جمہوریت کی معنویت حقیقت کے آئین میں

جمہوریت کی معنویت حقیقت کے آئین میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از:سرفرازعالم ابوطلحہ اسلامی ندوی بابوآن ارریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وطن عزیز کی جمہوریت کئی پہلووں سے حقیقی معنویت رکھتی ہے، پہلا یہ ہے کہ جسے بھارت، ہندوستان، اور انڈیا یا آریا ورت کہاجاتا ہے، جس میں ہر شہری کو قانونی حقوق دیا گیا ہے، اس ملک ہندوستان میں بہت سے راجاؤں، بادشاہوں، اور مغلوں نے تقریباً صدیوں برس اپنی اپنی حکومتیں قائم کیں، مختلف و متنوع قسم کے محلات و تاریخی مقامات امام باڑے بنوائے اور اسی طرح اپنی حکومت جاری و ساری رکھا اسکے بعد دھیرے دھیرے انگریزوں نے ” بنام ایسٹ انڈیا کمپنی ” سے اپنی چالبازی اور حیلہ سازی شروع کردی اور آخر ہندوستان کو اپنی چنگل میں لے لیا، ہندوستان سونے کی چڑیا کہنے جانے والا ملک اب پوری طرح انگریزوں کی غلامی اور زنجیروں میں جکڑ کر رہ گیا، اس ملک کو مختلف نیتاؤں اور رہنماوں نے آزاد کرانے کے لئے اپنی اپنی قربانیوں جانفشانیوں اور بالی دان سے پھانسی کے پھندوں کو بخوشی اپنے گلے کا طوق بنایا، اسی طرح تخت دار پر لٹکایا گیا،کالا پانی کی سزائیں کاٹی، ملک و وطن کے لئے سب کچھ قربان کر دئیے یہاں تک گھر بار، دوکان، مکان تمام چیزیں وطن عزیز کی آزادی میں سپرد کر دئیے، اور انگریز ملک چھوڑو کا نعرہ بلند کر کے اور اسی طرح ریشمی رومال تحریک اور خون دو آزادی دیں گے جیسے نعروں سے انگریزوں کی سطوت و طاقت کو مسمار کردیا، پھر جا کر بالآخر وطن عزیز کو 15اگست 1947ء میں مکمل طور پر آزاد کرایا اور ایسی آزادی ملی کہ انگریزوں کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا، اس عظیم الشان لڑائی میں *ہندو، مسلم، سکھ ،عیسائی،*اور انڈین نیشنل کانگریس کا رول اور کردار سب سے زیادہ موثر رہا، لیکن اب بھی ہندوستان آزادی کے باوجود اپنا قانونی عمل کو درآمد نہیں لا سکا پھر لوگوں کی کوشش سے حکومت ہند ایکٹ جو 1935ء کو نافذ کیا گیا تھا، اسے منسوخ کرکے” آئین ہند ” *کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور آئین ہند کی عمل آواری جس میں *دستورِ ساز اسمبلی نے آئین ہند کو 26 جنوری 1947ء میں تنفیذی عمل میں لایا، اسی دن سے جمہوری طرز حکومت کا آغاز ہو گیا۔

جمہوریت کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمہوریت کیا ہے اس کو سمجھنے اور عوام الناس کو اس سے آگاہی حاصل کرانے کی اشد ضرورت ہے، چونکہ 2014ء سے لیکر 2024ء کی ابتدائی تک جو ملک ہندوستان کے حالات ہیں, اس کو دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت برائے نام رہ گئے ہیں،اس نظریہ کو دیکھتے ہوئے جمہوریت کی معنویت کو پورے واضح طور پر عوام الناس کے درمیان لانے کی نہایت ہی اہم ترین ضرورت بن گئی ہے، تاکہ جمہوریت کو سمجھنے اور اس کے تحت قانونی لڑائی لڑنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رہ پائے،

جمہوریت کی اصطلاحی تعریف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمہوریت تعریف بایں الفاظ کی گئی ہے*حکومت کی ایک ایسی حالت جس میں عوام کا منتخب شدہ نمائندہ حکومت چلانے کا اہل ہوتا ہے”*یونانی مفکر ہیروڈوٹس نے جمہوریت کا مفہوم کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں، سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کا قول ہے Government of the* people by the people for the people * یعنی عوام کی حاکمیت عوام کے ذریعہ اور عوام پر، جمہوریت کی جامع تعریف میں خود علمائے سیاست کا بڑا اختلاف رہا ہے لیکن بحیثیت مجموعی اس میں ایسا نظام حکومت مراد ہے، جس میں عوام کی رائے کو کسی نا کسی شکل میں حکومت کی پالیسی طے کرنے کے لئے بنیاد بنایا گیا ہو۔ (مزید تحقیقات کے لئے ویکیپیڈیا دیکھ سکتے ہیں )

جمہوریت سب سے پہلے کہاں قائم ہوئی ہے
………………………………….
جمہوریت سب سے پہلے ہندوستان میں ملتا ہے سو برس قبل مسیح یعنی گوتم بدھ کی پیدائش سے قبل ہندوستان میں جمہوری ریاستیں موجود تھیں، جنہیں”جن پد ” کہاجاتا تھا، یونان میں بھی جمہوریت موجود رہی ہے لیکن یہاں کی جمہوریت نہایت ہی سادہ اور محدود تھی۔ )تفصیلات کے لئے ویکیپیڈیا دیکھ سکتے ہیں )
جمہوریت میں ہر شہری کو اپنا اپنا حق کا مطالبہ کرنے کا پورا پورا رایٹ اور حق حاصل ہے، جس کے لئے مختلف اموری حلقات بنائے گئے ہیں* مثلا پنچایتی حلقہ، اسمبلی حلقہ، پارلیمانی حلقہ اور صدارتی حلقہ*کے طرز پر حکومت قائم ہوئی ہے، یہاں سے عوام کی باتوں کو اعلی حکام تک پہنچائے جاتے ہیں،

اپیل و لمحہ فکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کا ہندوستان جوکہ ایک مخصوص طبقہ ہی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جمہوریت کی معنویت بالکل ناپید ہوتے جارہی ہے، اقلیتی طبقے کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے لئے ہمیں آئین ہند کو بغور مطالعہ کریں اور سمجھیں اور اس کے تدابیر کے لئے اپنے اکابرین اور اسلاف کرام کے طرز پر چل کر دیش واسیوں کو جمہوریت کی حقیقی معنویت کو بتائیں تاکہ ہمارے ہندوستان کے آئین کے تحت تمام طبقات کو پورا پورا حقدار بنا سکے گروہوں اور فرقہ واریت کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے ، یاد رکھیں ہماری بربادیوں کے چرچے کو عام کیا جا رہا ہے ایسے نازک صورتحال میں ہمیں عقلمندی اور دانشمندی اور ہوشیاری سے کام لینے کی ضرورت ہے ہمیں عوام الناس کی بھیڑ جمع کرنے سے بہتر جماعت کی ضرورت ہے جوکہ عین قانون شریعت اور قانون الہی بھی ہے، اس لئے ہر شہری بحیثیت ہندوستانی مسلمان قانونی طور پر اپنا لائحہ عمل تیار کریں اور خاص جمہوریت کی معنویت کو عام کریں۔ ان شاء اللہ ملک میں امن و امان پھر سے بحال ہوگا، کامیابی ضرور ملے گی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *