ماہ رمضاں اور درد دل کی داستاں

 

از قلم ۔ شبیر ندوی

 

ہر سال کی طرح اس سال بھی اے ماہ رمضاں تیرا چاند نمودار ہونے ہی والا ہے ۔ شعبان کا مہینہ اختتام پذیری پہ ہے ۔ اور تیری اصل تیاری اور تیرے روزے کی عادت شعبان ہی میں پڑتی ہے ۔ گذشتہ سال بھی تو آیا ہم نے بڑے گرم جوشی کے ساتھ تیرا استقبال کیا تھا ۔ ہر طرف خوشی کا سماں تھا ۔ بوڑھے جوان بچے سب تجھ کو پانے کے لیٸے بےتاب و بے قرار تھے ۔ اور شدت و صبر کے ساتھ تجھ کو پایا تھا ۔ تو اے رمضاں صبر کا مہینہ ہے ۔ اللہ کی رحمتیں ، برکتیں اور مغفرتیں تجھ میں عام ہوتی ہیں ۔ ہم نے اے رمضاں تجھ میں حتی المقدور فراٸض کے ساتھ ساتھ نوافل و مستحبات پر بھی عمل کیا تھا ۔ اپنے گناہوں پر روٸے ، گڑگڑاٸے اور مغفرت چاہی تھی ۔ رب کریم کو راضی کرنے کے لیٸے ہر ممکن کوشش کی تھی ۔ اور پھر خوش و خرم تجھ کو الوداع کہا تھا ۔ اور تو بھی ہمیں بخشش کا پروانہ دیکر رخصت ہوا تھا ۔

اس بار پھر تیری آمد ہے ۔ اور ایسے وقت میں تیری آمد ہے جبکہ ہمارے معصیات کے نتیجے میں ہر طرف وبا ٕ بیماری پھیلی ہوٸی ہے ۔ ہم ایک طرف وباٸی احتیاط کے سبب لاک ڈاٶن میں گھرےہوٸے ہیں ۔ اور تیری عبادت افطار و سحری جو کہ ہماری جان بھی ہے ہم وافر مقدار میں اس کا انتظام نہیں کرسکتے ۔ آمدنی کے ذراٸع نہیں تو باہر جانے کے بھی وساٸل نہیں ۔ ہم مزدور طبقہ اپنے گھروں سے باہر مشقتوں کو جھیل رہے ہیں ۔ دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ رہے ہیں ۔ اور گھر جانے کی راہ تک رہے ہیں ۔

اور دوسری طرف ملک کے حالات بدستور نہیں ۔ آٸے دن ہمارے مذہبی شعاٸر کو نشانہ بنا یا جا رہا ہے ۔ ہمارے برادران مسلم کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچاٸی جارہی ہیں ۔ جھوٹے مقدمات اور الزام تراشیاں عام ہو گٸی ہیں ۔

اور ہاں اے رمضاں تجھ جیسے مہینے میں ذکر و دعا ، تلاوت قرآن اور تراویح و افطار کے لیٸے لوگوں کا تانتا لگ جاتا تھا لیکن ابھی حال یہ ہیکہ مجبورا مسجد کے گیٹ پر تالا لگانا پڑتا ہےکہ زیادہ لوگ نہ آٸیں ۔

اور ہاں یہ بھی اے رمضاں یہی وہ مسجد ہے جہاں جمعہ کی اذان سے پہلے ہی لوگ جمع ہونے لگتے تھے اور ہم اپنے پیغام کو حسب معمول سامعین جمعہ کے سامنے رکھتےتھے ۔لیکن ابھی حال یہ ہیکہ ممبر پر خطبے کے لیٸے چڑھتے ہی آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں اور بے اختیار آنسوں گرنے لگتے ہیں کہ وہ جم غفیر کہاں گیا ؟

منجملہ اے ماہ رمضاں ہم بے بس ہوچکے ہیں ۔ خوف و دہشت ہمارے اوپر غالب آتی جارہی ہے ۔ اور ہم امید و نامید اور موت و حیات کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔

بہر حال اے رمضاں تجھکو تو اپنے مقررہ وقت پر آنا ہی تھا اور بہتر ہوا کہ تو آگیا ۔ ہماری مغفرت ، رحمت و بخشش کا ذریعہ تو بنے گا ۔ جس کی سخت ضرورت تھی ۔ ہم صدق دل سے توبہ کریں گے اور اپنے رب کو مناٸیں گے تو نہ صرف تیرا حق ادا ہوگا بلکہ اللہ نے چاہا تو ہمیں اس عالمی وبا سے بھی نجات مل جاٸیگی ۔

اخیر میں اللہ تعالی سے دعا ہیکہ تیرا حق ادا کرنے کی توفیق عطا کرے اور تیرے بابرکت مہینے کے اندر اعمال صالحہ ، ذکر و دعا ، تلاوت قرآن و تراویح کی بھی توفیق عطا کرے آمین یا رب العالمین

دعا کا طالب

شبیر ندوی

سر پرست نداٸے حق ویلفیٸر سوساٸٹی پتھراہا ارریہ بہار

6394004292

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *