رمضان المبارک:روزہ دار کو افطار کرانے والے کو روزہ دار کے برابر اجر و ثواب ملتا ہے.

چھٹی قسط

از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس

سلفی/ بابو سلیم پور/دربھنگہ.*

شریعت اسلام میں جہاں افطار کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے وہیں روزہ دار کو افطار کرانے کی بھی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے. اور مسلمانوں کو اس پر ابھارتے ہوئے یہاں تک کہا گیا ہے کہ روزہ دار کو افطار کرانے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا اجر و ثواب روزہ دار کے لئے ہوگا. جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا فرمان ہے :”من فطر صائما كان له مثل أجره, غير أنه لا ينقص من أجر الصائم شيئا “.یعنی جس شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اسے بھی اتنا اجر ملے گا جتنا اجر و ثواب روزہ دار کے لئے ہوگا. اور روزہ دار کے اجر و ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی. (ترمذی /807/وصححہ الالبانی فی صحیح الجامع /6415).نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا ارشاد ہے :”من فطر صائما اؤ جهز غازيا فله مثل أجره “.جس شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا یا کسی مجاہد کو سامان دیا تو اس کو اس کے برابر اجر و ثواب ملے گا. (احمد /4/114,بیھقی فی السنن /4/240,حدیث حسن صحیح). شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :کہ افطاری کا معنی یہ ہے کہ اسے پیٹ بھر کھانا کھلایا جائے. (الاختیارات /194).روزہ افطار کرانے کی اتنی زیادہ اہمیت و فضیلت کے ہونے کی وجہ کر بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اور اسلاف کرام تو روزہ کی حالت میں اپنی افطاری کسی اور کو دینے پر ترجیح دیتے تھے. اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بارے میں آتا ہے کہ وہ یتیموں اور مسکینوں کے بغیر افطاری کرتے ہی نہیں تھے. اور بعض سلف تو یہاں تک کہتے تھے :کہ مجھے اسماعیل کی اولاد سے دس غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے دس بھوکے ساتھیوں کو بلا کر کھانا کھلاؤں. قارئین کرام :مذکورہ بالا حدیث میں مطلق کسی بھی فرد کو افطاری کرانے کی بات کہی گئی ہے. اس لئے حدیث میں مذکور ثواب حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ صرف غرباء و مساکین کو ہی افطار کرایا جائے تبھی مطلوبہ ثواب ملے گا. بلکہ اگر کسی بھی فرد کو خواہ اپنا ہو یا بیگانہ, غریب ہو یا امیر اور مسکین ہو یا مالدار افطار کروا دیں تب بھی یہ ثواب حاصل ہو جائے گا. (مجموع فتاوی ابن باز /25/207).تاہم بہتری اسی میں ہے کہ افطاری کروانے کے لئے فقراء و مساکین کا انتخاب کیا جائے کیونکہ اس میں دو فائدے ہیں ایک افطار کرانے والے کو روزہ دار کے برابر اجر و ثواب ملتا ہے اور دوسرا غرباء و مساکین کا بھلا بھی ہوجاتا ہے. لیکن افطاری کرانے میں اس بات کا بھی دھیان رکھیں کہ اسراف سے کام نہ لیا جائے اور فضول خرچی سے پرہیز کیا جائے. بسا اوقات دیکھا جاتا ہے افطاریوں کے اہتمام کے دوران اتنے طرح طرح کے کھانے اور مشروبات پیش کئے جاتے ہیں کہ اخیر میں بہت سا کھانا ضائع بھی ہو جاتا ہے اور اسراف کے زمرے میں آتا ہے. اور اسراف و فضول خرچی تقوی کے خلاف ہے. جیسا کہ مفتی اعظم عبد العزیز آل شیخ کا کہنا ہے کہ (افطاری میں اسراف روزے کی تعلیمات اور تقویٰ کی شان کے خلاف ہیں). اور جو شخص کسی کے یہاں افطار کرے تو افطار کرنے کے بعد افطاری کرانے والے کو دعا دے. جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم جب کسی کے گھر روزہ افطار کرتے تو یہ دعا دیتے :”أفطر عند كم الصائمون و أكل طعامكم الأبرار و تنزلت عليكم الملائكة “.کہ روزہ دار تمہارے یہاں افطاری کرتے رہیں, نیک لوگ تمہارا کھانا کھاتے رہیں اور اللہ کے فرشتے تمہارے لئے (رحمتیں لے کر) اترتے رہیں. (احمد /3/118,وابو داؤد /3854/حدیث صحیح).

معزز قارئین :ہر مسلمان کو اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے. اور ہر روز کسی نہ کسی کو افطاری کرانا چاہئے تاکہ ہم حدیث میں وارد اجر و ثواب کے مستحق ہو سکیں. اور اس رمضان میں تو خاص کر صاحب استطاعت اوراہل ثروت کو اس کار خیر میں آگے بڑھ کر حصہ لینا چاہئے. کیونکہ ابھی لاک ڈاون کا مسئلہ در پیش ہے. اور اس سخت حالت میں غریب و پریشان حال اور روزانہ کی بنیاد پر کما کر کھانے والے بھوک سے تڑپ اور مر رہے ہیں. تاکہ معاشرے کا ہر فرد مسرت وشادمانی کے ساتھ زندگی گزار سکے اور ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہو. نیز یہ افضل عمل خالصتا اللہ کے لئے کریں نہ کہ قربت و روابط کے نئے سلسلے اور ان سے دنیوی اغراض و مقاصد حاصل کرنے کی نیت کے تحت کئے جائیں. جیسا کہ ہمارے سماج میں اکثر لوگ اسی مقصد کے لئے اس عظیم عمل کو کرتے ہیں. ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس میں سے نہ ہوں. بلکہ اس نیک کام میں سبقت تو کریں پر خالصتا اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے کریں . اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمیں اس عظیم عمل اور کار خیر میں سبقت کرنے کی توفیق عطا فرما… آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین .

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *