دہلی پولیس اور مولانا سعد کے درمیان چوہا بلی کا کھیل : مہجورؔالقادری

 

 

(نوادہ محمد سلطان اختر)

بہار اسٹیٹ اردوٹیچرس ایسوسی ایشن ضلع نوادہ کے صدر مولانا محمدجہانگیرعالم مہجورالقادری نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ جب دہلی میں این آر سی جیسے متنازعہ اور غیر آئینی قانون کی وجہ سے فرقہ وارانہ فساد ہوا جس میں بغیر کسی  ٹھوس ثبوت کے عام آدمی پارٹی کے سرکردہ لیڈر اور سماجی رہنما محمد طاہر حسین کو اس دنگا کا اصل مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا گیا اور سیکولرزم کا مکھوٹا منہ پہ لگائے ہوئے اروند کیجریوال وزیر اعلیٰ دہلی نے بھی اتنی مستعدی دکھائی کہ طاہر حسین پہ لگائے گئے الزامات کی تحقیق کئے بغیر اپنی پارٹی سے انہیں باہر کا راستہ دکھادیا جب کہ دوسری طرف کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر جیسے دنگائی سیاسی اور بی جے پی کے رہنماؤں پہ کسی طرح کی کارروائی نہ کرکے اور مرکزی حکومت نے کپل مشرا کی حفاظتی دستہ میں مزید اضافہ کردیا اور اس فساد کے موقع پہ اروند کیجریوال بے دست و پا نظر آرہےتھے اور بقول ان کے   دہلی پولیس بھی ان کے اختیار میں نہیں تھی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس دہلی پولیس نے طاہر حسین جیسے دبنگ سیاسی لیڈر کو گرفتار کرنے میں پوری طاقت جھونک دی اور اسے اپنی گرفت میں لے لیا تو پھر آج دہلی پولیس کی وہ بہادری اور چابک دستی کہاں چلی گئی کہ آج تک مولانا سعد کو گرفتار نہیں کرسکی جب کہ اس وقت پورے ملک میں لاک ڈاؤن چل رہا ہے آمد و رفت کی ساری خدمات بند ہیں پھر ایسی صورت میں مولانا سعد کہاں جاسکتےہیں؟ اتنے دن گذر جانے کے بعد بھی دہلی پولیس مولانا سعد کا پتہ چلا نے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے کہیں مرکزی حکومت اور مولانا سعد کے درمیان کسی طرح کا تال میل تو نہیں ہے؟ دوسری طرف ملک کی گودی میڈیا مولانا سعد کو بنیاد بنا کر ملک کے سارے مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرنے میں شب و روز لگی ہوئی ہے اور پوری طاقت اس میں جھونکتی نظر آرہی  ہیں اسی میڈیا کی زہر افشانی کا نتیجہ ہے کہ آج پورا ملک فرقہ پرستی کی آگ میں جھلس رہاہے جا بجا مقامات پہ ہندو مسلم کے درمیان فسادات ہو رہے ہیں مسلمانوں کو کورونا کہہ کے کھلے عام پکارا جارہاہے جب کہ کورونا وائرس کی اس وباء سے نمٹنے کیلئے ملک کے سارے مسلمان مکمل طور پر مرکزی و صوبائی حکومتوں کا ساتھ دے رہے ہیں مولانا محمدجہانگیرعالم مہجورالقادری نے آگے کہا کہ گودی میڈیا میں اس مسئلہ پہ ڈیبیٹ کے لئے کسی بھی مسلمان کو نہیں جانا چاہئیے اس لئے کہ ٹی وی اینکرز ان مسلمانوں کے ساتھ بڑی بدتمیزی سے پیش آتے ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر واقعی مولانا سعد مجرم ہیں تو انہیں فوراً گرفتار کیاجائے اوران کاجرم حقائق کی روشنی میں اگر  ثابت ہوجاتا ہے تو انہیں قانون کی روشنی میں سخت سے سخت سزا دی جائے مگر خدا کے واسطے مولانا سعد کی آڑ میں ملک کے 25 کروڑ انصاف اورامن پسند مسلمانوں کو نشانہ نہ بنایا جائے کہ جس سے ہمارا ملک تباہ و برباد ہوجائے چونکہ بڑی ہی محنت سے اس ملک کو سب نے مل کر سینچَاہے اس گلشن کو پامال ہونے سے اب تو بچالیجیئے مولانا نے مسلمانوں کے موجودہ حالات پہ بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی ہونے باوجود بھی اب تک  اپنانہ ایک ٹی وی چینل ہے اور نہ ملک گیر پیمانے کا اردو، ہندی یا انگریزی اخبار، اگر ہمارا بھی آج کوئی نیوز چینل یا ہندی انگریزی کا اخبار ہوتا تو آج ہم بھی سچائی کو ملک کے سامنے پیش کرتے اور آج ملک میں ہمارے یہ حالات نہ ہوتے جس سے ہم آج دوچار ہورہے ہیں جبکہ مسلمانوں کی ہر جماعت اپنے اپنے جلسوں، کانفرنسوں، اجتماعات اور اعراس میں لاکھوں لاکھ روپے خرچ کر دیا کرتی ہے اگر یہ قوم چاہ لیتی تو ایک نہیں کئی نیوز چینل ہمارے بھی آج ہوتے اور ملکی پیمانے کے کئی اخبارات بھی، اب بھی وقت ہے کہ موجودہ حالات سے سبق لیتے ہوئے اس کام کو پہلی فرصت میں ہم اور آپ مل کے کریں اسی میں ہم سبھوں کی بھلائی ہے ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *