آر ایس ایس اور اس کے سیا ہ کارنامے

 

 

محمد ذبیح اللہ عبدالرﺅف التیمی

6200592456

 

ہمارا پیارا وطن ہندوستان جو امن و امان اور چین و سکون کا گہوارہ اور مختلف مذہب وملت اورمتعدد تہذیب وثقافت کا محافظ تھاآج عجیب وغریب اضطراب و کشمکش میں مبتلا ہے ۔ہر جگہ بے چینی اور بدامنی کا ماحول ہے ۔ہر شخص وفرد خصوصا اقلیتی طبقہ خوف وہراس میں ہر آن زندگی گزار رہا ہے ۔اقلیت تو دور اکثریتی طبقہ بھی مامون ومطمئن نہیں ہے ۔ملک کی زودافزوں معاشی بحران نے ملک کے ہر شہری کو بے اطمینانی اور پریشانی میں ڈال رکھا ہے ۔کسی بھی عام ہندوستانی کو قلبی راحت اور ذہنی سکون نصیب نہیں ہے۔ وطن عزیز کو ماضی اور حال میں اپنی عظیم الشان قربانیوں سے سینچنے اور سنوارنے والی مسلم قوم ایک نئے شہری ترمیمی قانون (سی اے اے اور این آر سی )کولے کرمہینوں سے سراپا احتجاج بنی ہوئی تھی اور شب و روز سڑکوں اور چوک چوراہوں کی دھول پھانک رہی تھی ۔کیا مرد کیاعورتیں کیامسلم کیا ہندو کیاسکھ کیا عیسائی سب کے سب دبے کچلے لوگ ایک ساتھ مل کر حکومت کے کالے قانون اور ہٹلری فرمان کے خلاف ہر روز مظاہرے اور جلسے جلوس اور دھرناپردرشن کر رہے تھے مگر حکومت ان کی آوازوں کو سننے کے لئے تیار تک نہیں تھی ۔حد تو اس وقت ہوجاتی ہے جب ملک کی سب سے بڑی ذمہ داری والی کرسی پر جلوہ نشیں شخص اپنے آپ کو ایک خاص قوم کا نمائندہ سمجھنے لگتاہے اور مسلمانوں کے تعلق سے اجتماع عام میں غیر ذمہ دارانہ بیان جاری کر کے کہتاہے کہ”جو ٹولی نئے قانون کی مخالفت میں دھرنے اور پردرشن کر رہی ہے وہ کبھی بھی ہمارے ساتھ نہیں رہی ہے اور آگے ہمارے ساتھ رہے گی اس کی امید کرنا چھوڑ دینی چاہئے اور ہمیں آگے بڑھنا چاہئے “ اسی طرح سے انہوں نے بنارس کے اجلاس میں لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ” سی اے اے“ کو لے کر مہینوں سے مجھ پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر دباو بنا یا جارہاہے لیکن میں نہ پیچھے ہٹا ہوں اور نہ ہٹوں گا“۔وزیر اعظم نے مسلمانوں کے ساتھ اسی بھید بھاو اور امتیازی سلوک پر اکتفا ءنہیں کیا بلکہ دلی انتخاب میں جب ان کی پارٹی اروند کیجریوال کے مقابلے میں بری طرح سے سے مات کھاگئی تو پورے دلی میں ان کے اشارے پر فساد ودنگا کا ایسا کھیل گیا کہ اس نے گجرات فساد کی یاد تازہ کرد ی۔ درجنوں لوگ مارے گئے ،سیکڑوں بری طرح سے زخمی ہوئے اور ہزاروں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دئے گئے ۔اس کے باوجود مسلمان سی اے اے کے خلاف مظاہرے سے باز نہیں آرہے تھے اور مقتل میں اپنا سر لئے کھڑے تھے کہ قدرت کی بے آواز لاٹھی ”کرونا“نے دستک دیدی اور پوری دنیا کو ایسی مار ماراکہ سب کے سب چت پڑے دکھائی دے رہے ہیں اور ساری اکڑ اور گھمنڈ چکنا چور ہو گیا ہے ،وزیر اعظم کو بھی مسلمانوں کی چل رہی تحریک اور بلند سے بلند تر ہوتی ہوئی آواز کو کورونا کا خوف دکھاکر دبانے کا اچھا موقع مل گیا اور انہوں نے زبردستی اسلحہ اور فوج کے بل پر ان کے دھرنے اور پردرشن کوختم کرادیا اورمسلمانوں نے بھی مصلحتا وقتی طور پر اسے موقوف کردیا ۔لیکن اس مشکل گھڑی میں بھی جبکہ اس وبائی مرض نے پورے ملک میں اپنے پر پھیلا دئے ہیں مریض ذہنیت کے لوگ ہندو مسلم کرنے سے باز نہیں آرئے ہیں اور ہر بات میں ہندﺅ ں اور مسلمانوں کو لڑانے کی پیہم کوششیں کررہے ہیں ۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس حکومت کا قیام ہی مسلم مخالف ایجنڈوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کیا گیا ہے جیساکہ ہم نے ماضی میں تین طلاق ، دھارا370، بابری مسجداور سیٹیزن شپ(سی اے اے) معاملے میں دیکھا ہے اورآگے نہ جانے کیا کیا دیکھنے کو ملے گا (الامان والحفیظ)۔

در اصل آج ملک کی جو نفرت انگیز اورزہر آلود فضاہے جس میں ہر شہری بمشکل سانسیں لے رہاہے اور ملک ہر اعتبار سے تنزلی و انحطاط کے دہانے پر کھڑا ہے اورسب کے سب اس کے تماشا بیں بنے ہو ئے ہیں تو اس کا پوراکا پورا ذمہ دار ایک خاص تنظیم ہے اور وہ ہے آر ایس ایس ۔اسی تنظیم کے جھوٹی قومیت کے دام فریب میں مبتلا ہوکرملک کا اکثریتی طبقہ اپنا سودوزیاں سب کچھ بھلا بیٹھا ہے۔نام نہاد راشٹر واد نے انہیں ایسا اندھا کردیا ہے کہ انہیں پتا ہی نہیں چل رہاہے کہ وہ کس سمت میں جارہے ہیں ۔وہ بالکل بکری کے ریوڑ کے مانند ہوگئے ہیں۔ ان کا چرواہا جیسے چاہ رہاہے انہیں ویسے ہی گھما رہاہے ۔ نہ انہیں سوجھ بوجھ ہے اور نہ عقل وفہم ۔اور اگر ان میں سے کوئی شخص اس کے جھوٹے راشٹرواد کے مکرو فریب کو سمجھ رہاہے اور اس کے خلاف اپنی آوازیں بلند کرنے کی کوشش کر رہا ہے توا س کے اوپر فورا ملک مخالف اور دیش دروہی ہونے کا لیبل چسپاں کر دیا جارہا ہے۔

 

رہبر ہے میرا رہزن منصف ہے میرا قاتل

کہ دوں تو بغاوت ہے سہ لوں تو قیامت ہے۔

 

حالانکہ اگرجنگ آزادی کی تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو معلوم ہوگاکہ آر ایس ایس کا وجود ہی جنگ آزادی کے خلاف عمل میں آیا تھا ۔ملک سے غداری اور بے وفائی اس کے ڈی این اے میں ہے ۔آئیے ذیل کے سطور میں آر ایس ایس اور اس کے سیاہ کارناموں کے بارے میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

آرایس ایس اوراس کا قیام:آر ایس ایس یہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا مخفف ہے ،جس کا مطلب ہوتاہے قومی رضاکارانہ تنظیم۔ اوریہ زیادہ تر سنگھ کے نام سے ہی مشہور ومعروف ہے ۔اس کا صدر مقام صوبہ مہاراشٹر کے ناگپورمیں ہے ۔اس تنظیم کی بنیاد ایک کٹر ہندوڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوار نے 27ستمبر 1925کو مہاراشٹر کے ناگپورمیں اپنے گھر پرسترہ لوگوں کی موجودگی میں رکھی تھی ۔اس وقت اس کا کوئی نام نہیں رکھا گیاتھا۔مقصد صرف ہندو مت کی حفاظت کرنا تھا۔اس کے بانی کے علاوہ جو لوگ اس کی تاسیسی میٹنگ میں شریک ہوئے تھے ان میں وشوناتھ کیلکر ،بھاوجی کاورے ،انا ساہنے بالاجی ہدار ،بابو راﺅ بھیدی جیسے سرکردہ لوگوں کے نام سر فہرست ہیں ۔اس تنظیم کے قیام کے تقریبا ایک سال کے بعد 17اپریل1926کو اس کا نام آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ رکھا گیا اور اس کا جھنڈا بھگوا رنگ کا متعین کیا گیا اور اسی دن اس کے اصول وضوابط وضع کئے گئے۔ ساتھ ہی اس کے بانی کو اس کا سربراہ منتخب کیا گیا۔

آر ایس ایس کے قیام کا مقصد : اس تنظیم کا قیام ایک بہت بڑے مقصد کے حصول کے لئے کیا گیا ہے اور وہ ہے ہندوستان میں ہندو ملک کا قیام ۔ یہ بھارت میں برسوں سے چلی آرہی ہندتوا افکارو نظریات اور اس کی تعلیمات وافادات کو عام کرنے والوں کی پہلی باضابطہ اور منظم تحریک ہے، جس کی بنیاد متشدد ہندو اسکالرس خاص طور سے ونایک دامودر ساورکر کی نظریات پر رکھی گئی ہے ۔درحقیقت جب سے ہندوستان کی سرزمین پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی اوراس کو استحکام حاصل ہوا تب سے ہندﺅں کا ایک طبقہ مسلسل اس کی مخالفت کرتا رہاہے اورہندو عوام کو مسلمانوں کا خوف دلاکر انہیں جذبات کی بنیاد پر استعمال کرتارہاہے اور مسلمانوں سے میدان کارزار میں لوہالیتا رہا ہے،لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ شکست وریخت سے دوچار ہوتا رہا اور کبھی بھی انہیں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ۔تاریخی ادوار کے ان متشدد ہندوں میں مہارانا پرتاب سنگھ اور شیواجی کا نام سب سے جلی ہے ۔لیکن جونہی مسلمانوں کی حکومت انتشار کا شکار ہوئی اور انگریزوں کے دام فریب میں مسلم حکمراں آئے وہ اپنی طاقت کھو بیٹھے ۔ادھر ازلی دشمن طاق میں بیٹھا موقع کاانتظار کر رہا تھا ۔ہندوانتہا پسند ذہنیت کے حاملین ہندتوا کا زہر سادہ لوح ہندﺅں کے ذہن ودماغ میں بھرنے لگے اور ہندو راشٹر واد کے نام پر انہیں ایک چھتری کے نیچے جمع کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔انیسویں صدی میں اس سلسلے کا سب سے اہم نام سوامی وویکا نند کا ہے جس نے کھل کر اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ملک اور بیرون ملک میں اپنی تقریر و تحریر کے زریعے زہر افشانی کیا ۔ہندتو اکی یہ تحریک کبھی بھی ختم نہیں ہوئی بلکہ وقت اور حالات کے موافق اپنے آپ کو آگے بڑھاتی رہی ۔انیسویں صدی کے انتہائی اوربیسویں صدی کے شروعاتی دہے میں یہ تحریک چھپ چھپاکر چلتی رہی کیونکہ یہ دونوں دہائیاں ملک میں انگریزوں کے خلاف چل رہی جنگ آزادی کے عروج کی تھیں ۔سب لوگوں کا ایک ہی مقصد تھا آزادی کا حصول ۔چنانچہ جونہی آزادی کا سورج طلوع ہونے سے قبل افق ہندوستان پر اس کی سرخیاں نمودار ہونا شروع ہوئیں تو پھر یہ ہندو انتہا پسند ذہن والے ہندتوا کی بیج تیزی سے بونے لگے ۔کانگریس پارٹی میں بھی اس ذہنیت کے لوگ موجود تھے جیسے لالہ لاجپت راے ،بال گنگا دھر تلک اور ڈاکٹر مدن موہن مالویہ وغیرہ ۔مگر ان سب سے الگ ایک اور شخص تھا جو دراصل موجودہ آر ایس ایس کے لئے راستہ ہموار کر رہا تھااور اس کے لئے فکری غذائیں فراہم کر رہا تھا اور وہ تھا ونا یک دامودر ساورکر۔ اسی شخص نے سب سے پہلے دو راشٹر ہنداور مسلم کا فکرہ پیش کیا اور بھارت کی سرزمین کو ہندو مذہب کی جائے پیدائش ،اس کی مقدس سرزمین اور یہاں کے پیدائشی ہندﺅں کو اصل ہندوستانی قرار دیا۔1906میں جب مسلم لیگ کاقیام عمل میں آیااور اس نے ایک الگ مسلم ملک کا راگ الاپنا شروع کیا تواس نے اور بھی ہندﺅں کے اندر ہندتوا کے نام پر اجتماعیت کو ہوا دینے کا کام کیا۔چنانچہ اس کے کچھ ہی دنو ں کے بعد1915میں لالہ لاجپت رائے اور مدن موہن مالویہ وغیرہ نے مل کر” ہندو مہاسبھا “کا قیام عمل میں لایا اور اس کے بینر تلے ہندﺅں کو متحد کرنا شروع کیا۔اسی بیچ ساور کر نے 55صفحات پر مشتمل ایک پمفلٹ”ہندتوا:ہندو کون ہے ؟ “تحریر کیا جس میں اس نے ہندتوا کے افکار و نظریا ت کا تعارف کرایا جس کو ہندﺅں کے درمیان کافی پسند کیا گیا ۔باوجودیکہ ساورکر نے ہندو قوم پرستی کا نظریہ پیش کیا مگر عملی اقدامات لئے اس نے کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا ۔لیکن اس کے خیالات سے ہم آہنگی رکھنے والے بہت سے لوگ موجود تھے جن میں سرفہرست ہیڈ گیوار تھا جو ساورکر سے بہت زیادہ متاثر تھا چنانچہ اس نے ساور کے افکار وخیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک تنظیم کی بنیاد رکھنے کافیصلہ کیا اور اس طرح سے اس نے1925میں آر ایس ایس کو تشکیل دیا۔

سنگھ کی بناوٹ یا سنگھ پریوار :آر ایس ایس جو ایک چھوٹی سی تنظیم سے شروع ہوئی تھی آج دنیا کے اسی( 80)سے زیادہ ملکوں میں سرگرم عمل ہے اور یہ من وعن یہودیوں کی طرح منظم منصوبہ بندی کے تحت کا م کر رہی ہے ۔اس کی پچاس سے زیادہ ذیلی اور ملحق تنظیمیں ہیں جو آر ایس ایس کی نظریات کو مانتے ہوئے ملک اور بیرون ملک کے مختلف میدانوں میں کام کر رہی ہیں ۔ان میں سے چند کے نام درجہ ذیل ہیں :

(1)بی جے پی (سیاست میں ) (2)بھارتیہ کسان سنگھ (کاشتکاروں میں )(3)بھارتیہ سنگھ(مزدوروں میں)(4)سیوابھارتی(5)راشٹریہ سیویکا سمیتی (6)اے بی وی پی یعنی اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد (طلبہ میں )(7)وشو ہندو پریشد (8)ہندو سویم سیوک سنگھ (9) سودیشی جاگرن منچ (10) سرسوتی شیشو مندر (11)ونواسی کلیان آشرم (12)مسلم راشٹریہ منچ (مسلمانوں میں )(13)بجرنگ دل (نوجوانوں میں )(14)لگھو ادھوگ بھارتی ۔(15بھارتیہ وچار کیندر (16) وشو سنواد کیندر (17)راشٹریہ سکھ سنگت (18)ہندو جاگرن منچ(19)وویکا نند کیندر۔

ان کے علاوہ اور بھی تنظیمیں ہیں جو اور آر ایس ایس کے زیر اشراف کام کررہی ہیں اور ان تمام کے مجموعہ کو سنگھ پریوار کے نام سے جانا جاتاہے ۔

طریقہ کار:آر ایس ایس سے جڑنے والے تمام افراد رضاکارانہ طور پر کا م کرتے ہیں اور ملک کی خدمت کرنے اور ہندو مذہب کی نشرو اشاعت اور دعوت وتبلیغ کرنے کے لئے منسلک ہوتے ہیں ۔اس تنظیم میں سب سے اعلی عہدہ سر سنگھ چالک کا ہوتاہے اور وہی اسے کنٹرول کرتاہے ۔اس کا انتخاب جمہوری طریقے کے بجائے نامزد گی کے ذریعے ہوتاہے ۔حالیہ سر سنگھ چالک اپنے بعد جس شخص کو اس عہدہ کے لئے مناسب سمجھتاہے اس کے نام کا اعلان کر دیتاہے ۔سرسنگھ چالک کے بعد پرچارک کا عہدہ ہوتاہے ۔موجودہ وزیر اعظم اور یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ دونوں سنگھ کے پر چارک کے عہدہ پرفائز رہے ہیں ۔

آر ایس ایس کی تاریخ:اس کی تاریخ کو ان کے سر براہوں کے دور اقتدار کے اعتبار سے چھ ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں :

پہلا دور :1925سے1940تک کے زمانہ پر محیط ہے ۔یہ اس تنظیم کے بانی کا دور ہے۔

دوسرادور :1940سے 1973کے زمانہ پر مشتمل ہے ۔یہ گوالکر کا دور ہے ۔اس کے دور کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں (۱)ابتدائی دور1948 -1949اور (۲)انتہائی دور1973-1949۔گوالکر کے ابتدائی دور 1948میں گاندھی جی کے قتل کے الزام میں اس پر پابندی لگادی گئی تھی ۔اور 1949میں اس پر سے پابندی ہٹادی گئی ۔

تیسرا دور :1973سے 1994تک کے زمانہ پر پھیلاہواہے ۔یہ بالاصاحب دیورس (1906)کا عہد ہے ۔

چوتھا دور:1994سے 2000تک کے زمانہ پر محیط ہے ۔یہ پروفیسر راجندر سنگھ عرف رجو بھیا کاعہد ہے ۔

پانچواں دور :2000سے 2009تک کازمانہ ۔یہ کپا ہلی سیتارمیا شدرشن کا دور ہے ۔

چھٹادور :2009سے تا حال۔موہن راﺅ بھاگوت کا عہدہے ۔

آر ایس ایس کا نظریہ :اس تنظیم کا نظریہ ”ہندتوا“(ہندو قوم پرستی یا قوم پرستی میں انتہا پسندی کے نظریہ پرمبنی) ہے ۔یعنی سرزمین ہند پر ہندو قومیت کی بالا دستی اس کا بنیادی نظریہ ہے ۔اس فکرہ اوراس اصطلاح کو سب سے پہلے ونایک دامودر ساورکر نے1923میں ایک کتابچہ ”ہندتوا۔ہندو کون ہیں ؟“ کے ذریعے متعارف کرایا ۔یہ ایک سیاسی اور سماجی تصور ہے جس کی بنیاد روحانی ،مذہبی اور ثقافتی روایات پر مبنی ہیں ۔ایک دوسرے کٹر ہندو قوم پرست گوالکر نے ہندو قومیت کے لئے پانچ عناصر متعین کئے ہیں :(1 )جغرافیائی اتحاد (2)نسلی یکسانیت (3)مذہبی اتحاد (4)ثقافتی ہم آہنگی اور (5)لسانی یکجہتی۔(تفصیل کے لئے دیکھئے آر ایس ایس ایک مطالعہ ص:24-28)۔

جغرافیائی اتحاد سے مراد پورا خطہءبرصغیر ہندو پاک ہے ۔نسلی اتحاد کا مطلب آریہ نسل سے ہونا ۔مذہبی اتحاد کا مطلب ہے سب کا اس سززمین کی قدیم مذہب یعنی ہندو مذہب سے ہونا ،ثقافتی ہم آہنگی سے مراد اس خطہ کے رسوم ورواج اور طور و اطوار ہے اور لسانی یکجہتی کا مطلب ہے سنسکرت اور ہندی زبان کا بولنے والا ہونایعنی ایک سچا دیش بھکت اور ایک ایماندار قوم پرست ہونے کے لئے ان عناصر خمسہ سے متصف ہونا ضروری ہے ورنہ وہ شخص جس کے اندر ان صفات میں سے کوئی ایک بھی صفت مفقود ہوگی وہ سچا قوم پرست نہیں ہو سکتا ہے ۔انہی عناصر کی بنیاد پر آر ایس ایس مسلمانوں اور عیسائیوں کو غیر ملکی مانتا ہے ۔ اس لئے کہ مسلمان ان عناصر پر کھڑے نہیں اتر تے ہیں ۔ساور کر ہندتوا کی تعریف کرتے ہوئے کہتاہے کہ اس ملک کا انسان بنیادی طورپر ہندو ہے اس ملک کا شہری وہی ہو سکتا ہے جس کا آبائی وطن ،مادری وطن اور مقدس سر زمین یہی ہو۔اس تعریف کے اعتبار سے آبائی اور مادری وطن تو ہر کسی کا ہوسکتا ہے لیکن مقدس سرزمین صرف اور صرف ہندﺅں ،سکھوں ،بودھسٹوں اور جینیوں کا ہی ہو سکتی ہے کیونکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی مقدس شرزمین مکہ اور فلسطین ہے ۔

آر ایس ایس اور راشٹر واد :آر ایس ایس اور اس سے ملحق تنظیمیں( سنگھ پریوار) آج چاہے جتنی بھی راشٹر واد ،قوم پرستی اور دیش بھکتی کا ڈھنڈورا پیٹیں اور اس کا راگ الاپیں مگر یہ محض جھوٹ ،فریب اور فرضی ہے ۔کیونکہ اس تنظیم کی بنیاد ہی ملک دشمنی اورانگریز دوستی کے اوپر رکھی گئی ہے ۔ہندوستانی تاریخ کے اوراق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ سنگھ کا فکرہ ساز ،اس کا بانی اور اس کے اراکین ہمیشہ جنگ آزادی کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور انگریزوں کے ساتھ مل کرمہاتما گاندھی اور مجاہدین آزادی کے خلاف سازشیں کرتے رہے ہیں۔ساورکر نے عین آزادی کی لڑائی کے وقت انگریزوں سے مصالحت کر لیاتھا ۔1910میں جب اسے” ابھینو بھارت تحریک“ سے تعلق رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور مقدمے کے بعد مشہور سیلولر جیل اینڈمان نیکوبارمیں ڈال دیا گیا تو اس نے جیل سے انگریزوں کے پاس یکے بادیگرے چھ معافی نامے لکھے۔ جس کی وجہ سے وہ 1924میں اس شرط کے ساتھ رہاہواکہ آئندہ انگریز مخالف کسی بھی تحریک سے الگ رہے گا اور انگریزوں کا وفاداربن کر رہے گا۔1920-21کی تحریک عدم تعاون کا بلی رام ہیڈ گیوار اور اس کے ہمنواﺅں نے مخالفت کیا اور اس میں شریک ہونے سے اانکار کیا ۔1925میں ہیڈ گیوار نے سنگھ کی بنیاد کے ساتھ ہی اپنے آپ کو آزادی کی تحریک سے جدا کر لیا ۔1930میں آر ایس ایس نے قومی ترنگاجھنڈا کو ماننے سے انکار کر دیا اور ساتھ ہی گاندھی جی کے نمک ستیہ گرہ تحریک کی پورے ملک میں مخالفت کیا ۔اس وقت سے لے کر 2002 تک وہ قومی جھنڈا کوماننے اور اسے لہرانے سے گریز کرتا رہا اور اپنے دفتروں میں بھگوا جنڈا لہراتا رہا ۔ اور آج بھی بھگوا جھنڈاکے ساتھ ہی ترنگا جھنڈا لہراتا ہے۔1934میں ساور کر کے اشارے پر ناتھورام گوڈسے نے گاندھی جی پر حملہ کیا جس میں وہ کسی طرح سے بچ گئے ۔1940 میں گولولکر نے آر ایس ایس کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا مذہب اور ثقافت کی حفاظت کے ذریعے ہی آزادی حاصل کی سکتی ہے نہ کہ انگریزوں سے جنگ کرکے ،چنانچہ 1942کی ”بھارت چھوڑو تحریک“ کا سنگھ ،ہندو مہاسبھا کے صدر ساورکر اوراس کے رکن رکین شیاما پرساد مکھرجی نے زبردست مخالفت کیا اور اس تحریک کو ناکام بنانے میں انگریزوں کا پورا ساتھ دیا ۔1944 میں ایک بارپھر ناتھو رام گوڈسے سمیت آر ایس ایس کے غنڈوں نے گاندھی جی پر حملہ کیا جس میں وہ بال بال بچ گئے ۔ 20جنوری 1948میں آر ایس ایس کے مدن لا ل نے بم کے ذریعے گاندھی جی کو اڑانے کی کوشش کی مگر اس میں بھی وہ کسی طرح سے بچ گئے ۔آخری بار 30جنوری 1948میں ناتھو رام گوڈسے نے صبح کے پراتھنا سبھا میں تین گولیاں ان کے سینے میں داغ دیں جن سے موقع واردات پر ہی ان کی موت ہوگئی ۔اس قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں آٹھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا جو سب کے سب آر ایس ایس کے پالتو غنڈے تھے ؛ایک ساور کر جسے دو مہینے بعد گواہی کے عدم ثبوت کی وجہ سے رہا کر دیا گیا ،دوسرا شنکر کستیا جسے سرکاری گواہ بنانے کی وجہ سے رہاکیاگیا ،تیسرا دگمبربڑگے ،چوتھا گوپال گوڈسے ،پانچواں مدن لال پاہوا،چھٹا وشنو کرکرے ان چاروں کو تاعمر قید کی سزا ہوئی ،ساتواں نارائن آپٹے اورآٹھواں ناتھو رام گوڈسے ان دونوں کو پھانسی دی گئی ۔ اس قتل کے چار دنوں کے بعدہی 1948میں ہی موجودہ ہوم منسٹر سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی لگادی ۔یہ ہے آر ایس ایس کی دیش بھکتی اور اصلی راشٹر واد !!!

 

کعبے کس منہ سے جاﺅ گے غالب

شر م تم کو مگر نہیں آتی ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *