موجودہ ملکی حالات اور ہماری ذمہ داریاں

موجودہ ملکی حالات اور ہماری ذمہ داریاں

مولانا ابو الفضل قاسمی دربھنگہ

hafizabulfazl@gmail.com
+918252730477

اس وقت وطن عزیز تاریخ کے نازک ترین اور خطرناک دور سے گذر رہا ہے ، ملک کے حالات ناگفتہ بہ ہیں،صاحب اقتدار طبقہ کے جو ارادے ہیں وہ مزید خرابی کا پتا دے رہے ہیں ، مسلمانوں کو کئی مسائل در پیش ہیں۔بلاشہ یہ لمحے یہ گھڑیاں اور یہ شب و روز امت مسلمہ کے لیے مشکل اور دشوار کن ہیں،لیکن بہ حیثیت انسان ہر ایک کو یہ حقيقت یاد رکھنی چاہیےکہ حیاتِ انسانی کا یہ لازمی خاصہ ہے کہ زندگی میں مسائل آتے ہیں ،آلام و مصائب سے اسے واسطہ پڑتا ہے، پریشانیاں و مشکلات لاحق ہوتی ہیں،اس لیےمصائب اور پریشانیوں سے انسان کو کبھی گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور ان سے مقابلہ کے لیے مستقل لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ یہ بات صحیح ہے کہ وطن عزیز کے حالات اتنے خراب کبھی نہ تھے جتنے اب ہیں، چاروں طرف سے امت مسلمہ کے اوپر شکنجہ کس تا چلا جارہا ہے جو ہندوستانی تاریخ کے باب میں سیاہ عبارت ہے۔
ان حالات میں ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اس حوالے سے چند اہم معروضات پیش خدمت ہیں:

١_ رجوع الی اللہ:
ان حالات میں سب سے پہلے ہمیں رجوع الیٰ اللہ کی ضرورت ہے؛ کیوں کہ ہم مسلمانوں پر جو نامساعد حالات آتے ہیں ان میں ہماری بے راہ روی اور خدا کی نافرمانی کو بڑا دخل ہے، سورۂ شوریٰ میں ارشاد ربانی ہے:
”وَمَا أصابکم من مصیبة فبما کسبت أیدیکم ویعفو عن کثیر“
ترجمہ: ”اور تم کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے ، وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کا نتیجہ ہے اوربہت سی (غلطیوں ) سے اللہ درگزر فرمادیتے ہیں ۔ “
اس کے علاوہ متعدد آیات واحادیث میں اس حقیقت سے نقاب کشائی کی گئی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے آپ کے احتساب اور انفرادی گناہوں سے بھی توبہ کی ضرورت ہے اوراجتماعی جرائم سے بھی۔ آپسی اختلاف، برداری واد، چھوٹے موٹے ذاتی مفادات کے لیے اجتماعی مصالح کو بھینٹ چڑھادینا بھی اجتماعی جرائم میں شامل ہے۔

٢_ تعلیم کو لازم پکڑیے !!
حصولِ تعلیم ہماری ذات و وجود کی رفعت اور کتابِ حیات کی وسعت کے لیے نہایت ضروری ہے،اس کے بغیر دین ودنیا کی ترقی ایک خواب ہے۔
علوم خواہ دینی ہوں یا دنیوی، اسلام دونوں کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہے؛ مگر بحیثیت مسلمان ہر ایک شخص کا اولین فریضہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن وحدیث اور دینی علوم حاصل کرے، کیونکہ اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور اللہ تعالی کی عبادت اور شریعت مطہرہ کی پاسداری بغیر دینی تعلیم کے ممکن نہیں ہے ،اس لیے ہر انسان خصوصاً مسلمانوں کے لیے اچھی زندگی گزارنے اور آخرت میں کامیاب و کامران ہونے کے لئے بقدر ضرورت دینی تعلیم کا حصول فرض اور ضروری ہے، بنیادی دینی تعلیم کے حصول کے بعد،جدید علوم مثلاً :سائنس،میڈیکل ،انجیئرنگ ،ٹیکنالوجی ودیگر عصری علوم کی تعلیم بھی امت مسلمہ کے لیے لازم ہے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن فحیث وجدھا فہو احق بھا۔ (مشکاہ:٣٤/١)
علم و حکمت تو مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، اسے جہاں مل جائے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ اسلام ہر ایسے علم کا داعی ہے ،جو انسانیت کے لئے نفع بخش ہوں، اسی لیے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے: اللھم انی اسئلک علمانافعا.(مشکوہ :٢٢٠/٢)
اے اللہ میں آپ سے ایسے علم کا سوال کرتا ہوں جو نافع ہو۔ آج کل لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلے میں بڑی غفلت برتی جاتی ہے،میں تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنی بچیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی آراستہ کریں ،طب کی تعلیم تو انہیں ضرور دینی چاہیے تاکہ مرد ڈاکٹر کے پاس عورتوں کے جانے ،صلاح و مشورہ کرنے، اپنے ستر کو ظاہر کرنے اور آپریشن ٹھیٹر میں عورتوں کے تنہا جانے کی وجہ سے جو انسانیت سوز واقعات پیش آرہے ہیں، ان سے بچا جا سکے۔ وہ خواتین کا علاج کر سکے اور عورتوں کو غیر محرم مردوں کے سامنے جانے کی نوبت نہ آئے۔

٣۔۔۔ برادرانِ وطن سے تعلق:
اس وقت سب سے زیادہ اہم موضوع یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند طریقے سے جو ماحول بنایا گیا اور گودی میڈیا ذریعہ برادرانِ وطن کے ذہنوں اور دماغوں میں مسلمانوں کے تئیں جو نفرت وعداوت بٹھائی گئی ہیں، انھیں پاٹ نے کی اشد ضرورت ہے۔ بہ حیثیت ”خیرامت“ ہماری دینی ذمہ داری ہے کہ ہم برادران وطن سے پیار ومحبت ملیں،ان سے اپنے فاصلے کم کریں،ان سے راہ و رسم اور بیع و تجارت کو بڑھائیں اور ہم ایک مستقل لائحہٴ عمل کے ساتھ ان سے ملیں، بہ راہ راست ایک ایک فرد تک پہنچنے کی کوشش کریں اور اسلامی تعلیمات سے ان کو آگاہ کریں۔ یہ ہمارا کتنا بڑا اجتماعی جرم ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی صداقت ”اسلام“ جس کے ہم امین ہیں، ملک کے اسّی کروڑ عوام تک اسے پہنچانے کے حوالے سے اب تک ہم کوئی لائحہٴ عمل بھی تیار نہ کرسکے۔
اگر ہم اسلامی اخلاق اور اسلامی تعلیمات پیش کرکے ان کے ذہن ودماغ کو کفر ونفرت کی خباثتوں سے پاک کرکے دین و صداقت کی روشنی سے منور کرنے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے کہ وہ اس عظیم نعمت سے محروم نہیں رہے گے۔ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں پر شکنجہ کسنے اوراسلام کے خلاف پروپیگنڈوں کے بعد ہی ہدایت کی روشنی کی طرف آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اس کے لیے طویل المیعاد منصوبہ بنانا ہوگا اور نتائج کے لیے صبر و اخلاص کے ساتھ کام میں لگے رہنا ہوگا۔

٤۔۔۔ اتحاد واتفاق پیدا کریں:
اتحاد واتفاق ایک روشن حقیقت ہے کسی بھی قوم کی کامیابی و کامرانی اس کے فرد کے باہمی اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے جس طرح پانی قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے اسی طرح انسانوں کے متحد اور مجتمع ہونے سے ایسی قوت تشکیل پاتی ہے جس پر نگاہ ڈالتے ہی دشمن وحشت زدہ ہو جاتا ہے اور کبھی بھی وہ اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
قرآن کریم نے متعدد جگہوں پر اتحاد و اتفاق کی تاکید کی ہے اور اختلاف و انتشار سے باز رہنے کی سخت ترین ہدایت دی ہے قرآن کریم نے ایک جگہ امت مسلمہ کو”ایک امت تصور کیا ہے“ ۔ ایک موقع پر تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ” اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور باہمی اختلاف کے شکار نہ ہو۔“
تاریخ شاہد ہےجب تک ہمارے درميان اتحاد و اتفاق کے حسین لمحات رہے اور وحدت برقرار رہی ،کامیابی و کامرانی ہماری قدم بوسی کرتی رہی۔ یہ وہ اہم اور قابل عمل باتیں ہیں،جن کو برتا جائے اور ان پر عمل کیاجائے تو مثبت نتائج برآمد ہوں گے ،اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *