جس نے زبان روک لی وہ نجات پا گیا

 

 

از. محمد طاسین ندوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تبارک تعالی نےحضرت انسان پر جہاں بے شمار انعام واحسان فرمایا ہے ان میں سے ایک عظیم وگراں نعمت لسان و زبان ہے جو دیکھنے میں چند انچ کی لیکن اگر اس سے کارخیر انجام دیاجائےتوبہت عمدہ اور شریعت ،سماج و معاشرہ، رفیق و عدو ہرخاص و عام کےنزدیک مقام و منزلت کے اعلی منازل طےکرتی ہے اور اس کی صدائے بازگشت سن کر روح وقلب کو جو فرحت و انبساط میسر ہوتی ہے اس کا اندازہ فرمان نبوی سےلگایاجا سکتا ہے :

عَنْ سَهْلِ بنِ سعْدٍ قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بيْنَ رِجْلَيْهِ أضْمنْ لهُ الجَنَّة”متفق عليه

جس شخص نے مجھے گارنٹی دی زبان اور شرمگاہ کی تو میں اس کے لیےجنت کی گارنٹی لیتا ہوں.

یہ ہے قبولیت عندالناس و عنداللہ اگر ہماری زبان اپنےحدودو و دائرہ میں رہتی ہے تو معاشرہ.، خاندان، قبیلہ، اعزہ واقارب، ہمسایہ، رفیق و رقیب، الغرض سبہوں کی نگاہ میں -باوجود اختلاف رائے – عزت و احترام ملحوظ رہتی ہے اور اگر ہم نے اپنی زبان کو شتر بے مہار بنالیا تو یاد رکھئیے مجتمع، دوست و عدو کیا احکم الحاکمین بھی ہم سے نالاں ہوکر اس کا نوٹس لیتا ہے فرمان باری تعالی ہے “مَّا یَلۡفِظُ مِن قَوۡلٍ إِلَّا لَدَیۡهِ رَقِیبٌ عَتِیدࣱ”سورة ق ۱۸

انسان جو بھی بولتا اللہ تبارک و تعالی اسے اپنے فرشتوں کے ذریعہ نوٹ کرواتے ہیں آیا اس بندۂ خدا نے ابھی زبان کھولی ہے تو کیا یہ مناسب و موزوں اور جائز مقام ہے یا بے محل اپنی زبان کو حرکت دی ہے

یہی زبان ہے جو ایک کسوٹی کی مانند ہے جس سے باشعور اور بے شعور شخصیت کی پہچان عمل میں آتی ہے اگر ہم نے اپنی زبان؟ کو لگام دیا اس کو حدود وقیود کا پاپند بنایاتو اللہ کی بے شمار نعمتوں سے سرفراز ہوسکتےہیں اور اگر ایسا نہیں کیا تو غور کیجئے قیامت کے دن انسان و زبان کا کیا حال ہوگا ارشاد باری تعالی ہے “ٱلۡیَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلَىٰۤ أَفۡوَ ٰ⁠هِهِمۡ وَتُكَلِّمُنَاۤ أَیۡدِیهِمۡ وَتَشۡهَدُ أَرۡجُلُهُم بِمَا كَانُوا۟ یَكۡسِبُونَ”سورة يس ٦٥

آج ہم ان کے منہ پر مہر لگادیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور ان کے پاؤں شہادت دیں گے کہ یہ لوگ کیا کیا کر رہے تھے. تفسیر ماجدی

غرض یہ کہ پوری روداد زندگی ہاتھ اور پیر پیش کریں گے اور زبان پر باری تعالی تالا ڈال دیا ہوگا۔

اے باشعورمسلمانوں ہمیں تو اپنی زبان کو قابو میں رکھنا از حد ضروری ہے کیونکہ اس زبان ہی کیوجہ سے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے فرمان نبویﷺ ہے

ألا أخبرك برأس الأمر وعموده وذروة سنامه؟ قلت : بلى يا رسول الله قال : رأس الأمر الإسلام وعموده الصلاة ، وذروة سنامه الجهاد ثم قال:ألا أخبرك بملاك ذلك كله ؟ قلت بلى يا رسول الله فأخذ بلسانه قال : كف عليك هذا قلت : يا نبي الله وإنا لمؤاخذون بما نتكلم به؟ فقال : ويحك يا معاذ وهل يكب الناس في النار على وجوههم أو قال على مناخرهم إلا حصائد ألسنتهم رواه الترمذي وقال : حديث حسن صحيح

آپ ﷺ نے فرمایا’’کیا میں تجھے ایسی بات نہ بتلاؤں؟ جس پر ان سب کادارومدار ہے ‘‘ میں نے کہا کیوں نہیں؟ اے رسول الله ﷺ پھر نبی ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ’’اس کو روک لے لگام دے میں نے دریافت کیا، کیا ہم زبان سے جو گفتگو کرتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’تیری بربادی ہو جہنم میں لوگوں کو ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی کھیتیاں ہی اوندھے منہ گرائیں گیں‘‘جامع ترمذی کتاب الایمان باب ماجاء فی ‏حرمۃالصلاۃحدیث٢٦٦١

یہ زبان اگر حق کی آواز بلند کرتی ہے اور موزوں ومناسب جگہ کھلتی ہے تو باعث داد و تحسین اور اگر ناحق کھلتی ہے تو دنیا میں بھی ذلت و خواری اور آخرت میں بھی رسوائی و بربادی.

*قارئین کرام!* زبان ایک ایسی دھار دار تلوار ہے جس کے بارےمیں عربی شاعر نے کہا ہے

جِراحات السِّنانِ لها التِئامٌ — وَ لا يلتامُ ماجَرَحَ اللسانُ

تلوار کی کاری ضرب تو مندمل ہوسکتی ہے

لیکن زبان کا زخم مندمل نہیں ہوتا اس کی ضرب نہایت ہی کاری ہوتی ہے

اسی زبان کے بارےمیں کہا ہے

الفاظ ہی ایسے ہوتے ہیں دل جیت بھی لیتے ہیں دل چیر بھی دیتے ہیں

زبان ہی کی جادو گری سر چڑھ کر بولتی ہے

اگر الفاظ سائشتہ اور مہذہب ہوں تو بولنے والے کی تہذیب اور ثقافت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔

اگر زبان پھسلی تو شخصیت بھی معتوب اور مطعون ہوکر رہ جاتی ہے کتنے زن وشو کی زندگیاں تباہ وبرباد ہوگئیں اور نہ جانے کتنے رشتے ناطے اسی زبان کی وجہ سے تہس نہس ہوگئے .

*قارئین کرام!*

اگر ہم نے اپنی زبان کو اپنے نفس کے تابع کرلیا تو ہم اپنے نفس کی ہر کچی پکی بات ،اور برائی پر کان دھرنے والے ہوجائیں گے کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے.

” وَمَاۤ أُبَرِّئُ نَفۡسِیۤۚ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوۤءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۤۚ إِنَّ رَبِّی غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ”سورة يوسف ٥٣

میں اپنے نفس کو بھی بَری نہیں بتلاتا بے شک نفس تو بُری ہی بات کا بتلانے والا ہوتا ہے ۔

.تفسیر ماجدی

یہ حال ہے نبی کے نفس کا تو ہمہارا اور آپ کا کیا حال ہے اس سے ہم بخوبی واقف ہیں

اب ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اپنا محاسبہ کریں کہ ہماری زبان پابند اصول و ضوابط ہے یا نہیں اگر جواب ہاں میں ہے تو نور علی نور

اور اگر جواب نفی میں ہے تو قبل اس کے کہ ہمیں مجرم بننا اپنی زبان کیوجہ سے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے اور ہماری زبان پر تالے لگادیئے جائیں ہم عہد جدید کریں کہ ہمیں اپنی زبان کو قابو میں کرنا ہے اور اسے بے جا استعمال سے پرہیز کرنا ہے فرمان رسول اللہﷺ ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فليقل خيرًا أو ليصمت” الحديث متفق عليه

جو شخص اللہ عز وجل اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو چاہئیے کہ اچھی و بھلائی کی بات کہے یا سکوت اختیار کرے .

اور اللہ کہ رسول نے فرمایا جو خاموش رہا، بکواسیات و لغویات سے اجتناب کیا تو نجات پانے والا ہوگیا

کسی شاعر نےکیا عمدہ عکاسی کیا ہے

 

نشتر سے تیزتر ہے جراحت زبان کی

جس نے زبان روک لی وہ پا گیا نجات

 

اللہ تعالی ہمیں بھی قرآن و سنت کے اصول و ضوابط کے پاسداری کہ ساتھ اپنی زبان کو کھولنے والا بنائےکیونکہ زبان بھی انسان کی عظمت و پذیرائی کا آئینہ دار ہے.

_وماتوفیقی الاباللہ رب العالمین_

••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *