سعودی عرب کے شاہی خرچ پر عمرہ کا سنہری موقع

سعودی عرب کے شاہی خرچ پر عمرہ کا سنہری موقع
فیصل عزیز مدنی
استاد جامعہ ابن تیمیہ
حرمین شریفین اور زائرین بیت اللہ وشہر رسول کے حوالے سے جو ناقابلِ فراموش خدمات دیکھنے کو مل رہے ہیں، پوری اسلامی تاریخ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی ۔ حرمین کی توسیع ، مقامات حج میں بہترین خیموں کی تنصیبات ، ارکان حج وعمرہ کی ادائیگی کو آسان بنانے کے لیے بسوں اور ٹرینوں کے انتظامات ، حجاج ومعتمرین کی فری میڈیکل سہولیات ، دینی رہنمائی کے لیے جگہ جگہ علماء کی فری کاؤنسلینگ ، یہ اور ان جیسی ہزاروں خدمات جن کے تذکرے کے لئے الگ الگ مضمون کی ضرورت ہے ۔ حکومت سعودی عرب کی جانب سے حج وعمرہ کے سلسلے میں فراہم کی جانے والی بے شمار خدمات میں سے ایک ضیوف الرحمان پروگرام بھی ہے ۔ اس پروگرام کے ذریعے ہر سال دنیا کے تمام ممالک سے ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو شاہی مہمان بنا کر فری حج وعمرہ کرنے کا زریں موقع دیا جاتا ہے
شاہ فہد کے زمانے میں 1996 میں ضیوف الرحمان پروگرام کا آغاز ہوا ۔ جس کا مقصد تھا دنیا کے چنیدہ ، نامور شخصیات کو بطور اعزاز واکرام شاہی مہمان بنا کر حج کرانا۔ پھر اس کا دائرہ وسیع کیا گیا اور اس پروگرام کے تحت ایک خصوصی پیکج کا اضافہ کیا گیا ۔ جس کے تحت جنگ یا آفات ارضی و سماوی سے متاثرہ گھرانوں کے افراد کو بھی شاہی مہمان بنا حج کا موقع فراہم کیا گیا تاکہ ان کی دلجوئی ہو سکی ۔ تب سے اب تک دنیا کے 140ممالک سے تعلق رکھنے والے دس ہزار سے زائد افراد اس پروگرام سے فائدہ اٹھا چکے ہیں ۔ امسال اس پروگرام کے تحت 92 ممالک سے تعلق رکھنے والے کل 4951 مرد وخواتین کو شاہی مہمان بن کر حج کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ جن میں 1300 افراد عام پیکج کے تحت تھے جبکہ ان کے علاوہ لوگوں کو مختلف خصوصی پیکج کے تحت موقع دیا گیا تھا ۔ ان میں ایک ہزار (1000) ان فلسطینیوں کو شامل کیا گیا تھا جو جنگ میں یا تو اپنے کسی پیارے کو کھوچکے ہیں یا کسی بھی قسم کی قربانی دی ہے ۔ یمن سے بھی ایسے ایک ہزار (1000) لوگوں کو منتخب کیا گیا ۔ شام سے بھی اسی قسم کے 280 لوگوں کو موقع دیا گیا ۔ اسی طرح شہید سعودی افواج کے گھرانوں سے بھی ایک ہزار (1000) لوگوں کو یہ موقع ملا۔ ان کے علاوہ یمن کے 150 علماء کو اور 91 دیگر لوگوں کو شاہی مہمان بنا کر حج کرایا گیا ۔ اب نئے سال میں داخل ہوتے ہی سعودی عرب نے ایک اور عمرہ پیکج کا اعلان کردیا ہے ۔ جس کے تحت عالم اسلام سے ایک ہزار افراد شاہی خرچ وطرز پر ادائیگی عمرہ کی سعادت حاصل کرپائیں گے ۔
اس شاہی پیکج کے لئے پہلے سعودی حکومت ان تمام ممالک میں جہاں ان کے سفارت خانے ہیں ان کے ذریعے ایسے لوگوں کا انتخاب کرتی ہے جو ہر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں ہائی پروفائل لوگ بھی ہوتے ہیں اور غریب ترین افراد بھی جو صرف حج کا خواب دیکھ سکتے ہیں،پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ان میں سماجی رہنما، علماء، تاجران ، سیاست دان اور ہر فیلڈ سے لوگ لئے جاتے۔ یہ پیکج کسی کی روشن خدمات کا انعام ہوتا ہے تو دبے کچلے لوگوں کے لئے ایک عظیم سرپرائز اور ان کے خوابوں کی تکمیل کے لیے غیبی مدد ۔ سفارت خانوں کے ذریعے جن لوگوں کا انتخاب ہوجاتا ہے، پھر آگے کی ساری کارروائیاں حکومت سعودی عرب کے ذمے ہوتی ہیں۔ اس پیکج کے تحت جو زائرین وہاں پہنچتے ہیں، ان کے انتظامات دوسروں سے منفرد ہوتے ہیں۔ رہائش، کھانے پینے ، ٹرانسپورٹ غرض تمام خدمات مفت اور شاہانہ معیار کی ہوتی ہیں۔
اگر ہم میں سے کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس پروگرام کا زیادہ حقدار ہے تو اس کے لئے انہیں آگے آنا چاہیے اور مسلم اداروں اور تنظیموں کے ذریعے ان کی سفارش اپنے ملک کے سعودی سفارت خانے تک پہنچا کر کار خیر میں شامل ہونا چاہیے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سعودی حکومت کو اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے اور زائرین بیت اللہ کے عمرہ کو قبول فرمائے اور انہیں صحیح سلامت گھر لوٹائے ۔آمین!

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *