مجلّہ ” الہادی ” کا سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمبر : تعارف وتبصرہ

مجلّہ ” الہادی ” کا سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمبر : تعارف وتبصرہ
————————————
. ڈاکٹر محمد سراج اللّٰہ حشمت اللہ تیمی
مقام و پوسٹ پرسا ، تھانہ بیلا، ضلع سیتامڑھی
بہار
رابطہ نمبر:9199726661
✍ وطن عزیز ہندوستان میں مدارس و جامعات کا جال بچھا ہوا ہے اور اکثر مدراس سے رسائل و جرائد شائع ہوتے ہیں جو اُردو صحافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔شہر نشاط کولکاتا کے ہوڑہ میں واقع معروف دینی درسگاہ جامعہ الہدیٰ الاسلامیہ کے شعبئہ نشر و اشاعت سے بھی سہ ماہی ” الہدیٰ ” کئی برسوں سے نہایت تزک و احتشام کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔اس کے مدیر مسؤل مشہور عالم دین مولانا ذکی احمد مدنی ہیں جو جامعہ الہدیٰ الاسلامیہ کے بھی مدیر اور کولکاتا الہدیٰ ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری ہیں۔مولانا محمد خوشحال تیمی مدنی اور شاکر عادل تیمی مدنی اس مجلہ کے معاون مدیران ہیں۔مجلس ادارت میں ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی ، ڈاکٹر اخلاص احمد صفا، مولانا ثناء اللہ صادق تیمی ، فاروق اعظمی اور مولانا سہیل لقمان تیمی کے اسمائے گرامی شامل ہیں جبکہ ڈاکٹر شیث ادریس تیمی ، ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی ، اعزاز الرحمن تیمی مدنی اور مولانا محمد عالمگیر تابش تیمی مجلس مشاورت کا حصہ ہیں۔ ماضی میں مجلّہ ” الہادی ” کے کئی شمارے میرے زیرِ مطالعہ رہے ہیں۔ابھی اکتوبر تا دسمبر 2024 کا خصوصی شمارہ ” سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمبر ” میرے زیرِ مطالعہ ہے۔ دراصل یہ مجلّہ مورخہ 20 جنوری 2024 کو ڈاک سے مجھے موصول ہوا تھا۔مورخہ 21 جنوری 2024 کو اتوار ، اس پر مستزاد قہر برپاتی ٹھنڈ اور دن میں ہی رات کا احساس دلانے والا گھنا کہرا ہونے کے سبب دن بھر گھر میں ہی قیدی بنا ہوا تھا۔ اس لیے موقع کو غنیمت سمجھ کر اس بیش قیمتی دینی ، علمی ، تاریخی اور دستاویزی مجلّہ کی ورق گردانی کا عزم مصمم کیا، بلکہ اس میں مکمل طور پر مشغول بھی ہوگیا۔ مجلہ کو زیادہ دنوں تک نظر انداز کر بھی نہیں کرسکتا تھا۔ اس لیے کہ یہ ہمارے پیارے رسول جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے اہم گوشوں پر مشتمل نہایت وقیع و جامع مقالات کا مرقع و مجموعہ جو ہے۔
میں مطالعہ کا شوقین ، بلکہ خوگر ہوں۔ جس موضوع پر بھی تالیفیات ، تصنیفات اور نگارشات ملتی ہیں ، انہیں پڑھنے کی ہرممکن سعی کرتا ہوں ، البتہ ” توحید ” اور ” سیرت رسول ” کے حوالے سے تحریروں کو ترجیحی بنیاد پر فوراً سے پیشتر پڑھنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں کہ یہ دونوں ہمارے لیے رشد و ہدایت کا سر چشمہ ہیں اور انہی میں ہماری نجات کا راز مضمر ہے۔ میرا اس بات پر کامل ایمان ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ایک ہے ، اس کا کوئی ثانی ، شریک و ہمسر نہیں ، وہ پاک اور ںےعیب ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ دنیا کی تمام چیزیں فنا ہو جائیں گی ، مگر اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ کی ذاتِ اقدس باقی رہے گی ۔ اللہ عز و جل نے ہی پوری کائنات کی تخلیق کی ہے اور وہی ( قیامت کے دن ) پوری کائنات کو ہیست و بود سے نیست و نابود کردے گا۔ وہی ہماری موت و حیات کا مالک ہے۔ وہ اس کو بھی روزی دیتا ہے جو اس پر ایمان رکھتا ہے اور اس کو بھی دیتا ہے جو کفر کی روش اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنی تمام مخلوقات کو رزق فراہم کرتا اور کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا ہے۔ ہماری عبادت و ریاضت کا بھی وہی تنہا مستحقِ ہے۔ اس کے سوا ہمارا کوئی مشکل کشا نہیں اور ناہی کس غیر اللہ کے سامنے سر جھکانا ہمارے لیے جائز و روا ہے۔ ہم اسی کے بندہ اور وہ ہمارا رب اور بہترین پالنہار ہے۔ اس لیے میں اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ کو اپنا رب ، اسلام کو اپنا دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی و رسول دل و جان سے مانتا ہوں” رضيت بالله ربًا وبالإسلام دينًا وبمحمد ﷺ رسولًا ونبيًا “۔۔۔۔!!!
میرا اس بات پر بھی کامل ایمان ہے کہ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں۔ اب تا قیامت کوئی نبی یا رسول اپنی نئی شریعت لےکر مبعوث نہیں ہوں گے۔پوری انسانی تاریخ میں ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عظیم المرتبت شخصیت کس کی نہیں۔ یہاں تک کہ تمام انبیائے کرام ورسل عظام میں بھی آپ کا مقام سب سے اعلیٰ و بالا ہے۔ آپ نے مسجد اقصیٰ میں نبیوں کی امامت کی۔ مکہ کے اوباشوں نے آپ کو ابتر کہہ کر مذاق اڑایا اور طعن و تشنیع دیا جس سے آپ غمزدہ ہوگئے تو اللہ عز وجل نے پیارے رسول کو یہ فرماکر تسلی دی کہ ” اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ ، فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ ، اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ”۔ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے پیکر تھے ، ارشاد ہے ” وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٖ “۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں انیک مقامات پر اپنی اطاعت و بندگی کے ساتھ ساتھ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا ہے اور ان کی محبت اپنی محبت سے تعبیر کیا ہے۔ اصحاب رسول نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبتیں کیں اور ان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی بے دریغ پیش کیا۔ اصحاب رسول جیسی محبت ہم پیارے رسول سے کرہی نہیں سکتے۔ پھربھی جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے ہمیں کرنا چاہیے کہ یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ میں نے اس مجلّہ کا مطالعہ اسی تقاضے کے تحت کیا ہے۔
موجوہ وقت میں مسلمانوں میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے دوری ، دین سے بیزاری اور شریعت سے لاتعلقی کا ماحول بن چکا ہے۔ اکثر مسلمان اخلاقی بگاڑ کے شکار ہوچکے ہیں۔ نت نئی برائیوں اور معصیتوں میں پڑ چکے ہیں۔ مسلمانوں کی زندگی سے سیرت رسول کا عنصر مکمل طور پر عنقا ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں مجھے لگتا ہے کہ سیرت رسول کے حوالے سے تصنیفات ، تالیفیات اور نگارشات کا مطالعہ بےحد ضروری ہے ۔ میں صمیم قلب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں جامعہ الہدیٰ الاسلامیہ ہوڑہ ، کولکاتا کے مدیر جناب مولانا ذکی احمد مدنی صاحب اور ان کے معاونین مولانا محمد خوشحال تیمی ، مدنی ، مولانا شاکر عادل تیمی، مدنی ، مولانا اعزاز الرحمن تیمی، مدنی اور مولانا محمد عالمگیر تابشِ تیمی کو جنہوں نے اس تقاضے کو بخوبی محسوس کیا اور کولکاتا الہدیٰ ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام 17 دسمبر 2024 بروز اتوار ” رسول رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کانفرس ” منعقد کی۔ اس میں ملک و بیرون ہند کے اجلہ علمائے کرام نے شرکت کی تھی اور سیرت رسول کے متعدد گوشوں پر خطابات پیش کیے تھے۔ اس موقع سے لکھے گئے مضامین اور مقالات کو جامعہ الہدیٰ الاسلامیہ کولکاتا کے زیر اہتمام ” سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمبر ” کے زیرِ عنوان شائع کیا گیا تھا جس کا اجراء اسی کانفرنس میں عمل میں آیا تھا۔ اپنے مطالعہ کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ اس مجلہ میں شامل ہر مضمون و مقالہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں کل پانچ ابواب ہیں اور ہرباب میں بیش قیمتی مضامین ہیں جن میں پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے تقریباً تمام اہم گوشوں کو نہایت عقیدت مندانہ انداز میں اجاگر گیا ہے۔
باب اول کا عنوان ” سیرتِ رسول : اہمیت و امتیازات ” ہے۔ اس میں مولانا ذکی احمد مدنی کا مقابلہ ” عصر حاضر میں سیرت رسول کی معنویت ” ، ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی بہار کا ” سیرتِ رسول کا مطالعہ کیوں اور کیسے ؟ ” ، ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی ، بہار کا ” سیرت رسول اپنے چند امتیازات کی روشنی میں” اور مولانا فضل اللہ سلفی ،بہار کا ” انسانی زندگی میں سیرت طیبہ کے اثرات ” شامل ہیں۔دوسرا باب ” سیرت رسول بعثت نبوی تک (مکی زندگی کی روشنی میں) ” کے زیرِ عنوان قائم ہے۔اس میں مولانا شمشیر عالم عالی کا مقالہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجمالی سیرت مکی زندگی کی روشنی میں ” ، مولانا اصغر علی امام مہدی مدنی کا ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی نبوت سے قبل “، مولانا شکیل احمد سلفی، دربھنگہ کا ” آغاز وحی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کی تسلی”، مولانا سیف الرحمن مدنی کا ” اسلامی دعوت کی راہ میں موانع و مشکلات مکی دور میں ” ، مولانا انوار الاسلام ندوی کا ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں دعوت اسلام کی ایک جھلک ” شامل ہیں۔تیسرے باب کا عنوان ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متنوع کرداروں کی روشنی میں ” ہے، جس میں مولانا عبد الرقیب ندوی کا مقالہ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داعیانہ کردار ” مولانا انوار زبیر محمدی کا ” بچوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت ” مولانا عالمگیر تابش تیمی کا ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ازواج مطہرات کے ساتھ سلوک ” ، ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی، نئی دہلی کا ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غیر مسلموں کے ساتھ سلوک ” ، مولانا اسید الرحمن مظاہر الحق الہادی کا ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں کی نظر میں ، ابو عدنان سعید الرحمن سنابلی کا ” اسیرانِ جنگ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ ، قاری بدیع الزماں مدنی کا ” یتیموں اور کمزوروں کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک” ، مولانا مقبول احمد سلفی، جدہ کا ” اسلام میں خادموں کے حقوق اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے برتاؤ ” ، مولانا انظار احمد صادق کا ” کم سن بچوں کی تعلیم و تربیت اور اسوئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ” ، ڈاکٹر نسیم سعید مدنی کا ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت خاوند ” اور مولانا ساجد ولی تیمی کا ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حقوق نسواں” شامل ہیں۔ چوتھا باب” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوصافِ وخصائص کی روشنی میں” ہے ۔ اس میں مولانا خورشید عالم مدنی ، پٹنہ کا مقالہ” عظمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “، مولانا صفات عالم تیمی کویت کا ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چند خصائص و کمالات” ، مولانا سہیل لقمان تیمی ، جھارکھنڈ کا” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی زندگی کی خصوصیات” ، مولانا ذکی احمد مدنی ، کولکاتا کا ” حلم و بردباری اخلاق رسول کا روشن باب ” ، مولانا محمد خوشحال تیمی مدنی کا ” عفو و درگزر سیرت نبوی کا جلی عنوان” شامل ہیں۔ پانچویں و آخری باب کا عنوان ” معجزات و واقعات ” ہے ۔ اس میں مولانا توصیف عالم مدنی، دربھنگہ کا ” معجزات نبوی عہد مکی کے حوالے سے “، مولانا مولانا نور عالم محمد حسن الہادی بہار کا ” قرآن کریم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ” اور مولانا خورشید عالم جامعی ، آسام کا ” واقعہ اسرا ومعراج: حقائق و حکمتیں ” شامل ہیں۔ ان مضامین اور مقالات سے مذکورہ بالا میری باتوں کی تائید ، تصدیق و توثیق ہوتی ہے کہ اس میں ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے تقریباً سبھی اہم گوشوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ البتہ مجھے ذاتی طور پر اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ اس میں بعثت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق دیگر ادیان وفرق کی کتابوں ، مثلاً بائبل اور رگ وید وغیرہ میں جو پیشنگوئیاں کی گئی ہیں ، ان سے متعلق کوئی مضمون اس میں شامل نہیں ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ اس موضوع پر مقالہ لکھنے کے لیے مجھے مکلّف کیا گیا تھا۔ یادش! بخیر کہ مولانا خوشحال تیمی نے مولانا ذکی مدنی صاحب کا ایک مکتوب مجھے مورخہ 21 جولائی 2024 کو بذریعہ واٹس ایپ ارسال کیا تھا اور اس موضوع پر مقالہ تحریر کرنے کے لیے کہاتھا، بلکہ درمیان میں بھی موصوف بذریعہ موبائل رابطہ کر مجھے اس کے لیے یاد دہانی کراتے رہے، مگر اپنی مصروفیات کے سبب میں کچھ بھی نہیں لکھ سکا، جس کا مجھے سخت ملال ہے۔ملال اس لیے بھی ہے کہ اس موضوع سے مجھے کم عمری سے ہی قلبی لگاؤ ہے۔ میں نے اپنے والد محترم مولانا محمد حشمت اللہ چترویدی/ رحمہ اللہ رحمۃ واسعہ سے رگوید ، یجروید ، سام وید ، اتھر وید ، منو اسمرتی ، گیتا ، رامائن ، مہا بھارت اور بائبل کا درس لیا تھا اور توحید نیز سیرت کے موضوع پر بھی بھرپور استفادہ کر رکھا ہے۔ خسر محترم مولانا محمد مطیع الرحمان چترویدی/ حفظہ اللہ سے بھی حسب ضرورت تبادلہ خیالات و استفادہ کرتا رہتا ہوں۔۔۔۔۔کاش ! میں بھی اپنے موضوع پر لکھ پاتا اور اس تاریخی و دستاویزی مجلّہ کا حصہ بن پاتا تو دورانِ مطالعہ مزید خوشی کا احساس ہوتا۔ خیر ! جو بھی اس میں جو بھی مضامین اور مقالات شامل ہیں یقیناً سب کے سب بہت جامع اور وقیع ہیں اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر محیط ہیں۔
مجھےلگتاہے کہ یہ مجلّہ سیرتِ رسول کا مطالعہ کرنے والوں کی میز پر ضرور ہونا چاہیے۔ایک بار پھر میں تہہ دل سے جامعہ الہدیٰ الاسلامیہ ہوڑہ ( کولکاتا ) کے مدیر و کولکاتا الہدیٰ ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری جناب مولانا ذکی احمد مدنی/ حفظہ اللہ ، مولانا خوشحال تیمی ، مولانا شاکر عادل تیمی ، مولانا عالمگیر تابش تیمی اور مولانا عزیز الرحمن تیمی سمیت سبھی معاونین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہ مجلّہ اسم با مسمی یعنی عام مسلمانوں کی ہدایت اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے کا سبب و محرک نیز اس کے مدیران و ناشرین کے لیے زخیرئہ آخرت کا ذریعہ بھی بنے، امین !

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *