اسپیس مانگتی ہے محبت میں اتنی گنجائش ہوتی ہے کہ وہ سب کو اپنے اندر سمو لیتی ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی فدائیت اور جانثاری کا مظاہرہ کرکے آپ کی ترجیحات اور آپ کی پسند نا پسند کو اپنا وظیفہ حیات بنالے محبت امتیازی شناخت اور خصوصیات کو تحفظ دیتی ہے اس کی پاسداری کرتی ہے محبت میں اتنی لچک قدرت نے رکھی ہے کہ وہ لوگوں کو ٹوٹنے یا بکھرنے نہیں دیتی اور اتنی لطافت رکھی ہے کہ سب کچھ خاموشی سے برداشت کر لیتی ہے محبت کا اپنا ایک نہج ہوتا ہے اسی لئے محبت ہر فرد کے بس کا نہیں نہ ہر شخص کا مزاج اس قابل ہوتا ہے کہ محبت اسے قبول کرلے محبت عطیہ الہی ہے اور یہ انعام اسی کو ملتا ہے جو اسکا مستحق ہوتا ہے محبت میں شدت رخوت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں لیکن محبت کے ہر پہلو میں نرمی غالب ہوتی ہے محبت کا تعلق حکمت و بصیرت سے ہوتا ہے جزباتیت کبھی بھی اس پر غالب نہیں ہونے پاتی اس کا ہر ہر قدم حکمت و بصیرت کے ساتھ ہوتا ہے اسی لئے محبت کی راہیں قربانیوں سے بھری پڑی ہیں یہاں ہر ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے محبت دوسروں کے لئے جینے کا نام ہے اور محبت بھی ہمیں یہہی سکھلاتی ہے محبت کے کئی رنگ و روپ ہوتے ہیں اور مختلف زاویوں سے یہ کھلتی اور نکھرتی ہے اہل محبت محبت کو ہر زاویے سے جان لیتے ہیں اور باقیوں کے چہرہ پر تو بس تیوریاں ہی تجوریاں دکھائی دیتی ہیں محبت کے دو بول محبت کی علامت نہیں موجودہ دور میں ہر فرد اپنے مفاد کا بندہ ہے اور وہ اپنے مفاد کی خاطر کچھ بھی کرنے تیار ہے ایسے ہیں محبت کے دو میٹھےبول دنیا کا سب سے بڑا قذاق آدمی بھی بول سکتا ہے محبت وقتی عنایت کا نام نہیں یہ سراپا جاںنثاری طلب کرتی ہے دنیا میں محبت کا کاروبار بہت تیزی سے چل پڑا ہے ہر شخص محبت کے نام پر اپنا کام نکالنے کی کی کوشش میں ہے ایسے میں اہل محبت کی ذمہ داری ہے کہ محبت کو ان شوائب سے پاک صاف کریں محبت اسکے خالص رنگ روپ میں دنیا کے سامنے پیش کریں محبت پر منافقت کے لیپ لگانے سے گریز کریں محبت ایک حسین سلسلہ کا نام ہے جس کی ابتداعرش بریں سےہوکر تمام مخلوق خداوند پر ختم ہوتی ہے تمام مجموعہائے خلائق اس سے مربوط ہیں نفرت کی کوئی بھی کڑی دنیاوی نظام کو غارت کرنے کے لئے کافی ہے محبت کی کمی پل بھر میں ہی تمام انسانی چین و سکون غارت کرنے کےدرہےہوتی ہے محبت کرامت ذات اور تکریم نفس کانام ہے جہاں انسانی حیثیت ہی تسلیم نہ ہو وہاں محبت کا شجر نہیں لگتاکراہت محبت کو آہستہ آہستہ دیمک کی طرح چٹ کرنے لگتی ہے۔ کراہت بغض کی بنیاد ہے کراہت ہی وہ اولین زینہ ہے جو باہمی عداوت و منافرت تک لے جاتا ہے انسانی حیثیت کا سلامت رہنا محبت کی پنپنے کی جگہ ہے دراصل محبت ہی وہ چیز ہے جو محب کی نظر میں محبوب کو عظیم بناتی ہے محب اپنے محبوب کو کہیں بھی کسی بھی حال میں شرمندہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا ہے عزت نفس کا سب سے اعلی معیار اسی محبت کا ہی دیا ہوا ہے محبت محبوب کی عزت کو ماتحت کی جھومر بنا کر رکھتا ہے محبت توجہ چاہتی ہے بے فکری غفلت محبوب کو احساس کمتری میں مبتلا کردیتی ہے محبت کا تعلق دل سے ہے مگر حسن و جمال مال ودولت حسب و نسب دین و مذہب یہ محبت میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں اگر ان تمام چیزوں میں شرعی رنگت غالب ہوتو دنیا کی بہترین مال و متاع قرار پاتی ہے محبت دلوں کی بنجر زمیں کو شاداب بناتی ہے انسان کے اندر نرمی اور لطافت پیدا کرتی ہے محبت انسان کو با ذوق اور ذمہ دار فرد بناتی ہے تمام تر دنیاوی رشتوں کا مدار اسی محبت پر ہے محبت نہ ہوتو رشتے بے معنی قرار پاتے انسان کی موجودگی نا موجودگی سب کوئی معنی نہیں رکھتی گھر گھروندابے آبا و گیا وادی لگتی ہے انسانی زندگی بے روح ہوکر رہ جاتی ہے بسا اوقات انسان ذہنی مریض ہوجاتا ہے محبت کے بغیر سارا سرمایہ حیات لٹا لٹا سلگتاہے محبت کے بغیر تعمیر حیات ممکن نہیں محبت کے بغیر زندگی۔ کے برگ وبار موسم خزاں کی مانند لگتے ہیں محبت میں جنونیت ہے نامجنونانہ حرکتوں کی گنجائش ہے محبت سلیقہ مند باشعور افراد کا شعار ہے وہ محبت جو دلوں کا روگ بن جائے اس کا انجام سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہوتا محبت اپنے حدود اور پیمانے ہوتے ہیں لذت کوشی غزارت جنسی کی تسکین کو محبت کا پیرہن عطا کرنا انسانی درندگی ہےانسان محبت کا بھوکا ہوتا ہے اور ایسوں کو محبت کے نام پر استعمال کرنا بہت آسان ہوتامحبت کرنا خونی علاقائی مسلکی برادرانہ تعصب رکھنے والے کے بس کے باہر ہے محبت میں سیاست نہیں چلتی محبت مصلحت کوشی کانام نہیں ورنہ اہل محبت کی دنیا بازار محبت۔ میں تبدیل ہو جائے اور محبت مال غنیمت یا سامان۔ تجارت قرار پائے آج ہر سطح پر محبت کی کمی محسوس ہوتی ہے ایسے سماج میں اہل محبت کی آبیاری مشکل ترین آمرہے محبت۔ اہل محبت کے لئے آکسیجن ہے اہل محبت وہیں۔ پنپتے پلتے بڑھتے اور سانس لیتے ہیں جہاں انہیں محبت کی صاف ستھری فضا میسرآتی ہے سارے انسانی کار خیر کے پیچھے محبت چھپی ہوتی ہے ہم بندگان خداوند التجا کرتے ہیں کہ وہ اپنی اپنی وسعت کے مطابق محبت کے بیچ بائیں اور اس کیآبیاری کریں اللہ ہم سب کو اسکی۔ توفیق بخشے آمین

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *