مملکت توحید کی دعوتی سرگرمیاں

مملکت توحید کی دعوتی سرگرمیاں
ڈاكٹر محمد يوسف حافظ ابو طلحہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
دنیا میں توحید سے بڑی کوئی سچائی نہیں اور شرک سے بڑھ کر کوئی برائی نہیں ہے۔ اس حقیقت کو جاننا اور سمجھنا بظاہر جتنا آسان اور معمولی لگتا ہے اس پر ثابت قدم رہنا، اس کی طرف دعوت دینا اور عمل ودعوت کی راہ میں پیش آنے والے مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرنا اتنا ہی مشکل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ توحید کی دعوت دینا اور شرک سے باز رہنے کی تلقین کرنا تمام انبیاء کی بعثت کا بنیادی مقصد تھا۔ انبیاء کے بعد ان کے سچے وارثین کی دعوت کا بھی بنیادی موضوع اور اولین ترجیح توحید ہی رہا ہے۔ چنانچہ ہر دور میں علماۓ اہل سنت والجماعت توحید کی حقیقت مدلل انداز میں بیان کرتے رہے ہیں،اور شرک وبدعات اور ان تمام فکری انحرافات کا جائزہ لیتے رہے ہیں جن سے توحید کی حقیقت پر ضرب پڑتی ہو اور اس کے صحیح تصور میں خلل آتا ہو۔ یہ تمام تر فکری انحرافات گرچہ مختلف علاقوں اور زمانوں میں مختلف عوامل ومحركات کے سبب مختلف انداز سے نمودار ہوتے ہیں۔ لیکن پس پردہ دین اسلام کو نفسانی خواہشات کے مطابق ڈھالنےاور رائج الوقت افکار ونظریات سے ہم آہنگ کرنے کا محرک عموما کارفرما ہوتا ہے۔ خواہ اس مذموم مقصد کے لئے کتاب وسنت کے الفاظ ومعانی میں تحریف، اور امت کے متفق علیہ مسلّمہ اصول کی فاسد تاویل ہی كيوں نہ کرنا پڑے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسلام کے نظام توحید کی حقیقت مسخ ہوجاتی ہے اور اس کی تاثیر جاتی رہتی ہے۔
چونکہ توحید کی سچائی دنیا کے سامنے پیش کرنا، اس کی طرف دعوت دینا، اس کے مقامات کھول کھول کر بیان کرنا، اور اہل باطل پر رد کرنا بڑی بہادری اور اولوالعزمی کا کام ہے اس لیے اس عظیم دعوتی مشن کو توحید الہی سے لبریز انبیاء کے سچے پیروکار ہی انجام دے پاتے ہیں اور اس راہ میں پیش آنے والے تمام تر آزمائشوں اور اذیتوں کو رضائے الہى كى خاطر برداشت کرتے ہیں۔
اللہ رب العالمین کا بے پایاں فضل واحسان ہے کہ اس نے بارہویں صدی ہجری/اٹھارہویں عیسوی میں جزیرۂ عرب میں اس عظیم مشن کے لئے امام محمد بن عبد الوہاب (ت1206ھ) کو توفیق بخشی۔ چنانچہ آپ نے اپنا جان ومال توحید کی اشاعت اور شرک وبدعات کى رد ک تھام كے لئے وقف کردیا۔ اسی دعوت سے متاثر ہوکر سعودی حکام نے روز اول سے ہى دعوت الی اللہ، اور توحید کی نشر واشاعت کی طرف خصوصی توجہ مبذول فرمائی۔
شاہ عبد العزیز آل سعود -رحمہ اللہ- کے ہاتھوں جدید تیسری سعودی ریاست (حالیہ سعودی عرب) کے قیام نے اس خصوصی توجہ کو مہمیز لگایا۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے سعودی عرب کے طول وعرض میں مدارس وجامعات، دعوتی مراکز، اور حفظ قرآن کے باضابطہ حلقات قائم ہوگئے۔ دنیا بھر سے طلبہ علمی تشنگی بجھانے کے لئے سعودی جامعات کا رخ کرنے لگے۔ روز اول سے تفسیر وحدیث، عقیدہ فقہ اور مختلف علوم وفنوں کی کتابوں کی اشاعت اورمفت تقسیم کا اہتمام كيا گيا ۔ قرآن کی طباعت، اور اس کے تراجم کی اشاعت کے لئے مستقل شاہ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس کا قیام، اور حال ہی میں شاہ سلمان حدیث کمپلیکس کا قیام اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ شاہ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس نے تین سو اکسٹھ (361) قسم کی متنوع مطبوعات ومنشورات شائع کی ہیں، اور افتتاح سے لیکر اب تک سینتیس سال میں تقریبا بتیس کروڑ مطبوعات ومنشورات تقسیم کرچکاہے، اور فی الحال ایک سال میں ایک کروڑ اسّی لاکھ سے زیادہ مختلف مطبوعات ومنشورات شائع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی طرح اسلامی امور، اور دعوت وارشاد کے لئے باضابطہ ایک منسٹری قائم کى گئى۔ جو سعودی عرب کے اندرونی دعوتی سرگرمیاں کے علاوہ بیرونی دعوتی سرگرمیوں کا بھی خصوصی اہتمام کرتى ہے۔
فی الحال، سعودی عرب کے وزیر اسلامی امور اور دعوت وارشاد، عزت مآب ڈاکٹر عبد اللطیف بن عبد العزيز آل الشیخ ہیں، جو کہ خانواده شيخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کے چشم وچراغ ہیں۔ آپ 2016ء سے یہ قلم دان سنبھال کر بحسن وخوبی اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے قلم دان سنبھالنے کے بعد دعوتی سرگرمیوں میں کافی اضافہ ہوا ہے-
آپ نے حال ہی میں (16 جنوری 2024ء کو) ایک سعودی ٹی۔وی چینل پر “في الصورة” نامى پروگرام ميں مشہور اینکر عبد اللہ المدیفر کو ایک طویل انٹرویو دیا ہے جسے مختلف حلقوں میں کافی سراہا گیا ہے۔ آپ نے مختلف سوالات کا اعداد وشمار کی روشنی میں تشفی بخش جواب دیا ہے ،مختلف مسائل کے تئیں اپنا موقف بالكل دو ٹوگ انداز ميں واضح كيا ہے ، اور اپنے عہدِ وزارت کے اہم کارناموں کا مختصرا ذكر بھى کیا ہے۔ يہ سارے كارنامے اہميت كے حامل ہيں، تاہم ان تمام كارناموں میں ہمارے لیے سعودی عرب میں نو مسلموں کی بڑھتى تعداد اور دعوتی سرگرمیوں کا اعداد وشمار لائق توجہ اور قابل رشك ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق سعودى عرب ميں مقيم مختلف ملكوں كے باشندے جو گزشتہ پانچ سالوں (2019-2023ء) میں مشرف بہ اسلام ہوئے ان كى تعداد تین لاکھ سے زائد (3,47,646) ہے ۔ تفصیلی اعداد وشمار کے مطابق 2019ء میں نومسلموں کی تعداد اکیس ہزار سے زائد (21,654)، 2020ء میں اکتالیس ہزار سے زائد (41,441)، 2021ء میں ستائیس ہزار سے زائد (27,333)، 2022ء میں تيرانوے ہزار سے زائد (93,899)، جبکہ 2023ء میں ایک لاکھ ترسٹھ ہزار سے زائد (163,319) ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق نو مسلموں کی تعداد میں قابل قدر اضافہ کی ایک بنیادی وجہ سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔
اسی طرح گزشتہ پانچ سالوں (2019-2023ء) میں وزارت برائے اسلامی امور کی طرف سے منعقد دعوتی پروگراموں کی کل تعداد بانوے لاکھ سے زائد (92,62,406) ہے۔ تفصیلی اعداد وشمار کے مطابق 2019ء میں سرگرمیوں کی تعداد تقریبا سوا گیارہ لاکھ (11,20,817)، 2020ء میں تقريبا سات لاکھ (6,93,866)، 2021ء میں تقريبا سوا اکیس لاکھ (21,22,450)، 2022ء میں تقريبا پونے پچیس لاکھ (24,71,763)، جبکہ 2023ء میں ساڑھے اٹھائیس لاکھ سے زائد (28,53,510) دعوتی پروگرام منعقد ہوئے۔ اس اعداد وشمار ميں ايك قابل غور بات یہ ہے کہ (کورونا کی وجہ سے 2020ء کے استثناء کے ساتھ) ان سرگرمیوں میں ہر سال گزشتہ سال کی بنسبت کافی اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ یہ سرگرمیاں محض عارضی وعظ ونصیحت نہیں بلکہ باضابطہ منظم اور مستحکم لائحۂ عمل کے تحت انجام دی جاتى ہیں۔ جن میں عقیدۂ اہل سنت کا بیان، اہل باطل پر رد، فکری انحرافات کا جائزہ، فقہی احکام کی تعلیم، اور سماجی مسائل كے سلسلے ميں منظم رہمائى کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے۔ مختلف علوم وفنون میں اہل علم کی مستند کتابوں کی مختصر مدت میں باضابطہ تدریس ہوتی ہے۔ یہ کتابیں عموما عقیدہ وفقہ، تفسیر وحدیث، سیرت واخلاق سے تعلق رکھتی ہیں۔ تمام دروس میں توحید واتباع سنت کا پہلو نمایاں رہتا ہے۔
چونگہ سعودى عرب ميں علماء کرام اور داعیان حق کتاب وسنت کی روشنی میں خالص عقیدۂ توحید بیان کرتے ہیں اور شرک وبدعات اور فکری انحرافات کا رد کرتے ہیں اس لئے اہل باطل سعودى حكام اور علماء كے خلاف وقتا فوقتا مختلف قسم كے پروپیگنڈے كرتے رہتے ہيں؛ کیونکہ اہل باطل کا شیوہ ہے کہ جہاں اہل حق کو حسی تکلیف اور جسمانی اذیت نہيں دے سکتے ہیں وہاں یہ نفسیاتی حربے ضرور اپناتے ہیں، اور ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ تاکہ داعیان توحید کی ہمتیں پست ہوجائیں اور ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں۔
اللہ رب العالمین مملکت سعودی عرب کی حفاظت فرمائے، ان دعوتى کاوشوں کو قبول فرمائے، اور اس كاز كے راہبر اور تمام متعلقين كو مخلصانہ سعی ِپیہم کی توفیق عطا فرمائے۔ اور تمام مسلمانوں کو توحید سمجھنے، اس کے مطابق عمل کرنے اور اس کی طرف دعوت دینے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *