بھوک کا قہر

 

ارمان تیمی

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہم بارہا اپنے پرکھوں سے بھوک سے مرنے، شیرخوار بچوں کے بلکنے ، ماؤں کو تڑپنے اور روکھا سوکھا پر بسیرا کرنے کا ذکر سنے ہیں جب درد کا درماں اور نہ ہی کوئی پرسان حال تھا جب میڈیا کا وجود اور نہ ہی مضبوط ذرائع ابلاغ تھا ہزاروں ایکڑ زمین ہوتے ہوئے اکال سے گزرنا پڑتا تھا مانو زندگیاں آزمائشوں کا مہور اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھیں جن کا ناجائز فائدہ زمیندار سود کے ساتھ پائی پائی کا حساب چکتا کرواتے تھے ، غریبوں کا خوب استحصال ہوتا تھا اور انہیں دو وقت کی روٹی کے لیے سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔

شکر منائیں کہ ہم اس دور میں نہیں ہیں آج کاشت کاری کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک تکنیکی مشینیں اور ہر قسم کی دوائیاں موجود ہیں ، غلہ بھی خوب ہوتا ہے ایک سال کا اناج کئی سال تک چلتا ہے۔

شاید آپ بھی یہی سوچتے ہوں گے کہ اس مادی دور میں بھلا بھوکا کون ہوگا اب ہر شخص کا طرز زندگی بدل چکا ہے دسترخوان مرغوب غذائوں سے پر ہوتی ہیں اور بھوک سے مرنا وہ پرانی باتیں ہیں جن کا بیان قصوں، کہانیوں ، کتابوں ، فلموں اور ڈراموں میں ہوتا ہے یقین مانیے آپ حقائق کو جان کر حیرت و استعجاب میں آجائیں گے کہ آج بھی بھوک کا قہر اپنے شباب پر ہے ہر سال لاکھوں لوگ مرتے ہیں، ملین لوگ صحت مند زندگی گزارنے کو ترستے ہیں ان دنوں جبکہ پوری دنیا کورونا وائرس کی چپیٹ میں ہے لوگ گھروں سے میلوں دور پھنسے ہوئے ہیں بھوک کی تباہی کا خوفناک منظر سرخیوں میں دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں، دل رونے لگتا ہے اور ضمیر تڑپنے لگتی ہے ۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سن 2016 ء میں دنیوی پیمانے پر بھوک سے مرنے والے 5.6 ملین پانچ سال سے کم عمر کا بچہ زیادہ تر افریقی تھے جو سن 2018 ء میں آکر 3.1 ملین ہو گئے اگر بھوک سے متاثر زدگان کی مجموعی تعداد دیکھیں تو سن 2018 ء میں 820 ملین لوگ کھانے کی قلت کا شکار ہوئے تھے اور سن 2019 ء میں 811 ملین لوگوں کو مناسب کھانا نہیں ملا تھا ہمیں افسوس ہوتا ہے اپنی معیشت کی دیوار مضبوط کرنے والوں پر ،خود کو انسانوں کا مسیحا سمجھنے والوں پر اور بڑے بڑے کانفرنسوں اور سیمیناروں میں کڑوروں مال لٹانے والوں پر کہ آج تک بھوک سے جوجھنے والے افراد کا مسئلہ نہیں سلجھاپائے ان میں کا دو تہائی بھوکا پیاسا ننگے پائوں لوگ ایشیائی ممالک سے آتے ہیں اور دنیا کا ہر نواں شخص اس کا شکار ہے ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی جان لیں کہ بھوک مری سے متاثر 12.9 فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک کے باشندگان ہیں ، اس سے کمزور ملکوں کا حال جگ ظاہر ہے یہاں تک کہ کچھ جنوبی افریقی ممالک میں ہر چار لوگوں میں ایک شخص بھوک سے متاثر ہے

آئیے ہم سب مل کر با اثر لوگوں کو اپنی بات حکومت تک پہنچانے کی اپیل کرتے ہیں کہ حکومت پوری سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد از جلد اس مسئلہ کا سد باب کرکے انسانیت کا ثبوت فراہم کرے

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *