ہم آہ بھی کرتے ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

از- محمدضیاءالحق ندوی

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جی ہاں! شعلہ گیر حکومت جب سے دوبارہ اقتدار میں آئی اس وقت سے ہی ہندوستان میں دین اسلام اورمسلمانوں پر الزامات کی بوچھار شروع کیے ہیں ،دین اسلام اور مسلمانوں کو ناپید کرنے کی جوناکام سازش رچی جا رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اس وقت کے شعلہ گیر حکومت نے جمہوری ملک ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کےلئے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے اوراس کے لئے مختلف بہانہ سے ایڑی چوٹی کازورلگا دیاہے کبھی بابری مسجدکا فیصلہ ،کشمیریوں پر ہونے والے بے انتہا مظالم اور کبھی طلاق ثلاثہ بل پاس کروا کر توکبھی این پی آر ،این آر سی اور سی اے اے کے ذریعے سے.

الغرض ہرطرف سے مختلف بہانہ بناکر کھیل رہی ہے اگر اس کے خلاف مسلمان پرامن احتجاج بھی کرتے ہیں تو بھی مسلمانوں کوہی بدنام کیاجارہا ہے جبکہ دشمنان اسلام پولیس محکمہ کے ساتھ مل جل کربھی قتل وغارت گری کابازار گرم کرتے ہیں اور بےقصوروں کوناحق قتل کرکے لاشوں کے انبار لگادیتے ہیں تب بھی کوئی چرچا تک نہیں ہو رہاہے جس نے بھی کہا سچ کہا کہ :

 

ہم آہ بھی کرتے ہیں توہوجاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں توچرچانہیں ہوتا

 

بہرحال مسلمانوں کو ان خطرناک اور پرآشوب دور میں گھبرانے کی ذرہ برابر بھی ضرورت نہیں ہے تاریخ شاہد ہےکہ مسلمان کبھی بزدل نہیں ہوتا ہے جب بھی ناگفتہ بہ حالات آئے انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کاواقعہ یادکیجیے جب نمردو نے دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا پھر بھی انہوں نے ایسے وقت میں نمرود کی طرف دیکھنا پسند نہیں کیااور اللہ کو پکارا تو اللہ کاحکم ہوا “قلنایا ناركوني بردا و سلماعلی ابراهيم “( سورة الانبياء٦٩)ہم نےکہا اے آگ توابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی کاذریعہ بن جا”اتنا کہنا تھا کہ آگ گل گلزار بن گئ ،اور جب حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کا پیچھا ظالم وجابرحکمراں اور ان کےلشکرنےکیا تو موسی علیہ السلام مع اپنی قوم کے بحر قلزم تک پہونچ گئے ایسے موقع پر پیچھے دیکھتے تھے تو فرعونی لشکر نظر آرہا تھا اور آگے دیکھتے تھے تو سمندر حائل ،آگےبڑھتے تو دریامیں غرق ہوجاتے اور پیچھے ہٹتے توقتل کردئیے جاتے لیکن موسی علیہ السلام نے ایسی کٹھن گھڑی میں بھی اللہ کویاد کیا اوران پر توکل کیا تو اللہ تعالی کے حکم سے بحرقلزم میں ایک راستہ بن گیا جن سے موسی علیہ السلام اور ان کی قوم اطمینان کےساتھ نکل گئے ارشاد باری ہے “فاوحينا الي موسي ان اضرب بعصاك البحر فانفلق فكان كل فرق كالطود العظيم “(سوره الشعراء ٦٣)”پھرحکم بھیجا ہم نےموسی کو کہ مار اپنے عصاسے دریا کو پھردریا پھٹ گیا توہوگئ ہرپھانگ جیسے بڑا پہاڑ “(تفسیرعثمانی )

لہذا ڈرنےاور گھبرانے کی بالکل ضروت نہیں ہے آج بھی اللہ کی طرف سے وہ نصرت ومدد آسکتی ہے جس نے ابراہیم علیہ السلام کو بھڑکتی اور دہکتی ہوئی آگ سے نجات دلائی اورموسی علیہ السلام کووقت کےملعون جابر وظالم حکمراں اور ان کے لاؤ لشکر کےچنگل سے نجات دلائی ، دیر ہے اندھیر نہیں ابھی شعلہ گیر حکومت پھول رہی ہے،سرکشی اورتکبر میں مگن ہےاور وقت آنے پر یہی عناد ان کی ہلاکت و بربادی کاسبب بنےگا اور پھر مرکھپ جائیں گے اور معرکہ احد کے موقع پر جب مجاہدین زخموں سے چوڑ چوڑ تھے ان کے بڑے بڑے بہادروں کی لاشیں آنکھوں کےسامنے مثلہ کی ہوئی پڑی تھیں پیغمبر اسلام کوبھی اشقیاء نے مجروح کردیا تھا اور یاس و قنوطیت کےشکار ہورہے تھے،اس ہجوم وشدائد اوریاس و قنوطیت میں اللہ تعالی کا حکم ہوا “ولاتهنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان كنتم مومنين “(سورہ آل عمران. ۱۳۹)”اورسست نہ رہو اورنہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگرتم ایمان رکھتے ہو ” اور اللہ تعالی کا یہ حکم آیا اور زخم خوردہ مجاہدین کے جوابی حملے کی تاب نہ لاسکے اور سر پر پاؤں رکھ کر میدان سےراہ فرار اختیار کرلی ،اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا ایمان بھی ایسا مضبوط ہو اورہم جمال الدین اور رشیدالدین ایرانی کی طرح بےباک اور نڈر بن کر اٹھ کھڑے ہوں جن کی وجہ سے پوری تاتاری قوم اسلام قبول کرلی ،اورپیش آمدہ حوادث و مصائب پر غمگین نہ ہو کیونکہ حوادث ومصائب پر غمگین ہوکر بیٹھ جانا مومن کاشیوہ نہیں.

اللہ رب العزت ہم مسلمانوں کو فتح وکامرانی نصیب عطاء فرمائے .آمین یارب العالمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*محمد ضیاء الحق ندوی*

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *