کورونا اور ماہ رمضان

 

کورونا اور ماہ رمضان

از: محـمدطاسـين نـدوي

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کرہ ارض کے سارے امت مسلمہ کو یہ معلوم ہیکہ رمضان المبارک اپنی رحمتیں اور برکتیں لیے ہمارے اوپر سایہ فگن ہوچکا ہے، رحمتِ الہی و برکتِ خداوندی اس بات کا تقاضہ کرتی ہیکہ ہم اپنی روز مرہDaily کی زندگی اور حیات یومیہ کے اندر کچھ بیداری و تبدیلیchanging لائیں، بشری تقاضے اور انسانی ضروریات بے شمار ہیں ان تقاضوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یا مختصر کرکہ ہی سہی اپنی توجہات کو تلاوت قرآن مجید، احادیث رسول کا مطالعہ کرنے، ذکرو اذکار دعاء و گریہ وزاری کی طرف مرکوز و مبذول کریں ہماری اس دنیاوی زندگی کی جو بھاگ دوڑ ہے اس کے اندر تھوڑی کمی لاکر اپنی توجہات و تعلقات کو اللہ جل جلالہ کی طرف موڑیں ،سوچیں، سمجھیں اور اس پر عمل پیرا ہونے کی سعی جمیل بھی کریں ، پھر دیکھیں کہ ہماری زندگی کیسے کیسے بہار نو سے لطف اندوزہوتی ہے.

یہی وہ جلیل القدر عظیم الشان بیش بہا موسم ہے جس میں الہ العالمین کا در اور دنوں کے مقابلہ میں زیادہ کھلا رہتا ہے اور اللہ تعالی اپنے بندوں کی مغفرت وبخشش کے لئے مائل بکرم ہوتا ہے ،اگر اس سنہرے موقع کو ہم نے ضائع کردیا اس کو ہم نے غنیمت نہ سمجھا تو یاد رکھیں ،

*صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

عمر یونہی تمام ہوتی ہے*

پھر کس کو یہ زریں ساعات، مبارک و مقدس ماہ و دن نصیب ہوخدا کو معلوم

*تو آئیے ہم اپنی گذشتہ زندگی پر ایک نظر ڈالیں* اور جو کمی و کوتاہی ہو اس کی تلافی کی بھر پور کوشش کریں اس کی تلافی کا عمدہ موسم ماہ رواں رمضان ہے یہ ایسا موسم ہے کہ ہر کار خیر کے ثواب میں اضافہ ہوتا ہے،نوافل کا ثواب فرائض کے برابر اور فرائض کا ستر گنا زیادہ بڑھا کر فضل خداوندی کے طور پر ملتا ہے ۔ اڑیل وضدی شیاطین پابند سلاسل کردیے جاتے ہیں، اللہ تعالی مسلمانوں کو مواقع فراہم کرتا ہے اس مخلوق کہ پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر جو تمہیں بھٹکانے کی قسم کھاتا تھا

فرمان باری تعالی ہے ” *قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ* ” ص۸۲

کہا اس نے تیرے جاہ وجلال کی قسم میں ان سبہوں کو گمراہ کرونگا.

یعنی اے میرے بندوتم اپنی زندگی کا مطالعہ کرو دیکھو بھالو کہاں کیا کمی کوتاہی ہے اس ماہ مقدس و مبارک میں فائدہ اٹھالو ورنہ تمہیں نہیں معلوم کہ کب تمہارا وقت موعود آئے اور تم خالی ہاتھ اس ذلیل وخوار فانی دنیا سے دارالبقاء، باعزت و باعظمت دنیا کی طرف کوچ کرجاؤ،تمہارے لئے یہ سنہرا موقع ہے اپنا بھولا بسرا سبق یاد کرلو اپنے خالق و مالک کے سامنے اشک بہاؤ گرگراؤ اور اللہ کی ذات عالی صفات سے ہی لو لگاؤ فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ نوافل و مستحبات کا بھی پابند ہوجاؤ کیونکہ اسکا ثواب کئی گنا زیادہ کردیا گیا ہے.

*قارئین کرام!* غور کیجئیے اس وقت ہم جس دور افتاد سے گزر رہے ہیں وہ نہایت ہی تعجب خیز اور پریشان کن ہے ساری دنیا ایک آفت ناگہانی سے دوچار ہے سارے کام کاج معطل ہیں حالات ابتر ہوتے چلے جارہے ہیں.

لاک ڈاؤن کی مدت میں اضافہ پر اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ایسے موقع سے جہاں حکومت ملک اس بیماری کی سنگینی اور ہولناکی کی طرف بار بار متنبہ کررہی ہے اور توجہ دلارہی ہے ہم مسلمان ایسے ناگفتہ بہ حالات میں حکومت ملک کے ہدایات و قوانین کے پاپند ہوجائیں اور مسجد میں اجتماعی افطار و تراویح اور بھیڑ جمع نہ کریں کم سے کم تعداد،دو چند افراد ہی مسجد میں افطار کریں اور نمازتراویح ادا کریں. اور یاد رکھیں کہ ہمارے اندر ایسا سوال اور خلجان کا پیدا ہونا ضروری ہیکہ کیسے ہم دوچند افراد ہی *مساجد کو آباد کریں کہیں ہمارا دیں ایمان ختم تو نہیں ہورہا*

جبکہ اس مبارک ایام میں عام مسلمانوں کو بھی مساجد آباد کرنا چائیے زیادہ سے زیادہ ثواب کی جہد پیہم کرنا چاہئیے تو اس خلجان وسوال کا پیدا ہونا ہم مسلمانوں کے لئے ایک امر مسلم ہے اور یہی ایمان کی بڑھوتری کا آئینہ دار ہے لیکن منجانب اللہ حالات ایسے رونما ہوگئے ہیں کہ اس وقت ایسانہ کرنا احکام خداوندی کو بجالانے کہ مترادف ہے ، ہم مسلمانوں پر اللہ تعالی نے ایک بیش بہا احسان فرمایا ہے وہ یہ کہ ہمارے لئے ساری زمین کو مسجد کا درجہ دے دیا ہے جبکہ پچھلی امتیں اس سے محروم تھیں ہم جہاں بھی نماز پڑھیں چاہے مساجد ہوں یا گھر یامیدان ان شاء اللہ ہماری نماز عنداللہ ضرور قبول ہوگی، اس وقت ہر طرف خوف وہراس کا ماحول ہے، میڈیا نے اس کے خوف کو مزید ہوا دیا ہے ، لوگ ایک دوسرے سے قریب ہونا پسند نہیں کرتے. اور اسی کو ماہرین اطباء نے اس آفت ناگہانی کورونا کا واحد علاج و حل بتایا ہے

ہر ایک کو دوسرے سے سماجی دوری بنائے رکھنے کی تاکید و تلقین کیا ہے ایسے ناخوشگوار فضا کو مزید زہر آلود کرنے کی کوشش کی جاری ہے ہمارے کچھ برادران وطن نے تو اس وباء کو ہندو مسلم کا رنگ دینے کی بھر پور کوشش کیا – اللہ ان کے مکر و فریب کے تانے بانے کو نامراد و ناکام فرمائے-

ایسے پر آشوب لمحات میں ہمیں زیادہ سے زیادہ چوکنا رہ کر احتیاط برتنے کی اشد ضرورت ہے، حکومت کے لائحہ عمل کو عملی جامہ دے کر یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ ہم مسلمان بھی حکومت کے ہدایات و ضوابط کے شانہ بشانہ چل کر ایسے ہی عمل کرنے والے ہیں جیسے ہمارے علاوہ اور دھرم و دین کے افراد ہیں .

ہم مسلمان اپنی عبادات اور ہر طرح کی دینی و اجتماعی سر گرمیاں جو مسجد اور یکجا ہوکر انجام دیتے تھے خدارا اسے حالات کے خوشگوار ہوجانے تک انجام نہ دیں اور غلط عناصر نے جو ہمارے خلاف زہر افشانی کی ہیں اس کا منہ توڑ جواب دیں. اور اہل خانہ کے ساتھ اپنے اپنے گھروں پر رہ کر ماہ مقدس سے فیضیاب ہوں .

اللہ رب العزت سے دعاگو ہوں کہ اے رب کریم ہمیں ماہ رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور استفادہ کی توفیق دے اور اس ناساز گار حالات “لاک ڈاؤن” میں تو اپنا تقرب نصیب فرما گذشتہ زندگی میں جو لغزش و کوتاہی ہوئی تھی اس ماہ مقدس و بابرکت میں تلاوت قرآن مجید، ذکر واذکار، نوافل مستحبات پابند بنا کر اس کی تلافی فرما اور اس کورنا وباء سے دنیا کوجلد از جلد پاک فرما تو یہ جانتا کہ تیرے بندے بہت پریشان ہوچکے ہیں اور ہمیں آفات و آلام سے نجات دے . آمین

*والله على كل شيء قدير

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *