مصلح الدین کاظم کی شاعری “پیام کاظم ” کی روشنی میں

مصلح الدین کاظم کی شاعری “پیام کاظم ” کی روشنی میں

✍ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی
پرسا، پریہار،سیتامڑھی، بہار
رابطہ نمبر:8709633260

عصر حاضر میں اردو شاعری کا ایک اہم ، معتبر و مستند نام مصلح الدین کاظم کا ہے، جو دبستانِ عظیم آباد سے وابستہ ہیں۔ ان کی ولادت بہار کے ضلع کھگڑیا کی مردم خیز بستی رانی شکر پورا میں 22 جنوری ، 1959 کو ہوئی تھی۔ ان کے والد بزرگوار کا نام محمد حسین اور والدہ محترمہ کا درودن خاتون تھا۔ حمیدہ خاتون شریک حیات ہیں۔ محمد ضیاء الحق اور محمد شاہد بیٹے ہیں۔ انہوں نے جب ( 1979 میں ) اپنی عمر کی بیسویں بہاریں دیکھی تھیں، تبھی شاعری شروع کردی تھی۔ سرکاری ملازمت میں مصروف ہونے کے سبب مجموعۂ کلام کے منظر عام پر آنے میں تاخیر ہو گئی۔ حالانکہ شاعری کا سلسلہ بدستور جاری رہا اور ملک و بیرون ممالک کے اردو کے ادبی رسائل و جرائد نیز اخبارات میں شائع ہو کر باذوق قارئین سے گلدستۂ داد و تحسین حاصل کرتے رہے۔اردو ڈائرکٹوریٹ ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ ، حکومت بہار کے جزوی مالی تعاون سے 2018 میں ان کا پہلا مجموعۂ کلام ” پیام کاظم ” کے نام سے زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آیا تھا اور شعر و شاعری کے دلدادہ و باذوق قارئین کے درمیان مقبولیت حاصل کی تھی۔ اس شعری مجموعہ میں حمد ، نعت ، منقبت ، مناجات اور قطعات کے علاوہ 105 غزلیں شامل ہیں، جن کی قرأت سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ جناب مصلح الدین کاظم ایک کہنہ مشق شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس کی خاص وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کی ابتداء میں ظہیر غازی پوری، جمال خان پروانہ ، غلام مصطفیٰ عاجز اور طالب ناداں جیسے مستند شعراء سے ہرممکن استفادہ کیا تھا۔ ان کی شاعری کو نکھارنے اور جلا بخشنے میں ظہیر غازی پوری اور جمال خان پروانہ کے کردار بہت ہی اہم رہے ہیں۔ اس بات کا برملا اعتراف خود جناب کاظم بایں طور کرتے ہیں :
” میں اپنے جذبات اور احساسات کو کاغذ پر لکھتے لکھتے شاعری کے اوزان و بحور سے جب آشنا ہوا تو شاعری کا شوق دل میں پیدا ہوا اور پھر جناب ظہیر غازی پوری جیسے استاد شاعر کی صحبت میں کچھ سیکھنے کا موقع ملا ، جنہوں نے میرے اس فن کو نکھارنے میں بھرپور مدد کی۔” ( پیام کاظم ، پیش لفظ سے ماخوذ )
شعری مجموعہ ” پیام کاظم ” کے مطالعہ سے یہ حقیقت طشت ازبام ہوتی ہے کہ جناب مصلح الدین کاظم دراصل غزل کے شاعر ہیں ، مگر طبعاً نیک مزاج اور پابند شرع ہونے کے سبب حمد نعت، مناجات، رباعیات اور قطعات بھی بڑی عمدگی سے کہتے ہیں۔ یہ کہنا عین انصاف کی بات ہوگی کہ جناب مصلح الدین کاظم غزل گوئی کے ساتھ ساتھ حمد و نعت اور شاعری کی دیگر اصناف میں بھی یدطولی رکھتے ہیں۔ ” پیام کاظم ” میں شامل ” حمد ” کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے اور اندازہ لگائیے کہ جناب کاظم کو حمد کہنے میں کس قدر قدرت حاصل ہے :
کریم نام ہے تیرا، کریم کہتے ہیں
جو نیک بندے ہیں تجھ کو رحیم کہتے ہیں
غریب جھکتے ہیں، شاہوں کے شاہ جھکتے ہیں
ترے ہی سامنے سب سربراہ جھکتے ہیں
اک ایک ذرے میں تیرا نشان ملتا ہے
تمام لفظوں میں تیرا ہی بیان ملتا ہے
جناب کاظم چونکہ موحد اور صحیح العقیدہ شاعر ہیں اور اسلامیات کا گہرا مطالعہ رکھتے ہیں، اس لیے تاحیات صراطِ مستقیم پر چلنے اور خالص اللہ کی ہی عبادت کرنے کی توفیق پاک پروردگار عالم سے طلب کرتے ہیں، اس کے سوا غیر اللہ کو داتا و سہارا نہیں مانتے۔ ایسا ماننا از روئے شرع جائز بھی نہیں، بلکہ شرک اکبر ہے، اس لیے اس سے وہ اجتناب و احتراز کرتے ہیں اور نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ خود کو گنہ گار تسلیم کرتے ہوئے اللہ سے ہی مدد کے لیے دست دعا دراز کرتے ہیں۔زیر گفتگو مجموعہ ” پیام کاظم” میں شامل ” مناجات ” سے چند اشعار ملاحظہ کیجیے اور اندازہ لگائیے کہ الله سبحانہ تعالیٰ پر ان کا ایمان و ایقان کتنا مضبوط ہے اور کیسے وہ اللہ تعالیٰ سے فریاد و مناجات کرتے ہیں :
خدایا تو ایسی ہی توفیق دے
کہ ہر آدمی سیدھا رستہ چلے
میں جب تک زمانے میں زندہ رہوں
عبادت فقط تیری کرتا رہوں
کہ داتا نہیں کوئی تیرے سوا
سہارا نہیں کوئی تیرے سوا
مرض سے شفا دے مجھے اے خدا
نہیں کوئی دنیا میں اور آسرا
میں کرتا ہوں تجھ سے یہی التجا
کہ ہوتی رہے میری حاجت روا
یہ مانا کہ کاظم گنہگار ہے
مگر تو ہی اس کا مددگار ہے
جناب کاظم نے اپنے چند قطعات میں بھی خدا کے سامنے سر جھکا نے اور صرف اسی کی بندگی کرنے کی بات کہی ہے، جن سے ان کے صاحب ایمان و ایقان ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے ، ذیل میں ایک قطعہ ملاحظہ کیجیے :
جھکاؤ سر کو ذرا سجدہ میں بھی یاد کرو
جبین سائی سے اپنی خدا کو شاد کرو
عبث ہے دیر و حرم کی یہاں یہ قیل و قال
صرف خدا کی یہاں بندگی زیادہ کرو
اللہ تعالیٰ سے محبت ہر مسلمان کے لیے ناگزیر ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت بھی ایمان کا تقاضا ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عقیدت و محبت مطلوب ہے جو مال و دولت ، آل و اولاد اور اپنی جان سے بھی زیادہ ہو۔قرآن کریم میں متعدد آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور محبت کے ساتھ ساتھ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور ان سے محبت کرنے کی تاکید و تلقین کی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مسلمان اس وقت تک کامل مومن ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے بعد رسول کریم کی ذات گرامی ماں باپ ، بیوی بچوں اور خود اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب نہ بن جائے۔ بصورت دیگر عذاب الہی کی وعید سنائی گئی ہے۔ خود ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ وہ ان سے محبت کریں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔” (صحیح بخاری) ۔حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ” کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا ، یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے اہل وعیال، اس کے مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔” (صحیح مسلم)۔ اس طرح کی متعدد روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ہر بندۂ مومن کو رسول اللہ سے ضرور محبت ہونی چاہئے اور یہ محبت دنیا کی تمام محبوب چیزوں سے حتیٰ کہ اپنی عزیز جان سے بھی بڑھ کر ہونی چاہئے۔ جب تک کوئی شخص اس معیار پر پورا نہیں اترے گا، اس کا ایمان بھی مکمل نہیں ہوسکتا۔ صحابہ کرامؓ نے اپنی ذات سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی اور ایسی مثالیں پیش کیں کہ عقلِ انسانی حیران رہ جاتی ہے۔ کتبِ سیرت میں صحابہ کرام ؓ کی رسول اللہ سے بے پناہ محبت، جانثاری اور فداکاری کے بے شمار واقعات موجود ہیں، مثلاً زید بن وثنہؓ کو کفار نے پکڑ لیا اور انہیں قتل کرنے کے ارادے سے حرم سے باہر لے گئے۔ راستہ میں ابو سفیان نے (جنہوں نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا نہیں کیا تھا ) ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، بتاؤ کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہاری جگہ محمد کو ( نعوذ باللہ) پھانسی دی جاتی اور تم گھر میں آرام سے رہتے؟ تو زید بن وثنہ ؓ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم ! مجھے ہرگز یہ بات بھی گوارہ نہیں کہ میں چھوڑ دیا جاؤں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پھانسی دی جائے، پھانسی تو دور ان کے پائے مبارک میں کانٹا چبھنا بھی مجھے گوارہ نہیں۔ یہ سن کر ابو سفیان حیران رہ گئے اور یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ہم نے کسی کو کسی سے ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا، جیسی محبت اصحابِ محمد ، محمد سے کرتے ہیں۔ حضرت خبیب بن عدیؓ کا واقعہ بھی مسلمانوں کے لیے عبرت و موعظت کا سبب اور محبت رسول کی نادر مثال ہے۔واقعہ یوں ہے کہ کفار کی ایک سازش میں ان کی زد میں آگئے۔ کفار نے انہیں چند دن تک بھوکا پیاسا قید رکھا۔ پھر انہیں سولی پر لٹکانے کے لئے ایک مقام پر لے گئے اور تختۂ دار پر کھڑا کرنے کے بعد کہا کہ خبیب ! تم اگر اسلام چھوڑ دو تو جان کی بخشی ہوسکتی ہے، مگر حضرت خبیبؓ کا جواب تھا کہ جب اسلام نہ رہا تو جان رکھ کر کیا کروں گا ؟ اس کے بعد کفار نے نہ صرف انہیں سولی پر لٹکادیا بلکہ نیزہ سے ان کے جگر میں چھید کر دیا اور بڑے طمطراق سے کہا کہ اب تو تم ضرور یہ پسند کروگے کہ میری جگہ محمد ہوتے اور میں چھوٹ جاتا۔ یہ سننا تھا کہ حضرت خبیبؓ نے جواباً کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ میری جان بچ جائے اور اس کے عوض محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک میں کانٹا بھی چبھے۔اس طرح کے بہت سارے واقعات ہیں ، جن سے محبت رسول کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کی ازحد خوشی ہے کہ جناب مصلح الدین کاظم محبت الہی اور محبت محبوب الہی ( دونوں کی محبتوں) سے سرشار ہیں ، جیساکہ ان کے شعری مجموعہ ” پیام کاظم ” میں شامل حمدیہ اور نعتیہ کلام سے ظاہر ہوتا ہے، جبھی تو وہ پیارے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کو تمام نبیوں سے بہتر اور خدا کا سب سے پیارا نبی تسلیم کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی برملا تسلیم کرتے ہیں کہ میرے جسم و جاں سے بھی زیادہ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی الله عليه وسلم پیارے ہیں اور یہ جزو ایمان ہے، نعتیہ کلام سے چند اشعار ملاحظہ کیجیے :
ہے نبیوں میں بہتر ہمارا محمد
خدا کو بھی ہے سب سے پیارا محمد
میرے لب پہ ہے بس یہی ایک فقرہ
نہیں تیری فرقت گوارا محمد
جو تیری محبت کا قائل نہیں ہے
کہاں ہوگا اس کا گزارا محمد
یقیناً یہی جزو ایماں ہے کاظم
کہ ہو جسم و جاں سے بھی پیارا محمد
اس میں تشکیک و ریب کی مثل دانہ رائی بھی گنجائش نہیں کہ ہم جس دنیا میں اپنی حیات مستعار گزار رہے ہیں، وہ فانی ہے۔ یقینی طور پر ایک دن قیامت واقع ہو گی اور اس دن پوری دنیا فنا ہو جائے گی۔ قرآن کریم کے مطابق اللہ رب ذوالجلال کی ذات اقدس کے علاوہ سب کچھ فنا ہو جائے گا۔ وقوع قیامت کا انکار باعثِ کفر ہے۔ کتاب و سنت میں وارد دلائل و براہین کے مطابق قیامت کا دن بہت خوف ناک ہوگا۔انسان اس ہیبت ناک منظرکو دیکھ کر پکار اٹھے گا کہ آج یہ کیا ہو رہا ہے۔اس دن نیک و صالح اعمال ہی باعثِ نجات ہوں گے۔جناب مصلح الدین کاظم کا قیامت کے واقع ہونے اور اس دنیا کے فنا ہو جانے پر کامل ایمان ہے ، اس لیے وہ اس عارضی دنیا میں عبادت رب ذو الجلال میں ہمہ تن مصروف و مشغول ہو جانے اور اپنے اندر خوف پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور پاک پروردگار عالم کی بارگاہ میں دست دعا دراز کرتے ہوئے رطب اللسان ہیں :
قیامت آئے گی کاظم فنا ہو جائے گی دنیا
خدا کی اب عبادت میں یہاں مشغول ہو جانا
خدا کے خوف سے زاہد ہمیشہ دل رہے لرزاں
ریاکاری سے کوئی زاہد زیبا نہیں ہوتا
ہم جس سماج میں رہتے ہیں، اس کے بہت سارے تقاضے ہیں، مثلاً خوشی بہ خوشی ایک دوسرے کے کام آنا ، ایک دوسرے کی مدد کرنا ، ایک دوسرے کی فلاح و بہبود کے لیے پہل کرنا اور خدمت خلق کے میں پیش پیش رہنا وغیرہ۔ظاہر سی بات ہے ہمارے پیارے مذہب اسلام میں خدمت خلق پر کافی زور دیا گیا ہے۔اس حوالے سے متعدد روایات ملتی ہیں۔حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ دوسرے پر ظلم کرتا ہے نہ اسے (دشمن کے) سپرد کرتا ہے۔ جو مسلمان بھائی کی ضرورت میں کام آئے گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت میں کام آئے گا اور جو کسی مسلمان کے رنج اور غم کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبت کو دور کر دے گا اور جو کسی مسلمان کے عیب چھپائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب کو چھپائے گا۔(بخاری و مسلم)
خدمت خلق کی تعلیم اور اس پر عمل کا نمونہ حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مکمل طور پر موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں مصروف رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندہ کی مدد کرتا رہتا ہے۔ ” پیام کاظم ” میں شامل کئی اشعار سے اس بات کا بخوبی علم ہوتا ہے کہ جناب مصلح الدین کاظم خدمت خلق کے جذبے سے بھی سرشار ہیں ، بلکہ وہ خدمت خلق کو اپنی فطرت قرار دیتے ہیں۔بطور تائید و تصدیق ذیل میں ان کا ایک قطعہ پیش ہے :
خدمت خلق ہے اس دہر میں فطرت میری
خدمت خلق ہی ہے وجہہ شرافت میری
خدمت خلق ہی دنیا میں ہے سب سے بڑھ کر
منکشف ہوگی یہ محشر میں بھی محنت میری
یہ نہایت تلخ حقیقت ہے کہ آج اکثر لوگ پیسوں کے پجاری بن چکے ہیں۔اس کے لیے حلت اور حرمت کے خط امتیاز کو مٹا رکھا ہے۔اوچھی اچھی حرکتیں کرتے ہیں۔رشوت بھی کھلے عام لیتے ہیں اور اس کو اپنی محنت کی اجرت سمجھتے ہیں۔پیسہ کمانا اور زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہر آدمی کی زندگی کا نصب العین بن چکا ہے۔گویا کہ انہیں کبھی جام ممات نوش کرنا ہی نہیں ہے۔
آج دولت کی فراوانی اور لا تعداد سہولیات کے باوجود بھی انسان بے سکون ہے۔جناب مصلح الدین کاظم کو بھی اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ لوگ پیسہ کو ” بھگوان ” اور رشوت کو اپنی اجرت سمجھتے ہیں۔ وہ اس بات سے بھی سخت نالاں ہیں کہ مجبوروں اور مزدوروں کی حالت نہایت دیگر گوں ہے اور مفلسوں کے گھروں میں بچے فاقہ کشی پر مجبور ہیں جبکہ امرا کی محفلوں میں رمک، چمک، دمق اور ہر طرح کے سامان تعیش ہیں۔ نظم ” پیسہ ہے بھگوان ” میں کاظم نے معاشرے کی اسی تلخ حقیقت کو بڑے درد و کرب کے ساتھ شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔ان کے یہ چند اشعار ملاحظہ کیجیے :
دولت نے آدمی کو بے درد کردیا ہے
رشوت کو اب وہ اپنی اجرت سمجھ رہا ہے
دیکھو معاشرے میں اپنوں کا حال کیا ہے
مجبور رو رہا ہے، مزدور چیختا ہے
حاصل ہے اہل زر کو آسائش زمانہ
ارے بے نوا کی خاطر گھر ہے نہ جھونپڑا ہے
محسوس ہو رہا ہے اہل ہوس کے ہاتھوں
پیسہ ہی اس جہاں کا بھگوان بن گیا ہے
مفلس کے گھر میں بچے فاقوں سے چیختے ہیں
امرا کی محفلوں میں مردنگ بج رہا ہے
جناب مصلح الدین کاظم چونکہ بنیادی طور پر غزل گو ہیں، اس لیے وہ زیادہ تر غزلیں کہتے ہیں۔اسی لیے ان کے شعری مجموعہ” پیام کاظم ” میں غزلوں کی تعداد زیادہ ہے۔اکثر غزلیں قارئین کو ذہنی تسکین فراہم کرتی ہیں۔مجھے ان غزلوں کی قرأت سے اس بات کا ادراک ہوا کہ جناب کاظم پچپن کی عمر کو تقریباً دس برس قبل ہی گزار کر بزرگوں کی صف میں صف بستہ ہوگئے اور ابھی اپنی عمر کی 65 ویں بہاریں دیکھ رہے ہیں، مگر ان کا دل ابھی بھی بچپن کا معلوم پڑتا ہے جو وادئ عشق کا خود کو شہزادہ سمجھ رہا ہے اور محبوب کو آزمانے، اس پر جان نچھاور کرنے اور اس سے اپنی آنکھیں چار کرنے کے لیے ماہئ بے آب ہے۔ان کی غزل کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے اور اندازہ لگائیے :
تجھے آزمانے کے دن آرہے ہیں
دل و جاں گنوانے کے دن آرہے ہیں
مرے دل میں اب تک جو باتیں چھپی تھیں
اب ان کو سنانے کے دن آرہے ہیں
صبا نے گلوں کو سنایا ہے مژدہ
کہ پھر مسکرانے کے دن آرہے ہیں
مقدر پہ اپنے میں نازاں ہوں کاظم
کہ نظریں ملانے کے دن آرہے ہیں
جناب کاظم کی ایک غزل کے یہ اشعار دیکھیے اور اندازہ لگائیے کہ وعدۂ الفت بھول جانے اور ان کی محبت کو ٹھکرا کر
دوسرے کی گود میں جا بیٹھنے اور اس کی محبت کا اسیر ہوجانے کے باوجود وہ اپنے محبوب کو کس قدر شدت کے ساتھ یاد کرتے ہیں :
یاد میں ان کی ہم ایسے کھوگئے
اشک غم آنکھوں میں آکرسوگئے
وعدۂ الفت وہ چاہے بھول جائیں
ہم بہر صورت انہیں کے ہوگئے
زخم دل ناسور بن جائے نہ کیوں
وہ جو میرے تھے کسی کے ہوگئے
جن پہ تھا کاظم بھروسہ آج تک
وہ بھی بازار ہوس میں کھوگئے

جناب مصلح الدین کاظم کی غزلوں کے موضوعات مختلف النوع ہیں، ان میں تنوع اور وسعت بھی ہے۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ جناب کاظم صرف محبوب سے قربت کے خواہاں ہیں اور اسی کی زلفوں کی گتھیوں کو سلجھانے میں اپنی انرجی لگاتے ہیں ، بلکہ لوگوں کے حقوق و معاملات ، غریبوں، مزدوروں اور محتاجوں سے ہمدردی ، حکومتوں کی پالیسیوں اور ملک ودنیا کے حالات کو بھی نہایت اچھوتے انداز میں شاعری کے قالب میں ڈھالتے ہیں۔ وہ کبھی ناصح بن کر لوگوں کو ترک معصیت کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ اسلام کے پیغام کو شعری پیکر میں پیش کرتے ہیں اور تاریخی واقعات کو بھی شعری جامہ پہنانے کا ہنر جانتے ہیں، جن سے اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ وہ عصر حاضر کے شعراء کی بھیڑ میں اپنی ایک انفرادی حیثیت اور علیحدہ شناخت رکھتے ہیں۔جناب کاظم کو بھی اپنی شاعری پر بڑا ناز ہے اور اپنے اک اک لفظ کو آبگینہ قرار دیتے ہیں، ان کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے :
پرکھیے تو کاظم کبھی آپ بھی
اک اک لفظ ہے آبگینہ مرا
اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب کاظم کے کلام میں تشبیہات ، استعارات اور تلمیحات کا جا بجا استعمال ہوا ہے۔ان میں بڑی متانت، لطافت اور سادگی بھی پائی جاتی ہے۔خواہ مخواہ مشکل اور ادق الفاظ سے اپنے کلام کو بوجھل نہیں کرتے ہیں۔ آسان و سہل الفاظ میں اپنے مافی الضمیر کو بڑی خوبصورتی سے شاعری کے قالب میں ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کی ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے اور اندازہ لگائیے کہ وہ کس قدر سہل الفاظ سے کھیلنے اور ان کو اپنی شاعری میں پرونے کا ہنر جانتے ہیں :
اتنا دل بے قرار لگتا ہے
ایک لکھتا ہوں چار لگتا ہے
میکشوں کا یہ نام سنتے ہی
مجھ کو یوں ہی خمار لگتا ہے
غم کا انبار ہے مرے سر پہ
کوئی نہ غم گسار لگتا ہے
مجموعہ کی ایک دوسری غزل کے یہ چند اشعار بھی ملاحظہ کیجیے :
سناکر محبت کا تم بھی فسانہ ہمیں بھی لگا دو ذرا اب ٹھکانہ
ہمارے لیے وہ تو کچھ نہ کرے گا محبت ہے لیکن اسے والہانہ
ہے آغاز الفت تو آسان لیکن
ہے مشکل بہت ہی محبت نبھانا
کہ احباب سارے تھے موجود لیکن مرا دیکھو کیسے جلا آشیانہ
ہے کردار کیسا سبھی جانتے ہیں
مگر ان کی تقریر ہے ناصحانہ
ہے اللہ مالک وہ سارے جہاں کا بناتے ہو پھر کیوں الگ آستانہ
مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ” پیام کاظم ” میں شامل حمدیہ، نعتیہ اور غزلیہ سمیت تمام کلام بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ مجموعہ اردو شاعری کی کتب میں بیش قیمتی اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے اور جناب مصلح الدین کاظم کے معتبر و مستند اور کہنہ مشق شاعر ہونے پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *