روزہ کے احکام و مسائل (۱

روزہ کے احکام ومسائل(۱

 

ابو عفراء سراجی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

روزے کے احکام ومسائل سے آگہی روزہ کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ارکان اسلام اورارکان ایمان  کے متعلق معرفت ناگزیر اور انہیں  اپنی زندگی میں نافذ کرنا  واجب ہے۔اگر کوئی شخص  ان میں سے کسی    رکن کا انکار کردےتو وہ بالاتفاق کافر ہے ۔ روزہ ارکان اسلام کا اہم  ایک رکن ہے جوہر سال  رحمت وبرکت لے کر سایہ فگن ہوتاہے۔الحمد للہ فی الحال ہم لوگ اس کی رحمت کے سایہ تلے فیض یاب ہو رہے ہیں ۔اس لیے روزہ کےاحکام ومسائل سے متعلق معلومات حاصل کرنااوراس سے متعلق درپیش مسائل کا استفسار کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ اس ماہ مقدس میں موجود برکات وخیرات سے کماحقہ فائدہ اٹھا سکیں نیز اس میں ہونے والی غلطیوں اورکوتاہیوں سے اجتناب کرسکیں۔راقم السطور نے رمضان المبارک کے احکام ومسائل کو پہلی قسط میں سوال وجواب کی شکل میں قلمبند کرنے کی حقیر  کوشش کی ہے تاکہ عام پڑھے لکھے لوگوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

رمضان کا روزہ کب فرض ہوا؟

رمضان المبارک کا روزہ ہجرت کے دوسرےسال فرض ہوا۔اور نبی کریمﷺ نے بالاجماع  نو   سال ماہِ رمضان کے روزے رکھے ہیں۔

روزہ کا   حکم:

روزہ  کی فرضیت کتاب وسنت اور مسلمانوں کےاجماع سےثابت ہے ،جیساکہ اللہ کافرما ن ہے:”فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ“.(سورہ  بقرہ:۱۸۵)

ترجمہ:”تم  میں سے جوشخص اس مہینے کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہیے“۔

نبی کریم ﷺکا فرما ن ہے: ”بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللهُ وَأَنَّ محمدًا رَسُولُ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيْتَاءِ الزَّكَاةِ، صَوْمِ رَمَضَانَ ،وَحَجِّ بَيْتِ اللهِ“.(سنن ترمذی،ح:۲۶۰۹)

ترجمہ: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پررکھی گئی ہے : گواہی دینا کہ نہیں  ہے کوئی معبود برحق مگر اللہ تعالی اور بیشک نبی کریم ﷺ اللہ کے  رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، ماہ رمضان کا روزہ رکھنا اور اللہ کے گھر کا حج کرنا“۔

روزہ دینِ اسلام کا چوتھا رکن ہے۔

روزہ کس پر فرض ہے ؟

روزہ ہر مسلم ،عاقل ،بالغ اور قادر پر فرض  ہےاورکافروں پرنہیں۔ اگر ان میں سے کوئی  روزہ رکھ بھی لے ، تو وہ درست نہیں ہوگا،تاہم اگروہ  ماہ رمضان  کےکسی دن میں  مشرف بہ اسلام ہوجائے ،تو اس دن کے روزہ کی قضا   اس پر واجب ہوگی  ۔

روزہ  پاگل اور نابالغ بچے پر فرض نہیں ہےنیز مجنوں کی طرف سے روزہ کی  ادائیگی صحیح نہیں ہے۔البتہ باشعور نابالغ بچے کی طرف سے رکھا گیا روزہ شرعا درست ہے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگرباشعورنابالغ  بچہ  روزہ  رکھنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے، تو اس کے سرپرست کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اسےروزہ رکھنے پر آمادہ کرے اور اس کی حوصلہ افزائی کرےاور وقت ضرورت تادیبی  کاروائی کرےتاکہ وہ  بھوک وپیاس برداشت کرنے کا عادی ہوسکے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی اولاد کو روزہ  رکھنےکا حکم دیتےاور اس کی حوصلہ افزائی کرتے اور ساتھ ہی  روزےرکھنے کا عادی بنادیتے تھے۔لیکن آج کا المیہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو روزےکا حکم دینے کی بجائے ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ،یہ کہتے ہوئے کہ  ابھی تمہاری روزہ رکھنے کی عمر نہیں ہے،تم بہت چھوٹے ہو،اگر تم روزہ رکھو گے تونحیف ہوجاؤگے ، طبیعت خراب ہوجائے گی۔یہ سن کر بچے کی ساری ہمت جواب دے جاتی ہے۔

روزہ کب سے کب تک ہے ؟

روزہ طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک ہے۔روزہ داروں پرفرض ہے کہ  جب فجر  طلو ع ہو جائے تو اشیاءخورد ونوش  سے  قطعی طورسے روک جائیں  تااینکہ سورج غروب نہ ہوجائے ،اور جب غروب ہوجائے تو افطار کرلیں۔

ماہ  رمضان کی آمد کیسے ثابت ہوگی؟

ماہ  رمضان کی آمد تین امور میں کسی ایک کےباعث  ثابت ہوگی:۔

۱۔ ماہ رمضان کے چاند کی رؤیت:ماہ رمضان المبارک کا چانددیکھنے والے شخص  پر روزہ فرض ہے،گرچہ اس کی بات رد کیوں نہ کردی جائے،اللہ تعالی کافرمان ہے:”فمن شهد منكم الشهر فليصمه“۔(سورہ بقرہ:۱۸۵)

۲۔ دیگرافراد کی رؤیت جبکہ کسی ایک بھروسہ مند آدمی  کی گواہی  اس مسئلہ میں کافی ہے ،نبی کریم ﷺکا فرمان ہے: ”عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضیَ اللهُ عنهُ قَالَ: تَراءَى النَّاسُ الهِلَالَ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَنِّي رَأَيَتُهُ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ“.(رواہ أبوداود،ح: 2342)

ترجمہ:”حضرت ابن عمر رضی اللہ فرماتے ہیں : لوگ(صحابہ کرام) ماہ رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے اکٹھا ہوئے ، پس میں نے نبی  کریم ﷺ کو باخبرکیا کہ  میں نے چاند دیکھا ہے،چنانچہ نبی کریمﷺ نے خود روزہ رکھا اور اپنے صحابہ کرام کو روزہ رکھنے کا حکم دیا“.

علاوہ ازیں  ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ”ایک  بادیہ نشیں نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہو ا اور گویا ہواکہ اے اللہ کے رسول ﷺ!میں نے ماہ رمضان کا چاند دیکھا ہے، توتاجدار مدینہ ﷺنےفرمایا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے ؟اس  نےکہا ہاں، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد   (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا ہاں ، بعدازاں آپ ﷺنے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں  میں یہ اعلان کردو کہ کل سے روزہ رکھیں“۔(رواہ أہل السنن)

۳۔ماہ شعبان کی تیس کی گنتی مکمل کرنا ،نبی کریم  ﷺکا فرمان ہے : ”صوموا لرؤیته، وأفطروا لرؤيته، فإن غم عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين يوما“.(متفق علیہ)

ترجمہ: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو “یعنی عید کرو” اگر تم پر بدلی چھاجائے تو ماہ شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو“۔

کیا روزہ داروں پر  فجر سے قبل  روزہ کی نیت کرنا واجب ہے ؟

روزہ رکھنے والوں پرواجب ہے کہ رات کو یعنی فجر سے پہلے روزہ  کی نیت کریں ، چاہے وہ فرض روزہ ہویا نفل ، مثلا: رمضان کا روزہ ہو یا قضا کا، نذر کاروزہ ہویاکفارہ کا یا  یوم عرفہ اور عاشوراکا۔اوررہی بات “نفل مطلق “کی تو اس کےلیے رات کو نیت  کرنا جائزہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتےہیں :”نفلی روزہ     کےلیے  اثناءدن   نیت کرنا جائز ہے اس  شرط کے ساتھ کہ  بعد فجرروزہ دار اکل وشرب   سے کنارہ کش رہا ہو، البتہ شوال کے چھے روزےاور ہر مہینے کے تین روزے کی ادائیگی کے لیے  فجرسےقبل نیت کرنا ضروری ہے تاکہ اس دن کا کمال حاصل ہوسکے“۔(مجموع  فتاوی ورسائل ابن عثیمین: ۱۹/۱۸۴)

مزید براں فرماتےہیں:”کسی نفلی روزہ کے مرتب  ثواب پر  کسی نے مکمل دن کاروزہ نہیں رکھابلکہ بعض دن کا  نیت کے ساتھ  روزہ رکھا، تواسے اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا، مثلا: کسی شخص نے  فجر کے بعد سے کچھ نہیں کھایا  اور نصف دن میں  شوال کے روزہ کی نیت کرلی ،پھر اس دن کے بعد مزید پانچ دن کا روزہ رکھا ،تواس نے پانچ دن سمیت  صرف نصف دن کا روزہ رکھا،بنابریں کہ  اعمال کا دارومدار نیت پر ہے،حدیث میں درج ہے کہ جس نے ماہ رمضان  کا روزہ رکھا اور پھر اسے شوال کےچھے روزے سے ملحق کردیا، توگویا کہ اس نے زمانہ بھر روزہ رکھا۔اس حدیث  میں چھے شوال   کے کامل روزےرکھنے کی شرط موجود ہے،لہذا اس نے شوال کے چھے مکمل روزے کا ثواب  نہیں حاصل کیا۔البتہ مطلق نفلی روزہ ہو،تو نیت کرتے وقت ہی ثواب مل جاتا ہے“۔(مجموع  فتاوی ورسائل ابن عثیمین: ۱۹/۱۸۴)

کیا رمضان کے ہرروزہ کےلیے فجرسے قبل  نیت کرنا واجب ہے؟

صحیح قول کے مطابق  رمضان کے ہرروزہ کےلیے  رات کو یعنی  فجرسے قبل نیت کرنا واجب نہیں ہے  بلکہ رمضان کےپہلے د ن ، رات کی نیت کا فی ہوگی ۔رہی بات ہر روز کی نیت کی تواس  تعلق سےاحادیث میں کوئی نص وارد نہیں۔ اگر ہردن نیت کرنا واجب ہوتا ،تو نبی کریم  ﷺ ا س کی وضاحت ضرور فرماتے ۔

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتےہیں: ”جس کے دل میں  یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ  کل روزہ رکھے گا، تو یقینا اس نے نیت کرلی“۔(الإختیارات الفقہیہ: ۴۰۹)

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *