بزم افقر بارہ بنکی کے زیرِ اہتمام ماہانہ طرحی نشست منعقد

بزم افقر بارہ بنکی کے زیرِ اہتمام ماہانہ طرحی نشست منعقد

بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری)بزم افقر بارہ بنکی کی ماہانہ طرحی نشست نئے سال کے پہلے اتوار کو”کاشانہ تاج” گلستان شیر کے وسیع ہال میں نئے انتظام انصرام کے ساتھ منعقد ہوئی جس میں شہر اور مواضعات وقصبات کے نمائندگان فن نے شرکت کی اس طرحی نشست کی صدارت جابریڈوکیٹ نے اور نظامت فضیل اصلاحی نے کی۔ اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں امیر حمزہ اعظمی نے اردو کے فروغ اور اردو اخبارات ورسائل کے مطالعہ کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل میں اردو ادب کے تئیں پایا جانے والا جمود پگھل رہا ہے تحریک پیدا ہو رہی ہے ایسے میں مبتدیوں کی حوصلہ افزائی،رہنمائی اور ان کی فعالیت کو سنبھالنا اور فروغ دینا صف اول کی ذمہ داری بنتی ہے تاکہ دیار سخن بارہ بنکی کی خوشگوار فضائیں اور تازہ ہوائیں عطر بیزی کرتی رہیں۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ طرحی نشستوں کے ساتھ ہی غیر طرحی نشستوں کا بھی انعقاد ہونا چاہئے تاکہ کم از کم پورے ضلع کی ادبی شیرازہ بندی ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ صرف شاعری ہی مکمل ادب نہیں ہے اس لئے نثر نگاری کے سلسلے بھی شروع کئے جائیں اور وابستگان ادب کو چاہئے کہ الفاظ ومعانی کی عریانیت یا نیم عریانیت سے گریز کرتے ہوئے نئی جہات کی تلاش کریں تاکہ اردو کی تہذیبی وراثت کو اس کی تمام ترجیحات کے ساتھ نئی نسل کو سونپا جا سکے۔
بزم کے مجوزہ مصرعہ طرح ”ہمارے ساتھ پھر دھوکا ہوا ہے“ کے تحت منعقدہ اس نشست کی ابتدا طرحی نعتیہ کلام سے ہوئی۔منتخب اشعار نذر قارئین ہیں
جو نعت مصطفی لکھی ہے میں نے
شعور وفکر وفن مہکا ہوا ہے
عدنان رضوی
کہاں جائیں کسے ہم یہ بتائیں
ہمارے ساتھ پھر دھوکا ہوا ہے
جابر ایڈوکیٹ
کوئی کیا آج بے پردہ ہوا ہے جو چہرہ چاند کا اترا ہوا ہے
نصیر انصاری
ترے چہرے پہ یہ لکھا ہوا ہے کوئی زخم جگر تازہ ہوا ہے
ضمیر فیضی
جنوں کی گتھیاں سلجھا رہاتھا
فقیہ شہر شرمندہ ہوا ہے امیر حمزہ اعظمی
انا ہے اک طرف اک سمت حاجت
بڑی مشکل سے سمجھوتہ ہوا ہے
صغیر نوری
سوا تیرے نہیں ہے کوئی اپنا
یہ کیا کم ہے جو تو اپنا ہوا ہے
بشر مسولوی
جسے ہم جاں سے بڑھ کر چاہتے ہیں
وہ ہم سے آجکل روٹھا ہوا ہے
مجیب ردولوی
ملے اس سے تو اک عرصہ ہوا ہے
پر اب بھی ذہن پر چھایا ہوا ہے
عرفان بارہ بنکوی
چھلک پڑتے ہیں آنسو بے تحاشہ
کوئی جب پوچھتا ہے کیا ہوا ہے
ارشاد بارہ بنکوی
نہ حاصل ہو اگر سجدوں میں
لذت سمجھ لینا خدا روٹھا ہوا ہے
ہذیل لال پوری
اَڑا ہے پھر اسے پانے کی ضد میں
مرا دل آج پھر بچہ ہوا ہے
آدرش بارہ بنکوی
لبوں پر جو سجائے ہے تبسم وہ اندر سے بہت ٹوٹا ہوا ہے
کیفی ردولوی
کسی نے جس کو زم زمزم کہہ دیا تھا
وہ پانی آج تک ٹھہرا ہوا ہے
نفیس بارہ بنکوی
سبھی کچھ یاد ہے انساں کو لیکن بس اک انسانیت بھولا ہوا ہے
اظہر زکریاوی
ہزاروں غم ملے ہیں دل کے بدلے
بہت سستے میں یہ سودا ہوا ہے
مائل چوکھنڈوی
شب وعدہ نہ آئے آج وہ پھر ہمارے ساتھ پھر دھوکا ہوا ہے
سرور کنتوری
سبھی اندر ہی اندر جل رہے ہیں
جدھر دیکھو دوھواں پھیلا ہوا ہے
کلیم آذر
نشاط وعیش ہو تم کو مبارک
مجھے حصے میں ماں کا غم ملا ہے
فضیل اصلاحی
خدا جانے وہ کب آئیں گے عارف
انھیں دیکھے ہوئے عرصہ ہوا ہے
عارف شہاب پوری
بھلے نیزے پہ یہ رکھا ہوا ہے مگر یہ سر نہیں نیچا ہوا ہے
راشد رفیق
وہ پڑھ لیتا ہے ہاتھوں کی لکیریں
دکھا لوں میں بھی کیا لکھا ہوا ہے
نظر مسولوی
ہمارے چاہنے سے کیا ہوا ہے جسے چاہا وہ کب اپنا ہوا ہے
تابش بارہ بنکوی
ہمارے بھائیوں کو کیا ہوا ہے سنا ہے
ان میں پھر جھگڑا ہوا ہے
سفیان بارہ بنکوی
یہ کیسا خوف طاری ہے جہاں میں جسے دیکھو وہی سہما ہوا ہے
سبھاش چندر یادو
کسی نے پھر بھروسہ توڑ ڈالا
ہمارے ساتھ پھر دھوکا ہوا ہے
آفتاب جامی
اس موقع پر کافی تعداد میں شائقین ادب نے اپنی شمولیت کے ذریعہ شعرا کی حوصلہ افزائی کی بزم کے جنرل سکریٹری ارشاد بارہ بنکوی نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا بزم کا آئندہ مصرعہ طرح ”درد آنسو خون اور پانی ہمارے پاس ہے“ تجویز کیا گیا ہے۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *