اے زمیں اک دن تری خوراک ہو جائیں گے ہم

اے زمیں اک دن تری خوراک ہو جائیں گے ہم
از : نیاز احمد سجاد
سید منور علی رانا جنہیں آج ہم مرحوم لکھ رہے ہیں۔ وہ جسمانی طور پر مرحوم ضرور ہو گئے لیکن اردو ادب اور شاعری کے حوالے سے وہ زندہ و تابندہ ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ۔ جس کا اثر ان کے باہمی کلام سے لے کر اشعار تک میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی پیدائش 1952 میں اتر پردیش کے مردم خیز سر زمین رائے بریلی میں ہوئی اور تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان منتشر ہو گیا کچھ تو پاکستان چلے گئے اور کچھ ہندوستان میں رہ گئے۔۔ لیکن ان کے والد نے ہندوستان میں ہی رہنا گوارا کیا اور ہندوستان کی مٹی سے انہیں اتنا پیار تھا کہ وہ اس کا تذکرہ اپنے کلام و تخلیقات و اشعار میں جا بجا کرتے ہیں۔ ان کا خاندان ایک عرصہ تک کلکتہ میں بھی والد محترم کی سروس کی وجہ سے مقیم رہا ہے ۔ لیکن ان کے کلام میں اودھ کی زبان و ادب کی عکاسی اور اسلوب بدرجہ اتم پایا جاتا ہے اور کلکتہ سے متاثر کم نظر آتے ہیں۔ جبکہ ان کا کلام ہندی اور بنگالی اور دوسری زبانوں میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کے کلام میں شوخی کم اور حقیقت پسندی کے اعلی نمونے ملتے ہیں۔ غزل گوئی میں ان کا منفرد لہجہ اور مزاج میں شگفتگی کی آمیزش قابل تحسین بھی ہے اور قابل ذکر بھی ہے۔ اشعار میں برجستگی اور دلیری ان کا وصف کمال رہا ہے۔ لکھنؤ کی تہذیب وثقافت اور ان کے دادا کی نظر عنایت نے ان کی صلاحیت کو نکھارنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور کلکتہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ مستقل اپنے دادا کی صحبت میں نثر نگاری اور افسانے نگاری سے ہوتے ہوئے اردو غزل گوئی میں وہ کارنامہ انجام دیا جو رہتی دنیا تک اردو ادب کو اس پہ فخر و ناز رہے گا ۔
حالانکہ وہ عہد شباب میں فلمی دنیا کی چمک دمک سے بہت زیادہ متاثر تھے اور اسی دنیا میں اپنا زور آزمائی کیا کرتے تھے اور مزاج کی ناہمواری اور مستقل مزاجی نہ ہونے کی صورت میں نقصان بھی ہوا ہے وہ کچھ دنوں کے لئے کج روی کا شکار بھی ہو ئے اور کچھ دنوں تک اسی دنیا سے وابستہ بھی رہے۔ بالآخر فلم “گیتا اور قرآن” کی کہانی لکھنے کے بعد ۔ کسی وجہ سے یہ فلم نہ بن سکی ۔ تب جا کر فلمی دنیا کا آسیب زمین بوس ہوا اور رفتہ رفتہ زندگی کا میلان اردو شاعری اور غزل گوئی کی طرف ہوا اور منور علی آتش سے منور علی شاداں اور 1977 میں منور رانا سے متصف ہو کر زندگی تمام کیا اور ہندوستان کی تاریخی ادب و شاعری اور غزل گوئی میں اپنا مقام بنانے رکھا اور زندگی کے آخری ایام تک وہ غزل کے بےتاج بادشاہ بنے رہے۔
بہت دن رہ لئے دنیا کے سرکس میں تم اے رانا
چلو اب اٹھ لیا جائے تماشہ ختم ہو تا ہے
ابھی چند سال پہلے کویت میں ان سے ملاقات ہوئی تھی حالانکہ طبیعت نا ساز تھی اور وھیل چیئر پہ تھے لکین اواز اور لہجہ وہی پرانا تھا جو کبھی ہم لوگ لکھنؤ میں سنا کرتے تھے ۔ جب بھی ملتے تو وہ بہت خندہ پیشانی اور انکساری کے ساتھ ملتے وہ بہت خلیق اور ملنسار تھے اور انسانیت اور خدمت خلق میں پیش پیش رہتے تھے۔ غیرت و حمیت کا یہ عالم تھا کہ سرکاری ایوارڈ کو انہوں نے یہ کہ کر لوٹا دیا کہ میرے لئے یہ موزوں نہیں ہے کہ میں سرکاری ایوارڈ رکھوں ۔
ماں پہ ان کی غزل نے ان کو عالمی شہرت کا حامل بنا دیا وہ جہاں بھی جاتے ۔ اس کی فرمائش ضرور ہوتی۔
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی
منور رانا نے جس جس موضوع کو اپنے اشعار میں جگہ دی اس کا پورا پورا حق ادا کیا اور بہت خوش اسلوبی اور دیانتداری کے ساتھ اپنے احساسات کو الفاظ کے پیرہن میں اتارتے تھے۔ ان کی شاعری کا کمال ملمع سازی سے پاک اور رشتوں کی پاکیزگی کا احترام جز لا ینفک تھا ، ان کی شاعری کے ساتھ ساتھ نثری خدمات بھی لائق تحسین ہیں “چہرے یاد رہتے ہیں ” ” بغیر نقشے کا مکان ” اور “چہرے یاد رہتے ہیں” وغیرہ اور دیگر تصانیف اس کی زندہ مثال ہیں ۔ منور رانا کئی اداروں سے وابستگی کے ساتھ ساتھ اردو و ہندی اخبارات سے بھی منسلک رہے اور اپنی فکر و جذبات سے قلم کی آبیاری کی اور اخبار و رسائل کو بام عروج پہ پہونچایا ۔ ان کے کئی مجموعے ہندی اور اردو میں شائع ہو کر مقبول خاص عام ہو چکے ہیں جن میں “نیم کا پھول ” منور کی سو غزلیں، جنگلی پھول، کترنے میرے خوابوں کی ، پیپل چھاؤں،شادابہ ، ماں ، نیم کے پھول اور گھر اکیلا ہوگا قابل ذکر ہیں اور ان کے علاؤہ بھی متعدد ڈرامے، انشائیے اور نثری تخلیقات شائع ہو چکے ہیں۔ اسی طرح درجن سے زائد سے ایوارڈ و اعزازات سے بھی سرفراز ہو چکے ہیں۔
بالآخر 14 جنوری 2024 کی شب میں 71سال کہ عمر میں لکھنؤ کے پی جی آئی ہاسپٹل میں آخری سانس لی اور اپنی جان جان آفریں کو سپرد کرکے اردو ادب کو مرحوم کر گئے ۔ اللہ ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
neyazahmad97@yahoo.co.in

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *