!….کیسے منائیں یوم جمہوریہ

کیسے منائیں یوم جمہوریہ……!

احمدحسين مظاہریؔ

26/ جنوری کی تاریخ آزاد ہندوستان میں نہایت اہمیت کے حامل ہے،اس دن کی اہمیت یہ ہے کہ آج ہی کی تاریخ 26/جنوری ١٩٥٠ء؁ کو اس ملک کا دستور نافذ ہوا یعنی اپنے ملک میں اپنے لوگوں پر اپنا قانون لاگو ہوا،اور یقیناً یہ بات کسی اہلِ علم سے مخفی نہیں ہوگی کہ ہندوستان کا شمار دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملکوں میں ہوتا ہے، جہاں ہندو، مسلم،سکھ و عیسائی نیز دیگر سبھی مذاہب کے لوگ بڑی محبت، الفت، پریم، سے رہتے چلے آرہے ہیں۔
ملک بھر میں یوم جمہوریہ منائیں جاتے ہیں،ملک بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں پر قومی جھنڈا لہرانے کی رسم ادا کی جاتی ہے؛ قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے لوگ قومی جھنڈے کو سلامی دیتے ہیں رنگارنگ ثقافتی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں جن میں جمہوریت کے فوائد گنائے جاتے ہیں اور بھی طرح طرح کی تقریبات کیے جاتے ہیں۔
لیکن کیا بھارت میں جمہوریت کی پاسداری ہو رہی ہے؟ اس موقع پر ہم (مسلمانانِ ہند) خوشیاں منائیں یا غم ؟ ہمارے قلب و جگر پر ایک افسردگی چھائی ہوئی ہے،ہم سمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں کہ اس موقع پر جمہوری قانون کے نفاذ کی خوشیاں منائیں یا پھر اس قانون کی ہمارے ملک میں جو دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اس پر ماتم کریں…………؟

قارئین! یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہمارا یہ ملک صدیوں سے تہذیب و تمدن اور آزادی کے لیے بین الاقوامی دنیا میں مشہوررہا ہے، مگر آج چند سیاسی پارٹیوں کی وجہ سے فرقہ پرست طاقتیں اقتدار پر قابض ہو گئی ہیں،اور دستور میں دئیے گئے حقوق اور اس کے سیکولر نظام کی دھجیاں اڑا کر ملک کے سیکولر بنیادی ڈھانچے کو برباد کررہی ہیں، جس سے پورے ملک(بھارت) کا امن و امان ختم ہو چکا ہے۔
فی الوقت ملک کے حالات دیکھ کر یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ وقت ملک کی سالمیت اور ہندوستان کی خوبصورت رنگارنگی تہذیب اور اس کے حسن کو تباہ و برباد کر دے گا……..!
یاد رکھو دشمنانِ اسلام! ہم مسلمانوں نے پورے عزم کے ساتھ سوچ سمجھ کر اپنے وطن ہندوستان میں رہنے کا عزم کیا ہے، ہمارے اُس فیصلہ کو اِرادۂ الہی کے سوا کوئی طاقت نہیں بدل سکتی ہے،ہمارا یہ فیصلہ کسی کم ہمتی مجبوری یا بے چارگی پر مبنی نہیں بلکہ ہمارے اسلاف نے سوچ سمجھ کر فیصلہ لیا تھا۔ مسلمانوں نے ہندوستان کی آزادی کو دَان کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنے بلیدان کی بنیاد پر حاصل کی ہے، اس لیے ہم ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتے ہیں کہ دستورِ ہند سے حاصل اپنے مذہبی اور تعلیمی حقوق کی حفاظت کے لیے قانون اور دستور کے حصار میں رہتے ہوئے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں ہم نے ملک و ملت کے لیے پہلے بھی قربانی دی ہے اور ان شاء اللہ! آئندہ بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
یوم جمہوریہ ہر سال آتا ہے اور تحفظ جمہوریت کا پیغام دیتا ہے،اور جمہوریت کے تحفظ کے عہد کی تجدید کراتا ہے، اور کہتا ہے کہ اگر جمہوریت محفوظ ہے تو پھر جشن یوم جمہوریہ یہ میرا اور تمہارا حق ہے ،اگر جمہوریت خطرہ میں ہے تو پھر جشن یوم جمہوریہ منانا کسی مذاق سے کم نہیں ہے،یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے بس میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کی جمہوریت پوری دنیا میں مشہور ہے اس لیے یہاں مذہبی منافرت نہ پھیلا کر بھائی چارگی قائم کی جائے اور ملک میں بس نے والے ہر ناگرک کو دستور کے مطابق اپنا اپنا حق دیا جائے ۔

حق جل مجدہ ہمارے اس ملک کو دشمنوں کے شر و فساد سے محفوظ رکھے ہمارے وطن عزیز کو امن و آشتی کا گہوارہ بنائے،اور ہمارے ملک ہندوستان کو مزید ترقیات سے سرفراز فرمائے تاکہ وہ ہر میدان میں بلند مقام پر فائز ہوں۔(آمین)

رابطہ واٹس ایپ:9735462318

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *