ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کے خاندان کا مختصر تعارف

ازقلم:۔  ابوالکلام انصاری
اسسٹنٹ ٹیچر، فیض احمد فیض اردو ہائی اسکول
مغربی بنگال، ہندوستان
ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کے خاندان کا مختصر تعارف
  خاندان:۔  آپؐ کا تعلق بنو ھاشم کے خاندان سے تھا۔ ھاشم آپؐ کے پردادا کا نام تھا۔ انہیں کے نسبت سے آپؐ کا گھرانہ ھاشمی کہلاتا تھا۔
قبیلہ:۔  آپؐ کا تعلق عرب کے قبیلہ قریش سے تھا۔ آپؐ کے جدامجد قصی ابن کلاب کی اولاد کو قریش کہا جاتا ہے۔ قریش کا معنی ”جمع کرنا“ ہوتا ہے۔ قصی ابن کلاب نے اہل عرب کو ایک مرکز پر جمع کیا تھا اس لئے وہ قریش کہلائے۔
والد:۔  آپؐ کے والد کا نام عبداللہ بن عبد المطلب ہے۔ ان کی پیدائش مکّہ میں 545ء میں ہوئی اور وفات مدینہ میں 570ء میں 25 سال کی عمر میں ہوا۔ آپؐ کے پیدائش سے چھ ماہ پہلے یعنی جب آپؐ شکم مادر میں تھے تبھی آپؐ کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔ اسطرح آپؐ یتیم پیدا ہوئے تھے۔آپؐ کے والد پیشے سے ایک تاجر تھے۔ انکی کنیت ابو قثم (خیر و برکت سمیٹنے والا)، ابو محمد اور ابو احمد ہے۔ انکا لقب الذبیح ہے۔
والدہ:۔  آپؐ کی والدہ کا نام حضرت آمنہ بنت وہب ہے۔ ان کی پیدائش 549ء میں مدینہ میں ہوئی اور وفات 576ء میں ابواء کے مقام پر ہوا۔ اس وقت آپؐ کی عمر چھ سال تھی۔ آپؐ کی والدہ کو عربی زبان پر عبور حاصل تھا وہ عربی زبان میں شاعری بھی کرتی تھی۔ انکا تعلق بنو زہرہ سے تھا جو قریش ہی کا ایک ذیلی قبیلہ تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب آپؐ کے جدامجد عبد مناف بن قصی سے ملتا ہے۔ آپؐ کی والدہ اپنے قبیلہ میں ’سیرت النساء‘کے نام سے مشہور تھیں۔
بہن و بھائی:۔  آپؐ کے سگے بہن بھائی نہیں تھے۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے اولاد تھے۔
دادا:۔  آپؐ کے دادا عبدالمطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی تھے۔ ان کی پیدائش مدینہ میں 480ء میں ہوئی اور وفات 579ء میں مکہ میں ہوا۔ انکا لقب ’الفیاض‘  ’سیبۃ الحمد‘  اور ’سید البطحاء‘ تھا۔ یہ دین ابراہیمی (اسلام) پر قائم تھے۔ ان سے کبھی بھی بت پرستی کا صادر ہونا ثابت نہیں ہے۔ یہ خانہ کعبہ کے متولی تھے۔ انکے دور میں ہی 570ء میں خانہ کعبہ پر یمن کا گورنر ابرہہ نے خانہ کعبہ کو ڈھانے کی نیت سے حملہ کیا تھا۔ تو آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے اللہ سے خانہ کعبہ کو بچانے کی دعا کی تو اللہ نے ابابیل پرندوں کے ذریعہ ابرہہ کے لشکر کو تباہ و برباد کر کے خانہ کعبہ کی حفاظت فرمائی تھی۔ اس واقعہ کا ذکر اللہ نے قران شریف کے ’سورۃ الفیل‘ میں کیا ہے۔ جس سال یہ اقعہ پیش آیا اس کو عام الفیل یعنی ’ہاتھی والا سال‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ابرہہ کے فوج میں ہاتھیوں کا استعمال ہوا تھا۔
دادی:۔  آپؐ کی دادی فاطمہ بنت عمر وتھیں۔ ان کی تاریخ پیدائش کا پتہ نہیں لگ سکا ہے۔ البتہ انکی وفات 576ء میں ہوئی تھی۔ انکے دو بیٹے تھے۔ عبدا للہ اور ابو طالب۔ یہ رشتے میں حضرت علیؓ کی دادی بھی تھی۔ کیونکہ حضرت علیؓ ابو طالب کے بیٹے تھے۔ اسطرح آپؐ اور حضرت علیؓ چچا زاد بھائی تھے۔
نانا:۔  آپؐ کے نانا وہب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرۃ تھے۔ ان کا لقب ابوکبشہ تھا۔ آپؐ کے ولادت کے بعد ان کو لوگ ابن ابو کبشہ کہہ کر پکارتے تھے۔
نانی:۔  آپؐ کی نانی برہ بنت عبدا لعزی تھی۔
چچا:۔  تمام اصحاب سیر لکھتے ہیں کہ آپؐ کے دس (10) چچا تھے مگر جو نام ملتے ہیں وہ دس سے زیادہ ہیں۔
1)  حضرت عباس ؓ2)  حضرت حمزہؓ3)  ابو طالب
4)  ابو لہب5)  الزبیر6)  عبدالکعبہ
7)  ضرار8)  قثم9)  المقوم
10)  الغیرہ 11)  الحارث12)  القیدان13)  القوام
(چچاؤں میں سے صرف حضرت عباسؓ اور حضرت حمزہ ؓ کا اسلام لانا منقول ہے۔)
پھوپھی:۔  آپؐ کی پھوپھیاں چھ (6) شمار کی گئی ہیں۔
1)  حضرت صفیہ ؓ2)  حضرت عاتکہ ؓ3)  حضرت ارویٰ ؓ
4)  برہ5)  امیمہ 6)  حکم البیضاء
(پھوپھیوں میں سے حضرت صفیہؓ، حضرت عاتکہ ؓ اور حضرت ارویٰ ؓ کا اسلام لانا منقول ہے۔)
مامو اور خالا:۔  آپؐ کی والدہ حضرت آمنہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ انکا کوئی بہن بھائی نہ تھا۔ اس لئے آپؐ کے مامو اور خالا بھی نہیں تھے۔
ہاں ایک روایت کے مطابق آپؐ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو اپنا مامو کہا تھا۔ چونکہ آپؐ کی والدہ حضرت آمنہؓ کا تعلق بنو زہرہ سے تھا اور سعد بن ابی وقاصؓ کا تعلق بھی اسی قبیلہ بنو زہرہ سے تھا۔ اس لئے آپؐ نے ان کو مامو کہا تھا۔ حقیقت میں وہ آپؐ کے مامو نہیں تھے۔
٭٭٭

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *