زنا سے نکاح تک کا سفر

زنا سے نکاح تک کا سفر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبد الرشید تیمی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

ایک نوجوان لڑکی حصول علم کی غرض سے روزانہ ایک ایسے یونیورسیٹی جایا کرتی تھی جہاں اس کے والد محترم ایک ملازم تھے ایک روز اچانک زور دار بارش ہونے لگی سردی بھی تیز ہورہی تھی ۔ پاس ہی میں دوران بارش کسی جگہ پناہ چاہتی تھی سامنے ایک گھر نظر آیا ۔ اجازت کے بعد لڑکی نے اس لڑکے کے گھر کچھ لمحات کے لئے رک گئ تعارف ہوا تو پتہ چلا کہ لڑکا بھی اسی یونیورسیٹی کا طالب علم ہے ،بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی یہاں تک کہ رات ہو گئ اور کمرے میں بیٹھے بیٹھے اسے نیند آگئ ۔ جسے دیکھ اس لڑکے نے سردی سے بچنےکے لیئے کمرے میں ایک ہیٹر رکھ دیا اور کہا سردی لگے تو اس سے استعمال کر لیں گے ۔ ایک طرف جہاں انسانی ہمدردی کا عظیم نمونہ پیش ہو رہا تھا تو دوسری طرف شیطان جو ہم سب کا کھلا ہوا دشمن ہے اس نے لڑکے کے دل ودماغ میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا اور برائ کی طرف ابھارنے لگا اس لڑکے نے کمرے میں ہیٹر کا بہانہ لیکر داخل ہوا ۔ دیکھتا ہے کہ لڑکی نیند کی آغوش میں ہے ۔ اور شیطان اس کو مسلسل ابھار تا رہا جب بھی اس لڑکے کے دل میں کچھ برائ کا خیال آتا وہ آگ پہ اپنی انگلی جلاتا رہا اور جہنم کی آگ اور اس کے عذاب کو یاد کرتا رہا یہاں تک کہ اس کی ساری انگلی جل کر زخمی ہو گئ اور بے ہوش ہو گیا ۔ پتہ نہیں وہ ہسپتال کیسے پہونچا ۔ لڑکی کی نیند کھلتی ہے دوڑتے بھاگتے گھر جا کر اپنا سارا معاملہ اپنے والد محترم سے ڈرتے ڈرتے بتاتی ہے ۔ باپ آگ سے بگولہ ہو جاتا ہے اور دوسرے دن کلاس کی حاضری ہوتی ہے دو لڑکے حادثے کے دن غائب پائے جاتے ہیں اس میں سے ایک کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ وہی لڑکا ہے جس کے گھر پہ میری بیٹی پناہ لی تھی ۔ پتہ لگا نے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکا ہاسپیٹل میں زیر علاج ہے بہت ضد کے بعد وہ لڑکا سارا معاملہ اس کے والد محترم کے سامنے پیش کرتا ہے ، معاملے کی سچائ اور لڑکے کی ایماندار دیکھ کر لڑکی کے والد گرامی اس کی شادی کا اعلان کردیتے ہیں اور دونوں کی ایک دوسرے سے شادی ہو جاتی ہے ، آج معاملہ یہ ہے کہ ہم اخروی عذاب سے کم اور دنیوی ذلت ورسوائ سے زیادہ ڈرتے ہیں ہمیں اخروی عذاب سے بچنے کی ضرورت ہے جو گناہ گاروں کے لیئے متعین اور تیار کی گئ ہے اللہ رب العالمیں ہماری ہر طرح سے نگرانی کرتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ ہماری تربیت خوف خدا سے نہیں ہوتی بلکہ ہماری تعلیم وتربیت دنیاوی اعتبار سے ہوتی ہے ، نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ ہم اللہ سے کم اور لو گوں سے زیادہ ڈرتے ہیں ۔

اللہ ہم سب کو دن کے اجالے اور رات کی تاریکیوں میں برے کاموں سے بچائے آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *