داڑھی سے وابستہ مباحث اور مفروضہ اسلامی لباس کی حقیقت ____ تکمِلہ(ضمیمہ)

# داڑھی سے وابستہ مباحث اور مفروضہ اسلامی لباس کی حقیقت ____ تکمِلہ(ضمیمہ)#

عبدالرحمٰن
𝘼𝙗𝙙𝙪𝙡 𝙍𝙖𝙝𝙢𝙖𝙣
(سابق چیف مینیجر، الہ آباد بینک)
[Ex-Chief Manager, Allahabad Bank]
دہلی- این سی آر
Delhi-NCR
Email
rahman20645@gmail.com

 

تکملہ: مضمون ھذا (داڑھی سے وابستہ مباحث اور مفروضہ اسلامی لباس کی حقیقت) کی تصنیف کے بعد تحریر پر تنقیحی نظر ثانی کے دوران راقم الحروف کو محسوس ہوا کہ “سنت، حدیث اور داڑھی کی شرعی حیثیت” جیسے اہم موضوعات پر کی گئی گفتگو میں مزید علمی استدلال کی ضرورت ہے۔ اس لیے، اس صورت حال کے پیش نظر، مندرجہ ذیل اقتباسات تحریر کیے گئے ہیں، جن کو پڑھ کر، امید کی جاسکتی ہے کہ اب یہ مضمون جامع افادیت کا حامل ہوجائے گا۔

‘سنت’ لفظ کے لغوی معنی ہوتے ہیں- روش، دستور، رواج، طریقہ، عادت، راہ اور قانون۔
اسی مناسبت سے، ‘حدیث’ میں مذکور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، اقوال و افعال کو بھی مسلمان عمومی طور پر سنت کی اصطلاح میں ہی بیان کرتے ہیں۔ اس طرح، سنت اور حدیث کے درمیان موجود امتیاز واضح نہیں ہو پاتا ہے۔ اسی پس منظر میں، سنت اورحدیث کے متعلق جدید دور کے معروف محقق اور عالم دین استاذ محترم جاوید احمد غامدی صاحب (پیدائش: 1952ء) کا موقف (Point of view) روایتی علما کرام کے موقف سے نہ صرف مختلف ہے، بلکہ زیادہ واضح اور مدلل بھی محسوس ہوتا ہے۔ یہاں یہ انکشاف بھی موزوں رہے گا کہ مختلف وضع قطع اور فکری نہج کے سبب، غامدی صاحب کے معتقدین انہیں ‘مولانا’ کے بجائے’استاذ محترم’ کہنا پسند کرتے ہیں۔

مختلف مکاتب فکر کے درمیان نظریاتی اختلافات کے پس منظر اور قارئین کے علمی و فکری استفادے کے لیے، سنت اور حدیث کے متعلق غامدی صاحب کے موقف کو انہیں کے الفاظ میں یہاں نقل کردیا گیا ہے:

“سنت” کی اصطلاح کے متعلق غامدی صاحب کا موقف حسب ذیل ہے:
سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید و اصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔ قرآن میں آپ کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ روایت بھی اُسی کا حصہ ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
پھر ہم نے تمہیں وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا (النحل-16: 123)۔
اس ذریعے سے جو دین ہمیں ملا ہے، وہ یہ ہے :
عبادات
ا۔ نماز ۲۔ زکوۃ اور صدقہ فطر ۳- روزہ و اعتکاف ۴۔ حج و عمرہ ۵۔ قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں۔
معاشرت
ا۔ نکاح و طلاق اور اُن کے متعلقات ۲- حیض و نفاس میں زن وشو کے تعلق سے اجتناب۔
خورو نوش
ا۔ سور ، خون ، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت ۲۔ اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ۔
رسوم و آداب
ا۔ اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ۲۔ ملاقات کے موقع پر السلام علیکم اور اُس کا جواب ۳۔ چھینک آنے پر الحمد للہ اور اُس کے جواب میں یرحمک الله ۴- مونچھیں پست رکھنا ۵۔ زیر ناف کے بال کاٹنا ۶۔ بغل کے بال صاف کرنا ۷۔ بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا ۸۔ لڑکوں کا ختنہ کرنا ۹۔ ناک منہ اور دانتوں کی صفائی ۱۰۔ استنجا۔ ۱۱۔ حیض و نفاس کے بعد غسل ۱۲. غسل جنابت ۱۳- میت کا غسل ۱۴- تجہیز و تکفین ۱۵- تدفین ۱۶- عید الفطر ۱۷۔ عید الاضحی۔
سنت یہی ہے اور اس کے بارے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے۔ وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے، یہ اسی طرح اُن کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہوتی ہے۔ لہذا اس کے بارے میں اب کسی بحث و نزاع کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے(کتاب: میزان، صفحہ 14)۔

“حدیث” کی اصطلاح کے متعلق غامدی صاحب کا موقف حسب ذیل ہے:
دین لاریب، انہیں دو صورتوں (قرآن اور سنت) میں ہے۔ ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے، نہ اُسے دین قرار دیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبار آحاد جنہیں بالعموم ”حدیث” کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں یہ حقیقت نا قابل تردید ہے کہ ان کی تبلیغ و حفاظت کے لیے آپ نے کبھی کوئی اہتمام نہیں کیا، بلکہ سننے اور دیکھنے والوں کے لیے چھوڑ دیا ہے کہ چاہیں تو انہیں آگے پہنچائیں اور چاہیں تو نہ پہنچائیں، اِس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں ان میں آتی ہیں، وہ در حقیقت، قرآن وسنت میں محصور اسی دین کی تفہیم و تبیین اور اس پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا بیان ہیں ۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ اس دائرے کے اندر، البتہ اس کی حجت ہر اُس شخص پر قائم ہو جاتی ہے، جو اس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اسے قبول کر لیتا ہے۔ اس سے انحراف پھر اس کے لیے جائز نہیں رہتا، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اس میں بیان کیا گیا ہے تو اُس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے(کتاب: میزان، صفحہ 15)۔

داڑھی سے وابستہ مباحث کے ذیل میں حتمی بات تک پہنچنے کے لیے، مقدمے کو خود استاذ محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے اپنے الفاظ میں پیش کر دینا زیادہ موزوں رہے گا۔ اس ضمن میں، غامدی صاحب فرماتے ہیں:
ڈاڑھی مرد رکھتے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ڈاڑھی رکھی ہوئی تھی۔ آپ کے ماننے والوں میں سے کوئی شخص اگر آپ کے ساتھ تعلق خاطر کے اظہار کے لیے یا آپ کی اتباع کے شوق میں ڈاڑھی رکھتا ہے تو اسے باعث سعادت سمجھنا چاہیے، لیکن یہ دین کا کوئی حکم نہیں ہے۔ لہذا کوئی شخص اگر ڈاڑھی نہیں رکھتا تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی فرض و واجب کا تارک ہے یا اُس نے کسی حرام یا ممنوع فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں جو کچھ فرمایا ہے، وہ ڈاڑھی رکھنے کی ہدایت نہیں ہے، بلکہ اس بات کی ممانعت ہے کہ ڈاڑھی اور مونچھیں رکھنے کی کوئی ایسی وضع اختیار نہیں کرنی چاہیے جو متکبرانہ ہو۔ تکبر ایک بڑا جرم ہے۔ یہ انسان کی چال ڈھال، گفتگو ، وضع قطع ، لباس اور نشست و برخاست، ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہی معاملہ ڈاڑھی اور مونچھوں کا بھی ہے۔ بعض لوگ ڈاڑھی مونڈتے ہیں یا چھوٹی رکھتے ہیں، لیکن مونچھیں بہت بڑھا لیتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں کیا اور اس طرح کے لوگوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ متکبرین کی وضع اختیار نہ کریں۔ وہ اگر بڑھانا چاہتے ہیں تو ڈاڑھی بڑھا لیں ، مگر مونچھیں ہر حال میں چھوٹی رکھیں*۔

* [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مشرکین کے خلاف کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں کترواؤ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی (ہاتھ سے) پکڑ لیتے اور (مٹھی) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے(صحیح بخاری حدیث نمبر: 5892 فصل: لباس کا بیان)]

انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے جو ہدایت انسان کو ملی ہے، اُس کا موضوع عبادات ہیں، تطہیر بدن ہے، تطہیر خورونوش اور تطہیر اخلاق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے تطہیر اخلاق کے مقصد سے فرمایا ہے۔ ڈاڑھی سے متعلق آپ کی نصیحت کا صحیح محل یہی تھا، مگر لوگوں نے اسے ڈاڑھی بڑھانے کا حکم سمجھا اور اس طرح ایک ایسی چیز دین میں داخل کر دی جو اس سے کسی طرح متعلق نہیں ہو سکتی(کتاب: مقامات، صفحہ 295)۔

اس کے علاوہ، دینی علوم کی گہرائیوں میں اتر کر علم کی نزاکتوں سے بہرہ ور ہونے کے ضمن میں سنجیدہ شائقین کے لیے ایک مزید حوالہ پیش کرنا بھی مفید رہے گا۔
یو ٹیوب (YouTube) پر بعنوان “23 اعتراضات کے جواب میں” پروگرام میں غامدی صاحب کا “داڑھی کی شرعی حیثیت” کے ذیلی عنوان کے ساتھ تین قسطوں پر مشتمل ایک مفصل خطاب موجود ہے.
__ عبدالرحمٰن (سابق چیف مینیجر، الہ آباد بینک)

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *