آئیے لکھنا سیکھیں

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از قلم : محبوب عالم عبدالسلام

 

لکھنا ایک معتبر فن اور قابلِ تحسین عمل ہے۔ اپنے خیالات و جذبات کو الفاظ کا جامہ پہنا کر صفحۂ قرطاس پر اتار دینا تحریر و نگارش کہلاتا ہے۔ ذہن و دماغ میں ابھرنے والے لا محدود خیالات و جذبات کو لفظوں کا روپ دے کر ایک تحریر اور مضمون کی شکل دے دینا کہ جسے پڑھ کر ایک قاری معلومات کے حصول کے ساتھ سوچنے پر بھی مجبور ہوجائے بالکل بھی آسان امر نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مشقت طلب اور گہرے سوچ و فکر کا متقاضی عمل ہے۔ لکھنے کے لیے کافی مشق و ممارست کرنی پڑتی ہے، صفحوں کے صفحے خراب کرنے پڑتے ہیں، الفاظ کی نشست و برخاست اور جملوں کی باہمی ہم آہنگی اور ترتیب پر غور کرنا پڑتا ہے، ذہن و دماغ کو فکر و سوچ کی بھٹی میں تپانا پڑتا ہے، تب کہیں جاکر جذبات میں تلاطم پیدا ہوتا ہے اور ایک مضمون اور تحریر منظر عام پر آتی ہے۔

 

تحریری قوت ویسے تو ہر دور میں مُسلَّم رہی ہے؛ لیکن موجودہ دور میں اس کی ضرورت و اہمیت کافی بڑھ گئی ہے، اس لیے نونہالانِ امت کو اس فن سے روشناس ہونا بہت ضروری ہے۔ تحریر کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اندر قلم کی قسم کھائی ہے اور خالق ارض و سما کا کسی بات پر قسم کھانا اس کے مستحکم ہونے کی بین دلیل ہے۔ گو کہ میدانِ خطابت بھی اپنے اندر بڑی معنویت اور اثر پذیری رکھتا ہے؛ مگر صحافت کی بہ نسبت اس کی معنویت اور نافعیت ذرا محدود ہے۔ تحریر و نگارش صدیوں کی صدیاں گزرنے کے بعد بھی زندہ و تابندہ رہتی ہیں، صاحبِ تحریر اگر چہ دنیائے فانی کو الوداع کہہ کر آخرت کے سفر پر روانہ ہوچکا ہوتا ہے، مگر اُس کی لکھی ہوئی بیش قیمت باتیں اُسے برسوں تک زندہ و پائندہ کیے رہتی ہیں اور لوگ اُس کی لکھی ہوئی باتوں سے سالہا سال تک مستفید ہوتے رہتے ہیں۔

 

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور اور خلفائے راشدین کے سنہرے ادوار میں جس طرح تلوار کے ذریعے جہاد کیا گیا، حق و صداقت کی سرفرازی اور کفر و سرکشی کی بیخ کنی کے لیے ظالم و جابر انسانوں سے پنجہ آزمائی کی گئی۔ اسلام کی سربلندی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے میدانِ کارزار میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اپنی دولت و ثروت کو راہِ خدا میں بے دریغ خرچ کیا، اپنے اعزہ و اقربا کو یتیم و بے سہارا کیا، اسی طرح موجودہ دور میں ہم اپنی قلمی صلاحیتوں کے ذریعے جہاد کرسکتے ہیں، اس لیے کہ موجودہ دور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے، فتنۂ و فساد کا دور ہے، شکوک و شبہات کا دور ہے، نظریاتی اور فکری یلغار کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور یہ نظریاتی جنگ، عسکری جنگ سے کہیں زیادہ مؤثر اور سود مند ہے، ایسے افکار و نظریات کی بھی ترویج و اشاعت کی سعی کی جارہی ہے جو بدیہی طور پر مسلماتِ شریعت کے سراسر متصادم ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور گلوبلائزیشن کے اس ترقی یافتہ دور میں جب کہ ترسیلِ خیالات کے ذرائع نہایت ہی آسان ہوگئے ہیں، ہر کس و ناکس افراد تک لوگ اپنے صحیح و غلط خیالات کو نہایت ہی آسانی کے ساتھ سیکنڈوں میں پہنچا دیتے ہیں، جدت پسندی اور عصری اسلوب میں اسلام کی تعبیر پیش کرنے کے نام پر قرآن و حدیث کی خود ساختہ تشریح و توضیح کی جاتی ہے، فکری انحراف اور اعتقادی کجی کو خوش نما لباس پہنا کر ادیبانہ کلام کے ذریعے لوگوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے تاکہ غلط افکار و نظریات کو بڑھاوا ملے، لوگ دین کی اصل تعلیمات سے منحرف ہوجائیں یا کم از کم دین کے تئیں اُن کے قلوب و اذہان میں شکوک و شبہات پیدا ہو جائیں۔

 

اِنہی وجوہات کے پیش نظر آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ہم صحافتی میدان میں مزید منظم ہوکر آگے بڑھیں، دین اسلام کا جامع تعارف پیش کریں، مستند اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کریں، کم پڑھے لکھے لوگوں تک عام فہم اسلوب میں اسلامی تعلیمات کو پہنچائیں۔ علاوہ ازیں اس قوت کا استعمال کرکے باطل طاقتوں کے خلاف محاذ آرائی کریں، مطلق العنان حکمرانوں کو انسانیت اور انصاف پسندی کا سبق سکھائیں، اسلام پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کا دندان شکن جواب دیں، الحادی نظریات اور معاشرے میں پھل پھول رہے فواحش و منکرات نیز خرافات و اوہام کی تردید کریں، بڑھتی ہوئی بے دینی نیز الحاد و دہریت کے خلاف قدغن لگائیں، ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں، وہ افراد جو کتاب و سنت کی روشن شاہراہ سے بھٹک کر بدعات و خرافات کی عمیق دلدل میں اُلجھ گئے ہیں، اُنھیں دلائل و براہین سے لیس ہوکر حکیمانہ اسلوب میں خالص اسلام کی طرف راغب کریں، لوگوں کو دنیا اور اس کی بے ثباتی سے آگاہ کریں، آخرت کی فکر پر بر انگیختہ کریں، کیوں کہ آخرت کی کامیابی ہی حقیقی کامیابی اور زندگی کا حاصل ہے۔

 

چناں چہ صحافت کی اسی اہمیت کے پیشِ نظر نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد اس میدان میں قدم رکھنا چاہتی ہے، مگر اُن کے قدم لڑکھڑاتے ہیں، وہ اپنے تخیلات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے کمر بستہ رہتے ہیں، مگر اُن کا قلم اُن کی خواہش کے مطابق نہیں چلتا۔ وہ جو چاہتے ہیں، جیسا چاہتے ہیں، اُس معیار پر اُن کی تحریریں صفحۂ قرطاس پر نہیں آ پاتیں تو اُنھیں کافی ملال ہوتا ہے، اُن کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔

زیرِ نظر مضمون خود میں نے اپنی رہنمائی کے لیے قلم بند کیا ہے، ساتھ ہی میدانِ صحافت میں قدم رکھنے والے مجھ جیسے نو آموز قلم کار بھی میرے مخاطب ہیں۔ اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعہ نو آموز قلم کاروں کے حوصلوں کو مہمیز ملے، ان کے بڑھتے ہوئے قدم مزید آگے بڑھ سکیں۔ اس لیے آنے والی سطور میں مجھ سمیت اُن سبھی قلم کاروں کے لیے صحافت و مضمون نگاری کے چند رہنما اصول و ضوابط پیش کیے جا رہے ہیں، جو اس میدان میں طبع آزمائی کرنا چاہتے ہیں اور جنھوں نے ابھی لکھنے کی ابتدا کی ہے۔ امید کہ میری یہ گزارشات ہمارے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی اور ہماری صحافتی زندگی کے لیے کافی ممد و معاون ثابت ہوں گی۔ ان شاء اللہ

 

پیارے نو آموز قلم کارو! پہلی بات تو یہ جان لیجیے کہ لکھنے کے لیے تین چیزیں انتہائی ضروری ہیں۔ مطالعہ، مشاہدہ اور تجربہ۔ اگر آپ کے پاس لکھنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں تو پھر آپ لکھیں گے کیا؟ دنیا کا کوئی بھی لکھاری اِنہی تینوں کی بنیاد پر اپنا قلم چلاتا ہے اور اپنے ذہن و دماغ میں اُمنڈنے والے خیالات کو لفظوں کا پیرہن دے کر حسین پیکر میں ڈھالتا ہے۔ لکھنے سے پہلے پڑھنا بے حد ضروری ہے، آپ جتنا پڑھیں گے آپ کی تحریروں میں اُسی قدر وسعت اور گہرائی پیدا ہوگی اور پڑھنے کا سلسلہ اگر تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں گے تو وقت کے ساتھ آپ کی تحریروں میں نکھار پیدا ہوگا اور طرزِ نگارش میں پائیداری آنے لگے گی۔

 

مطالعہ کے ساتھ ساتھ ایک قلم کار کو اپنا مشاہدہ بھی تیز رکھنا پڑتا ہے، اپنے حس کو بیدار رکھنا پڑتا ہے، چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے ہر حال میں چیزوں کو دقت نظری کے ساتھ دیکھنا پڑتا ہے، حالات و واقعات کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ بھی لینا پڑتا ہے تاکہ حقیقتِ حال سے واقف ہوکر وہ ٹھوس اور مستحکم بات رقم کر سکے۔ اس لیے آپ کہیں بھی رہیں سفر ہو یا حضر مشاہدہ تیز رکھیں، اگر کسی اہم مقام کا سفر کر رہیں ہوں تو تمام چیزوں پر گہری نظر رکھیں، اسٹیشن پر موجود ہوں یا بس اسٹاپ پر، بھیڑ بھاڑ کی جگہوں پر ہوں یا کسی تقریب اور اجلاس میں ہر جگہ اپنے مشاہدے کو تیز رکھیں، تنہائی کے لمحات میسر ہوں تو مظاہرِ فطرت پر غور کریں، خالقِ عز و جل کی کاریگری اور کائنات میں پھیلی ہوئی متنوع عجائبات پر غور و تدبر کریں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک لکھاری رویہ شناس ہوتا ہے یعنی لوگوں کے رویوں پر گہری نظر رکھتا ہے، اگر آپ مشاہدہ تیز رکھیں گے تو آپ کو لکھنے کے دوران بہت سارے مواد اور موضوعات میسر ہوں گے اور متعدد باتیں ذہن و دماغ میں گونج رہی ہوں گی اور آپ بے دھڑک اپنے موضوع کی باتیں صفحۂ قرطاس پر رقم کرتے چلے جائیں گے بلکہ ذہن و دماغ میں معلومات کا خزانہ اس قدر وسیع ہوگا کہ آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ کیا لکھیں اور کیا چھوڑ دیں۔

 

مطالعہ و مشاہدہ کے ساتھ ایک لکھاری کو مختلف قسم کے تجربات بھی وافر مقدار میں اپنے ذہن و دماغ کے نہاں خانوں میں محفوظ رکھنے پڑتے ہیں، تاکہ متنوع تجربات کے ذریعے وہ قاری کے ذہن و دماغ کو اپیل کر سکے، اور تجربہ یہ ایسی چیز ہے جو انسان کو قدم قدم پر حاصل ہوتا ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر انسان کو مختلف طبقات اور مختلف مزاج کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، مختلف لوگوں سے تعلقات بنانے پڑتے ہیں، اور اُن تعلقات کو نبھانے میں کبھی خوش گوار تجربہ حاصل ہوتا ہے اور کبھی تلخ اور ناخوش گوار تجربے سے انسان دوچار ہوتا ہے۔ بہر کیف یہ دنیا تجربات سے پُر ہے؛ اگر آپ اپنی نظر میں وسعت اور فکر میں بالیدگی پیدا کریں گے تو ہر روز کسی نہ کسی تجربے سے آپ کا سابقہ پڑے گا، اور آپ اُن تجربات کے ذریعے اپنی تحریروں میں چار چاند لگا سکتے ہیں۔

 

نو آموز قلم کارو! کوئی بھی تحریر لکھنے سے قبل اس کا خاکہ ذہن میں ضرور بنائیں اُس کے بعد ہی لکھنا شروع کریں اور آپ اُس وقت تک کسی موضوع پر قلم نہ اٹھائیں جب تک اُس موضوع پر گہرا مطالعہ نہ کرلیں اور اس موضوع سے متعلق چھوٹی بڑی تمام باتوں سے واقف نہ ہوجائیں۔ اور جب اس موضوع سے متعلق اس قدر معلومات جمع کر لیں کہ اُبال کھانا شروع ہو جائے تو پھر قلم کی نوک سے بلا جھجھک صفحۂ قرطاس پر لکھنا شروع کر دیں۔ یاد رکھیں! معلومات کی قلت محرِّر کو لکھاری کے بجائے جوکر بنا کر رکھ دیتی ہے۔

 

لکھنے کے لیے مشق و مزاولت بھی ضروری ہے، ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ آدمی کا مطالعہ وسیع ہے اور وہ تجربہ و مشاہدہ سے بھی مالا مال ہے، وہ کسی بھی موضوع پر زبانی طور پر بولنے میں اتھارٹی رکھتا ہے؛ مگر اپنے ان خیالات کو لفظوں میں ڈھال کر اُنھیں تحریری شکل نہیں دے سکتا۔ ایسا مشق و ممارست سے دوری کی وجہ سے ہوتا ہے، آدمی اپنے اندر ہمت نہیں جٹا پاتا، اسے ہمیشہ یہ خوف لگا رہتا ہے کہ لکھنے میں مجھ سے غلطیوں کا صدور ہوگا، تذکیر و تانیث میں غلطیاں ہوں گی، جملوں کی ساخت درست نہ ہوگی۔ حالاں کہ یہ محض جزو وقتی خوف ہوتا ہے، اس طرح کی باتوں سے ڈرنا نہیں چاہیے، غلطیوں کا صدور ہر کسی سے عین ممکن ہے، بڑے بڑے اساتذۂ فن اور اساطینِ قلم  سے بھی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں، آپ تو ابھی اس میدان کے نو آموز کھلاڑی ہیں۔ اس لیے اگر آپ لکھنا چاہتے ہیں، اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں، آپ کی خواہش ہے کہ لوگ آپ کو بھی پڑھیں، مگر تمام تر خواہشوں، امنگوں اور چاہتوں کے باوجود آپ لکھنے سے ڈرتے ہیں، لکھتے وقت آپ پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے، آپ کو یہ فکر بھی لاحق رہتی ہے کہ کیا لکھوں؟ کیسے لکھوں؟ ابتدا کہاں سے کروں؟ انتہا کس بات پر ہو؟ تو آپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ آپ کی یہ سراسیمگی بے جا نہیں ہے؛ بلکہ ہر قلم کار اپنے لکھنے کے ابتدائی ایام میں اِنہی پریشانیوں سے دو چار ہوتا ہے، اس لیے گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں، آپ قلم اور کاپی سے اپنا رشتہ استوار کیجیے، چند ہفتوں تک یا کم از کم دو چار مہینوں تک اِدھر اُدھر کی لفاظی اور بکواسات لکھتے رہیے۔ اب تک جو کچھ مطالعہ کیا ہے اپنے حافظے کی مدد سے ان منتشر خیالات اور معلومات کو موضوعاتی اعتبار سے لکھتے رہیے۔ اب تک جو کچھ بھی سماج و معاشرے کے اندر مشاہدہ کیا ہے اُن باتوں کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر کاپی پر اتارنے کی کوشش کیجیے۔ اب تک زندگی میں جو کچھ تجربہ ہوا ہے اسے بھی کاپی پر اُتارنے کی کوشش کیجیے۔ دوستوں کے پاس خطوط لکھیے، کتابوں پر تبصرے کیجیے، کسی مضمون کی تلخیص کیجیے، کسی اہم اور تاریخی مقام کا سفر کریں تو اس کی مختصر روداد لکھیے، ملک میں پیش آنے والے نت نئے مسائل اور واقعات کو اپنے انداز اور اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش کیجیے، اخبارات میں آسان اسلوب میں مراسلہ لکھیے، کسی دل کش اور خوب صورت منظر سے آنکھیں چار ہوں تو اس کی منظر کشی اپنے الفاظ میں بیان کیجیے، کسی افسوس ناک خبر، یا کسی تکلیف دہ منظر سے آنکھیں اشک بار اور دل غم ناک ہو تو فوراً اسے واقعاتی انداز میں قلم بند کیجیے اور تحریر لکھنے کے بعد اُس میں کاٹ چھانٹ اور اصلاح و ترمیم کرتے رہیے، اُسے خوب سے خوب تر بنانے کی ہر ممکن کوشش کیجیے، تحریر ایک بار نہیں بلکہ بار بار پڑھیے اور جب تحریر کے مشمولات سے بالکل مطمئن ہو جائیں تب اسے منظر عام پر لائیے اور ہاں لکھتے وقت بغیر کسی تردد کے قلم برداشتہ لکھیے، چاہے قواعد کی رو سے ایک جملہ بھی درست نہ ہو۔ بس لکھیے صرف اور صرف چند ماہ ان شاء اللہ آپ خود محسوس کریں گے کہ میرے قلم میں کتنی روانی پیدا ہوگئی ہے۔

 

لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس الفاظ و محاورات کا اچھا خاصا ذخیرہ بھی ہو، تاکہ موقع و محل کی مناسبت سے الفاظ کے انتخاب میں پریشانی نہ ہو۔ اور یہ چیز کثرتِ مطالعہ ہی سے حاصل ہوگی۔ مطالعہ کرتے وقت اس بات پر بھی دھیان رکھنا ضروری ہے کہ الفاظ کو ہضم کرنے کی کوشش کریں اور جن الفاظ کے معانی سے نابلد ہیں فوراً اس کی تحقیق خود سے کریں، مطالعہ کے وقت ڈکشنری ساتھ رکھیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دورانِ مطالعہ کسی مشکل لفظ یا کسی گنجلک و پُر پیچ ترکیب سے ہمارا سامنا ہوتا ہے تو آسانی کے لیے فوراً دوسرے سے پوچھ کر اسے حل کرنا چاہتے ہیں جب کہ یہ عادت درست نہیں ہے، دوسروں سے ضرور پوچھیے، مگر کم از کم الفاظ کے معانی جاننے کے لیے خود کو لغت کے اوراق الٹنے پلٹنے کی زحمت دیں، ہاں جہاں بات نہ بنے دوسرے سے پوچھیے یا مزید توثیق کے لیے دوسرے سے استفسار کیجیے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ ایسے بہتیرے لوگ ہیں جو بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کر لیتے ہیں، مگر اُنھیں لغت دیکھنے کا طریقہ تک معلوم نہیں ہوتا۔ ایسے افراد کم ہیں، مگر ہیں ضرور۔ بہرحال لکھنے سے پہلے کافی محنت کی ضرورت ہے۔

 

اسی طرح تحریر لکھتے وقت ملکی یا غیر ملکی، سماجی، معاشرتی یا سیاسی جس موضوع پر بھی خامہ فرسائی کریں حالات و واقعات کا تجزیہ کرتے وقت غیر جانب داری کا مظاہرہ کریں، اور واقعات کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد بلا کسی خوف کے حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر پیش کریں، سچائی اور دیانت داری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے، تحریر سے تعصب، تملق، خود پسندی اور خود نمائی کی بو نہ آئے، ابتدا میں چھوٹے چھوٹے جملے لکھیں، سادہ اور عام فہم زبان استعمال کریں، عبارت کو بلاوجہ طویل کرکے اسے مشکل اور  پیچیدہ نہ بنائیں۔ اور نہ ہی لغت سے غیر مانوس مشکل اور ثقیل الفاظ ڈھونڈ ڈھونڈ کر تحریر میں جان پیدا کرنے کی کوشش کریں، ایسا کرنے سے تحریر میں جان پیدا ہونے اور چار چاند لگنے کے بجائے تحریر بے وقعت ہوکر رہ جاتی ہے۔ غرض یہ کہ جو بھی لکھیں واضح، مرتب، مُرکَّز اور مربوط انداز میں لکھیں، ایک جملہ دوسرے جملے کے ساتھ نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہوں۔ تحریر میں خوب صورتی پیدا کرنے کے لیے گاہے بہ گاہے بر محل اور چنندہ اشعار کا بھی استعمال کرسکتے ہیں، مگر بلا ضرورت بغیر کسی سر پیر کے تحریر کے اندر اشعار کا داخل کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔

علاوہ ازیں کسی ادیب یا قلم کار کی تحریر یا کتاب سے اُن کے استعمال کیے گئے جملوں اور عبارتوں کو سرقہ کرکے اپنی تحریر میں شامل نہ کریں؛ کیوں کہ یہ سراسر بد دیانتی اور خیانت ہے اور ایک اچھے قلم کار کی شان کے خلاف بھی ہے۔ ہاں محض سیکھنے کے لیے بڑے بڑے سلیم الفکر ادباء کے افکار و خیالات کو اپنے الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

 

تحریر کو ظاہری و معنوی دونوں اعتبار سے قابلِ فہم بنانے کے لیے رموز و اوقاف کے اصول و قواعد اور صحتِ املا کا خاص لحاظ کریں، تحریر کے مشمولات خواہ کتنا ہی جامع اور فکر انگیز ہوں، اگر اس میں قواعد کی رعایت نہ کی جائے، لفظوں کا چناؤ غیر مناسب ہو اور املا درست نہ ہوں، تو ایسی تحریریں اپنی حیثیت کھو دیتی ہیں، اور ایک باذوق قاری ایسی تحریر کو پڑھنا تو درکنار ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر ہی آگے گزر جاتا ہے، اس لیے درست املا اور ہیئتِ رسم الخط نیز رموز و اوقاف کی جان کاری کے لیے متعلقہ موضوع پر لکھی گئی ماہرینِ لسانیات کی کتابوں کا مطالعہ ضرور کریں۔

اور جہاں تک بات تحریر میں نکھار آنے کی ہے تو اگر آپ مطالعہ جاری رکھیں گے اور مسلسل ٹوٹے پھوٹے انداز میں ہی لکھتے رہیں گے تو لکھتے لکھتے تحریر میں خود بہ خود نکھار اور جاذبیت آنے لگے گی، جس کا احساس آپ کو خود ہوگا اور بسا اوقات آپ کی تحریر اتنی دلکش، دل چسپ اور جان دار ہوجائے گی کہ آپ کو اپنی ہی تحریر پر عش عش کرنے کو جی چاہے گا۔

 

ایک بات یہ بھی یاد رکھیں کہ کوئی بھی تحریر لکھنے کے بعد اس کی اصلاح اور نوک پلک درست کرنے کے لیے کسی قلم کار کو اپنا استاد اور رہنما تسلیم کرلیں اور اپنی تحریر کو اس سے جانچ کرواتے رہیں، اس کے حذف و اضافہ پر خوب غور کریں کہ کہاں غیر ضروری عبارتوں کو حذف کیا گیا ہے اور کہاں مناسب اضافہ کیا گیا ہے؛ چناں چہ تصحیح شدہ تحریر پر باریک بینی سے جائزہ لیں اور اُسی کی روشنی میں آئندہ کی تحریر لکھنے کی کوشش کریں۔

 

اگر آپ ایک لکھاری بننا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک جیبی سائز ڈائری کی بھی ضرورت ہے تاکہ جو بھی نادر خیال ذہن میں آئے فوراً اسے قلم بند کرلیں، موجودہ وقت میں چوں کہ ہر ایک کے پاس اسمارٹ-فون موبائل ہے اور تقریباً ہر موبائل میں نوٹ پیڈ کی سہولت میسر ہوتی ہے، لہٰذا اُس سے بھی یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور نادر خیالات کو ضبط کرنا اِس لیے بھی ضروری ہے کہ بسا اوقات ہمارے ذہن میں ایسی عمدہ عمدہ باتیں اور فکر انگیز خیالات آجاتے ہیں کہ اگر اسے فوراً ضبط نہ کر لیا جائے تو وہ ہمارے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں اور بسا اوقات چشم زدن میں ہی ذہن سے اُڑن چھو ہوجاتے ہیں۔

نو آموز قلم کاروں کو ایک سوال یہ بھی پریشان کرتا ہے کہ وہ کس وقت اور کن حالات میں تحریر لکھیں، نیز تحریر لکھتے وقت توجہ کیسے مرکوز رکھیں۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہر لکھاری کی اپنی ایک طبعیت اور ذوق ہوتا ہے، لہٰذا ہر لکھاری اپنے ذوق اور طبیعت کے اعتبار سے جو وقت اُسے مناسب محسوس ہوتا ہے اُنہی اوقات میں وہ تحریر رقم کرتا ہے، اسی طرح ہر قلم کار کا اندازِ نشست بھی الگ ہوتا ہے، کوئی کرسی پر بیٹھ کر لکھتا ہے، کوئی بستر پر لیٹ کر لکھتا ہے، کوئی کمرہ بند کرکے نہایت ہی پُرسکون حالت میں لکھتا ہے، کسی کو شور و غل سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ ایسے ماحول میں بھی اُس کا قلم فراٹے بھرتا ہے، اس لیے یہ لکھاری کی صواب دید پر منحصر ہے کہ جس وقت اور جس حالت میں اس کا ذہن مکمل یکسو ہو اور خیالات و جذبات کو صفحۂ قرطاس پر بکھیرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ پیش آئے اُسے اسی حالت میں لکھنا چاہیے، لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ خواہ کتابوں کا مطالعہ ہو یا لکھنے کا مرحلہ ہر حال میں یکسوئی اور توجہ ازحد ضروری ہے۔ یکسوئی اور توجہ کے بغیر نہ ہم کوئی عمدہ تحریر سامنے لا سکتے ہیں اور نہ ہی مطالعے کا بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

 

اور یہ بھی یاد رکھیے کہ جو بھی لکھاری مطالعے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے، مشاہدہ تیز رکھتا ہے، معاملات کو تجربے کے ذریعے پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ قلم کاری کی دنیا میں کافی آگے جاتا ہے بشرطیکہ کہ اُس کی جستجو، لگن اور جذبے میں کمی نہ آئے۔ اگر آدمی کا ذوق و شوق ہی ماند پڑ جائے، اپنے کام میں جی نہ لگے، اپنا کام اُسے بوجھ محسوس ہو تو ایسا شخص، قلم کاری ہی کیا دنیا کے کسی بھی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔ خواہ میں ہوں، آپ ہوں، یا کوئی اور ہو۔ منزل کو پانے کے لیے طلب و جستجو اور سچی تڑپ کا ہونا ناگزیر ہے۔

 

ایک نو آموز قلم کو جہاں مسلسل مشق و مزاولت کے ساتھ لکھنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے، وہیں اُس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی چند تحریروں پر اِترائے نہیں، اور نہ اُسے فخر و غرور اور تکبر کا رویہ اپنانا چاہیے کہ اپنے سامنے ہر کسی کو ہیچ سمجھنے لگے، بلکہ اہلِ علم و ادب اور اکابرین سے سیکھنے کا عمل اور اخذ و استفادہ کا سلسلہ مسلسل جاری رکھنا چاہیے۔ ایک نو آموز قلم کار کے لیے قطعی یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ چند مضامین لکھنے کے بعد اپنے آپ کو بہت بڑا لکھاری اور قلم کار سمجھنے لگے اور اپنے آگے سب کو ہیچ تصور کرے، بلکہ چھوٹے بڑے ہر کسی کے لیے یہ روش اپنانا انتہائی معیوب ہے۔ اگر یہ رویہ اپنائیں گے تو بدیہی بات ہے ناکامی آپ کا مقدر ہوگی۔ ؎

حُباب بحر کو دیکھو وہ کیسا سر اٹھاتا ہے

تکبر وہ بری شی ہے جو فوراً ٹوٹ جاتا ہے

اپنے آپ کو منوانے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ بے جا طور پر ہر کسی پر تنقید کریں، اپنے سوا اوروں کا استہزا اڑائیں اور دوسرے لکھنے والوں کی تحریروں میں کیڑے نکال کر اُن کی تضحیک و تنقیص کریں۔ زندہ تحریروں کے لیے معیاری اور اصولی تنقید کا ہونا ضروری ہے، تنقید کے بغیر کھرے اور کھوٹے کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مگر معیاری تنقید کے لیے لہجہ و اسلوب کا تنقیص و استہزا سے پاک ہونا بھی ضروری ہے۔

 

آخری بات یہ ہے کہ بہت سے نو آموز قلم کاروں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ اُن کی ٹوٹی پھوٹی، بے ربط تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، خصوصاً بڑے قلم کار اُن کی ہمت افزائی نہیں کرتے اور گاہے بہ گاہے لوگ طنز کی تیر سے اُن کو لہولہان کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کے پرواز میں خواہ مخواہ دخل انداز ہوکر اُن کے بڑھتے ہوئے قدم کو کاٹ دینا چاہتے ہیں۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ صرف تنقید کا نشانہ بنانے والے ہی موجود رہتے ہیں بہتیرے لوگ حوصلہ افزائی کرنے والے اور مفید مشوروں سے نوازنے والے بھی ہوتے ہیں اور وقتاً فوقتاً آپ کی تحریروں پر مثبت تنقید بھی کرتے ہیں، لہٰذا اُن کی آراء اور مثبت تنقیدوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول فرمائیں۔ آپ کو یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جب آپ اس میدان میں قدم رکھیں گے اور اپنی نگارشات کو منظر عام پر لائیں گے تو کچھ لوگ بے جا اعتراض کریں گے کہ کیا جناب وہی گھسے پٹے فرسودہ موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے ہیں ذرا کچھ نیا لکھیں تو ایسے لوگوں کی خدمت میں بصد احترام عرض گزار ہوں کہ جنابِ والا ابھی ہم کار زارِ صحافت کے نو آموز ہیں، ابھی ہمارا مطالعہ محدود ہے، تجربہ بھی ناکافی ہے، مشاہدہ بھی ناقص ہے، گھسے پٹے اور پٹے پٹائے موضوعات پر لکھ کر نہیں سیکھیں گے تو کیا شروعاتی دور میں ہی ادبِ عالیہ تخلیق فرمائیں گے؟ غالب جیسی خطوط لکھیں گے؟ آزاد جیسی نثر لکھیں گے؟ ہر گز نہیں! ابتدائی دور میں ہر قلم کار گھسے پٹے موضوعات پر ہی لکھ کر سیکھتا ہے پھر وقت کی رفتار کے ساتھ دھیرے دھیرے اس کی تحریروں میں پائیداری آنے لگتی ہے۔

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ قلم کاری ہی نہیں جس میدان میں بھی قدم رکھیں گے حوصلہ افزائی کرنے والے کم؛ البتہ ٹانگ کھینچنے والے اور حوصلہ شکنی کرنے والے افراد آپ کو زیادہ ملیں گے، لہٰذا ایسے مایوس کن حالات میں ہمت ہارنے کے بجائے پوری پامردی کے ساتھ آپ اپنے مقصد کے حصول میں لگے رہیے اور اپنے اندر صلاحیت اور قابلیت پیدا کیجیے ان شاء اللہ آپ کے مخالفین اور معاندین سرِ عام نہ سہی درپردہ آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوں گے بقول اکبر الہ آبادی : ؎

نگاہیں کامِلوں  پر  پڑ ہی  جاتی  ہیں  زمانے  کی

کہیں چھپتا ہے اکبرؔ پھول، پتوں میں نہاں ہوکر

اور جب آپ کی تحریروں پر تنقیدوں کی بوچھار کی جائے اور آپ کے حوصلوں کو پست کرنے کی کوشش کی جائے تو یاد رکھیے! وہ وقت آپ کے لیے آزمائش اور امتحان کا وقت ہوتا ہے۔ اور یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ آپ کی تحریر لائقِ التفات ہے تبھی تو لوگ آپ کی تحریر پڑھ کر اُس پر تنقید کر رہے ہیں اور اگر آپ کی تحریر لائقِ توجہ نہ ہوتی تو اُس پر تنقید کیا معنی رکھتا ہے۔ آپ چاہیں تو دوسروں کی نکتہ چینوں سے تنگ آکر وہ میدان ہی چھوڑ دیں یا چاہیں تو اللہ پر اعتماد و بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مشن میں تن دہی کے ساتھ ڈٹے رہیں، اگر آپ ہمت نہیں ہارتے ہیں اور اپنے کام کو خلوص و للٰہیت کے ساتھ انجام دیتے رہتے ہیں تو یقیناً کامیابی آپ کے قدم بوس ہوگی۔ ان شاء اللہ

قدم چوم لیتی ہے خود بڑھ کے منزل

مسافر اگر اپنی ہمت نہ ہارے

٭٭٭

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *