مولانا جواد قاسمی علوم و فنون اور انکساری کے پیکر تھے : مقبول احمدقاسمی

مولانا جوادقاسمی علوم و فنون اور انکساری کے پیکر تھے : مقبول احمدقاسمی

بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری)پچھلے دنوں مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم رسولی بارہ بنکی کے شیخ الحدیث مولانا محمدجواد قاسمی کا انتقال ہوگیا تھا۔ جامعہ کے پرنسپل مولانا مقبول احمدقاسمی نے ان کے بارے میں نمائندے کو بتایا کہ مرحوم مولانا محمدجوادقاسمی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مدرسہ دعوۃ الحق سے حاصل کی۔ پھر بارہ بنکی کے مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم رسولی میں حفظ مکمل کرنے کے بعد عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم صمدن قنوج اور جامع العلوم کانپور میں مشکوٰۃ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1982 دورۂ حدیث کی تعلیم کے لئے میں ازہرہند دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا۔ وہاں سے فیضیاب ہوکر 1983 میں فارغ التحصیل ہوئے۔ فراغت کے بعد اپنے تدریسی سفر کا آغاز حیدرآباد مدرسہ امدادیہ کریم نگر سے کیا۔ پھر 1986 مولانا ابوالبرکات دامت برکاتہم کے اصرار پر دارالعلوم آگرہ کا رخ کیا۔ وہاں تین سال تدریسی خدمات انجام دینے بعد مرحوم مولانا معراج احمد (سابق صدرالمدرسین مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم رسولی) کی ایماء پر مادرعلمی میں تدریسی خدمات کی غرض سے ان کی تشریف آوری ہوئی۔ تب سے لیکر 31 دسمبر 2023 تک جامعہ میں ہزاروں طالبان علومِ نبوت کو وہ اپنے علوم و فنون سے سیراب کرتے رہے۔
آپ تعلیم و تربیت کے شغل سے 39 وابستہ رہے۔ درس نظامی کی اکثر کتابوں پر آپ کو یکساں عبور حاصل تھا۔ آپ کو درس و تدریس سے کافی دلچسپی تھی۔ اسی لئے وہ درس میں بہت کم ناغہ کرتے تھے۔ درس و تدریس کے ساتھ تقریری صلاحیت بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ مگر مولانا دونوں صفات کے حامل تھے۔ مولانا بہت عمدہ اور باکمال خطیب بھی تھے۔ آپ طلبہ کے حق میں نہایت شفیق تھے۔ وہ اپنے حسن اخلاق اور خوش طبعی کے وجہ سے ہر خاص و عام میں نہایت مقبول تھے۔ امسال ماہ شوال میں صدرالمدرسین کے عہدے کا بارِگراں جب مجھ ناچیز کے کاندھوں پر ڈالا گیا تو ایک موقع پر حضرت نے میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب جامعہ مدینۃ العلوم کی زمام دو نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس وقت ہمارے جامعہ کے پرنسپل اورمینیجر دونوں نوجوان ہیں۔ مجھے امید ہے ان دونوں کی قیادت میں جامعہ ترقی کے زینوں پر مزید چڑھتا چلا جائے گا۔ ان کے یہ الفاظ مجھے زندگی بھر توانائی فراہم کرتے رہیں گے۔ آخرکار وہ وقت بھی آگیا جس کو روزِ ازل میں لکھ دیا گیا تھا۔ 6 جنوری بروز جمعہ بوقت فجر اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے حضرت مولانا اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ یہ خبرمولانا فرمان مظاہری کے ذریعے موصول ہوئی۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *