چل اڑجارے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ

 

از:محمدضیاءالحق ندوی

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

ہماراوطن عزیز” ہندوستان”جس کی آزادی کےلئے بڑی بڑی قربانیاں دی گئیں ،لاکھوں جانوں کےنذرانے پیش کیے گئے پھرجاکریہ ملک ہندوستانیوں کونصیب ہوا یہاں کی تاریخ کاایک ایک صفحہ ہندوستانیوں کے خون سےلالہ زار ،جذبہ آزادی سےسرشارہے ماتھے پر کفن باندھ کروطن عزیز کی بقاءکےلئے آتش فرنگی میں بےخطر کودنے والوں میں مسلمان پیش پیش تھےاگرجنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں الگ کردی جائیں توہندوستان کی آزادی کی تاریخ ناتمام اورادھوری رہےگی لیکن اس وقت کا حال یہ ہےکہ ہرشدت پسند مرد و زن کی زبان پر ہے کہ آج ہندوستان میں جوکچھ ہورہا ہے یہ محض مسلمانوں کی وجہ سے ہی ہورہاہے کیاہی اچھا تھاکہ چندسال قبل یہاں کےباشندے اخوت و مودت کاثبوت دےرہےتھے اورہرمذہب کےپیروکار اپنےاپنے مذہب کےکلمات سے استقبال کررہےتھے اورایک دوسرےسےگویاہو رہے تھے،

*سارے جہاں سےاچھاہندوستاں ہمارا*

کا حقیقی تصور تھا

لیکن آج یہاں کے ظالم وسفاک اورخونریز غنڈے عناصر ظلم کاکھلم کھلاناچ ناچ رہے ہیں ، درندگی عروج پر ہے ، ریپ اور قتل وخون کےجرائم دھڑلے سےانجام دیے جارہے ہیں اورپرامن ماحول کوفرقہ واریت کا رنگ میں رنگ دیا گیا ہے مزید یہ کہ ہندوستان کی دجالی میڈیا ان کے سر میں سر ملا کر نفرت کابازار خوب گرما یا ہوا ہے جہاں کا یہ حال ہو کہ کمزورطبقہ کے لوگ ظلم کی چکی میں پیسے جارہے ہوں اور دوست، دشمن ، اپنے سب بیگانے نظرآرہے ہوں – ایک وقت ایساتھا کہ دشمن دوست اور بیگانے اپنے نظرآتے تھے- تو ایسے پرآشوب ماحول و وقت میں گلے ملانا تو در کنار ہاتھ ملانا اورمسلمانوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے سے بھی کترارہے ہیں ،سبزی فروش سے گلی کوچوں میں یہ کہا جارہا ہیکہ آدھار کارڈ دیکھاؤ ورنہ گلی سے نکلو ،حجام جن کا پیشہ ہی حجامت ہے وہ بھی تعصب و قومیت کی چادر تان کر حجامت سے انکار کررہا ہے ایسے نازک حالات میں حکومت ان چیزوں سے چشم پوشی سے کام لے رہی ہے اوریہ سمجھ بیٹھی ہے کہ ہمارااقتدارِعروج کو زوال کا منہ نہیں دیکھنا ہے حالانکہ انہیں ہوش کا ناخن لینا چاہیے کہ اگرہم نے عدل وانصاف کی چادر کو تار تار کیا ،ظلم و جبر سےکام لیتے رہے اپنی ہیکڑی پر قائم رہے تو انہیں یادہوناچاہیےکہ قوم عاد وثمود کےپاس ان سےبڑی طاقت تھی اور قوم عاد یہ سمجھ رہی تھی کہ *من اشدمناقوۃ* ہم سےزورآور کون لیکن ان کوبھی یہ طاقت کام نہ آئی اور الہی پاور نے اس ظالم و جابر کے ظلم و جورکو زمیں دوز کردیا

تو صاحب اقتدار و حکمراں کو سوچنا چاہئیے کہ آج نہ کل ہمارازوال بھی مقدر ہے

کسی شاعر نے کیاخوب کہاہے

*ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں*

*ناؤکاغذ کی سداچلتی نہیں*

اس لئے برسر اقتدار لوگوں کوچاہیے ایسےوقت میں ظالم عناصرکو عبرت ناک سزادے کر ظلم وبربریت کاقلع قمع کریں اور لاکھوں ،کروڑوں کی تعداد میں بھوک ،پیاس ، بےگھر اوربیمار لوگ اپنے بچوں اورسامان کابوجھ سر پراٹھائے پیادہ پا اپنے گھروں کی جانب جانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں پولیس سے ڈنڈے کھاتے ،پیٹتے پٹاتے دکھائی دے رہے ہیں ان کی راحت کی فکر کرے اور انہیں کسی طرح سے ان کے گھروں تک پہونچانے کی فکر اوڑھیں تاکہ وہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ زندگی گزر بسر کر سکے.

دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی اس متعدد لسان و زبان رنگ و نوع والا ملک کو امن و آمان کا گہوارہ بنادے آپسی بھائی چارہ قائم ہو سب اپنی زندگی جئے. آمین یارب

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *