یوں ہی جمہوریت میں ہاتھ سرداری نہیں آتی

 

یوں ہی جمہوریت میں ہاتھ سرداری نہیں آتی

          از : نیاز احمد سجاد

گزشتہ سال کا اختتام  اور نئے سال کی آمد ، دونوں کے حالات ایک جیسے ہیں نہ کسی کے جانے کا غم ہے اور نہ کسی کے آنے کی خوشی ہے۔ جس کشمکش میں سال کا اختتام ہوا ۔ محسوس یوں ہوا کہ سال اپنے ساتھ بہت کچھ سمیٹ کر لے گیا اور انسانیت نے وہ مناظر دیکھے جو شاید کسی ترقی یافتہ دور میں اب نہ دیکھنے کو نہ ملیں۔ اپنے آپ کو مہذب اور انٹیلیکچوئل کہنے والی قوم اور ممالک نے سسکتی ہوئی انسانیت پہ نمک پاشی کا جو کارہائے نمایاں انجام  دیا ہے۔  وہ تاریخ کے پنوں میں نقش حجر کی طرح ثبت ہو گئے اور رہتی دنیا تک اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔

اپنا ملک ہندوستان جو  اپنا 75واں جشن جمہوریہ منا رہا ہے ۔ اور یہ دن صرف جشن منانے کا دن نہیں ہے بلکہ حکومت اور عوام کے نمائندوں کا محاسبہ کا بھی دن ہے کہ آزادی کے وقت ہم کہاں تھے اور اب کہاں ہیں ۔ہندوستان پوری دنیا میں اپنی کثیر اللسان اور گنگا جمنی تہذیب کے لئے معروف و مشہور ہے ۔ یہاں کی مٹی بہت زرخیز ہے۔ یہاں کی تہذیب و ثقافت کو پوری دنیا میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ یہ ملک جہاں حضرت معین الدین چشتی اجمیری، حضرت نظام الدین اولیاء،  ٹیپو سلطان ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی و دیگر علماء کرام و صوفیاء عظام کا احسان مند ہے تو  وہیں گرو نانک اور گوتم بدھ ، سوامی وی ویکانند  اور دیگر رشی منیوں کی اصلاحی و تعمیری کوششوں کو بھی سراہا اور اپنایا جاتا ہے ۔ یہ ملک صوفیوں ، سنتوں  اور رشی منیوں کا دیش ہے۔ یہ ملک جہاں ہر طرح  کے مذہبی ، دینی اور دھارمک  مصلحین و مجتہدین  پیدا ہی نہیں ہوئے بلکہ اپنے خون و پسینے سے سینچ کر ایک ایسا گلدستہ پوری دنیا کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو دیا  ۔ جس کی مثال کرۂ ارض پر پھیلی پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ ہندوستان کی قدیم تاریخ سے لیکر جدید ہندوستان تک اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ ملک کی آزادی میں بلا تفریق مذہب و ملت لاکھو لوگوں نے قربانیاں دیں۔ جیلوں اور سلاخوں کی ہوائیں کھائیں بالآخر ہندوستان کو غلامی کی زنجیروں سے نکال ہی کر دم لیا۔ اور ہندوستان کی جمہوری و سیکولر نظام کو مضبوط کرنے میں جو کارہائے نمایاں انجام دیئے اور  اکابرین اور ڈاکٹر امبیڈکر اور ان کی ٹیم نے نے جو قانون مرتب کیا وہ ایک سیکولر اور جمہوری ملک کے لئے ناگزیر تھا۔ ہر ایک کی نمائندگی ، ہر ایک کے حقوق کی پاسداری کا مکمل خیال رکھا گیا ایسا مجموعہ قوانین کا نفاذ جس کی نظیر موجودہ خطۂ ارض پر نہیں ملتی۔ ہر ایک کو قانونی طور پر برابر کے حقوق حاصل ہیں ۔خواہ کسی بھی فرد کا تعلق کسی مذہب ، کسی فرقے یا کسی خطے سے ہو۔ عوام کا ہر سرکاری نمائندہ سیکولر ہوگا اور وہ اپنے تعامل میں کسی بھید بھاؤ کا برتاؤ نہیں کرے گا۔ ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی ایسی آمیزش کسی جگہ نہیں پائی جاتی ۔ عدلیہ نظام خود مختار اور آزاد ہوگا ۔ حکومت کا عمل دخل کسی بھی ناحیہ سے نہیں ہوگا ۔ عدلیہ کے فیصلے ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر ہوں گے۔ لیکن رفتہ رفتہ مرور زمانہ کے ساتھ لوگوں اور سرکاری نمائندوں کے ساتھ عدلیہ بھی متزلزل ہوا ۔ جس کی نظیر اور مثال ابھی حالیہ دنوں میں دیکھنے کو ملی اور عدلیہ سے جڑے  ججوں اور ماہرینِ قانون لوگوں کے بیانات بھی وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ کے ” جسٹس ابھے شرینیواس اوکا” نے انصاف کی فراہمی میں عدلیہ کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا اعتماد ملک کی عدلیہ پر کافی حد تک کم ہوگیا ہے اور یہ بھی کہا کہ ججوں کو گوشۂ عافیت میں نہیں رہنا چاہیے اور 75 سالوں میں ہم نے کیا کیا ہے۔ محاسبہ کر کے ہمیں عوام کو یہ بتانا چاہیے کہ واقعی عدالتوں نے وہ مقام حاصل کیا ہے جو ایک عام آدمی چاہتا ہے۔ اگر واقعی ایسی صورت حال ہے ۔ جس کا ذکر جسٹس موصوف نے ایک پروگرام میں کیا ہے تو عوام سے لے کر خواص تک کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے  کیونکہ وہ کسی سیاسی یا چناوی یا انتخابی بھاشن نہیں تھا۔ جسے سرسری طور پر لیتے ہوئے منہ موڑ لیا جائے بلکہ اسے سنگین اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس پر مل بیٹھ کے سوچنے اور اس کے تدارک کی تدبیروں پر لائحۂ عمل بنانے کی ضرورت ہے ۔ تو دوسری طرف نائب صدر جمہوریہ ہند جناب جگدیپ دھنکھر جی کا نئی دلی میں منعقدہ رائزنگ انڈیا سمٹ  پروگرام میں یہ کہنا کہ “جمہوریت میں کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا  کیا یہ بھی ایک جملہ تھا یا حقیقت کی ترجمانی ۔ یہ تو آنے والے حالات ہی بتائیں گے کہ کیا تھا ۔ لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آزاد ہندوستان میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ تھا جس میں بلقیس بانو کے ساتھ ظلم و تشدد کرنے والوں کو بری کئے جانے کے فیصلے پر روک لگاتے ہوئے دو ہفتے کے اندر خود سپردگی کرنے کو کہا گیا  اور اس کے خلاف مہلت کی مدت میں توسیع کے پیٹیشن کو بھی سپریم کورٹ نے خارج کردیا اور کہا کہ کسی طرح کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ اقدام قابل تحسین بھی ہے اور لائق تقلید بھی۔

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

ہندوستان کی جمہوریت کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور اس میں حالات اور واقعات کی ناہمواری کے چلتے وقتی طور پر جڑیں متزلزل تو ہو سکتی ہیں لیکن اکھڑ نہیں سکتیں۔ آئندہ ہونے والے لوک سبھا انتخابات پورے ملک کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جمہوریت اپنی ماضی کی شکل میں باقی رہے گی یا یہ جمہوریت بنام آمریت اور  ڈکٹیٹر شپ کی طرف مائل ہوگی۔ چونکہ سیاسی شعور اور لوگوں کے رجحانات یکسر تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں اور اپنے احساسات اور جذبات کو ملک کی سلامتی اور استحکام کی ترقی سے بالاتر سمجھ رہے ہیں جبکہ  اس کے برعکس ہونا چاہیے تھا ۔ دستوری تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر کرسی اور  جاہ و جلال کے لئے سب کو قربان کیا جا رہا ہے ۔ اپنے وقار کے آگے ملک و ملت کا وقار داؤں پر لگایا جا رہا ہے ۔ مذہبی مداخلت کو سیاست کا حصہ اور جمہوریت کی پہچان بتاکر سیکولرزم کا خون کیا جا رہا ہے ۔ جو ملک کی ترقی اور خوشحالی میں ایک منفی کردار کے طور پر اپنا رول ادا کر سکتا ہے۔ جبکہ جمہوریت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جمہوریت نام ہی ہے ۔ عوام کی حکومت اور عوام ہی اس کا فیصلہ کرتی ہے اور عوام کا متفقہ فیصلہ ہی کسی کو حکومت کا باگ ڈور سنبھالنے کے لیے منتخب کرتا ہے اور وہ عوام کا نمائندہ ہوتا ہے ڈکٹیٹر نہیں۔ اب عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں کون مثبت رول کر سکتا ہے اور امن و شانتی اور ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے کون قربانی دے سکتا ہے۔ ملک کے سیکولر اور جمہوری اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کون موزوں ثابت ہو سکتا ہے ۔ اصحاب فکر و نظر اور ملک کے سرکردہ لوگوں پہ ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے کہ آئین کی حکمرانی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے کمر بستہ ہو کر اپنا مثبت اور  صحیح حکمت عملی تیار کر کے عوام کی رہنمائی کریں اور ہندوستان کی آزادی کے خاطر جو قربانیاں دی گئی تھیں اس کی صحیح تعبیر اور تصویر پیش کر کے وطن عزیز کی حفاظت کریں اور ہندوستان کی موجودہ مسموم ہواؤں کو معطر کریں ۔ ملک بھارت میں پھیلتی مذہبی انارکی ، سیاسی تعصبات اور ذات پات سے پاک کرکے ملک کی فلاح و بہبود کی فکر کریں ۔ ہندوستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے جمہوریت پہ جو خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اس کو صاف کر نے کی ضرورت پر زور دیں ۔ اور بر وقت اس پر قدغن لگا کر فضا کو مکدر ہونے سے بچائیں، جمہوریت و سیکولرزم کی بقاء کی فکر ، اور ملک کو مذہبی اجارہ داری سے نجات دلا کر  ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک نئی پہچان بنائیں اور ملک ہندوستان کو پیچھے دھکیلنے کے بجائے آگے کی طرف لے جائیں۔ عوام و جمہور کے فلاح و بہبود اور خدمت خلق کو اپنا مشن بنائیں اور لوک تنتر کو لوک تنتر ہی رہنے دیا جائے اسے دھرم تنتر نہ بنایا جائے۔۔۔

جھکانا سیکھنا پڑتا ہے سر لوگوں کے قدموں میں

یوں ہی جمہوریت میں ہاتھ سرداری نہیں آتی

neyazahmad97@gmail.com

 

یوں ہی جمہوریت میں ہاتھ سرداری نہیں آتی

          از : نیاز احمد سجاد

گزشتہ سال کا اختتام  اور نئے سال کی آمد ، دونوں کے حالات ایک جیسے ہیں نہ کسی کے جانے کا غم ہے اور نہ کسی کے آنے کی خوشی ہے۔ جس کشمکش میں سال کا اختتام ہوا ۔ محسوس یوں ہوا کہ سال اپنے ساتھ بہت کچھ سمیٹ کر لے گیا اور انسانیت نے وہ مناظر دیکھے جو شاید کسی ترقی یافتہ دور میں اب نہ دیکھنے کو نہ ملیں۔ اپنے آپ کو مہذب اور انٹیلیکچوئل کہنے والی قوم اور ممالک نے سسکتی ہوئی انسانیت پہ نمک پاشی کا جو کارہائے نمایاں انجام  دیا ہے۔  وہ تاریخ کے پنوں میں نقش حجر کی طرح ثبت ہو گئے اور رہتی دنیا تک اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔

اپنا ملک ہندوستان جو  اپنا 75واں جشن جمہوریہ منا رہا ہے ۔ اور یہ دن صرف جشن منانے کا دن نہیں ہے بلکہ حکومت اور عوام کے نمائندوں کا محاسبہ کا بھی دن ہے کہ آزادی کے وقت ہم کہاں تھے اور اب کہاں ہیں ۔ہندوستان پوری دنیا میں اپنی کثیر اللسان اور گنگا جمنی تہذیب کے لئے معروف و مشہور ہے ۔ یہاں کی مٹی بہت زرخیز ہے۔ یہاں کی تہذیب و ثقافت کو پوری دنیا میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ یہ ملک جہاں حضرت معین الدین چشتی اجمیری، حضرت نظام الدین اولیاء،  ٹیپو سلطان ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی و دیگر علماء کرام و صوفیاء عظام کا احسان مند ہے تو  وہیں گرو نانک اور گوتم بدھ ، سوامی وی ویکانند  اور دیگر رشی منیوں کی اصلاحی و تعمیری کوششوں کو بھی سراہا اور اپنایا جاتا ہے ۔ یہ ملک صوفیوں ، سنتوں  اور رشی منیوں کا دیش ہے۔ یہ ملک جہاں ہر طرح  کے مذہبی ، دینی اور دھارمک  مصلحین و مجتہدین  پیدا ہی نہیں ہوئے بلکہ اپنے خون و پسینے سے سینچ کر ایک ایسا گلدستہ پوری دنیا کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو دیا  ۔ جس کی مثال کرۂ ارض پر پھیلی پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ ہندوستان کی قدیم تاریخ سے لیکر جدید ہندوستان تک اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ ملک کی آزادی میں بلا تفریق مذہب و ملت لاکھو لوگوں نے قربانیاں دیں۔ جیلوں اور سلاخوں کی ہوائیں کھائیں بالآخر ہندوستان کو غلامی کی زنجیروں سے نکال ہی کر دم لیا۔ اور ہندوستان کی جمہوری و سیکولر نظام کو مضبوط کرنے میں جو کارہائے نمایاں انجام دیئے اور  اکابرین اور ڈاکٹر امبیڈکر اور ان کی ٹیم نے نے جو قانون مرتب کیا وہ ایک سیکولر اور جمہوری ملک کے لئے ناگزیر تھا۔ ہر ایک کی نمائندگی ، ہر ایک کے حقوق کی پاسداری کا مکمل خیال رکھا گیا ایسا مجموعہ قوانین کا نفاذ جس کی نظیر موجودہ خطۂ ارض پر نہیں ملتی۔ ہر ایک کو قانونی طور پر برابر کے حقوق حاصل ہیں ۔خواہ کسی بھی فرد کا تعلق کسی مذہب ، کسی فرقے یا کسی خطے سے ہو۔ عوام کا ہر سرکاری نمائندہ سیکولر ہوگا اور وہ اپنے تعامل میں کسی بھید بھاؤ کا برتاؤ نہیں کرے گا۔ ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی ایسی آمیزش کسی جگہ نہیں پائی جاتی ۔ عدلیہ نظام خود مختار اور آزاد ہوگا ۔ حکومت کا عمل دخل کسی بھی ناحیہ سے نہیں ہوگا ۔ عدلیہ کے فیصلے ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر ہوں گے۔ لیکن رفتہ رفتہ مرور زمانہ کے ساتھ لوگوں اور سرکاری نمائندوں کے ساتھ عدلیہ بھی متزلزل ہوا ۔ جس کی نظیر اور مثال ابھی حالیہ دنوں میں دیکھنے کو ملی اور عدلیہ سے جڑے  ججوں اور ماہرینِ قانون لوگوں کے بیانات بھی وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ کے ” جسٹس ابھے شرینیواس اوکا” نے انصاف کی فراہمی میں عدلیہ کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا اعتماد ملک کی عدلیہ پر کافی حد تک کم ہوگیا ہے اور یہ بھی کہا کہ ججوں کو گوشۂ عافیت میں نہیں رہنا چاہیے اور 75 سالوں میں ہم نے کیا کیا ہے۔ محاسبہ کر کے ہمیں عوام کو یہ بتانا چاہیے کہ واقعی عدالتوں نے وہ مقام حاصل کیا ہے جو ایک عام آدمی چاہتا ہے۔ اگر واقعی ایسی صورت حال ہے ۔ جس کا ذکر جسٹس موصوف نے ایک پروگرام میں کیا ہے تو عوام سے لے کر خواص تک کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے  کیونکہ وہ کسی سیاسی یا چناوی یا انتخابی بھاشن نہیں تھا۔ جسے سرسری طور پر لیتے ہوئے منہ موڑ لیا جائے بلکہ اسے سنگین اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس پر مل بیٹھ کے سوچنے اور اس کے تدارک کی تدبیروں پر لائحۂ عمل بنانے کی ضرورت ہے ۔ تو دوسری طرف نائب صدر جمہوریہ ہند جناب جگدیپ دھنکھر جی کا نئی دلی میں منعقدہ رائزنگ انڈیا سمٹ  پروگرام میں یہ کہنا کہ “جمہوریت میں کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا  کیا یہ بھی ایک جملہ تھا یا حقیقت کی ترجمانی ۔ یہ تو آنے والے حالات ہی بتائیں گے کہ کیا تھا ۔ لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آزاد ہندوستان میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ تھا جس میں بلقیس بانو کے ساتھ ظلم و تشدد کرنے والوں کو بری کئے جانے کے فیصلے پر روک لگاتے ہوئے دو ہفتے کے اندر خود سپردگی کرنے کو کہا گیا  اور اس کے خلاف مہلت کی مدت میں توسیع کے پیٹیشن کو بھی سپریم کورٹ نے خارج کردیا اور کہا کہ کسی طرح کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ اقدام قابل تحسین بھی ہے اور لائق تقلید بھی۔

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

ہندوستان کی جمہوریت کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور اس میں حالات اور واقعات کی ناہمواری کے چلتے وقتی طور پر جڑیں متزلزل تو ہو سکتی ہیں لیکن اکھڑ نہیں سکتیں۔ آئندہ ہونے والے لوک سبھا انتخابات پورے ملک کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جمہوریت اپنی ماضی کی شکل میں باقی رہے گی یا یہ جمہوریت بنام آمریت اور  ڈکٹیٹر شپ کی طرف مائل ہوگی۔ چونکہ سیاسی شعور اور لوگوں کے رجحانات یکسر تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں اور اپنے احساسات اور جذبات کو ملک کی سلامتی اور استحکام کی ترقی سے بالاتر سمجھ رہے ہیں جبکہ  اس کے برعکس ہونا چاہیے تھا ۔ دستوری تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر کرسی اور  جاہ و جلال کے لئے سب کو قربان کیا جا رہا ہے ۔ اپنے وقار کے آگے ملک و ملت کا وقار داؤں پر لگایا جا رہا ہے ۔ مذہبی مداخلت کو سیاست کا حصہ اور جمہوریت کی پہچان بتاکر سیکولرزم کا خون کیا جا رہا ہے ۔ جو ملک کی ترقی اور خوشحالی میں ایک منفی کردار کے طور پر اپنا رول ادا کر سکتا ہے۔ جبکہ جمہوریت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جمہوریت نام ہی ہے ۔ عوام کی حکومت اور عوام ہی اس کا فیصلہ کرتی ہے اور عوام کا متفقہ فیصلہ ہی کسی کو حکومت کا باگ ڈور سنبھالنے کے لیے منتخب کرتا ہے اور وہ عوام کا نمائندہ ہوتا ہے ڈکٹیٹر نہیں۔ اب عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں کون مثبت رول کر سکتا ہے اور امن و شانتی اور ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے کون قربانی دے سکتا ہے۔ ملک کے سیکولر اور جمہوری اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کون موزوں ثابت ہو سکتا ہے ۔ اصحاب فکر و نظر اور ملک کے سرکردہ لوگوں پہ ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے کہ آئین کی حکمرانی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے کمر بستہ ہو کر اپنا مثبت اور  صحیح حکمت عملی تیار کر کے عوام کی رہنمائی کریں اور ہندوستان کی آزادی کے خاطر جو قربانیاں دی گئی تھیں اس کی صحیح تعبیر اور تصویر پیش کر کے وطن عزیز کی حفاظت کریں اور ہندوستان کی موجودہ مسموم ہواؤں کو معطر کریں ۔ ملک بھارت میں پھیلتی مذہبی انارکی ، سیاسی تعصبات اور ذات پات سے پاک کرکے ملک کی فلاح و بہبود کی فکر کریں ۔ ہندوستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے جمہوریت پہ جو خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اس کو صاف کر نے کی ضرورت پر زور دیں ۔ اور بر وقت اس پر قدغن لگا کر فضا کو مکدر ہونے سے بچائیں، جمہوریت و سیکولرزم کی بقاء کی فکر ، اور ملک کو مذہبی اجارہ داری سے نجات دلا کر  ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک نئی پہچان بنائیں اور ملک ہندوستان کو پیچھے دھکیلنے کے بجائے آگے کی طرف لے جائیں۔ عوام و جمہور کے فلاح و بہبود اور خدمت خلق کو اپنا مشن بنائیں اور لوک تنتر کو لوک تنتر ہی رہنے دیا جائے اسے دھرم تنتر نہ بنایا جائے۔۔۔

جھکانا سیکھنا پڑتا ہے سر لوگوں کے قدموں میں

یوں ہی جمہوریت میں ہاتھ سرداری نہیں آتی

neyazahmad97@gmail.com

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *