رمضان المبارک:ماہ رمضان کے روزے رکھنے کی فضیلت و اہمیت.

:تیسری قسط

از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس سلفی /بابو سلیم پور /دربھنگہ.

شہر رمضان کا روزہ رکھنا شریعت اسلامیہ کا چوتھا اور اہم رکن ہے اور رمضان المبارک کے روزے ہر مسلمان عاقل, بالغ, صحت مند, اور مقیم پر فرض ہے (البتہ مریض شفا یابی اور مسافر مقیم ہونے کے بعد روزہ کی قضاء کرے گا). رمضان کے روزے کی فرضیت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :”يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب علي الذین من قبلكم لعلكم تتقون “.اے ایمان والو! تم پر روزے اس طرح فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے, تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ “.(سورۃ بقرہ /184).نیز ارشاد ہے : “فمن شهد منكم الشهر فليصمه .”تم میں سے جو شخص اس مہینے (رمضان) میں موجود ہو وہ اس کے روزے رکھے. (سورۃ بقرہ/185).اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ایک دیہاتی کے دریافت کرنے پر کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کئے ہیں ؟ فرمایا :”شهر رمضان إلا أن تطوع شيئا “.ماہ رمضان کے, یہ اور بات ہے کہ تم خود اپنے طور پر کچھ نفلی روزے اور بھی رکھ لو. (بخاری/1891).

روزہ کی فضیلت و اہمیت :1۔روزہ دار کے لئے اجر عظیم ہے :فرمان ربانی ہے :”والصائمين والصائمات …..أعد الله لهم مغفرة واجرا عظيما “.یعنی روزہ رکھنے والے مرد و عورتیں …اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے. (سورۃ احزاب /35).

2 ۔ روزہ کا اجر اللہ کے ذمہ ہے:بذات خود اللہ تعالٰی فرماتا ہے :”الصيام لي وانا اجزى به”.یعنی روزہ میرے لئے ہے اورمیں ہی اس کا بدلہ دونگا. (بخاری /1895).

3۔روزہ پچھلے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہے :فرمان نبوی صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”من صام رمضان إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه”.یعنی جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کے نیت سے (یعنی اخلاص سے) رکھا تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتےہیں. (بخاری/1901).

4۔روزہ بروز قیامت روزہ دار کی سفارش کرے گا. جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے مروی حدیث میں ہے :”روزہ مؤمن بندے کی سفارش کرے گا,يقول الصيام اى رب! إني منعته الطعام والشهوات بالنهار فشفعني فيه “.روزہ کہے گا :اے میرے پروردگار! میں نے اس کو دن بھر کھانے پینے اور شہوت رانی سے روکے رکھا, اس لئے اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما. (صحیح الترغیب /984).

5۔روزہ خیر کا دروازہ ہے :حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو خیر کے دروازوں پر رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا :”الصیام جنۃ”یعنی روزہ (گناہوں کے سامنے) ڈھال ہے. (ترمذی /2616/صحیح الترغیب /983).

6۔روزہ دار کی دعا قبول کی جاتی ہے :فرمان نبوی صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”ثلاثة لا ترد دعوتهم :ومنها… الصائم حتى يفطر “. تین بندے ایسے ہیں جن کی دعا رد نہیں ہو تی (ان میں سے ایک یہ ہے ) روزہ دار حتی کہ وہ افطار کر لے. (ترمذی /3598,حدیث حسن).

7۔روزہ دار کے منہ کی بو مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے :جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك للصائم “.روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالٰی کے نزدیک مشک (کستوری) سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے. (بخاری /1893/مسلم165). 8 ۔روزہ دار کے لئے جنت میں ایک خاص دروازہ ہے :حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”جنت میں ایک دروازہ ہے جس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے. “(بخاری /1896).

9۔روزہ دار کے لئے جنت کا وعدہ ہے :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ “نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ایک دیہاتی شخص کو توحید کا اقرار, نماز, رمضان کا روزہ اور زکاۃ کی ادائیگی کی شرط پر جنت کی ضمانت دی. “(بخاری /1397,مسلم/14).

10۔روزہ دار صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوں گے :جیسا کہ حدیث شریف میں ہے :کہ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے اس بات کے عرض کرنے پر کہ میں کلمہ توحید کی گواہی دوں, پانچ نماز قائم کروں, زکاۃ ادا کروں, ماہ رمضان کے روزے رکھوں اور قیام بھی کروں تومیں کن لوگوں میں سے ہوں گا ؟فرمایا :”صدیقین و شہداء میں سے “.(صحیح الترغیب /1003/حدیث صحیح).

11۔روزے دار کو بروز قیامت اللہ تعالیٰ کی ملاقات (دیدار) کا شرف حاصل ہو گا. (بخاری/1904,مسلم/115).

قارئین کرام :یہ تمام فضیلت اور اجر عظیم اس طرح روزہ رکھنے سے حاصل نہیں ہو گا جس طرح آج ہمارے معاشرے میں روزہ رکھنے کا رواج ہے یعنی صرف ہم کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں نہ نماز کی پابندی کرتے ہیں, اور نہ لہو ولعب, لغو و رفث مثلا :جھوٹ بولنا, غیبت کرنا, بد گوئی, گالی گلوچ, لڑائی جھگڑے, دھوکہ فریب, اورخاص کر صرف موبائل میں مشغول رہنا بلکہ ہر قسم کی بد عملیوں میں مبتلا رہتے ہیں .بلکہ اس فضیلت اور اجر کا مستحق صرف وہی روزہ دار ہو گا جو صحیح معنوں میں روزے کے تقاضوں کو پورا کرے گا اور تمام قسم کی بد عملیوں اور برائیوں سے اجتناب کرے گا. جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا فرمان ہے :”من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه “جس نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا, تو اللہ تعالیٰ کو کوئی حاجت نہیں کہ یہ شخص اپنا کھانا پینا چھوڑ ے….. اور فرمایا :الصيام جنة و إذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب فإن سابه أحد, أو قاتله فليقل :إني امرؤ صائم “. روزہ ایک ڈھال ہے. جب تم میں سے کسی کا روزے کا دن ہو, تو وہ نہ دل لگی کی باتیں کرے اور نہ شور و شغب. اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑنے کی کوشش کرے تو (اس کو) کہہ دے کہ میں تو روزہ دار ہوں. “(بخاری /1903).نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا فرمان ہے :ليس الصيام من الأكل و الشرب إنما الصيام من اللغو والرفث “.یعنی روزہ صرف کھاناپینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے روزہ تو لغو (ہر بے فائدہ و بے ھودہ کام) اور رفث (جنسی خواہشات پر مبنی حرکات اورکلام) سے بچنے کا نام. (صحیح الترغیب /1082/حدیث صحیح). اور ان برے افعال سے ہی نہ بچنے والے شخص کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”كم من صائم ليس له من صيامه إلا الظمأ “. کتنے ہی روزہ دار ہیں جن کو سوائے پیاس کے روزہ رکھنے سے کچھ نہیں ملتا “.(احمد /2/441/اسنادہ جید). اگر ہم واقعی میں ان تمام اجر و ثواب کے مستحق بننا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام برے اعمال و افعال سے اجتناب کریں. اور ہر ممکن کوشش کریں کہ ہمارا کوئی اعضاء وجوارح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں میں استعمال نہ ہو اور ہمارے روزے و غیر روزے کی حالت ایک ہی جیسی نہ ہو . بلکہ حتی المقدور ہماری سعی یہ ہونی چاہئے کہ ہمارے دونوں حالتوں میں نمایاں اور واضح فرق و امتیاز ہو. تاکہ ہم وہ تمام اجر عظیم اور وعدوں کے مستحق ہو سکیں جس کا اللہ اور اس کےرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ہم سے وعدہ کیا ہے. اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہم تمام مسلمانوں کو اخلاص نیت سے اور تمام گناہوں سے اجتناب کرتے ہوئے پورے ماہ رمضان کا روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرما تاکہ ہم تیرے ان تمام اجر کبیر و عظیم کے مستحق ہوں جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے. آمین ثم آمین یا رب العالمین.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *