سعودی عرب کی دعوتی سرگرمیوں سے تین لاکھ سے زائد افراد مشرف بہ اسلام

سعودی عرب کی دعوتی سرگرمیوں سے تین لاکھ سے زائد افراد مشرف بہ اسلام

محمد فہیم الدین
رابطہ نمبر – 9661667330

سعودی عرب دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جس کا قیام شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمان کی قیادت میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے عمل میں لایا گیا ۔ اس کا مقصد اولیں اور غرض اصلی ہی اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو فروغ دینا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کا ملکی دستور و قانون کتاب اللہ اور سنت رسول ہے ۔ دیگر ملکوں کی طرح الگ سے اس کا کوئی دستور اور قانون نہیں ہے ۔ یہی وہ چیز ہے جو سعودی عرب کو پوری دنیا میں عموما اور عالم اسلام میں خصوصاً تمام ملکوں میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے ۔ یوں تو پوری دنیا میں 57 سے زائد اسلامی ممالک ہیں لیکن سعودی عرب کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا ملک نہیں ہے جہاں اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ بطور دستور و قانون نافذ ہوں ۔ پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز اور شرف صرف سعودی عرب کو عطا کیا ہے کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے دستور کو دنیا کے تمام انسانی دستوروں پر ترجیح دی ہے اور اپنے ملک کے نظام کو قرآن و سنت سے ماخوذ اصول و ضوابط پر قائم کیا ہے ۔ یہی وجہ ہیکہ اس پرفتن دور میں بھی سب سے زیادہ دنیا میں اگر کہیں اچھائی اور خیر ہے تو وہ سعودی عرب ہے ۔ یہ ساری باتیں میں نے اس لئے لکھی ہیں کہ سعودی عرب مادیت و مفاد پرستی اور الحاد و دین بیزاری کے اس دور میں بھی اپنے مقصد قیام اور اپنے مشن سے ذرہ برابر بھی نہیں ہٹا ہے بلکہ شر و فتنہ کی آندھی میں بھی اپنے نصب العین پر ڈٹا ہے اور اعلاء کلمۃ اللہ،دین اسلام کی سربلندی،اہل اسلام کی خدمت، ان کی دینی رہنمائی اور بندگان خدا کو اسلام کی طرف دعوت اور اسلام کی عالمگیر تعلمیات سے آشنائی کے لیے رواں دواں ہے ۔ چار دن قبل 20/جنوری 2024 کو سعودی عرب کی وزارت برائے اسلامی امور و دعوت و ارشاد نے یہ خبر دی کہ پچھلے پانچ سالوں کے اندر مملکت کے مختلف علاقوں میں تین لاکھ سے زائد افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔ اس مختصر سی مدت میں اتنی بڑی تعداد کا اسلام میں داخل ہونا بلا شبہ امر عظیم ہے ۔ اتنی بڑی تعداد کے دین اسلام کو قبول کرنے کے پیچھے اسلام کی رحمت و شفقت اور اسلامی تعلیمات کی خوبیاں کار فرما ہیں ۔ سچی بات یہ ہیکہ خالق کائنات اور رب ارض و سماوات نے اسلام کے اندر ایسی لذت اور کشش ڈال رکھی ہے کہ جو کوئی بھی اس دین کو قریب سے دیکھتا،پڑھتا اور سمجھتا ہے وہ بے ساختہ اس کی طرف کھنچتا چلا جات آتا ہے ۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔

‏اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا، جتنا کہ دباؤ گے.

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کا انصاف کے تقاضے کے ساتھ مطالعہ کرنے والا ایک غیر جانبدار شخص اسلام قبول کرے یا نہ کرے لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کی آفاقیت اور ہمہ گیریت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اگر کوئی فرد اسلامی تعلیمات مکمل نہیں،اکثر نہیں بلکہ صاف نیتی سے صرف ان کے بنیادی پیغام ہی کو جان اور سمجھ لے تو وہ اسلام کی قطعاً کوئی برائی نہیں کرے گا اور وہ مسلمان نہیں تو مداح اسلام ضرور ہوگا ۔ افسوس کی بات یہ ہیکہ غیروں تک اسلامی تعلیمات کی کرنیں کہاں پہنچتی ہیں کہ وہ دین اسلام کے اجالے سے روشنی لے سکیں ۔ پوری دنیا میں لمحہ فکریہ یہ ہیکہ اہل اسلام تو بہت ہیں لیکن وہ داعی اسلام اور عامل اسلام نہیں ہیں ۔ مسلمانوں نے دین کو رسم و روایت کے طور پر اپنا رکھا ہے ورنہ ان کے اندر وہ جذبہ وہ حوصلہ اور دین کے لیے وہ تڑپ و شوق کہاں جو ایک سچے مسلمان کے اندر ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کے لیے اسلام کا عام حکم ہے کہ وہ دین اسلام کی ہدایت و سعادت سے خود بھی دنیا و آخرت کو سنوارے اور غیروں کو بھی اسلام کی روشنی کی طرف بلائیں تاکہ وہ بھی سعادت و ہدایت اور دنیوی و اخروی زندگی کی کامیابی کے حقدار بن سکیں۔ لیکن تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اس ربانی ہدایت اور قرآنی آیت کو فراموش کر دیا ہے ۔ “(مسلمانو) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے(سورہ آل عمران:110)
پوری دنیا میں اللہ کے کچھ بندے ایسے ضرور ہیں جو لوگوں کو شرعی طریقوں سے اسلام کی طرف بلاتے ہیں اور ان تک اسلامی تعلیمات کو پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن جس منظم طریقے سے اور بحیثیت مسلمان جو ذمہ داریاں نبھائی جانی چاہئیں وہ نظر نہیں آتیں ۔ کچھ جماعتیں ہیں جو تبلیغ دین کا کام تو کرتی ہیں لیکن حقیقت میں خود گمراہی کی شکار ہیں تو ان سے دوسروں کی ہدایت و بھلائی کی کیا امید کی جا سکتی ہے۔ پوری دنیا کے اندر دعوت و اصلاح میں بھی سعودی عرب منفرد مقام رکھتا ہے ۔ وہاں اعلی سطح پر اور منظم طریقے سے دعوت و تبلیغ کا کام کیا جاتا ہے اور مملکت سعودی عرب کے قائدین اسلام کی خدمت اور اس کی نشر و اشاعت کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں ۔ اس لیے کہ اس سعودی عرب کے قیام کا مقصد ہی جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں بتایا گیا اسلام کی خدمت اور کتاب و سنت کی نشر و اشاعت ہے ۔ چار روز قبل 20/جنوری 2024 کو وزارت اسلامی امور و دعوت و ارشاد کی طرف سے پچھلے پانچ سالوں میں تین لاکھ سے زائد افراد کے اسلام میں داخل ہونے کی جو خبر دی گئی تو اس کے پیچھے اللہ کی توفیق و ہدایت کے بعد حکومت سعودی عرب کی مساعی جمیلہ اور مملکت کے قائدین و ذمہ داران کی کوششںیں اور مملکت میں انجام دی جانے والی لاکھوں دعوتی و دینی سرگرمیوں کا کردار ہے ۔ سعودی عرب عالم اسلام میں تنہا ایسا ملک ہے جہاں اسلام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ دعوتی کاموں کو انجام دیا جاتا ہے ۔ مملکت کے مختلف علاقوں اور گوشوں میں لاکھوں دعوتی سنٹر قائم ہیں جو سعودی حکومت کی وزارت برائے اسلامی امور و دعوت و ارشاد کی زیر نگرانی چل رہے ہیں ۔ اسلامی وزارت کے بیان کے مطابق مملکت سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں دیگر جمعیات کے علاوہ حکومت کی طرف سے 457 دعوتی ادارے چل رہے ہیں جن میں 423 دعاۃ و مترجمین دنیا کی ہر زندہ زبان میں دعوت و تبلیغ کے کام کو انجام دے رہے ہیں ۔ ان دعوتی سنٹر کے ذریعے پچھلے پانچ سالوں میں ساڑھے بانوے لاکھ(9262406) دعوتی سرگرمیوں کو انجام دیا گیا جن میں لکچر،درس،خطبہ،وعظ و نصیحت،اجتماعات و کانفرنس اور دیگر دعوتی سرگرمیاں شامل ہیں ۔ ان تمام حقائق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پوری دنیا میں واقعی گر کوئی ملک دین اسلام کی امانت کو پوری ذمہ داری کے ساتھ اللہ بنی نوع انسان تک پہنچا رہا ہے وہ صرف سعودی عرب ہے ۔ اس کے باوجود افسوس کی بات یہ ہیکہ اغیار تو اغیار مسلمانوں کی ایک تعداد آئے دن سعودی عرب کو طعنہ و تشنیع کا نشانہ بنائے رکھتی ہے اور اس بلد حرمین شریفین کے بارے میں عوام الناس میں غلط فہمیاں اور جھوٹی باتیں پھیلاتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بلادِ حرمین شریفین سعودی عرب کو تمام شر و فتنہ سے محفوظ رکھے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو اپنے دینی فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *