اساتذہ کی کوتاہیاں: ایک تجزیاتی اور تجرباتی نگارش

#اساتذہ کی کوتاہیاں: ایک تجزیاتی اور تجرباتی نگارش#

عبدالرحمٰن
𝘼𝙗𝙙𝙪𝙡 𝙍𝙖𝙝𝙢𝙖𝙣
(سابق چیف مینیجر، الہ آباد بینک)
[Ex-Chief Manager, Allahabad Bank]
دہلی- این سی آر
Delhi-NCR
Email
rahman20645@gmail.com

کچھ عرصہ قبل، سوشل میڈیا میں ایک مضمون نظر نواز ہوا، جس میں طلبا کی تدریس کے پیش نظر اساتذہ سے بڑی تعداد میں سرزد ہونے والی غلطیوں اور کوتاہیوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ، خود اساتذہ سے یہ درد مندانہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ انہیں نہ صرف اپنی غلطیوں کو وقتاً فوقتاً، درست کرنے کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے، بلکہ تعلیمی امور میں اپنی سنجیدگی کو ہمیشہ بنائے رکھنے کا ثبوت فراہم کرنا بھی اپنی ذمے داریوں کا حصہ سمجھنا چاہیے۔

راقم الحروف نے بھی زیر نظر تحریر میں سنجیدہ لوگوں کے فکری استفادے کی خاطر، درس و تدریس کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ یوں تو مذکورہ مضمون میں بہت ساری غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، مگر میں نے اساتذہ سے منسوب جس مبینہ غلطی کو یہاں اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے وہ ہے – ‘بغیر مطالعہ کے پڑھانا’۔

مزید آگے بڑھنے سے پہلے، یہ واضح کرنا مناسب رہے گا کہ علمائے کرام اور اساتذہءِ عظام سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو بیان کرتے وقت، ادب و احترام ملحوظ رکھنا ضروری ہے، کیوں کہ یہ حضرات قوم کا گرانقدر سرمایہ ہونے کے ساتھ ساتھ، بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کی’امید’ بھی ہوتے ہیں۔ معلمین ہی نہیں، کسی عام آدمی کی غلطی کو ظاہر کرنے کے لیے بھی مہذب اسلوب اور انسانی وقار کا لحاظ کیا جانا انسانی شرافت کا تقاضا ہے۔ اسی کے ساتھ، یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ ہو جانے والی یا کی جانے والی غلطیوں اور ان کو درست کرنے کے موضوع پر بحث کرتے وقت کسی کی شان میں گستاخی یا اس کی عزت نفس
(Self Respect)
کو مجروح کرنے کی کوشش اسلامی تہذیب کے منافی ہے۔

لیکن، اس تعظیم و تکریم کے باوجود، اپنے بڑوں سے ہونے والی غلطیوں یا کی جانے والی کوتاہیوں کی شائستہ اسلوب میں نشاندہی کرنا اور ان کی اصلاح کے لیے موثر تدابیر اختیار کرنا بھی نہایت ضروری ہوجاتا ہے، تاکہ خالص علم و آگہی اور صالح اخلاقیات کا قافلہ فہم و فراست کی شاہراہ پر کسی رخنے کے بغیر گامزن رہ سکے۔ “بڑوں کے سامنے زبان کھولنا بے ادبی” جیسے زبان زد عام فلسفوں پر عمل کرنا، گویا معاشرے کو نہ صرف علمی اور فکری روشنی سے محروم کردینے، بلکہ جہل کے اندھیروں کو بھی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بزرگ ہوں یا کوئی بھی دوسرے افراد، بات کرنے کے لیے جو چیز ضروری ہے، وہ ہے شائستگی اور ادب و احترام کے ساتھ مہذب اسلوب میں بات کرنا۔

میں یہاں اپنے تجربات کی روشنی میں، استاذ و تلامذہ
(teachers and students)
کے تعلق سے مشاہدے میں آنے والی ایک بڑی غلطی کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں، جس کی برائی سے اکثر ذہین طلبا کو دوچار ہونا پڑتا ہے۔ پیش کی جانے والی یہ غلطی بھی اسی غلطی کی اضافی اور بگڑی ہوئی صورت ہے جو اساتذہ سے منسوب غلطیوں میں سرفہرست ہے، یعنی اپنے موضوع
(topic)
کا پیشگی مطالعہ اور اس کو اچھی طرح سمجھنے
(comprehension)
کے عمل کے بغیر پڑھانے کی گستاخی۔ دراصل، اپنے مضمون یا موضوع کا باقاعدہ مطالعہ کیے بغیر تدریس کا کام انجام دینا نہ صرف اپنی منصبی ذمے داریوں کے ساتھ خیانت کا معاملہ ہے، بلکہ طلبا، خصوصاً سنجیدہ اور ذہین طلبا کے ساتھ ظلم اور صریح ناانصافی کا قبیح فعل بھی۔

بلا شبہ، موضوع کی پیشگی ورق گردانی کے بغیر استاذ کے لیے اکثر اوقات، چاق چوبند طلبا کو مطمئن کرپانا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ صورت حال ان اساتذہ کے لیے مزید سنگین ہوجاتی ہے جو تدریسی اہلیت
(Teaching Talent)
اور موضوع کو واضح کرنے کی صلاحیت
(Clarity of the Subject matter)
میں کمزور واقع ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ عام طور پر، اپنی کمزوریوں کا اعتراف تو نہیں کرتے، البتہ طلبا کے ان سوالات کو وہ اپنے خلاف سازش ضرور تصور کرنے لگتے ہیں، جن کا اطمینان بخش جواب مرحمت کرپانا خود ان کو مشکل نظر آتا ہے۔ ان کے عمومی تاثرات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں، گویا سوال کرنے والا طالب علم ان کی قابلیت کو آزمانے کے لیے ہی اپنے سوالات پیش کر رہا ہے، جب کہ متعلقہ اسٹوڈنٹ کو اس طرح کا وہم وگمان بھی نہیں ہوتا، کیوں کہ وہ تو صرف اپنے اشکالات رفع کرنے کی جدوجہد کررہا ہوتا ہے۔

حقیقتاً، یہ خوبی بہت کم اساتذہ میں پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے طلبا میں سوئے ہوئے علمی تجسس
(Curiosity for Knowledge)
کو جگانے میں معاون ہوں۔ اساتذہ کے متعلق جس عام رجحان کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، وہ ہوتی ہے ان کی یہ تگ ودو کہ کسی طرح کلاس کا وقت سوال و جواب کی مشکل میں مبتلا ہوئے بغیر ہی پورا ہو جائے، پھر چاہے طلبا کی سمجھ میں کچھ آئے یا نہ آئے۔ یہ صورت حال بھی اساتذہ کے کمزور مطالعے اور اپنے موضوع پر دسترس حاصل نہ ہونے کی طرف ہی اشارہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اپنے تدریسی منصب کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے، سبھی اساتذہ کو اس طرح کی کمزوریوں کو دور کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔

کئی مرتبہ کسی سنجیدہ طالب علم کے ذہین سوال
(Intelligent Question)
کا معقول جواب فراہم کرنے کی اہلیت نہ ہونے یا وقتی طور پر کسی تذبذب
(Confusion)
کا شکار ہوجانے کی صورت میں؛ بات کو واضح نہ کر پانے کا اعتراف تو درکنار، کمزور قسم کے ضدی اساتذہ الٹے طلبا سے دشمنی ٹھان لیتے ہیں جس کو پھر وہ عزت نفس
(Prestige Issue)
کا مسئلہ بناکر، بات کو اکثر اوقات یہاں تک بڑھاتے ہیں کہ مختلف امتحانات میں حاصل ہونے والے نمبروں میں تخفیف کرنے کے غیر مہذب اور غیر اخلاقی فعل کے بھی مرتکب ہونے لگتے ہیں۔ میں خود ایک بڑی اور معروف یونی ورسٹی کے ایک ہونہار طالب علم کی حیثیت میں، اس صورت حال سے دو چار ہوچکا ہوں؛ حالاں کہ یہ بات الگ ہے کہ اللہ رب العزت کی رحمت سے، یونی ورسٹی ٹاپر
(University Topper)
ہونے کا اعزاز مجھے ہی حاصل ہوا تھا۔

یہاں اوپر مذکور پچاس سال پرانے واقع کو لوگوں کی نصیحت اور رہ نمائی کے لیے پیش کردینا مناسب رہے گا۔ شعبہ ریاضی
(Mathematics Department)
میں ہمارے ایک استاذ، جو غالباً اس وقت اسسٹنٹ پروفیسر تھے؛ لحیم شحیم جسم اور وجیہ شخصیت کے مالک، مگر مزاج سے سخت اور ریاضی کے اصول و ظوابط کو واضح کرنے کے معاملے میں نسبتاً کمزور ہونے کا ثبوت وہ اکثر و بیشتر فراہم کرتے رہتے تھے۔ چوں کہ ہمارا ہدف واقعات سے صرف نصیحت و رہ نمائی کشید کرنا ہے، اس لیے یہاں ان کا نام افشا کرنا مناسب نہیں۔ ان کی موجودگی میں کلاس کا ماحول دوستانہ
(friendly)
ہونا تو دور کی بات، قدرے ناخوشگوار ہی رہتا تھا۔ ان کا پڑھانے کا جو طریقہ تھا اس سے معلوم ہوتا تھا، گویا وہ اپنے سبجیکٹ کو رَٹ کر آئے ہیں اور اس کو کسی طرح جلدی سے بلیک بورڈ پر اتار دینے کے لیے بے تاب ہیں۔ اس صورت حال میں اگر کوئی اسٹوڈنٹ ان سے کچھ بھی دریافت کرلیتا، تو وہ اکثر اتنے ڈسٹرب(مذبذب) ہوجایا کرتے تھے، گویا ان کی گاڑی کسی دلدل
(quagmire)
میں پھنس گئی ہے، اور پھر وہ خود اپنی تحریر میں بھی غلطیاں کرنا شروع کردیتے تھے، ریاضی کی نزاکتوں کی مزید وضاحت تو درکنار۔

ریاضی کے سوال حل کرتے وقت، میں ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو اکثر پکڑ لیتا تھا اور ستم ظریفی یہ کہ وہ خود اپنی غلطی کا ادراک حاصل نہیں کر پاتے تھے، اور پھر کچھ لمحوں بعد رعب کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہوئے کہ “وی آر رائٹ” (ہماری بات ہی صحیح ہے)، آگے بڑھ جاتے تھے۔ ایسا لگاتار کئی مرتبہ ہونے کے بعد جب ویکلی ٹیسٹ
(Weekly Test)
ہوا تو انہوں نے صحیح جواب ہونے کے باوجود، میرا ایک نمبر کاٹ کر پانچ کے بجائے چار نمبر دیے، یعنی 20 فی صد کی بھاری تخفیف کردی۔ اس واقع کے بعد میرے ایک ساتھی(کلاس فیلو) نے مشورہ دیا کہ بات میری سمجھ میں تو آجاتی ہے، اس لیے مجھے ان کی غلطی کی اصلاح کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بعد ازاں، میں نے ان کی غلطیوں کی نشاندہی بند کردی، اور انہوں نے مجھے ٹیسٹ
(Sessionals)
میں میرا حق، یعنی پورے نمبر دینے شروع کردیے۔

کیا کسی استاد کو اپنے شاگرد کے سامنے اتنا بے بس نظر آنا چاہیے؟
سوچا جاسکتا ہے کہ کیا یہ روداد بیان کرتے وقت مجھے اچھا محسوس ہو رہا ہوگا؟
ہر وقت اکڑ
(arrogance)
کی شیروانی زیب تن کیے رہنے کے بجائے، اساتذہ کو طلبا کے ساتھ مفاہمت اور خوش گوار ماحول بناکر رکھنا چاہیے اور مل جل کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ ایک ‘اچھے ٹیچر’ کا اعجاز برقرار رکھنے کے لیے بھی ناگزیر ہے کہ اپنی کثیر الجہات مطالعاتی سرگرمیوں
(Comprehensive Studies)
کو ہر حال میں زند و جاوید بنائے رکھا جائے، تاکہ نہ صرف اپنے تدریسی موضوعات پر عبور، بلکہ کائناتی حقائق اور اللہ رب العالمین کے تخلیقی منصوبے (Creation Plan of God)کی بصیرت بھی حاصل رہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے مذکورہ استاذ کے معاملے میں سب کچھ درست نہیں تھا؛ ان کی یادداشت میں کچھ گڑبڑ تھی یا ان کے مطالعے میں نقص، اور یا پھر اپنے پیشے کے تئیں ان کی سنجیدگی میں کمی۔ یقیناً، یہ سارے عوامل اصلاح کے متقاضی ہیں چاہے جس شخص میں بھی پائے جاتے ہوں۔ تدریس کے منصب کو غیر سنجیدگی جیسے نقائص سے ہمیشہ پاک رہنا چاہیے۔ پاکیزہ ہی نہیں، تدریسی کام کو زمانے کی ترقیاتی تگ ودو سے ہم آہنگ بھی ہونا چاہیے؛ آخر کار، یہ نئی نسلوں کے اندر علم و اخلاق اور ادب و تہذیب کے ابلاغ کا معاملہ جو ہے۔

جب یونی ورسٹی کی سطح پر اس طرح کی مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں، تب باآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ بچپن اور کم عمری کی تعلیم و تربیت کی ذمے داریاں سنبھالنے والے اسکول و مدارس کو کتنی زیادہ احتیاط اور حساسیت کی ضرورت ہے۔ کم سنی کے زمانے میں طلبا کے اندر تجزیاتی استعداد کی نوعیت وہ نہیں ہوتی ہے جو یونی ورسٹی کی سطح پر نظر آنے لگتی ہے۔ اس لیے، یہاں سیکھنے اور سمجھنے کا سارا انحصار استاذ کی علمی لیاقت اور تدریسی صلاحیت پر ہی ہوتا ہے۔ اس لیے، اس لِیول پر ٹیچر کا لائق و فائق ہونا ہی کافی نہیں، سنجیدہ اور دیانت دار ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ عمومی طور پر، بچے ہر اس چیز کو صحیح تسلیم کر لیتے ہیں جس سے ان کا معلم انہیں متعارف کرواتا ہے۔ یہ بچوں کی مستقبل سازی
(Future Building)
کا وہ مقام ہے جہاں ٹیچر کو بھی لیاقت و صلاحیت کے علاوہ، اپنی سنجیدگی، دیانت داری اور اخلاص کا امتحان دینا پڑتا ہے۔

بچوں کی معصوم شخصیت پر اپنی علمی استعداد کا سکہ بٹھانے، اور وقتی طور پر ان کی واہ واہی حاصل کرنے کے لیے، ایک استاذ کو کبھی بھی غلط بیانی یا مبالغہ آمیزی
(Exaggeration)
سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ میرے مرحوم استاذ کی کوتاہی کو معاف فرمائے، جنہوں نے ہم بچوں کے درمیان شاید وقتی سرخروئی حاصل کرنے کے لیے، اسی نوعیت کا ایک کام کیا تھا۔ ان کی نیت پر شک کرنے کے بجائے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود ان کا علم ہی اتنا محدود رہا ہو۔ ایک دن انہوں نے پوری کلاس کو اس انکشاف کے ساتھ متحیر کردیا کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتاب، قرآن مجید میں دنیا کی ساری زبانیں موجود ہیں۔ اس بات کو درست ثابت کرنے کے لیے، انہوں نے سورۃ الاخلاص(سورہ نمبر 113) کی آیت نمبر 4 بھی پیش کی، یعنی
“وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ”.
یہاں ‘و’ پر دو زبر( ً) ہونے کی وجہ سے جو غنہ کی آواز، یعنی’ون’ پیدا ہوتی ہے، اس کو انہوں نے انگریزی لفظ- ون
(One)
بہ معنی ‘ایک’ سے تعبیر کردیا۔ اور پھر اس طرح انہوں نے، فخریہ انداز میں، قرآن پاک میں انگریزی الفاظ کی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کی، حالاں کہ بڑے ہوکر معلوم ہوا کہ یہ استدلال درست نہ تھا۔

کم عمری چوں کہ کائناتی عجائبات کے متعلق حقائق کو پُر تجسس اور پُر ذوق طریقے سے جاننے اور سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے، اس لیے عمومی طور پر بچے حیرت میں ڈالنے والی ہر اس بات پر کلماتِ تحسین و آفرین اداکرنے لگتے ہیں، جو وہ پہلی بار کسی سے سنتے ہیں، اور پھر وہ اس شخص کو دنیا کا ذہین ترین اور لائق و فائق انسان بھی تصور کرنے لگتے ہیں۔ بڑی تعداد میں وہ اساتذہ جو اپنے ہم عمر ساتھیوں سے اپنی سرگرمیوں کی تائید یا واہ واہی حاصل نہیں کر پاتے، کم عمر اسٹوڈنٹس کو اپنے ماضی کے مبالغہ آمیز کمالات اور کہانیاں سنا کر داد تحسین حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں، تاکہ ان کی انانیت کو بھی تسکین میسر ہو۔ اس طرح کے مذموم طریقہ کار سے اساتذہ، خصوصاً بچوں کے ٹیچرز کو سنجیدگی کے ساتھ اجتناب کرنا چاہیے، کیوں کہ مذکوہ قسم کی جھوٹی واہ واہیاں بچوں کے علمی اور فکری نقصان کے علاوہ، اساتذہ کی اخلاقیات اور ان کے کردار کو بھی مزید کمزور کرنے کا باعث ہوتی ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ وقتی لذت یا ‘لمحاتی عیش’
(Momentary Pleasure)
میں جینے کی بری عادتوں سے خود کو بچانے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ کسی نے خوب کہا ہے: “لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی”.

یہاں اساتذہ کے کمزور مطالعے کے برے نتائج سے وابستہ ایک بڑے تاریخی واقعہ کا ذکر کرنا بھی موزوں رہے گا۔ تھامس الوا ایڈیسن
(Thomas Alva Edison: 1847-1931)
ایک معروف سائنسداں ہیں، بجلی کے بلب
(Electric Bulb)
کی ایجاد انہیں سے وابستہ ہے۔ تعلیم کے ابتدائی زمانے میں، اپنی ٹیچر کی تدریس کے دوران ان کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا جس کو انہوں نے مخلصانہ طور پر من وعن اپنی ٹیچر کے سامنے پیش کردیا۔ سوئے اتفاق، اس سوال کا جواب ان کی معلمہ کو معلوم نہ تھا۔ بچہ کی منفرد ذہانت کے لیے ستائشی کلمات بولنے یا بعد میں ان کو مطمئن کرنے کا کوئی وعدہ کرنے کے بجائے، محترمہ خود احساس کمتری
(Inferiority Complex)

کا شکار ہوگئی۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ مذکورہ ٹیچر ‘اُڑنے’
(Flying)
کے موضوع پر بات کرتے ہوئے، بچوں کو سمجھا رہی تھی کہ چڑیاں اپنے پَروں
(feathers)
کی وجہ سے اُڑتی ہیں اور انسان اس لیے نہیں اُڑ سکتا ہے کہ اس کے جسم میں پَر یا پنکھ نہیں ہوتے۔ کلاس کے تمام بچے مطمئن ہوگئے، مگر ذہین ایڈیسن کے دماغ میں اڑنے والی پتنگ
(kite)
کی تصویر نمایاں ہوگئی۔ اپنے ذہنی تجسس
(intellectual curiosity)
کی تسکین کے لیے، اس نے فوراً ہاتھ اٹھا کر میڈم کے سامنے سوال پیش کردیا: “میم، پتنگ تو اڑتی ہے، لیکن اس کے پر نہیں ہوتے؟”
وہی سوال جو ہزار شاباشیوں کا سبب ہو سکتا تھا، معصوم الوا کے لیے اسکول سے نکالے جانے کی وجہ بن گیا۔

بچے اور بڑوں کے سامنے اپنی خفت

(embarrassment)
کو چھپانے کے لیے، وہ الٹے تھامس کے طالب علمانہ تجسس کو ‘بدتمیزی’
(arrogance)
پر محمول کرنے لگی۔ اسی نفسیاتی دباؤ میں، مذکورہ واقع کو عزتِ نفس کا مسئلہ بنالیا گیا اور آخر کار، خداداد ذہنی فوقیت کے مالک ایک ہونہار اور معصوم بچے کو کسی خطا کے بغیر، اسکول سے ہی نکال دیا گیا۔ اپنے بیٹے کی بلند ذہنی استعداد اور حقیقتِ واقعہ سے واقفیت کے بعد، تھامس کی ماں نے اس کی تعلیم کی سنجیدہ ذمے داری اپنے سر لے لی۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کی محنت قبول کی اور اللہ رب العزت کی رحمت سے، اس کا بیٹا دنیا میں ایک بڑے سائنسداں کے طور پر مشہور ہوا۔ کیا اس نازک واقعے میں اساتذہ کے لیے، نصیحت و رہ نمائی کا کوئی بڑا سبق موجود نہیں ہے کہ صرف اپنی پست ذہنی استعداد اور کمزور مطالعہ والی غیر ذمے دار ٹیچر کی احمقانہ حرکت کی وجہ سے ہی ‘کل کا سائنسداں’ آج کی اپنی اسکولی تعلیم سے بھی محروم کردیا گیا؟

پرائمری اسکول کے ان بچوں کو مستقبل میں پیش آنے والی مشکلات کا تصور کرکے ہی گھبراہٹ ہوتی ہے، جن کے اساتذہ تعمیر شخصیت کے زاویے سے اپنا تدریسی کام بے اعتنائی اور غیر ذمے داری کے ساتھ انجام دیتے ہوں۔ معلم کے منصب، خاص طور پر بچوں کے ٹیچر کی حیثیت میں روزگار کے خواہشمند خواتین و حضرات کو تقرری سے پہلے اپنی اخلاقیات، جذباتِ ایثار کی نوعیت اور دماغی وسعتوں کا جائزہ لے لینا چاہیے۔ بچوں کے اساتذہ کا یہ منصبی اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ اخلاص و دیانت داری اور دل کی مکمل آمادگی کے ساتھ معصوم بچوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیں۔

بلند سطحی خود اعتمادی
(Self Confidence)
کی ضرورت نہ صرف مختلف علوم کا ادراک
(Comprehension)
حاصل کرنے میں سنجیدہ پڑھائی کرنے والے طلبا کو ہوتی ہے، بلکہ اساتذہ کو اس سے بھی بڑے پیمانے پر درکار رہتی ہے۔ ٹیچر کی شخصیت میں بلند خود اعتمادی نہ صرف اس کو ہشاش بشاش رکھتی ہے، بلکہ تدریس کے کام کو بھی خوش گوار بنادیتی ہے۔ سکھانے کے ساتھ ساتھ، سیکھنے کی ذہنیت بھی اساتذہ کو بہت ساری نفسیاتی پریشانیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
سوال کا جواب نہ جانتے ہوئے بھی، جب استاذ اپنے اسٹوڈنٹ کی یہ کہتے ہوئے تعریف کرتا ہے کہ اس نے ‘بہت اہم سوال’ پوچھا ہے، اور پھر خود ہی یہ اعتراف بھی کرتا ہے کہ صحیح نوعیت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ آج اپنے جواب سے طلبا کو مطمئن نہیں کرپائے گا، مگر کل وہ یقیناً ایک جامع جواب فراہم کرے گا؛ تب مذکورہ طالب علم ہی نہیں، پوری کلاس اپنے ٹیچر کے ‘احترام’ میں کچھ اس طرح جھک جاتی ہے، گویا وہ ہمیشہ کے لیے ان کی قرضدار ہوگئی ہے۔ ایسا ہی ایک باوقار ٹیچر مجھے اسی یونی ورسٹی کے کیمسٹری ڈپارٹمنٹ میں مل چکا ہے۔ قابل تقلید شخصیت کے مالک یہ استاد محترم اپنی غلطی کی نشاندہی کیے جانے پر نہ صرف ‘ساری’
(sorry)
بول سکتے تھے، بلکہ غلطی بتانے والے طالب علم کو اپنے سینے سے لگا کر اس کی خوب ستائش بھی کیا کرتے تھے۔ بلا شبہ، ایسی صالح خصلت کے اساتذہ اپنے تلامذہ کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

یہاں تک پہنچتے پہنچتے یہ واضح ہو گیا ہے کہ پڑھائی کے معاملے میں اپنے طلبا کو ہر زاویہ سے مطمئن رکھنے کے لیے، اساتذہ کا خود اپنے موضوعات کو مسلسل اپنے مطالعہ میں بنائے رکھنا ضروری ہی نہیں، ناگزیر بھی ہے۔ اسی کے ساتھ، اپنے تدریسی عمل کو بلند خود اعتمادی کی سطح پر انجام دینے کے لیے، کسی ٹیچر کا اپنے سبجیکٹ پر دسترس رکھنا ہی کافی نہیں؛ اُس کو آگے بڑھ کر، استاد رہتے ہوئے بھی، ایک طالب علم کے اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے ہوں گے۔ وہی استاد اچھے استاد ثابت ہوتے ہیں جو سکھانے کے ساتھ ساتھ، خود سیکھنے کے عمل کو بھی اپنے اندر زندہ رکھتے ہیں۔ ہر ایک صورت حال میں، سیکھنے کے عمل
(Learning Process)
کو زندہ رکھنے والے اشخاص ہی بلند خود اعتمادی
(high self confidence)
کی زندگی جیتے ہیں۔ بلند خود اعتمادی کے حامل افراد نہ صرف خود خوش و خرم اور مطمئن زندگی بسر کرتے ہیں، بلکہ دوسرے انسانوں کی رہ نمائی کے معاملے میں بھی وہ ہمیشہ مشعل راہ ثابت ہوتے ہیں۔ ہمیشہ طالب علمانہ کیفیت میں مبتلا رہنے والے افراد دوسرے لوگوں کے مقابلے منفرد اور تاریخ ساز زندگی حاصل کرتے ہیں، کہیں بھی انہیں کوئی راستہ بند نظر نہیں آتا ہے۔ طالب علمانہ اوصاف کا حامل استاد ان سوالات کے جواب بھی فراہم کرسکتا ہے، جو ابھی تک اس کے علم میں نہیں تھے۔

مذکورہ صلاحیتوں کے زندہ دل اور حوصلہ مند اساتذہ یا دیگر اشخاص کو مزید رہ نمائی فراہم کرنے والا ایک اہم مضمون ہندوستان کے معروف مفکر اور عالم دین مولانا وحید الدین خاں (2021-1925) کی سرپرستی میں نئی دہلی سے اشاعت پذیر ہونے والی ماہانہ میگزین- ‘الرسالہ’ کے مارچ 1984 کے شمارے میں صفحہ 18 پر شائع ہوا ہے۔ اس خوب صورت اور حیات بخش مضمون کا عنوان ہے: “میں پڑھ کر پڑھائوں گا”.
یقیناً، اس مضمون کو زیر نظر تحریر میں شامل کر لینے سے قارئین کو بہت زیادہ ‘فکری’ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے، بشکریہ مکتبہ الرسالہ، اس کو ذیلی سطور میں بریکٹ کے اندر من وعن نقل کیا جاتا ہے:

[میں پڑھ کر پڑھاؤں گا:
فادر بنری ہراس (۱۹۵۶- ۱۸۸۹) ایک اسپینی مسیحی تھے۔ وہ ۳۴ سال کی عمر میں ۱۸ نومبر ۱۹۲۲ کو بمبئی کے ساحل پر اترے ۔ ہندستان کی زمین نے ان کو متا ثر کیا۔ ان کو محسوس ہوا کہ ان کے تبلیغی حوصلہ کے لیے اس ملک میں کام کا اچھا میدان ہے۔ انہوں نے طے کر لیا کہ وہ یہاں رہ کر اپنا تبلیغی کام انجام دیں گے۔ مگر ہندستان ان کا وطن نہیں تھا۔ کام سے پہلے ضروری تھا کہ یہاں ان کےلیے قیام کی کو ئی بنیاد ہو۔ یہاں اپنی جگہ بنا کر ہی وہ یہاں کی آبادی میں اپنے تبلیغی کام کو جاری رکھ سکتے تھے۔ انھوں نے طے کیا کہ ہندستان میں وہ بحیثیت معلم کے قیام کریں گے اور اس کے بعد کالج میں اور کالج کے باہر اپنے لیے کام کی تدبیر کریں گے۔ بمبئی کا ہراس انسٹی ٹیوٹ انہی کی یاد گار ہے۔

فادر ہراس
(Fr. Henry Heras)
چند دن بعد سینٹ زیویرس کا لج بمبئی کے پرنسپل سے ملے۔ وہ ایک تاریخ داں تھے۔ انھوں نے اپنے ملک سے تاریخ میں ڈگری لی تھی۔ پرنسپل نے ان کے کاغذات دیکھ کر پوچھا : “آپ یہاں کون سی تاریخ پڑھانا پسند کریں گے“۔ فادر ہراس نے فوراً جواب دیا “ہندستانی تاریخ”۔ پرنسپل کا اگلا سوال تھا: ہندستانی تاریخ میں آپ کا مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “کچھ نہیں”۔ “پھر آپ کیسے ہندستانی تاریخ پڑھائیں گے”، پرنسپل نے پوچھا۔ فادر ہر اس کا جواب تھا:
I shall study it.
میں ہندستانی تاریخ کا مطالعہ کر کے اپنے آپ کو تیار کروں گا۔ پھر اس کو پڑھاؤں گا۔

فادر ہراس جانتے تھے کہ معلمی کا کام وہ بطور پیشہ نہیں اختیار کر رہے ہیں کہ یورپ کی تاریخ یا جو مضمون بھی وہ چاہیں پڑھائیں اور مہینہ کے آخر میں تنخواہ لے کر مطمئن ہو جائیں ۔ ان کےلیے معلمی کا کام ایک خاص مقصد کی خاطر تھا۔ اور وہ یہ کہ وہ اپنے تبلیغی کام کے لئے مناسب بنیاد فراہم کریں اور اس مقصد کے اعتبار سے ان کے لیے “ہندستانی” تاریخ سب سے زیادہ موزوں مضمون تھا۔ وہ ہندستان میں تھے اس لیے ہندستانی تاریخ کے معلم بن کر وہ زیادہ بہتر طور پر یہاں کے نوجوانوں میں اپنے دین کی تبلیغ کر سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہندستان کی تاریخ سے نا آشنا ہونے کے باوجود انھوں نے اپنے مضمون کےلیے ہندستانی تاریخ کو پسند کیا۔

انہوں نے ہندستانی تاریخ کے مطالعہ میں اتنی زیادہ محنت کی کہ وہ نہ صرف اس مضمون کے اچھے معلم بن گئے بلکہ ہندستانی تاریخ میں سرجدو ناتھ سرکار اور ڈاکٹر سریندر ناتھ سین کے درجہ کے مورخ کی حیثیت حاصل کرلی۔]

ایک اور پہلو سے دیکھا جائے تو تسلسل کے ساتھ سیکھنے اور سمجھنے کے عمل سے وابستہ افراد ذہنی طور پر ہی نہیں جسمانی طور پر بھی دیر تک ہشاش بشاش نظر آتے ہیں؛ آخرش، جسمانی صحت کا دارومدار ذہنی صحت پر جو ہوتا ہے۔ جہاں ایک طرف، صرف پِیشہ اور روزگار کے طور پر وقت گزارنے والے اساتذہ عام طور پر ساٹھ، باسٹھ یا پینسٹھ سال کی عمر میں ریٹائر(تدریسی ذمے داریوں سے سبکدوش) ہو جاتے ہیں، تو وہیں دوسری جانب اپنے سوچنے اور سیکھنے کے عمل کو زندہ رکھنے والے اساتذہ دنیا کے موجودہ علوم کے اندر بھی اپنی فکری کاوشوں اور نئی نئی دریافتوں
(Discoveries)
کے توسط سے مزید اضافے کی وجہ بنتے رہتے ہیں۔ ایسی منفرد شخصیت کے حامل افراد پڑھاتے پڑھاتے، خود کب اتنا زیادہ پڑھ کر اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کر لیتے ہیں کہ اپنے تدریسی منصب سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی’نوبل پرائز’
(Nobel Prize)
جیسے اعزازات کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ بلا شبہ، اس علمی اور فکری نوعیت کے انسان ہمیشہ ہی قوم و ملت کا گرانقدر سرمایہ ہوتے ہیں۔

ٹیچر کی شکل میں اسٹوڈنٹ بنے رہنے کے خوش آئند نتائج کا ادراک حاصل کرنے میں دلچسپی رکھنے والے اشخاص کو نوبل انعام یافتہ افراد کی فہرست کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جوانی کے ایام کو چھوڑیے، صرف 60 سال سے لے کر 97 سال تک کی عمر میں یہ انعام حاصل کرنے والے اسکالرز
(Scholars)
کی تعداد ہی کئی سو کی گنتی پر مشتمل ہے۔ اسی حوالے سے، نوبل انعام حاصل کرنے والے دنیا کے معمر ترین شخص کا ریکارڈ معروف سائنسداں- جان گوڈینَف
(John Bannister Goodenough:1922-2023)
کے نام درج ہے۔ انہیں سنہ 2019 عیسوی میں، جب کہ ان کی عمر 97 سال ہو چکی تھی، کیمسٹری
(Chemistry)
کے میدان میں نوبل پرائز سے سرفراز کیا گیا۔

اوپر مذکور جس تحریر کی رغبت سے میں نے یہ مضمون تصنیف کیا ہے، اس میں اساتذہ کو عمومی غلطیوں سے محفوظ رہنے کے لیے بھی کچھ مشورے دیے گئے تھے۔ مگر ان میں ایک بنیادی نصیحت ہی شامل نہیں تھی، یعنی اپنے استاذ ہونے کے مرتبے کی شان اور درس و تدریس کی ذمے داریوں کے برخلاف کام کرنے والے اساتذہ پر یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ ان کی تمام کارکردگی اور جملہ سرگرمیاں اللہ رب العزت کے علم میں رہتی ہیں، اور پھر اس کے حضور پیش ہونے کے لیے، ایک دن موت کا واقع ہونا بھی برحق ہے۔

موجودہ امتحانی دنیا میں، انسانوں کو ارادہ اور اختیار کی آزادی سے سرفراز کیا گیا ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں وہ کون خوش نصیب افراد ہیں جو کسی دباؤ یا مجبوری کے بغیر آزادی کے غلط استعمال سے خود کو بچاتے ہیں، اور ربانی ہدایت کی صراط مستقیم پر قائم رہ کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ عملی اعتبار سے کچھ انسانی کمزوریوں کے باوجود، اس طرح کے افراد کی نیت اور مقاصدِ حیات عام طور پر پاکیزہ رہتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی ہم سب پر ہمیشہ واضح رہنی چاہیے کہ نیت، ارادہ اور علم و عمل کی پاکیزگی جنت میں داخلے کی بنیادی اہلیت ہے۔

بلا شبہ، آزادی کے استعمال میں غلطی ہو جانا انسان ہونے کی علامت
(To err is human)
ہے۔ اس کے باوجود، غلطیوں اور کوتاہیوں کو بھی معافی اور تلافی کے عمل سے گزار کر پاکیزہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہاں معافی اور تلافی کا معاملہ بندوں اور ان کے پروردگار، دونوں سے متعلق ہے۔ توبہ اور اصلاح کے ساتھ غلطیاں، یہاں تک کہ گستاخیاں بھی قابل معافی ہوتی ہیں، بشرطیکہ وہ ‘سرکشی’ کے درجہ میں داخل نہ ہو جائیں۔ جہاں تک سرکشی کا معاملہ ہے، وہ تو گویا ربِ ذوالجلال کے سامنے اپنی عاجزی کے احساس سے ڈھ جانے کے بجائے ڈٹ جانے کی جسارت ہے۔ سرکش یا متکبر افراد کے لیے خدا کے عذاب کی وعید تو ہے، اس کی بہشت کا وعدہ نہیں۔ لیکن، اس سب کے باوجود، اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں کا بھی جواب نہیں۔
لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ،
یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو(سورۃ الزمر-39: 53) کے اصول پر متکبرین بھی اعترافِ جرم اور صدق دل سے توبہ کے ساتھ اپنے پروردگار کی پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔

بات چوں کہ طلبا کی تعلیم
(education)
و تعلم
(learning)
کو بہتر بنانے کے تعلق سے اساتذہ کی غلطیوں، کوتاہیوں اور بری عادات کی ہورہی ہے؛ اس لیے ادارتی پہلو سے بھی اس کا سدباب ہونا ضروری ہے۔ منتظمین کو چاہیے کہ تعلیمی معاملات کو بامعنی بنائے رکھنے کے لیے، وہ بھی اپنے ٹیچرز کی سرگرمیوں پر نظر بنائے رکھیں۔ وقتاً فوقتاً، کلاس میں اساتذہ کے تدریسی طور طریقوں کے بارے میں مطمئن ہوتے رہیں۔ اس ضمن میں، الگ الگ طلبا سے بھی معلومات
(feedback)
اخذ کی جاسکتی ہیں، اس حکمت عملی کے ساتھ کہ ضروری معلومات بھی حاصل ہو جائیں اور ٹیچرس – اسٹوڈینٹس کے درمیان کسی طرح کا کوئی تنازع یا انتشار بھی پیدا نہ ہو۔
موصول معلومات کی تصدیق کرنے کی غرض سے متعلقہ ٹیچر کی کلاس میں کسی سینیر افسر کو بھی ناگہانی طور پر بھیجا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس طریقے کار کو چاق چوبند اور راز دارانہ طریقے سے نہ سنبھال پانے کی صورت میں اساتذہ کی اصلاح کا مقصد ہی فوت ہو سکتا ہے۔

اسکول انتظامیہ کو اسکول کے تعلیمی اور نفسیاتی ماحول کو خوش گوار اور فرحت بخش بنائے رکھنے کے ساتھ ساتھ، تھوڑے تھوڑے وقفے سے اپنے ٹیچرز کی ٹریننگ اور کائونسلِنگ
(Training and Counselling)
کا بندوبست بھی کرتے رہنا چاہیے، تاکہ وہ صحیح معنی میں تعلیم سے متعلق اپنی ذمے داریوں کا حق ادا کر سکیں۔ آخر کار، ماں باپ کی بنیادی تربیت کے بعد بچوں کو علم و آگہی اور مختلف علوم و فنون کی رنگارنگ دنیا سے متعارف کروانا، اور پھر بلند سطحی کائناتی مطالعے میں بھی علمی منازل طے کرنے میں ان کی مدد کرنا اساتذہ کا ہی کام ہوتا ہے۔ دریں اثنا، یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ فراہم کیا گیا مشورہ تبھی بارآور ہوسکتا ہے جب انتظامیہ خود بھی ادارے کے اساتذہ کے ساتھ ہمدردانہ اور منصفانہ سلوک روا رکھتی ہو اور انہیں تمام ضروری آسائش و سہولیات بھی بہم پہنچاتی ہو – عبدالرحمٰن
(سابق چیف مینیجر، الہ آباد بینک)
[24.01.2024 AD=12.07.1445 AH]

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *